اس موضوع پر گفتگو کرنے یا حقائق وغیرہ جاننے کی ضرورت نہیں۔
سادہ سا حل ہے۔
راولپنڈی، گوجرانوالہ , گجرات، لاہور ڈویژنز سے تعلق رکھنے والے صحافیوں سے ان دونوں صحافیوں فرزانہ علی اور رفیع اللہ کاکڑ کو غدار قرار دلوائیں اور ان دونوں کو بتائیں کہ “تمہیں کیا پتا”۔
اور پھر عاصم منیر فارمولے کے تحت بلوچستان سے ریئر ارتھ منرلز عالمی طاقتوں کو بیچنا اور بلوچوں کو مارنا جاری رکھیں۔
آپ حد دیکھیں پاکستان کے حالات کس نہج پر پہنچ گئے ہیں۔ یہ دونوں سینئر صحافی میرے لیے قابل احترام ہیں۔ مگر بات یہ ہے کہ ان کا تعلق نہ تو اوپر لکھی گئی چار ڈویژنز سے ہے اور نہ ہی یہ پنجابی ہیں، پھر بھی بلوچستان کے امور پر اتنے کانفیڈنس سے بات کر رہے ہیں۔
ﷲ معاف کرے یہ وقت بھی آنا تھا۔
بلوچستان کے امور پر کوئی نان پنجابی بات نہیں کر سکتا۔
جاگ پنجابی جاگ۔ تیری پگ نوں لگ گیا داغ۔
جاگ
چیف جسٹس کہتے ہیں کمشنر راولپنڈی نے جھوٹ بولا، وہ کونسا قانون ہے جس کی بنیاد پر بغیر انکوائری چیف جسٹس کھڑے ہو کر یہ کہہ رہے ہیں، کہاں ہے وہ شخص جو کمشنر تھا؟ کس نے اُس کو اُٹھایا ہوا ہے، روف حسن۔۔۔!!!
یہ ہے وہ ٹویٹ جس نے اسرائیل، عرب اور پاکستان میں اسکے ایجنٹس اور ایجنٹس کے ٹاؤٹس کو پتا نہیں کہاں کہاں تک جلا کر رکھ دیا ہے۔ زندہ باد مشتاق صاحب !
ایجنٹس اور ٹاؤٹس کی جلن مزید بڑھانے کے لئے ری ٹویٹ کرتے جائیں۔
آرمی چیف نے ہی میری بیوی کو ٹارگٹ کیا جس کا کوئی لینا دینا نہیں تھا، مجھے اور میری بیوی کو کچھ ہوتا ہے تو وہی ذمہ دار ہوں گے۔ عمران خان
@ImranKhanPTI#ImranKhanPTI#asimmunir#BushraBibi
https://t.co/HhBb4wsbL0
27 برس قبل پاکستان تحریک انصاف نے ملک میں قانون کی حکمرانی اور عدل و انصاف کے قیام کیلئے اپنی جدوجہد کا آغاز کیا۔ قانون کی حکمرانی کی بنیاد ہی آزاد عدلیہ پر استوار ہوتی ہے۔
گزشتہ کئی برسوں کے دوران ہم نے اپنی نگاہوں کے سامنے قانون کی حکمرانی کے تار و پود بکھرتے دیکھے جبکہ گزشتہ دو برس کے دوران پوری ڈھٹائی سے دستور و قانون سے انحراف کیا گیا اور آئین کو تاراج کرنے کے ساتھ نہات دیدہ دلیری سے اسے نیچا دکھایا گیا جس سے عدلیہ کی بچی کُھچی ساکھ اور اس کے اختیار و حیثیت کا بھی جنازہ نکل گیا۔
