وکراںت گپتا کہتے ہیں کہ گزشتہ ماہ ہی میری کپل دیو سے عمران خان کے بارے میں بات ہوئی تھی، فروری میں تمام بین الاقوامی کرکٹ کپتانوں نے پاکستان کے وزیراعظم کو خط لکھا تھا، جس میں عمران خان کو مناسب طبی سہولت، علاج اور انسانی حقوق فراہم کرنے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ وہ پاکستان کے سابق وزیراعظم ہی نہیں بلکہ پاکستان کے عظیم ترین کرکٹر بھی ہیں۔
اور آج ان 22 سابق بین الاقوامی کپتانوں نے دوبارہ خط لکھا ہے، جس میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ پاکستان سپریم کورٹ کی ہدایات پر مکمل عمل کیا جائے
نجم سیٹھی کا انکشاف:
سب کچھ اسٹیبلشمنٹ کےہاتھوں سے نکلتا جا رہا ہے، مسائل بڑھتےجا رہے ہیں۔نہ ان سےملک کی سیکیورٹی سنبھالی جا رہی، نہ یہ عوام کو کچھ دے پا رہے۔اس لئے یہ جلد سےجلد عمران خان سےڈیل کرنے کی کوشش کریں گے کیونکہ عوام صرف عمران خان کی سنتی ہے۔
Free Imran Khan! Imran Khan has been left to languish in a Pakistani prison cell for over three years. Today in the House of Commons I presented a petition calling for his release, as well as the release of all political prisoners in Pakistan.
یہ دو پاکستانی وہ صحافی ہیں جنھوں نے سچ کا ساتھ دیا اور کشمیر کی آواز دنیا تک پہنچانہے میں کشمیرعوام کی مدد کی کشمیری عوام آپ کو ہمیشہ یاد رکھے گی انشاءلله ۔۔
کیا یہ سب کے سب بھارتی ایجنٹ ہیں ؟ انکی قیادت کے ساتھ مذاکرات کے بغیر صورتحال بہتر نہیں ہو گی جو لوگ آزادکشمیر میں نفرتوں کے کاروبار سے فائدہ اٹھانے کی کوشش میں ہیں وہ ہم سب کے دشمن ہیں
🚨قتل عام کے ذریعے جس راولاکوٹ کو خاموش کروایا گیا تھا وہاں اب لاکھوں لوگ پہنچ چکے ہیں، ابھی مزید قافلے راستوں میں ہیں
فیصلہ سازوں کو عوام کی بات ماننی ہو گی ورنہ حالات کنٹرول سے باہر ہو جائیں گے
قومی مختاری کے سودے کی شرمناک داستان!
اس محکمے کے اعلیٰ افسران نے صرف عمران خان کے ساتھ نہیں بلکہ پوری قوم کے ساتھ غداری کی ہے۔ پوری قوم کو غدار کہنے والے ثبوتوں سمیت غدار نکلے۔
۹ مئی کو کون سا آسمان گرا تھا۔ پاکستان میں نومئی سے زیادہ خطرناک عمل لوگوں نے کئے ہیں۔ ہمارا ملک ٹوٹا، آج تک کسی نے نہیں بتایا کہ ملک کیسے ٹوٹا۔
مٹکا نہیں ٹوٹا تھا کھوزا نہیں ٹوٹا تھا۔ ملک ٹوٹا تھا
اس کی تحقیقات نہیں ہوئی۔
#مئی9_یوم_جبر
کل جنید جمشید کے ایک گانے کی دو چار لائنز لکھی تھی مشکل وقت کے بارے میں۔ آج کسی سوشل میڈیا ٹایگریس نے اسی گانے پر یہ IK Edit بنا کر بھیجی۔
کافی لوگ سامنے آکر اپنے نام سے پوسٹ نہیں کر سکتے آجکل مگر دل اب بھی عمران خان اور پاکستان کے لیے فکر مند ہے اور سب سوشل میڈیا کنزیوم کر رہے ہوتے ہیں۔
یہ وڈیو ایڈٹ ان سب کے لیے جو خاموش کروا دیے گئے مگر جہاں موقعہ ملتا ہے وہاں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
#ReleaseImranKhan
قید تنہائی میں ڈالنے سے قبل وکلاء، اراکین اسمبلی اور پارٹی قیادت کے لیے احکامات تھے عدالتوں کے باہردھرنا دیں جب تک انصاف نہیں ملتا۔ ان سب کو جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر یاد کراچکا ہوں۔ وکلاء کے نام بھی سخت پیغام تھا اور کیوں نہ ہوتا پارٹی عہدوں سے لیکر اسمبلی ٹکٹ اور بار الیکشن تک عمران خان کے نام پر لڑے جاتے ہیں لیکن خان صاحب کے احکامات کے باوجود عدالت کے باہر مستقل، بمع اراکین اسمبلی دھرنا نہیں دیا جا سکتا؟ پہلے بارش تھی، پھر رمضان تھا اب گرمی ہے۔۔
خان صاحب کی بیماری، ڈرون حملے،آپریشن، بدلتے ہوئی بین الاقوامی حالات،پیٹرول کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے،بے جا ٹیکسسسز، مہنگائی کے تناظر میں تحریک چلانے کی صلاح۔ صرف صوبہ نہیں ملک بند کرنے کا پلان،عمران خان کی صحت کے معاملے پر متحرک ہونے کی درخواست، ایوانوں سے استعفوں کے زریعے حکومت سے legitimacy واپس لینے کے لیے سب سے پہلے اپنے استعفیٰ کی پیشکش۔۔۔
