یہ بات ٹیھک ہےکہ اپ ہندو پرادری کو مبارکباد دیتے ہو۔۔لیکن ایک مزمتی ٹویٹ نہیں کرسکتے ان بے گناہ 4جانی خیل نوجوانوں کیلیے جو بڑی بے دردی اور بے حرمتی کے ساتھ شہید کردیے گیے ہے۔
ہمارے لہجو میں فرق ضرور ہوگا ۔۔کیونکہ جب سے ہم پیدا ہویے ہے اچھے دن ہم نے نہیں دیکھے
ماہر افغان
مفتی منیر شاکر شہید نے اس بیانیے کو بہت بخوبی سے آشکار کیا جس منصوبے سے پشتون قوم کے نوجوانوں اور مشرانوں کے قتل کرتے تھے۔نور باچا
#statekilledmunirshakir
چې کله يو دينې عالم د لاهورې اسلام نه حقانيت او ريشتونې افاقې اسلام ته راشې نو رياست پاکستان يی وژنې ۔ مفتې منيرشاکر چې پښتون مسلمان شو او د لاهورې اسلام حقيقت يی پښتنو ته وړاندې کوو نو رياست شهيد کړو ۔
#StateKilledMunirShakir
PTM social media team is running a hashtag to remember Mufti Munir Shakir who was assassinated by the enemies of the Pashtun nation. In Pakistan, any Islamic scholar calling for justice and peace for Pashtuns
#StateKilledMunirShakir
1/1
#StateKilledMunirShakir
A society that fails to protect scholars who speak for peace and justice exposes the depth of its crisis. Mufti Munir Shakir was targeted because he challenged ignorance and stood with the oppressed. The truth cannot be buried with bullets. The people will keep asking: who ordered his killing and why has justice not been delivered?
#StateKilledMunirShakir
#StateKilledMunirShakir
Remembering Mufti Munir Shakir means refusing to forget the injustice surrounding his assassination. It means demanding transparency, accountability, and justice. The people will keep raising their voices until those responsible are identified and held accountable.
#StateKilledMunirShakir
#کراچی سہراب گوٹھ — چار لاشیں، ایک ماں اور تین معصوم بچے
یہ #قتل نہیں، ریاستی بے حسی کا اعلان ہے
سہراب گوٹھ گنامنڈی کے قریب #أفغانستان سے تعلق رکھنے والے تین معصوم #بچوں اور ان کی ماں کی چھت سے لٹکی ہوئی لاشوں کی برآمدگی نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ #پاکستان، خصوصاً سندھ میں، انسانی جان کی کوئی قیمت نہیں رہی۔
یہ کوئی عام قتل نہیں،
یہ انسانیت کا سرِعام قتل ہے۔
سوال یہ ہے: یہ کس مذہب میں لکھا ہے کہ ایک ماں اور اس کے بچوں کو یوں قتل کر دیا جائے؟
یہ کون سا قانون ہے جو قاتلوں کو تحفظ اور مظلوموں کو خاموشی دیتا ہے؟
یہ کون سی ریاست ہے جو لاشیں گن لیتی ہے مگر قاتل نہیں ڈھونڈتی؟
پہلے سندھ میں افغان مہاجرین کی بستیوں پر قبضہ کیا گیا،
پھر جبری بے دخلی، ذلت اور تذلیل،
اور اب کھلا قتل —
یہ سب کسی پالیسی کے بغیر نہیں ہو رہا، یہ ایک سوچی سمجھی ظلم کی زنجیر ہے۔
سندھ پولیس اور دیگر فورسز کی مجرمانہ لاپرواہی اس قتل میں برابر کی شریک ہے۔
لفافہ صحافی، ٹاؤٹس میڈیا اور رشوت خور عناصر ہمیشہ کی طرح خاموش ہیں، کیونکہ سچ بولنے سے لفافے بند ہو جاتے ہیں۔
یہاں پاکستان میں: قانون اور آئین صرف مظلوم کیلئے حرکت میں آتا ہے،
جبکہ قاتل، بدمعاش، لٹیرے، کچے کے ڈاکو، کرپٹ افسران اور نااہل حکومتیں مکمل تحفظ میں رہتی ہیں۔
یہ قاتل انسان نہیں —
یہ درندے ہیں، بلکہ جانوروں سے بھی بدتر،
کیونکہ جانور بھی اپنے بچوں کو اس طرح موت کے گھاٹ نہیں اتارتے۔
ہم واضح اعلان کرتے ہیں: اگر ان قاتلوں کو فوری گرفتار کر کے عدالت میں پیش نہ کیا گیا،
اگر ایسی عبرتناک سزا نہ دی گئی کہ آنے والی نسلیں کانپ اٹھیں،
تو یاد رکھا جائے — یہ خون صرف قاتلوں کے ہاتھوں پر نہیں، ریاست کے دامن پر بھی لکھا جائے گا۔
ہم تمام انسانیت پر یقین رکھنے والے صحافیوں، انسانی حقوق کے اداروں، وکلا، طلبہ، اساتذہ اور باشعور عوام سے اپیل نہیں بلکہ مطالبہ کرتے ہیں:
اس ظلم کے خلاف آواز بلند کریں
خاموشی توڑیں
قاتلوں کو قانون کے حوالے کروائیں
کیونکہ آج یہ افغان مہاجر تھے،
کل کوئی اور ہوگا —
اور اگر آج بھی خاموش رہے تو کل باری ہماری ہوگی۔
خاموشی جرم ہے
اور اس وقت خاموش رہنا قاتلوں کا ساتھ دینے کے مترادف ہے۔
#StopStateTerrorism
@farzanaalispark@HamidMirPAK@IrshadBhatti336@AsadAToor@KashifJrnlst@TirahWalMama@AdnanBitani@a_siab@HRCP87@UN_Women@Refugees@UNHumanRights@UNHCRAfg@ForeignOfficePk@BBCUrdu@AAliZardari@samanthaleaning@umerpashtoon
دس دن کی خاموشی کے بعد بالآخر وزیرِاعلیٰ نے اعتراف کر ہی لیا کہ پی ٹی ایم کا وفد — وہی لوگ جنہیں پی ٹی آئی نے خود اپنے نام نہاد امن جرگہ میں بلایا تھا — واپسی پر انٹیلی جنس اداروں نے اغوا کرلیا اور اب انہیں اسلام آباد میں ایم آئی کے پاس رکھا ہوا ہے۔
#WhereIsPTMDelegation
جنیوا میں اقوامِ متحدہ کے دفتر کے سامنے پشتون تحفظ موومنٹ کی جانب سے بلایا گیا مظاہرہ۔
وہ پشتون وطن میں امن، پاکستانی ریاست کی جانب سے گرفتار کیے گئے کارکنوں کی فوری رہائی اور پی ٹی ایم پر پاکستان کی طرف سے لگائی گئی پابندی کے خاتمے کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
#PashtunLongMarch2Geneva
اقوامِ متحدہ کے دفتر کے سامنے، 850 سرخ انقلابی ٹوپیاں “ٹوٹے ہوئے کرسی” پر رکھی گئیں تاکہ اُن 85,000 پشتونوں کی یاد تازہ کی جا سکے جو قتل ہوئے۔ یہ کرسی 1997 میں وہاں اس مقصد کے لیے نصب کی گئی تھی کہ مختلف مظالم کے شکار افراد کی یاد دلائی جائے۔
#PashtunLongMarch2Geneva