@GovernorSialkot فلاسفر صاحب جو چیز دوسری کمپنیاں 20-30 روپے کے درمیان دے رہی ہیں پمپرز وہی چیز 40-50 روپے میں دیتا تھا کسی کا دماغ خراب ہے اتنا مہنگا لے؟
@saleemspeaks2 انہوں نے یہ حرکت لاہور کے ایک کلب کے ساتھ بھی کی تھی ، اس کلب کی کافی سخت پالیسی ہے کہ اپ ویڈیوز اور فوٹوز نہیں بنا سکتے انکے Aqua ایریا میں ، پچھلے سال انہوں نے پورا ویلاگ کر دیا اور ممبرز نے کمپلئین کر کے انکا ہمیشہ کے لئے داخلہ بند کروا دیا ،
@saleemspeaks2 ہر وہ چیز “حرام” ہے جب تک یہ مولوی اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے جیسے ہی مولویوں کو فائدہ ہونا شروع ہوا یہ اسکے خوبصورت عربی نام رکھ کر اسے حلال کر دیں گے اور واقعات بھی گھڑ لیں گے اسے جسٹیفائی کرنے کے لئے
@heynido Lahore is the most live-able city , yes karachi is but infrastructure bht bura hai , I was in karachi yesterday or mai yehi sochta rha how these people live here , ppp ny aisa baira gharaq kiya hai koi theek bhe karna chahay tu kam sy 5-7 saal continues lagain gain usay
@Malikviews786@rizwan_901 پراپرٹی کہاں بک رہی ہے؟ اور 4-6 مہینے کا ہی کہتے ہیں اور سکون سی سال کھینچجاتے ہیں اور 5 مرلے کا مکان بنے گا ان پیسوں میں اور 5 مرلہ کا مکان کبھی 50-60 لاکھ نہیں چھوڑتا بے شک کوئی بھی سوسائٹی ہو
@wahreh1 میں کل رات ہی گاڑی پہ لاہور سے کراچی ایا ہوں ، صبح 9:30 پہ لاہور سے نکلے تھا اور رات 2 بجے کراچی پہنچا ، سکھر کے رات ایسا بیڑا غرق ہے کہ 125 کلومیٹر کا سفر میں 6 گھنٹے لگ گئے تھے
میں نے زندگی میں تین دفعہ ایسے کیا ہے۔ پہلی دفعہ پنجاب میں تیس دن کا موٹر سائیکل ٹرپ کیا تھا۔ دوسری دفعہ کشمیر میں loc کے قریب بغیر بجلی، موبائل، انٹرنیٹ گھر لیا تھا۔ تیسری دفعہ تین مہینے بسوں اور ٹرینوں پر سری لنکا، ملائشیا اور تھائی لینڈ کا کونا کونا چھانا تھا۔
ٹرپل اے اسوسییٹ۔ سکائی نائن کے بعد سابق کپتان ثقلین مشتاق اور خالدا عوان کا ایک اور سکیم اگیا راولپنڈی میں بحریہ فیز ایٹ کے اندر ثقلین مشتاق ہائٹس کے نام سے اوورسیز پاکستانیوں کے ساتھ بڑا فراڈ 10 سال گزر گئے کروڑوں روپے کےاپارٹمنٹس جو انہوں نے خریدے تھے وہ ان کو ابھی تک نہ مل سکے
⛽ پاکستان میں اب روزانہ بنیادوں پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا اعلان شروع کر دیا گیا ہے۔ یہ نظام عالمی منڈی کی قیمتوں کے مطابق فوری اور شفاف ردِعمل کو یقینی بناتا ہے۔ 🇵🇰
مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کے باعث عالمی سطح پر تیل کی قیمتوں میں اضافے کے باوجود، حکومت نے ملک میں فیول کی بلا تعطل فراہمی یقینی بنائی، کسی قسم کی قلت پیدا نہیں ہونے دی، اور عوام پر بوجھ کم کرنے کے لیے تقریباً 129 ارب روپے خود برداشت کیے۔
اوگرا کی نگرانی، ہدفی سبسڈیز، اور طویل مدتی منصوبہ بندی (مقامی تیل و گیس کی تلاش اور الیکٹرک وہیکلز) کے ذریعے پاکستان اپنے عوام کا تحفظ کر رہا ہے۔
ان شاء اللہ، پاکستان کی کاوشوں سے خطے میں امن قائم ہوگا اور دنیا میں بھی امن غالب آئے گا۔