میں یہ سمجھتا ہوں کہ عمران خان کی اسیری کا زمہ دار ان میں سے کوئی فرد نہیں بلکہ بین الاقوامی اسٹیبلیشمنٹ کی ایماء پر برسرپیکار عاصم منیر، قانونی و غیر قانونی طور پر اس کے ماتحت آنے والے ادارے اور اسکے اشاروں پر ناچنے والی سیاسی قوتیں ہیں۔ مگر کیا عمران خان اپنی ذات کے لیے مقید ہے کہ اس کی رہائی کے لیے اپنی پوری قوت سے کوشش کرنا بھی کسی کا فرض نہیں ہے؟ قیادت سے لیکر قوم تک کسی کا بھی نہیں؟
تحفظ آئین پاکستان مہینوں بعد ایک بیٹھک منعقد کرنے کا فیصلہ خود کر سکتی ہے،سی ایم جلسے کا اعلان اور پھر ملتوی خود کر سکتا ہے، اراکین اسمبلی شادیوں اور دعوتوں میں مخالفین کے ساتھ بیٹھنے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں، مارکوپولو بن کر دنیا کے چکر لگانے کا فیصلہ خود کر سکتے ہیں،سیاسی کمیٹی خود کو “محب وطن” ثابت کرنے کے لیے ایمرجنسی اجلاس بلا سکتی ہے،تنظیمیں عہدوں کے نئے نئے نوٹیفیکشن کرسکتی ہیں،صوبائی حکومت فارم ۴۷ وزیراعظم اور صدر کے ساتھ بیٹھ سکتی ہے، کور کمانڈر ہاؤس کا رخ کر سکتی ہے لیکن جب عمران خان کا سوال ہو تو سیاسی کمیٹی کا جواب ہوتا ہے تحفظ آئین پاکستان، ان کا جواب ہوتا ہے پی ٹی آئی قیادت، قیادت فیملی کا نام لیتی ہے اور پھر سی ایم پر بات آجاتی ہے اور یہی سلیم اللہ سے کلیم اللہ اور کلیم اللہ سے سلیم اللہ چلتا رہتا ہے۔تو جب سارے فیصلے اپنے طور پر کیے جا سکتے ہیں تو تحریک کا فیصلہ کیوں نہیں؟ محض اس کے لیے عمران خان کی ہدایت درکار ہے اور جہاں عمران خان کی ہدایات میسر ہیں وہاں حیلے بے شمار ہیں۔ مان لیتے ہیں کہ منزل ایک ہے لیکن طریقہ کار مختلف ہے تو ایک دن کے نوٹس پر آپ سب ایک چھت کے نیچے بیٹھ کر مشترکہ اجلاس بلا کر عملی جدوجہد کا فیصلہ کر سکتے ہیں اور ادھر ہی مشترکہ پریس کانفرنس کا انعقاد بھی ہوسکتا ہے۔ چلو یہ بھی مان لیتے ہیں کہ زیادہ تر تحریک کے حق میں ہیں تو کچے دھاگے توڑنے کے لیے اجلاس کو لائیو نشر کیجئے ویسے بھی کونسا ایٹم بم کا فارمولہ ڈسکس ہونا ہے تو جو بھی رکاوٹ ہوگی قوم خود اسٹیبلیشمنٹ کے ساتھ ان کا بھی احتساب کر لے گی۔
ہمیں تو گراونڈ ریلئٹی نہیں معلوم ناں تو بس پبلکی مشورہ دے دیا کیونکہ خان صاحب کی بیماری کے وقت میں نے ایک وائس نوٹ میں وہ تمام تجاویز دہرائے جو میں قیادت کو بارہا بھیج چکا تھا، نا ہی کوئی کال دی نا ہی کوئی فیصلہ کیا لیکن خان صاحب کے لیے کچھ کرنے کے بجائے مجھے قیادت و صوبائی حکومت نے پیغام بھجوایا کہ آپ کے ایک وائیس نوٹ سے تحریک کو Irreversible نقصان ہوا ہے۔ سیریسلی؟ اور یہ میرے ساتھ پہلی مرتبہ نہیں ہوا۔۔
تین سال بہت لمبا عرصہ ہوتا ہے وہ بھی ناحق اسیری اور عمران خان جیسا لیڈر۔ چار سال مجھے ہوگئے پہلے دربدر اور پھر مستقل اور پھر روپوشی بھی ایسی کہ کوئی ایک ہفتہ بھی نہ گزار سکے۔ آج صرف مل بیٹھ کر ایک جہد مسلسل کی گزارش کر رہا ہوں اگر نہیں ہو رہا آپ سے تو جیسا آپ ہمارے بیانیہ کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے ہم آپ کی غفلت کا بوجھ نہیں اٹھا سکتے۔ اور یہ جو کرنل سے مل کر ایک دوسرے کو مشورے دیتے ہو کہ خان تو جیل میں ہی رہے گا مراد سعید تو پاگل ہے نہ اپنی پرواہ نہ کسی اور کی وہ تو جب بھی نظر آیا مارا جائے گا اپنی زندگی کیوں خراب کرتے ہو تو اتنا کہوں گا اللہ آپ کو مزید آسانیاں دے لیکن ہمارے مقصد ہماری جدوجہد اور ہماری زندگیوں کی قیمت پر نہیں بالکل بھی نہیں۔ کوئی فیصلہ کیجیے-
عمران خان کی آنکھ کے حوالے سے جس ڈاکٹر کا نام علیمہ بہن کہتی ہے ڈال دیں۔۔میں پھر کہتا ہوں اللہ رسول کے واسطے لوگوں کی اپیلیں سنیں۔۔اس ملک پر رحم کیا جائے
شیخ رشید