رضا ڈار۔کیس میں گرفتار ملزم ساجد کی بیوی اور بھائی منظر عام پر اگئے، بیوی کا کہنا ہے کہ شوہر سویپر ہے پتہ نہیں کون کون سے الزام لگا دیے ہیں امیروں کو بچانے کے لیے غریبوں کو پھنسا رہے ہیں
انتہائی مستند ذرائع سے یہ خبر آئی ہے کہ انڈیا اپنی سب میرینز پہ نیوکلیئر وارہیڈز کی تنصیب کا کام کر رہا ہے جن کی تعداد 12 کے قریب ہے اور یہ خبر SIPRI سے آئی ہے یہ پاکستان کے لیے بہت بڑا تھریٹ ہے ! ملیحہ لودھی ۔۔۔
انڈیا جنگ کی تیاری کر رہا ہے جبکہ ہم آزاد کشمیر میں الیکشن چرانے کی تیاری کر رہے ہیں
محسن نقوی کے حکم پر سہیل آفریدی نے ایک اینٹی کرپشن آفیسر کو معطل کر دیا
وہ اینٹی کرپشن آفیسر وہ تھے جنہوں نے عمران خان کے خلاف جھوٹا فیصلہ دینے والے جج دلاور کے خلاف کیس بنایا تھا اور وہ کیس بالکل صیح تھا
سہیل آفریدی اب قابل نفرت ہوتے جا رہے ہیں یہ بالکل ہی لیٹ گیا ہے
عدیل راجہ
@zeshmohmand وہ الیکشن چوری نہیں کرتے وہ سیاست میں مداخلت نہیں کرتے وہ کاروبار نہیں کرتے وہ ڈی ایچ اے نہیں بناتے وہ ریٹائرڈ ہو کے دوبارہ نوکریاں لے کر نوجوانوں کی حق تلفی نہیں کرتے وہ گالف کلب نہیں بناتے وہ بارڈر سے تیل سمگل نہیں کرتے وہ اپنی عوام پہ گولی نہیں چلاتےوہ لوگوں کو غائب نہیں کرتے
علی محمد خان کا قد سوا چھ فٹ سے نکلتا ہے۔ رنگ اناروں جیسا سرخ ہے۔ بال اس قدر سلیقے سے تراشے ہوئے کہ کسی فلمی ہیرو کا گمان ہوتا ہے۔ ہر کوئی وزیراعظم بننے سے رہا علی محمد خان نے سیاست کی معراج دیکھ رکھی ہے۔ لگاتار ایم این اے بن جانا ، وفاقی وزیر ہوجانا ، پورے ملک میں شناخت بن جانا ہی سیاست کا عروج ہوا۔ اتنا وقت سیاست میں گزارنے کے بعد علی محمد فن تقریر سے بخوبی آشنا ہے۔ نہ فمبل کرتا ہے نہ اٹکتا ہے ، نہ لہجے میں کوئی علاقائی چھاپ آتی ہے۔ ولایت پلٹ ایل ایل ایم بھی اپنے ساتھ بیرسٹر لکھتے ہیں ، صرف امتحان پاس کرکے باقی منازل طے کیے بغیر بھی خود کو بیرسٹر ہی کہتے ہیں۔ معلوم نہیں علی محمد کس کیٹگری والا بیرسٹر ہے لیکن بہرحال بیرسٹر ضرور ہے۔ یعنی یہاں بھی ایکسپوژر تو کچھ نا کچھ ہوا۔
پھر سیاستدانوں کی ایک کیٹگری وہ ہوتی ہے جو اچانک دولت کے زور سے یا پھر کسی حادثے کی وجہ سے یا اپنے کسی سابقہ عہدے کی وجہ سے سیاست میں آجاتے ہیں۔ وہ تمام جتن کرکے بھی خود کو خاندانی سیاستدان یا خاندانی رئیس قرار نہیں دے پاتے اور ان کا احساس کمتری کہیں نا کہیں جھلکتا رہتا ہے۔ علی محمد خان کے خاندان کے لوگ اگر ملکی سطح نا سہی اپنے علاقے کی حد تک جانے پہچانے لوگ ہیں۔ یعنی علی محمد خان کو قدرت کی جانب سے پریمیم سبسکرپشن والا ایک مکمل پیکج ملا۔
نوازشوں کا یہ سلسلہ رکا نہیں۔ رجیم چینج کی رات علی محمد خان کی ایک تقریر نے ریٹنگ کے سارے ریکارڈ توڑ دیے۔ علی محمد خان اور قاسم خان سوری رجیم چینج کے وقت ہیرو بن کر ابھرے۔ چھوٹے شہروں کی ریلیوں میں انہیں سننے سینکڑوں ہزاروں لوگ پہنچتے۔
پھر حالات نے پلٹا کھایا۔ اب آزمائش کا وقت تھا۔ مشکلات اور سختیاں تھیں۔ فریق دو ہی تھے۔ ایک عمران خان اور دوسرا اسکو شکست دینے کے درپے طاقتیں۔ قدرت نے فیصلے کا اختیار علی محمد کی سوجھ بوجھ کو دیا۔ علی محمد خان ہر روز عمران خان کو شکست دینے کی کوششیں کرنے والوں کیساتھ کھڑا نظر آیا۔ معلوم نہیں لالچ ہے یا دباؤ ، سختیوں سے بچنے کی کوشش ہے یا بیچارہ تھا ہی یہی کچھ ، ہر روز کی ذلت ، ہر روز کی رسوائی۔ نشستیں فارم سینتالیس پر بھی مل جاتی ہیں۔ وزارتیں بھی مل جاتی ہیں۔ سیاستدان کی عزت وہ ہے جو عوام کے دل میں ہوتی ہے۔ علی محمد اس سے محروم ہوچکا۔
قائد جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمان صاحب کی آگ اگلتی پریس کانفرنس
طاقتوروں کے ناز نخرے اور گھمنڈ تم کو نئے شیخ مجیب کی تلاش ہے۔
تم کرپشن اور سمگلنگ میں خود ملوث ہو میں ڈیورنڈ لائن کو نہیں مانتا بلوچستان اور پختون خوا میں ریاستی رٹ ختم مسنگ پرسنز کا معاملہ تم کو افغانستان کی بڑی