ہمارے ڈیمانڈز ماننے کے علاوہ اور کوئی آپشن ہی نہیں۔ ایمرجنسی یا گورنر راج کا اعلان کیے بغیر ایسی حرکتیں کرنا بغاوت میں آتا ہے۔ جگر گردہ پیدا کریں اور اعلان کریں۔ ہم اپنے آئینی و قانونی ڈیمانڈز سے کسی صورت پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ آئی قانون کے مطابق ہمارا لانگ مارچ ڈیمانڈز کے پورا ہونے تک جاری رہے گا۔ یہاں پر پالیسی صرف عمران خان کی چلے گی۔
ایمرجنسی یا گورنر راج کے اعلان کے بعد لوگ ترکی کی مثال دینا بھول جائیں گے۔
Important Message from Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail - 22 July 2025
Note: This tweet is based on the tweet from July 24, 2025.
“Never in the history of Pakistan has any political leader been subjected to the treatment that I am currently enduring. Nawaz Sharif committed corruption worth billions and was nevertheless granted every possible comfort in prison. In contrast, never before has the innocent and apolitical spouse of a political figure been imprisoned under such inhumane conditions as those imposed upon Bushra Bibi.
I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation. The level of oppression and authoritarianism is such that even the water I have for ablution is filthy and contaminated with dirt, unfit for any human being. Books sent to me by my family have been withheld for months. Access to television and newspapers has also been suspended. I have spent countless hours re-reading the same old books, but now even those are no longer available.
All my basic human rights have been violated. Even the minimum facilities accorded to ordinary prisoners under the law and the jail manual are denied to me. Despite repeated requests, I have not been allowed to speak to my children. Political meetings have also been restricted; I am only permitted to meet certain ‘choice individuals’, while all other interactions are barred.
I am waging a battle against a 78-year-old system, and my greatest success is that despite unprecedented oppression, the public stands firmly with me.
On February 8th (2024), the people expressed their trust in Pakistan Tehreek-e-Insaf by voting for you even in the absence of an electoral symbol. After such a clear mandate, it is the moral and political responsibility of every party member to become the voice of the people. It will be nothing short of disgraceful and condemnable if PTI leaders waste time on internal conflicts at this critical juncture. Anyone found engaging in factionalism within the party will be expelled. I am fighting for the future of our generations, and every sacrifice I make is for that cause. To create rifts within the party at this time would be a direct betrayal of my mission and vision.
