دہشت گردوں نے کراچی اور بلوچستان ُپل گرادیا!!
محسن نقوی کہاں ہے وہ SHO, اگلوں نے کراچی بلوچستان کو منقطع کردیا!!
وہ کھل عام یہ کاروائی کر رہے ہیں دن کی روشنی میں, مجال ہے کوئی سیکورٹی ادارے نظر آئے,
سیاست چھوڑ کر اپنی ڈیوٹی سنبھال جرنیلا
علیمہ خانم اور انکی بہنیں نا ہوتیں تو ابھی تک فوج نے عمران خان کے پیغامات کی بھرمار کررکھی ہوتی ، بیرسٹر سیف اور بیرسٹر گوہر جیل سے آکر بتایا کرتے کہ عمران خان نے عاصم منیر سے معافی مانگی ہے۔ سہیل آفریدی جیل سے آکر کہتا عمران خان خوش و خرم ہیں۔
حقیقی آزادی کا مطلب قانون کی حکمرانی ہے اور قانون کی حکمرانی کا مطلب محض عمران خان کا حکومت میں آنا نہیں ہے۔ حقیقی آزادی میں پولیس مقابلوں ، فل فرائی ، ہاف فرائی ، نیفے میں پستول چلنے کی کوئی گنجائش نہیں۔
نام لیکر کہنے سے کیا حاصل ، وہ تمام صحافی جو بظاہر تحریک انصاف ، یا عمران خان ، یا پھر حقیقی آزادی کے داعی بنے ہوئے ہیں وہ جانے مانے چہرے اگر ماورائے عدالت قتل ، پولیس مقابلوں پر خوشی کا اظہار کررہے ہیں تو تسلی رکھیے یہ سب اچھے جرنیل کے انتظار میں ہیں ، اندر کھاتے کچھ نا کچھ وصول پا رہے ہیں ، یا وقت بدلنے پر وصول پانا شروع کردیں گے۔
یہی وہ نیم دروں نیم بروں ہیں جو وقتا فوقتا ٹھنڈی ہوائیں بھی چلاتے ہیں ، “ سیاسی اختلاف “ کو بالائے طاقت رکھتے ہوئے غاصبوں اور ظالموں کا دفاع بھی کرتے ہیں۔ اپنے کانسیپٹس کلئیر رکھیں۔ حقیقی آزادی اور قانون کی حکمرانی کو بالاتر رکھیں۔