چنانچہ ہم اسلام آباد ہائیکورٹ کے ان 6 بہادر ججز کا خیر مقدم کرتے ہیں جنہوں نے چیف جسٹس آف پاکستان اور سپریم جیوڈیشل کونسل کے اراکین کے نام اپنے خط کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کی نہایت تشویشناک کیفیّت پر سے پردہ ہٹایا ہے۔ یہ خط اپنے دو عدد منسلکہ جات کے ذریعے خفیہ ایجنسیوں کی جانب سے پوری ڈھٹائی سے عدالتی معاملات میں اس شرمناک مداخلت کو ریکارڈ پر لاتا ہے جو ملک میں عدلیہ کی آزادی کے خلاف ایک نہایت افسوسناک اور قابلِ مذمت فردِ جرم سے کسی طور پر بھی کم نہیں۔
حقیقت تو یہ ہے کہ گزشتہ دو برس کے دوران جس انداز میں ججز کو ڈرا دھمکا کر انہیں سیاسی بنیادوں پر فیصلے جاری کرنے پر مجبور کیا جاتا رہا ہے اس سے ان ججز کے فیصلوں اور عدالتی امور میں شفافیّت کے پورے عمل پر ان گنت سوالات سر اٹھاتے ہیں۔
مزید یہ کہ اس پورے عمل سے ریاست کے بیانیے کی صحت اور 9 مئی کے واقعات و نتائج کی حقیقت، جن کے پس منظر میں بانی چیئرمین پاکستان تحریک انصاف عمران خان کا اسلام آباد ہائیکورٹ کی عمارت پر باقاعدہ ایک یلغار کی صورت میں نیم فوجی دستوں کے ذریعے (ہائیکورٹ کے اندر سے) اغوا اور ان سے کی جانے والی بدسلوکی کارفرما ہے، کے حوالے سے بھی نہایت سنجیدہ سوالات پیدا ہوتے ہیں۔
تب سے لیکر اب تک (ملک میں) سیاسی انتقام کی ایک لہر اٹھائی گئی ہے جس کے تحت سیاسی کارکنان اور قائدین کو اغوا کرکے انہیں اذّیت و تشدد کا نشانہ بنانا ایک معمول یا روایت بن کر رہ گیا ہے اور عدالتیں اپنے اختیارات بروئے کار لانے یا (ان زیرِعتاب سیاسی کارکنان/قائدین کو) انصاف فراہم کرنے میں یکسر ناکام رہی ہیں۔
اس سے بھی بڑھ کر اہم یہ ہے کہ یہ اسلام آباد ہائیکورٹ اور اس کی ذیلی عدالتیں ہی ہیں جہاں بانی چیئرمین تحریک انصاف عمران خان کے زیادہ تر مقدمات جن میں ان کی غیرقانونی گرفتاری اور (جعلی، بےبنیاد، من گھڑت اور جھوٹے مقدمات میں) دی جانے والی سزاؤں (کے خلاف اپیلوں وغیرہ) کے معاملات شامل ہیں، زیرِ سماعت ہیں۔ حقیقت یہی ہے کہ یہ عدالت دباؤ اور مداخلت کے زیرِ اثر ہے جس سے ان مقدمات پر کی جانے والی عدالتی کارروائی پر بھی نہایت سنگین نوعیت کے شکوک و شبہات جنم لیتے ہیں۔
چنانچہ یہ ناگزیر ہے کہ سپریم جیوڈیشل کونسل اسلام آباد ہائیکورٹ کے 6 معزز ججز کی جانب سے لگائے جانے والے نہایت سنجیدہ الزامات کی ایک غیرجانبدارانہ تحقیقات کرے اور ان ہزاروں سیاسی قیدیوں کیلئے سہولت و انصاف کی فراہمی یقینی بنائے جو بغیر کسی جرم کے جیلوں میں قید ہیں۔
کل 2 بجے میریٹ ہوٹل اسلام آباد میں انٹرنیشنل میڈیا اور پاکستانی میڈیا کے سامنے فارم 45 رکھیں گے، سلمان اکرم راجہ بھی وہاں ہوں گے، سوشل میڈیا واریئرز اس پیغام کو زیادہ سے زیادہ پھیلائیں۔