پاکستان انڈیا کی آزادی کے لیے برطانوی پارلیمنٹ کے انڈیپینڈنٹ ایکٹ کی اصل تصویر یہ ہے جو برطانوی لیجسلیشن کی ریکارڈ ویب سائٹ پر موجود ہے۔
https://t.co/LdUzRHLFdV
🇹🇷🇵🇰 حين وقعت محاولة الانقلاب الفاشلة في تركيا عام 2016، أعطت قيادة الجيش التركي الأمر بعدم تحريك أي مقاتلة او مروحية من القواعد العسكرية في البلاد، وذلك بسبب استخدامها من طرف الانقلابيين وتورط عدد من الطيارين مع تنظيم غولن، وبسبب ذلك حصل عجز للطيارين على الحدود السورية، والتي كانت ساخنة مع تواجد داعش وقسد وقوات بشار وايران وروسيا.
ولتوفير طيارين متمرسين على قيادة F-16، طلبت تركيا الدعم من حليفتها الموثوقة باكستان، عن طريق الجنرال "عباس غومان"، فلبّت القيادة الباكستانية الطلب فورًا، وطلبت تحديد موعد لإرسال مجموعة من الطيارين .
وحين علم أردوغان بالرد الباكستاني، قال: باكستان هي الحليف الأول لتركيا، وإذا كان هناك حليف ثاني فهي باكستان أيضًا.
الواقعة يحكيها الجنرال عباس نفسه 🇹🇷🇵🇰
نوجوان کو نوجوان کہیں، کاکروچ کہیں، اگر یہ کاکروچ اکھٹا ہوگیا تو ہر چیز کو الٹ سکتا ہے، وزیر داخلہ محسن نقوی
نوجوان صرف چاہتے ہیں نظام ٹھیک ہو روزگار مل جائے اور جائز طریقےسے ملے،محسن نقوی
#ARYNews
اتنی اذیت مجھے کربلا میں نہیں پہنچی تھی جتنی اہل کوفہ کی خاموشی پر۔ کوفہ ایک شہر نہیں ایک خاموش امت کا نام۔ ہر وہ شہر گوفہ ہے اور اس کے مکین کوفی ہیں ، جہاں ظلم ہو اور لوگ خاموش رہیں۔
امام زین العابدین
فردوس بریں کی حوروں نے
نورانی پھولوں کے ہار گوندھے
کہ شہیدوں کا استقبال کریں
پھر سسکیوں کی آوازیں
کیایہ سیاہ بخت انسانوں کا ماتم تھا
روز ازل انہوں نے اسے سجدہ کیا تھا
*بہترین زندگی گزارنے کے 15 اصول*
01. دعوت دیر سے ملے = انکار کر دیں
02. دعوت نہ ملے = نہ جائیں
03. بھلا دیا جائے = انہیں بھول جائیں
04. استعمال کیا جائے = حدیں مقرر کریں
05. نظر انداز کیا جائے = رابطے روک دیں
06. دھوکہ ملے = معاف کر کے آگے بڑھیں
07. قدر نہ ہو = دوری اختیار کر لیں
08. توہین ہو = کامیابی سے جواب دیں
09. بے عزتی ہو = وقار سے دور ہو جائیں
10. کم سمجھا جائے = نتائج کو بولنے دیں
11. جھوٹ بولا جائے = الفاظ نہیں، عمل پر یقین کریں
12. قدر نہ کی جائے = اپنی کوشش روک لیں
13. موازنہ ہو = اپنی منفرد اہمیت جانیں
14. تھکاوٹ ہو = اپنی توانائی کی حفاظت کریں
15. آزمائش ہو = مضبوط رہیں، ہار نہ مانیں۔
ایرانی میڈیا کے مطابق ایران امریکہ معاہدہ کے اہم نکات۔۔!!
