میں بطور ڈپٹی سیکرٹری جنرل پاکستان تحریک انصاف ضلع پشاور سے احتجاجاً مستعفی ہوتا ہوں، جسکی وجوہات میرے استعفیٰ میں موجود ہیں۔
یہ ہمارا اندرونی معاملہ ہے لیکن سوشل میڈیا پر اپنے استعفیٰ کی مکمل تفصیلات اس لیے پوسٹ کررہا ہوں تاکہ سند رہے اور کوئی اسے غلط رنگ دیکر اپنے مقاصد کیلئے استعمال نہ کرسکے۔
ایڈووکیٹ نصیر تنولی کو نئی ذمہ داری ملنے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں، امید ہے وہ قیادت کی امیدوں پر پورا اتریں گے۔ جبکہ علی زمان ایڈووکیٹ کی صورت میں انصاف لائرز فورم خیبرپختونخواہ کی رگوں میں نیا خون دوڑا ہے اور امید ہے علی زمان ایڈووکیٹ مشکل فیصلے کرکے انصاف لائرز فورم خیبرپختونخواہ کو پھر سے ایک ایسی فعال تنظیم کیطور پر ابھاریں گے جو وطن عزیز میں قانون کی بالادستی کیلئے کردار ادا کرے۔
جزاک اللہ خیر ایڈووکیٹ علی زمان بھائی۔آپ سے ہمیں یہی توقع ہے کہ آپ حقیقی لوگوں کو نمائندگی کا موقع دیں ۔گے بہت اعلی فیصلہ ہے آپکا۔۔۔
@NaseerAKhan1804
ائی ایل ایف ہزارہ ریجن کے جنرل سکریٹری نامزد
شعور کسے کہتے ہیں اور مریم باجی کو اس لفظ سے اتنی چڑ اور نفرت کیوں ہے؟
وہ طبقہ جو ملک کی مجموعی پیداوار وسائل اور اقتدار پر قابض ہوتا ہے، وہی طبقہ اشرافیہ پراپیگنڈہ کے ذریعے عوام کی نفسیات پر بھی قابض ہوتا ہے، اور اسی نفسیاتی غلامی سے بغاوت پر آمادگی کو شعور کہتے ہیں۔
جبکہ مریم باجی اور انکا خاندان اسی اشرافیہ کا حصہ ہیں جس نے پاکستان کے اقتدار اور وسائل پر قبضہ کرکے عوام کو جھوٹ اور پراپیگنڈہ کے ذریعے اپنے فریب میں چکڑا ہوا ہے۔
پھر جو بندہ عوام کو اس نظام اور اشرافیہ کیخلاف ذہنی علامی سے بغاوت پر اگسائے گا اور بار بار شعور کا راگ الاپے گا تو مریم باجی اور اشرافیہ کا غصہ و ردعمل آنا تو بنتا ہے۔
@SohailAfridiISF@MeenakhanAfridi@ShahidkhattakSk
اسلام آباد ہائی کورٹ کے سامنے عمران خان کے کیسز کے حوالے سے انصاف لائرز فورم کے وکلاء کا احتجاج۔
علی زمان ایڈووکیٹ ممبر پختونخواہ بار کونسل و فیصل ملک ممبر پنجاب بار کونسل و ممبران عمران خان لیگل ٹیم کا جوائنٹ میڈیا ٹالک۔
اج انسداد دہشتگری عدالت اسلام آباد میں ٹینشن اور شیرافضل مروت کے ایک اور تاریخی جملے پر قہقہے۔۔۔
آج انسداد دہشتگردی عدالت اسلام آباد میں 26 نومبر کیسز کی سماعت ہوئی، جج طاہر عباس سپرہ نے تحریک انصاف کی تمام قیادت اور مزکورہ مقدمات میں نامذد ملزمان کی ضمانت قبل از گرفتاری میں توسیع کرکے 7 فروری کی تاریخ دیدی۔
یاد رہے کہ 7 فروری کی تاریخ پر جج کا اصرار انتہائی معنی خیز تھا کیونکہ 8 فروری کو تحریک انصاف و اپوزیشن اتحاد نے ملک گیر احتجاج کی کال دے رکھی ہے، جبکہ شیرافضل مروت اور تحریک انصاف کے دیگر وکلاء کے خدشات و اسرار کیا کہ احتجاج سے ایک دن قبل تمام پارٹی قیادت کو ایک عدالت میں جمع کرکے حکومت تحریک کو ناکام بنانے کیلئے گرفتاری بھی کرسکتی ہے۔
