مرشد اسے تو ہم سے ہی فرصت نہیں ملی!
جنوبی پنجاب کے شہر بھکر سے تعلق رکھنے والے شاعر افکار علوی کو 'ملک کے ریاستی اداروں پر تنقید' سمجھی جانے والی ان کی شاعری پر پابندی کے حلف نامہ پر دستخط کرنے پر مجبور کر دیا گیا، سوشل میڈیا سے ویڈیوز حذف کر دی گئیں۔
#UndeclaredMartialLaw
لاشیں چھپانے والی حکومت نے جمہوریت کو ایک زندہ لاش بنا دیا ہے۔ تاریخ یہ بتاتی ہے کہ جمہوریت کے نام پر آمریت زیادہ دیر قائم نہیں رہ سکتی۔ ہمیں صرف سوگوارانِ جمہوریت نہیں بننا بلکہ اس جمہوریت کو مرنے سے بچانا ہے۔ جمہوریت نہ بچی تو پاکستان کا بچنا مشکل ہو گا۔ https://t.co/uu5AzEfHSZ
شفیق لُنڈ میرے ساتھ ساتھ رہا مجھے پانی اور نمک دیا آنسو گیس شیلنگ کے اثرات کم کرنے کے لیے میری آنکھوں پر عرق گلاب سپرے کیا 🥲اس کی موت گولی لگنے سے ہوئی ! سینئر صحافی حامد میر نے شفیق لُنڈ سمیت چار شہادتوں کی تصدیق کردی کہ ان کا تو انہیں خود معلوم ہے!
حکومت سارے سوشل میڈیا پر پابندی لگا کر بھی بیانیے کی لڑائی نہیں جیت سکتی۔ وجہ صرف ایک ہے کہ حکومت جھوٹ پر اپنا بیانیہ کھڑا کرنا چاہتی ہے جو کسی بھی دور میں ناممکن ہے۔ کچھ دیر تک کچھ لوگوں کو بے وقوف بنایا جا سکتا ہے مگر جھوٹ آخر پکڑا جاتا ہے چاہے وہ جعلی فارم 47 کی صورت میں ہو چاہے وزراء کے منہ سے نکلنے والے جھوٹے الزامات کی صورت میں یا پھر جعلی مقدموں کی صورت میں۔ جھوٹ کی قسمت میں رسوائی اور شکست ہی رہے گی۔
ایک اور ثبوت 🚨
ٹاوٹ ابصار عالم کی لائیو رپورٹنگ کے دوران گولیاں چلنے کی آوازیں آ رہی ہیں اور پھر یہ ضمیر فروش ریاستی کنجر کیسے کہہ سکتے ہیں کہ گولی نہیں چلائی گئی.
یہ فوج پاکستان کا دفاع نہیں کر رہی یہ ان عیاشیوں کا دفاع کر رہی ہے جہاں تک عام پاکستانیوں کی بالکل رسائی نہیں ہے
یہ اپنی ایمپائر بچانے کے لئے پاکستانیوں کا قتل عام کر رہے ہیں
کچھ لوگ فرما رہے ہیں کہ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اچانک سامنے آئی ہیں۔ ان سے عرض ہے کہ 2011 میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کے والد کو ماورائے عدالت شہید کر دیا گیا اور ان کو مسخ شدہ لاش تحفے میں دی گئی ۔ تب سے ڈاکٹر مہرنگ بلوچ نے اپنے راستے کا انتخاب کر لیا تھا۔ اس وقت وہ 15 سال کی تھیں۔اس کے بعد انہوں نے اپنی تعلیم پر توجہ دی۔ بولان میڈیکل کالج میں ایم بی بی ایس میں داخلہ لیا۔ بولان میڈیکل کالج میں انہیں طرح طرح سے تھریٹ کیا گیا لیکن وہ سٹوڈنٹ پالیٹکس میں حصہ لیتی رہیں۔طلبا حقوق کے لیے آواز اٹھاتی رہیں۔ ایم بی بی ایس مکمل کی۔ بلوچستان کے ہر شہر میں مسنگ پرسنز کیمپس میں جبری گمشدگیوں کے خلاف آواز اٹھاتی رہیں۔ 2018 میں بلوچ یکجہتی کمیٹی کے وجود کے بعد ان کو ان کی خدمات کی وجہ سے چیف آرگنائزر کا عہدہ سونپا گیا۔ ہر جبر کا مقابلہ بہادری سے کرتی رہیں۔ گوادر جسے پاکستان اپنا اکانمیکل حب بولتا ہے 2022 میں سیلاب کی زد میں آجاتا ہے۔ ریاست گوادر کے لوگوں کو بے یار و مددگار چھوڑ دیتی ہے۔ تب ڈاکٹر مہرنگ بلوچ چندہ کٹھا کر کے اپنی مدد آپ کے تحت وہاں کے لوگوں کی مدد کرتی نظر آتی ہے۔ 2023 میں بالاچ بلوچ کے ماورائے عدالت قتل کے بعد کوئٹہ میں دھرنا دیا جاتا ہے۔ پھر اس دھرنے کو اسلام آباد شفٹ کرنے کی کال دی جاتی ہے۔ جس کے خلاف ریاست اپنی ظلم و بربریت کا بازار گرم کر دیتا ہے۔ اسلام آباد نا پہنچے کی غرض سے طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کرتی ہے۔ بلوچستان کے ہر علاقے سے گزرتے ہوئے ان کو خوش آمدید کہا جاتا ہے۔ تونسہ میں عوام کا جم غفیر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کے حوصلے کو مزید بلند کر دیتی ہے۔ ان رکاوٹوں کے باوجود وہ اسلام آباد پہنچنیں میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ دسمبر 2023 میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ پاکستان کے لیے اچانک ابھر کر آئیں لیکن بلوچستان کا ہر فرد ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو پہلے سے جان چکی ہوتی ہے۔ اسلام اباد دھرنے کا اصل مقصد بلوچ عوام کو موبلائز کرنا ہوتا ہے ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی اسلام اباد دھرنے کے ختم ہونے کے بعد پورۓ بلوچستان میں جلوس نکلتے ہیں جو بلوچ عوامی تحریک کے کامیاب ہونے کا ثبوت ہے۔ انٹرنیشنل میڈیا ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی جدوجہد کو سراہتی ہے۔ 2023 میں @TIME میگزین کے ٹاپ 100 انفلیونشل پیپل میں ڈاکٹر مہرنگ بلوچ کا نام شامل کیا جاتا ہے۔ ڈاکٹر مہرنگ بلوچ اس وقت بلوچستان کی سب سے توانا آواز بن چکی ہیں۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی ایک کال پر پورے بلوچستان میں جلوس شروع ہو جاتے ہیں جس کا ثبوت 28 جولائی 2024 میں بلوچ راجی مچھی کی صورت میں ملتا ہے۔ لوگوں پر سٹریٹ فائر کیے جاتے ہیں لیکن ان سب کے باوجود لوگ گوادر پہنچنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ اس وقت پورا بلوچستان ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کو ایک لیڈر کی صورت میں دیکھتا ہیں۔ بلوچستان کی عوام نے پارلیمانی سیاست دونوں کو الوداع کر دیا ہے۔ اس وقت بلوچ لیڈرشپ نوجوان نسل کے ہاتھ میں ہے جو کہ ایک خوش آئند عنصر ہے۔ ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ کی تحریک کی کامیابی کی وجہ اصولوں پر کمپرومائز نا کرنے کی وجہ سے ہے۔ اصولوں پر قائم ودائم یہ تحریک بلوچستان کے لوگوں کے حق میں کتنا کارگر ثابت ہوتی ہے یہ تو آنے والا وقت بتاۓ گا۔
تحریر: @Zorakh_Baluch
ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ جب لاپتہ افراد کے لواحقین کے ہمراہ اسلام آباد پہنچی
تو نگراں وزیراعظم انوار الحق کاکڑ کے حکم پر ان کو پریس کلب جانے سے پہلے روک دیا تشدد کرنے کا فیصلہ کیا
@MahrangBaloch_
یہ 23 نومبر کی سندھ کی وڈیو ہے نا قابل یقین ۔
کس آئین اور قانون میں لکھا ہے پرامن طریقہ سے سفر کرنے والوں پر گولیاں برسادی جائیں ۔ اور فائر کر کے گاڑیوں کے ٹائر بھی برسٹ کر دئیے جائیں ۔
سندھ کے عوام پیپلز پارٹی کا یہ غیر جمہوری سفاک چہرہ ضرور یاد رکھیں ۔
#گولی_کیوں_چلائی
آٹھ بجے جب میں جناح ایونیو پر گیا تو مجھے پی ٹی آئی کے کارکنوں نے التجا کی کہ اوپر اسنائپرز بیٹھے ہیں، یہاں پر اگر آپ کو گولی لگ گئی تو بعد میں الزام بھی پی ٹی آئی کے کارکنوں اور عمران خان پر ڈال دیا جائے گا،لہٰذاآپ مہربانی کریں اور اپنی جان بچا کر یہاں سے نکل جائیں۔
حامد میر۔