1- لبنان سمیت تمام محاذوں پر فوری اور مستقل جنگ بندی کا فیصلہ
2- معاہدے پر دستخط کے 30 دنوں کے اندر بحری ناکہ بندی مکمل ختم کر دی جائے گی
3- امریکی فوج کا ایرانی سرحدوں کے اطراف سے 30 دنوں میں انخلا ہوگا
4- آبنائے ہرمز 30 دنوں میں کھلے گی، سیکیورٹی انتظامات ایران کے سپرد ہوں گے
5- ایرانی تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات پر عائد امریکی پابندیاں فوری معطل کرنے کا فیصلہ
6- امریکا اور اس کے اتحادی ایرانی معاشی بحالی کیلئے 300 ارب ڈالر کا پلان پیش کریں گے
7- ایران پر امریکا اور سلامتی کونسل کی تمام بنیادی اور ثانوی پابندیاں ختم کی جائیں گی
8- ایران جوہری ہتھیار نہ بنانے کے این پی ٹی معاہدے پر کاربند رہے گا
9- امریکا ایران پر نئی پابندیاں بھی نہیں لگائے گا
10- ایران کے منجمد اثاثوں میں سے 24 ارب ڈالر جاری کئے جائیں گے، مذاکرات سے پہلے 12 ارب ڈالر ایران کو ملیں گے، ایرانی میڈیا
11- حتمی مذاکرات سے پہلے ایرانی فنڈز غیرمنجمد اور ناکہ بندی ختم کی جائے گی
ذرا تصویر پر غور کریں۔ لیفٹ باٹم پر ٹمپریچر اسکیل کو کوڈ کیا ہوا ہے۔
نیلی جگہوں پر ٹھنڈ پڑ رہی ہے۔ سرخ، ڈارک ریڈ جگہوں پر انتہا کی گرمی ہے۔
چِین میں چَین ہے۔
کہیں صفر کہیں 1-، 2-، ڈگری۔
پاکستان، انڈیا، مڈل ایسٹ عرب ممالک، افریقہ جُھلس رہے ہیں۔
چِین میں چَین ہے۔
بھارت کا بھرتہ بن رہا ہے۔ پاکستان پک رہا ہے۔
چِین میں چَین ہے۔
صاحبو!، کیا وجہ ہے کہ چِین کے چاروں طرف شدید گرمی، لیکن چِ��ن میں چَین ہے۔
Why China is so cold, even in June, rest of the world is burning
کالیازین RT-64: جنگل میں کھڑا سوویت دیو، جو آج بھی کائنات کی سنتا ہے
ماسکو سے رپورٹ: روس کے گہرے جنگلات میں ایک ایسا دیوہیکل ڈھانچہ کھڑا ہے جو بظاہر زنگ آلود اور متروک دکھائی دیتا ہے، مگر حقیقت میں یہ آج بھی خلا سے آنے والی ریڈیو لہروں کو سن رہا ہے۔
یہ دیو ہے Kalyazin RT-64 — ایک 64 میٹر بلند ریڈیو ٹیلی اسکوپ، جو سوویت دور میں ت��میر کیا گیا تھا اور آج بھی مکمل طور پر فعال ہے۔ ماسکو سے تقریباً 175 کلومیٹر شمال مشرق میں، دریائے وولگا کے کنارے واقع یہ عظیم اینٹینا کسی بھی سیاحتی گائیڈ میں درج نہیں، نہ اس تک پہنچنے کا کوئی آسان راستہ ہے، اور نہ ہی کوئی نمایاں سائن بورڈ۔ لیکن یہ خاموش نہیں ہے۔
سوویت خلائی دوڑ کا ایک باب
RT-64 کی تعمیر 1974 میں شروع ہوئی اور یہ 1992 میں مکمل ہوا — بالکل اسی سال جب سوویت یونین کا خاتمہ ہوا۔ یہ وہ دور تھا جب امریکہ اور سوویت یونین کے درمیان خلائی دوڑ عروج پر تھی، اور یہ دیوہیکل ڈش خلا میں جانے والے سوویت مشنز کو ٹریک کرنے کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔
یہ کوئی عام دوربین نہیں۔ اس کا مرکزی ریفلیکٹر 64 میٹر چوڑا ہے — تقریباً 20 منزلہ عمارت کے برابر۔ ثانوی ریفلیکٹر 6 میٹر ہے، اور یہ 0.5 سے 15 GHz تک کی فریکوئنسیوں پر سگنل وصول کر سکتا ہے۔ اس کی درستگی حیران کن ہے — سطح کی کھرداری محض 0.7 ملی میٹر ہے۔