لہذا کچھ دن آگے یا پیچھے کی تاریخ دی جائے لیکن جج صاحب اپنی بات پر بضد اور قائم رہے جبکہ تاریخ اناونس کرکے اپنے چیمبر میں چلے گئے۔
اس دوران شیرافضل مروت نے جج صاحب کو قائل کرنے کی کوشش میں جزباتی ہوکر ملک گیر احتجاج کو “عالمگیر احتجاج” کہہ کرعدالت میں قہقہوں کی آوازیں لونج کر ماہول کو خوشگوار بنا دیا۔
کتنی سہولت سے اور آسانی سے پنجاب میں ہونے والی عسکری فسطائیت کا ملبہ مریم نواز پر ڈالا جارہا ہے۔ کچھ تو اسے سو فیصد کا سرٹیفکیٹ بھی دے رہے ہیں۔
جس وقت عمران خان کے گھر پر روز پولیس دھاوا بولتی تھی اس وقت پنجاب میں مریم نواز کی حکومت تھی؟
جس وقت عمران خان پر قاتلانہ حملہ ہوا اس وقت پنجاب میں مریم نواز کی حکومت تھی؟
جس وقت عمران خان کو انکے گھر سے گرفتار کیا گیا اس وقت پنجاب میں مریم نواز کی حکومت تھی؟
نومئی کے بعد تحریک انصاف کے ہزاروں کارکنان اغواء کیے گئے تھے مریم نواز کی حکومت تھی؟
جب تحریک انصاف کی الیکشن مہم پر حملے ہوتے تھے تو پنجاب میں مریم نواز کی حکومت تھی؟
تحریک انصاف کی رہنماؤں کے کاغذات نامزدگی مریم نواز کی حکومت چھینتی رہی؟
جب تحریک انصاف کا مینڈیٹ چھینا گیا وہ مریم نواز کی حکومت تھی؟
یہ جو کچھ ہورہا ہے یہ مریم نواز کی حکومت آنے سے پہلے سے ہورہا ہے اور اسی کا تسلسل ہے۔ خفیہ عسکری اثاثوں کے جھانسوں میں مت آئیں۔
1971ء کی جنگ میں بھارت نے گلگت بلتستان کے چار گاؤں پر قبضہ کر لیا تھا اور پاکستانی آرمی آج تک ان علاقوں کو واپس نہ لے سکی
پاکستانی فوج کی نااہلیت سے پاکستان کو ایک اور بڑا نقصان یہ پہنچا کہ اس سے بھارت کیلئے سیاچن گلیشیئر کے راستے ہموار ہو گئے
(صلاح الدین زین کی رپورٹ)
@KhawajaMAsif منافقت کی انتہاء ہے۔۔۔!! وہاں جاکر حماس کیخلاف لڑنے کیلئے فوج بھیجنے کے معاہدوں پر دستخط کرتے ہو اور قوم کے سامنے مگرمچھ کے آنسو بہاتے ہو۔ کوئی شرم ہوتی ہے کوئی حیاء ہوتی ہے اور نہیں تو اپنی عمر کا ہی کچھ لحاظ کرلیا کرو قبر میں پاوں لٹکے ہوئے ہیں۔
جو شخص مینڈیٹ چوروں کیساتھ اتحاد کرے، عدلیہ کے خاتمے کے لیے 26ویں اور 27ویں ترمیم کرواۓ، پاکستانی عوام کو اسلام آباد اور مریدکے میں زبح کرنے والوں کے شانہ بشانہ کھڑا ہو اپنی ماں کے قاتلوں کو گلے لگاۓ وہ شخص ایک دن میں جمہوری کیسے بن سکتا ہے
یہ سہیل آفریدی کیساتھ وہی برتاؤ کرے گا جو عاصم منیر اس سے کرواۓ گا
جس نے اقتدار اور طاقت کے لیے ماں کے خون کا سودا کیا ہے وہ جمہوریت یا آئین کا کیا سگا ہو گا
میں نے کل ہی ڈفر کانفرنس کے حوالے سے سہیل آفریدی کو جیسا کہا تھا، آج ایمان مزاری نے بالکل ویسا ہی کرکے کانفرنس میں انکا نام لیکر بے بنیاد الزامات لگانے پر ڈفر کیخلاف عدالت میں درخواست دائر کردی۔
(آخری پیراگراف دیکھیں 👇)
@SohailAfridiISF@MeenakhanAfridi
