نورین نیازی صاحبہ کی بیٹی حاجرہ کو رات 3 بجے تک ہسپتال کے باہر کھڑا رکھا گیا۔ لیکن ماں سے ملاقات نہیں کروائی گئی۔ آج پھر سارا دن ملاقات نہیں کروائی۔ میڈیکل ریکارڈ ادویات پراسس کیا ہو رہا ہے کچھ نہیں بتایا۔
بے شرم ہیں یہ لوگ۔ ایک بیٹی کو ماں کے لئے تڑپا رہے ہیں۔ یہ ہماری ماؤں بہنوں بیٹیوں سے یہ سلوک کر رہے ہیں جو فرعون نے کیا۔ انکا انجام فرعون والا ہوگا۔
اپنا وقت یاد رکھنا۔ یہ سب لوٹ کر آنا ہے۔ وقت بدل جاتا ہے۔یہ یاد رکھنا۔ کیوں کہ ہمیں یاد رہنا ہے۔
کیا سپریم کورٹ کو اپنی عزت کا احساس ہے
کیا سپریم کورٹ کو یاد ہے کہ اس نے عمران خان کو علاج کیلئے شفا ہسپتال منتقلی کا حکم دیا تھا جسے بوٹ کی نوک پر رکھا گیا۔
اگر اس توہین عدالت پر سپریم کورٹ مائنڈ نہیں کر رہی ۔ تو ہمیں بھی اجازت دی جائے ۔ کب سے دل میں کیا کیا چھپائے بیٹھے ہیں
@divine_xx1 This practice is condemnable . However, it involves the girl's consent. Furthermore, content is created for the audience—with the aim of providing them with enjoyment & entertainment. In any case, if the girl herself has no objection, there is no need for others to be concerned.
پروردگار زندان میں قید ایک قیدی کی بیماری قیدی ماں کو صحت یاب فرما 🙏
اور کسی کو ایسی مشکل نہ دکھا جس مشکل میں یہ ماں بیٹا ہیں اور کبھی کسی کو اتنا کم ظرف دُشمن نہ دے جیسا انکا دشمن ہے 🙏
Spot on. Funding this regime means supporting the murder of peaceful protestors, the imprisonment of innocent civilians and the complete and utter disregard for democracy.
Speak out or forever regret being on the dark side of history.
@Ed_Miliband@andyburnham@realDonaldTrump
This thought and step is very great that Imran Khan's sons are coming into politics. Imran Khan's personality has been imprinted in the minds of the people. And to maintain this continuity, Imran Khan's generation should come into politics.
@shafqatmm1 شفقت صاحب ۔ یہ ضروری ہو گیا ہے کہ عمران خان کے بیٹے سیاست میں آئیں تاکہ عمران خان کی شناخت اور سوچ لوگوں پر ختم نہ ہو ۔ آپ شاید حیرت میں ہوں گے کہ سیاست میں آنے کا ذکر کیوں کیا لیکن شاید یہی سب سے بہترین آپشن ہے جب پی ٹی آئ مکمل طور پر کمپرومائزڈ ہو چکی ہے ۔ اب راستہ تو نکالنا ہے
میرا آرمی کے ہر جنرل کے لئے پیغام ہے۔ بزرگ بہنوں کے ساتھ ایسا سلوک نہیں کرتے۔ ایسی حرکتوں سے عوام میں آپ سب کا امیج بہت خراب ہو چکا ہے اور مزید خراب ہو رہا ہے۔ اب بس کر دیں۔ اور کتنا ظلم کرنا ہے۔ کوئی حد تو چھوڑ دیں۔
جب 1995 میں پہلی دفعہ افغانستان میں ملا محمد عمر کی حکومت آئی تھی تو چمن سے کابل اور تورخم سے ہرات تک کسی چیک پوست پر بھتہ خور اور رشوت خور پولیس والا موجود نہیں ہوتا تھا جبکہ پاکستان میں داخل ہونے سے لے کر مال اپنی منزل تک پہچانے تک ہر موڑ پر لوٹنے والے موجود تھے ۔آج بھی یہی عالم ہے