جنگل میں چھپی سرگرمی
ظاہری طور پر یہ ڈھانچہ کسی بھولی بسری یادگار کی طرح ہے، جگہ جگہ سے زنگ آلود اور جنگل کی بالوں میں لپٹا ہوا۔ لیکن حقیقت اس کے برعکس ہے۔
آج بھی سترہ سائنسدانوں کی ایک ٹیم اس ٹیلی اسکوپ کو چلاتی ہے۔ یہ دن رات خلا سے آنے والے نہایت کمزور سگنلز کو ریکارڈ کرتی ہے — جو چھوٹی دوربینوں کے لیے ناقابلِ دریافت ہوتے ہیں۔
1996 سے، یہ ٹیلی اسکوپ پلسر ٹائمنگ کے لیے استعمال ہو رہی ہے۔ پلسر وہ نیوٹران ستارے ہیں جو برقی مقناطیسی لہروں کی باقاعدہ دھڑکنیں خارج کرتے ہیں۔ RT-64 ان دھڑکنوں کو اتنی درستگی سے ماپتی ہے کہ سائنسدان انہیں کائناتی گھڑیوں کی طرح استعمال کر سکتے ہیں۔
ثقلی لہروں کا شکار
اس ٹیلی اسکوپ کا سب سے اہم کام ثقلی لہروں (Gravitational Waves) کی تلاش ہے — وہ لہریں جو بلیک ہولز کے ٹکرانے یا سپرنووا دھماکوں سے پیدا ہوتی ہیں۔ RT-64 ان لہروں کی وجہ سے پلسر کی دھڑکنوں میں آنے والی معمولی سی تبدیلیوں کو ریکارڈ کرتی ہے۔
یہ کام اتنا حساس ہے کہ سائنسدانوں کو ہائیڈروجن میزر گھڑیوں کی ضرورت ہوتی ہے — جو کائنات کی سب سے درست گھڑیوں میں سے ہیں۔
مریخ سے تعلق
2016 میں، RT-64 کو ExoMars مشن میں شامل کیا گیا — جو یورپی خلائی ایجنسی (ESA) اور Roscosmos کا مشترکہ منصوبہ ہے۔ یہ مشن مریخ پر زندگی کے آثار تلاش کر رہا ہے، اور RT-64 اس مشن کے خلائی جہازوں سے ڈیٹا وصول کرنے میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے۔
یہ ایک دلچسپ حقیقت ہے: ایک ٹیلی اسکوپ جو سوویت دور میں مریخ تک پہنچنے کے لیے بنائی گئی تھی، آج اسی مریخ سے سگنل وصول کر رہی ہے — مگر اس بار ایک بین الاقوامی مشن کے تحت۔
کبھی نہ ختم ہونے والی کہانی
RT-64 کی کہانی سوویت یونین کے زوال سے کہیں بڑی ہے۔ یہ اس بات کی علامت ہے کہ کس طرح سرد جنگ کا ایک ہتھیار جدید سائنس کا قیمتی ذریعہ بن سکتا ہے۔
یہ ٹیلی اسکوپ جنگل میں کھڑی ہے، دیکھنے میں بھولی ہوئی، مگر حقیقت میں کائنات کی گہرائیوں میں جھانک رہی ہے۔ یہ پلسر کی دھڑکنیں سنتی ہے، ثقلی لہروں کا شکار کرتی ہے، اور مریخ سے آنے والے سگنلز کو زمین تک پہنچاتی ہے۔
اور شاید — بالکل اسی طرح جیسے ایک صدی پہلے کوئی اندازہ نہیں لگا سکتا تھا کہ ریڈیو لہریں کیا ہوتی ہیں — آج RT-64 جو سگنلز ریکارڈ کر رہی ہے، وہ کبھی ایسے رازوں کی کلید بنیں جن کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔
---
یہ تحریر دستیاب تحقیقی معلومات اور سائنسی مضامین پر مبنی ہے۔ Kalyazin RT-64 روسی اکیڈمی آف سائنسز کے زیرِ انتظام کام کر رہا ہے اور عوام کے لیے اس کے اندرونی حصے تک رسائی ممکن نہیں ہے۔
#EducationForAll #kfuit #brightfuturepakistan #jagrphi #history
@MirMAKOfficial حال یہ ہے صوبے کا کہ میں سب انجینئر برتی ہوا تھا 2022 میں 40 ہزار تنخواں پر پراجکٹ میں ابھی 2026 ہے اور میری تنخواں ابھی بھی 40 ہزار ہے صوبائی حکومت سے 4 سال میں پراجیکٹ پالیسی نہیں تبدیل ہو رہی اور کام میرا 9 سے 5 تک