The so-called government formed through Form 47 has crippled the judiciary through the 26th Constitutional Amendment. The way biased judges are now delivering blatantly unjust verdicts under these courts is visible to the entire nation. We must launch a robust campaign to liberate the judiciary, for no nation can survive, let alone progress, without judicial independence.”
“I am enduring the harshest prison term in the country’s history solely for the supremacy of the Constitution and in service of my nation” Imran Khan (July 22, 2025)
آپ کا بہت شکریہ۔
خان صاحب کی ایک بہت بڑی خوبی تھی کہ وزیراعظم بننے کے بعد خصوصا ہر اپنی تقریر میں کہتے تھے مجھے سب پتہ ہے۔ میں تمہیں بتاتا ہوں۔انہیں کسی سے کچھ نہیں سیکھنا تھا۔
سوشل میڈیا کو وہ اپنا ہتھیار سمجھتے تھے اور اس پر بہت زیادہ انحصار نے خان صاحب کو بہت تلخ اور کسی حد تک revengeful کر دیا تھا۔
ان سے 2002 کے بعد کئی ملاقاتیں رہیں۔ وہ سننے سے زیادہ بولنے میں یقین رکھتے تھے۔
اگر میرے خان صاحب کے دور کے کالم یا پروگرام دیکھیں تو اپنے تئیں یہی چیزیں اس وقت بھی انہیں پوائنٹ آئوٹ کرتے تھے اور ان کے فالورز اور میڈیا سیل سے روز گالیاں کھاتے تھے۔ ہمارے مذاق اڑتے تھے۔ گھٹیا قسم کے میم بنتے تھے کہ اب لیہ کا فلاسفر ہمارے خان کو سمجھائے گا۔
جب وہ اسمبلی آئے تو اس وقت ایک بات بار بار کہی تھی کہ آپ اسمبلی کی قائمہ کمیٹیوں کے ممبر بنیں تاکہ گورنس اور decision making کے بارے میں آپ کو علم ہو۔ ان کے لیے یہ کمیٹیاں بہت ضروری تھا۔ لیکن وہ ایک بھی کمیٹی کے ممبر نہیں بنے لہذا جب وزیراعظم بنے انہیں کچھ بھی گورنس حکومت اور ایشوز کا علم نہ تھا جس کا انہیں نقصان ہوا۔
وہ جب وزیراعظم بنے تو کاشف عباسی کے @Kashifabbasiary سوال کے جواب میں تسلیم کیا کہ میں وزیراعظم تو بن گیا لیکن مجھے تو پتہ ہی کچھ نہیں تھا کہ اس ملک کو کن گھمبیر مسائل کا سامنا ہے۔ وجہ وہی تھی وہ 2002 میں ممبر اسمبلی بنے اور 2018 میں کہہ رہے تھے مجھے تو گورنس اور دیگر اہم ایشوز کا علم ہی نہیں۔ اپوزیشن میں تقریریں کرنے اور وزیراعظم کے طور پر ملک چلانے میں بڑا فرق ہے۔
اگر وہ اسمبلی کی چار پانچ اہم قائمہ کمیٹیوں کے ممبران ہوتے، ان کے ہر اجلاس میں جاتے تو وہاں سے بہت کچھ سیکھتے، ہاوس کا وقفہ سوالات ریگولر اٹینڈ کرتے تو بھی بہتر وزیراعظم ہوتے۔
انہیں بھی کالموں لکھ کر یہی کہا تھا کہ رات کی پارٹیوں کے دوستوں کو اپنی کابینہ میں وزیر نہیں بناتے۔ وہ لے ڈوبیں گے۔
یہ بھی لکھا اور بولا آپ نے بھی دشمن بنائے ہوئے ہیں لہذا آپ نے ان تمام سکینڈلز/باتوں سے بچ کر رہنا ہے جو دوسروں کے بارے آپ کرتے آئے ہیں۔
لیکن انہوں نے سب کچھ وہی کیا جو دوسرے کرتے آئے تھے۔
باقی سوشل میڈیا نے ہمیں بدزبان اور بدتمیز کر دیا ہے۔ لہذا ہم سلیقے سے لکھی گئی گفتگو یا تحریر کو اب سننے سمجھنے کو تیار نہیں ہیں۔
میں نے اپنے بارے بھی لکھا ہے کہ وقت کے ساتھ میں نے بھی اپنی انسانی خامیوں پر قابو پانے کی کوشش کی ہے۔ہر بندہ سیکھتا رہتا ہے اور میں بھی اس عمل سے گزرتا ہوں۔
خان صاحب بھی سب کی طرح بولنے میں زیادہ دلچسپی رکھتےتھے سننے میں کم خصوصا وزیراعظم بننے کے بعد۔
شروع میں ابھی سب صحافیوں سے مل لیتے تھے، بات کرتے تھے لیکن پھر وہ صرف ان سے ملتے جو خوشامدی باتیں کرتے اور انہیں چک کر رکھتے۔ ناقدین کو نہیں بلایا جاتا تھا بلکہ ان کے خلاف گالی گلوچ عام تھی اور اب بھی ہے۔