پاگستانیوں کی عقل گھاس چرنے گئی تھی جو واپس کبھی نہیں لوٹی۔۔۔!! ایک ادارہ اپنی تمام تر آئینی حدود پھلانگتے ہوئے سیاسی قوتوں کو آپس میں لڑوا کر آفسر شاہی عدلیہ و صحافت کو رکھیل بناکر اور تقریباٗ تمام مکاتب فکر میں اپنے ٹٹو بٹھاکر نظام پر قابض ہوکر ملک میں ایسٹ انڈیا کمپنی کے طرز پر حکمرانی اور کاروبار کررہا ہے۔
کمپنی بار بار دہشتگردی کو جواز بناکر اس شخص کے ذریعے ملک کی مقبول ترین سیاسی جماعت، ایک سابق وزیراعظم، ایک منتخب وزیراعلی، اور چار کروڑ کی آبادی والے صوبے کی توہین کررہا ہے، جبکہ ہم اس پر تبصروں و جوابات میں اپنا اور قوم کا وقت و طاقت ضائع کررہے ہیں۔
میں تحریک انصاف و دیگر جمہوری قوتوں کی اس بات سے بھی متفق ہوں کہ قوم میں انقلاب لانے کی ثقط اہلیت و شعور نہیں ہے جبکہ چند ہزار نہتے لوگوں کو لاکھوں کی منظم و مصلح فورس کے ہاتھوں مروایا نہیں جاسکتا، اور بطور سیاسی کارکن آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر ہی اس فسطائیت کیخلاف جدوجہد کرنی ہے۔
لیکن بصد احترام اگر ہمت اور حقیقتاٗ کچھ کر گزرنے کی نیت ہو تو آئین و قانون کے دائرے میں رہ کر بھی بہت سے طریقوں سے ہمارا خون چوس پنپنے والے سامراجی نظام کو گھٹنوں پر لایا جاسکتا ہے، لیکن اس کیلئے نیت حکمت عملی و عملدرامد درکار ہیں۔
سیاسی طاقتوں کے پاس عوام کے مزاج کو سمجھتے ہوئے سڑکوں پر آنے کے علاوہ بھی بہت سے مؤثر طریقے ہوتے ہیں جن کی مثالیں دنیا کی تاریخ میں موجود ہیں جن میں سول نافرمانی کا آپشن سرفہرست ہے، لیکن اگر کسی کو لگتا ہیکہ حالات ابھی اس نہج تک نہیں پہنچے تو بھی بہت کچھ کیا جاسکتا ہے۔
مثال کیطور پر انکی حقیقت دنیا کو دکھانے اور عوام میں شعور و ہمت اجاگر کرنے کیلئے بیکار کے جلسوں کی بجائے بلا سیاسی تفریق ہر مکتبہ فکر کے لوگوں و خصوصاٗ طلبہ کو مدعو کرکے آئین کی بالا دستی و بحالی جیسے عنوانوں پر سیمینارز و کنوینشن منعقدکروائے جائیں، جن میں معروف وکلاء اور آئینی ماہرین سے فوج و پولیس سمیت افسرشاہی کے قانونی جدود و آیینی حیثیت کے بارے میں تقاریر کروائی جائیں، اور سوشل میڈیا کے ذریعے اسکو دنیا میں پھیلایا جائے، جبکہ دوسری طرف بیک وقت سیاسی کارکنان عوامی رابطہ مہم کے ذریعے ملک کے بچے بچے تک آئین کا درس پہنچائیں، پھر اسکے بعد کے مراحل میں تحریک کااعلان کرکے قوم کو واضح لائحہ عمل دیں۔
اور جہاں تک ڈفرزکے پریس کانفرنس کی بات ہے تو پاکستان کے آئین میں کسی سرکاری ملازم یا ادارے کو پالیسی سازی سیاست یا منتخب نمائندوں کے وزن و سیاسی جماعتوں کے نظریات پر الزامات عائد کرنے اختلاف رکھنے و سوال اٹھانے کا حق حاصل نہیں ہے، لہذا جواب دینے کی بجائے اسکے خلاف عدالت سے رجوع کرکے قانونی کاروائی کی عرضی ڈالیں، اور بے بنیاد الزامات پر حدتک عزت کی درخواست بھی ڈالیں، پھر کیا سیاسی نتائج نکلیں گے وہ سب بہتر سمجھ سکتے ہیں۔
@SohailAfridiISF@Aleema_KhanPK@salmanAraja@ImranKhanPTI@ImranRiazKhan@ARYSabirShakir@MeFaheem@SdqJaan@MoeedNj@MeenakhanAfridi@ShahidkhattakSk@NaeemPanjuthaa@advalizaman