یہ اکثر کامیاب لوگوں اور حکمرانوں کی مشترکہ خوبی ہے کہ وہ کسی کا بھاشن سننا پسند نہیں کرتے اور یہ فطری سی بات ہے۔
شکریہ
رکھیں دل پر ہاتھ اور بتائیں کہ اگر تحریک عدم اعتماد نہ ہوئی ہوتی، خان صاحب کی دوسری حکومت اور اسٹیبلشمنٹ آج بھی ایک پیج پر ہوتے تو کیا تب بھی ن لیگ کے دوست ایسے ہی کرنل صاحب کا دفاع کر رہے ہوتے؟ اور کیا تب بھی پی ٹی آئی کے دوست ایسے ہی کرنل صاحب کو مطعون ٹھہرا رہے ہوتے؟؟ 2020 میں #کرنل_کی_بیوی پولیس والوں پر ناراض ہوئی تھی تو اُس ویڈیو پر یہی ن لیگ والے بُرا بھلا کہہ رہے تھے اور یہی پی ٹی آئی والے اُسے مظلوم ثابت کر رہے تھے۔ آج اُس کے بالکل برعکس ہو رہا ہے۔
مسئلہ یہی ہے کہ ہم اصول کی بات نہیں کرتے۔ ہماری حکومت میں جو ایک چیز عین حلال ہوتی ہے، دوسرے کی حکومت میں بعینہٖ وہی بات کلیتہً حرام ہوتی ہے۔ ہم شخصیت پرست، اندھ بھگت بن چکے ہیں، ہمارا ضمیر، ہماری سوچ، فکر اور رائے دوسروں کے مفاد اور اقتدار کی غلام بن چکی ہے اور ہم نے اسی کو “شعور” سمجھ لیا ہے۔
BREAKING NEWS: 22 Former international cricket captains have once again written a letter to Pakistan PM over the treatment for Imran Khan. They first wrote a similar letter in February and this one comes after Pak allegedly didn’t completely comply with SC directions.
They have laid down 3 demands:
1. That the medical board directed by the Supreme Court — including Mr Khan's own doctors — be permitted to complete a full and independent assessment of his health, particularly the reported loss of vision in his right eye.
2. That the weekly family visits reinstated by the Court be honoured without interruption or administrative delay.
3. That whatever the outcome of that medical assessment, the treatment recommended by it be provided without delay.
Three Indians - Kapil Dev, Sunil Gavaskar and Dilip Vengsarkar are among the 22 former captains.
#ImranKhan
خان صاحب کا حکم تھا کہ ایک نئی پارٹی رجسٹر کروائی جائے۔ اس کا کیا ہوا؟
کشمیر اور گلگت بلتستان کے الیکشن سر پہ ہیں۔ پھر سے گاجر، مولی بینگن کے نشان پہ الیکشن لڑنے کا ارادہ ہے؟
خان رہائی تحریک یا مزاحمت تو نہیں ہو پا رہی آپ سے، کیا یہ پارٹی رجسٹر کروانے کا کام بھی اتنا مشکل ہے؟
سی این این پر مسلسل پاکستان کا نام پاکستان کا کردار ڈسکس ہورہا ہے۔بین الاقوامی چینلز پر پاکستان کا بول بالا ہے۔بحیثیت پاکستانی یہ اتنی خوشی اور فخر کا موقع ہے کہ میرا ملک میرا وطن امن کے لئیے سب سے اہم کردار ادا کررہا ہے۔پاکستان کی کوششوں کو سراہا جارہا ہے۔جس پاک سرزمین کو کبھی دہشتگردی سے جوڑا جاتا تھا آج اس ملک کو امن کی سب سے زیادہ خواہش رکھنے والا اور امن کے لئیے کوشش کرنے والے ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے۔
دعا ہے پاکستان کے لیئے فخر کا موقع ساری دنیا کے لئیے امن کا پیغام لیکر آئے پاکستان کی کوششیں رنگ لائیں۔ایران و مشرق وسطی میں امن آئے۔
#PakistanZindabad
پاکستان تحریک انصاف کے برطانیہ میں مقیم کارکنان نے ہارلی اسٹریٹ کلینک کا دورہ کیا جہاں بیگم کلثوم نواز زیر علاج ہیں۔ عمران خان کی خصوصی ہدایت پر پھولوں کا گلدستہ پیش کیا گیا اور انکی شفائے کاملہ کے لئے دعائے خیر کی۔ @UKPTIOfficial