اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
رات کے اندھیرے میں دھرنے سے عوام کو اکیلا چھوڑ کر غائب ہوجانا۔ اور اگلے دن آکر کہہ دینا دھرنا ختم نہیں ہوا۔ دھرنا جاری ہے۔
یہ گیم تم سے اس بار بھی کی گئی۔ اب بھی یہی کہا گیا کہ لانگ مارچ ہر صورت ہوگا؟
تو کہاں ہوا؟ ساری قیادت کو سانپ کیوں سونگھ گیا؟ کیا گرفتار ہونے کا خطرہ نہیں تھا؟ کیوں عوام سے الگ ہوا سہیل آفریدی؟ اور اگر گرفتار ہوگیا تو کیا اس نے اپنے پیچھے کسی کی ذمہ داری لگائی لانگ مارچ کو لیڈ کرنے کی؟
انصافیو خدا کا واسطہ ہے پٹواریوں کی طرح ریوڑ کے پیچھے مت چل پڑا کرو۔ تم پڑھے لکھے ہو اور باشعور ہو۔ تمہیں میں پہلے بھی کہہ چکا تھا کہ اگر سہیل آفریدی وزیراعلیٰ منتخب ہوجاتا ہے تو سمجھ لینا تحریک انصاف کو کھیلنے کے لئے ایک نیا گنڈاپور دے دیا گیا ہے۔
ذرا سوچو۔
تحریک انصاف ساری کچل کررکھ دی گئی۔
لوگوں کو توڑ توڑ کے پارٹی کے خلاف پریس کانفرنسز کروائیں۔
انتخابی نشان چھین لیا۔
الیکشن سے باہر نکال دیا۔
پھر بھی جب خان کو نا ہرا پائے تو فارم 47 کا سہارا لیا۔
قانون سازی کے لئے بسیں بھر بھر کے اسمبلی ممبران کو ایسے لایا جاتا تھا جیسے بھیڑ بکریاں ہیں۔ تو کیا ایک صوبے کا وزیراعلیٰ آسانی سے بننے دیتے؟
او بھائی خالد خورشید اپنا بندہ نہیں تھا تو اسے ڈس کوالیفائی کرکے نکال دیا گیا تو سہیل آفریدی کونسا حاتم طائی ہے؟
تم جو مرضی بولو مجھے پرواہ نہیں۔ لیکن یاد رکھو تحریک انصاف نے عمران خان کو بیچ دیا ہوا ہے۔ اور تم ابھی تک قیادت سے بیوقوف بن رہے ہو۔
ہاں تو شہباز گل کون سا مہاتما ہے۔ آپ کریں کھل کر تنقید۔ یہی تو میرا پوائنٹ ہے کہ اپنے چھوٹے چھوٹے مفادات پر ہم نے اپنے اپنے بت تراش کر رکھے ہیں۔ کریں ان سب پر تنقید۔ شروع مجھ سے کریں۔ آپکے دوست نے سینٹر بننا ہے اس لئے اس نے کچھ کو مقدس گائے بنا رکھا ہے۔ ان پر تنقید کر دو تو آپکا دوست سارا برگیڈ کھول دیتا ہے۔ میں نے سینیٹر نہیں بننا۔ میرے لئے کوئی مقدس گائے نہیں۔ سب کا احترام۔ آپکے دوست کی خواہشوں کا بھی احترام۔ آپکی تنقید کا بھی احترام۔ سوال پوچھوں گا۔ دبا کر پوچھوں گا۔ مقدس گائے سے بھی پوچھوں گا- آپکے مستقبل کے سینیٹر دوست سے بھی پوچھوں گا۔ اس سے پارٹی کمزور نہیں مضبوط ہوتی ہے۔
“O my people! This worldly life is only a fleeting enjoyment, whereas the Hereafter is truly the home of settlement”
— Surah Ghafir (Chapter 40, Verse 39)
لائحہ عمل۔ سب پر فرض ہے کہ وہ ظلم کے خلاف اپنی طاقت، استطاعت اور ہمت کے مطابق جنگ کریں مگر میدان میں کیونکہ جنگ سوشل میڈیا پر نہیں لڑی جاتی یہاں صرف بیانیہ بنتا ہے شعور دیا جاتا ہے جنگ نہیں لڑی جاتی۔ طاقتور اپنی فرعونیت دکھائے گا مگر اللہ ہمیشہ حق پر رہنے والوں کی مدد کرتا ہے۔
خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔
کبھی رات کے اندھیرے میں عوام کو تنہا چھوڑ کر پراسرار طور پر غائب ہو جانا، اور کبھی فرمائشی گرفتاریوں کے ذریعے احتجاج کو ادھورا چھوڑ دینا۔ یہ محض اتفاقات نہیں، بلکہ عوام کے جذبے، مزاحمت اور امید کو بتدریج ختم کرنے کا ایک نفسیاتی کھیل ہے۔
ایک بات ذہن نشین کر لو، تمہارا محسن صرف عمران خان ہے، یہ قیادت نہیں۔
یہ قیادت تمہیں عمران خان رہا کروا کر نہیں دے گی۔ لیکن تم نے ہمت نہیں ہارنی۔ تمہاری جدوجہد عمران خان کے لئے ہے۔ قیادت کے لئے نہیں۔
میرے ملک کے مستقبل کا سوال نہ ہوتا، میرے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر نہ لگی ہوتیں تو مجھے اس خدائ کے دعویدار مافیہ کی مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
مئی جون ۲۰۲۲ میں مراد سعید دہشت گردی کے پھیلاؤ کا ریاست مخالف پراپگنڈہ کررہا تھا۔ لوگوں کو اُکسا رہا تھا۔
ارشد شریف پر جعلی ایف آئ آرز انہوں نے کاٹیں، اُس کو ہراساں کرنے ان کے ہرکارے اُس کے گھر تک گئے، قتل انہوں نے کیا۔ مطلوب ہوا مراد سعید۔
عمران خان کے گھر پر ان کے پہ در پہ حملے ناکام ہوئے تو مراد سعید کے لائے شرپسندوں نے زمان پارک میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی زندگی پر حملہ انہوں نے کیا عمران خان کے زندہ بچ نکلنے پہ قصوروار مراد سعید تھا۔ اس لیے وہ درکار تھا، ”زندہ یا مردہ”۔
۹ مئی کو کالر سے گھسیٹ کر تشدد کرکے اغوا عمران خان کو انہوں نے کیا۔ فالس فلیگ انہوں نے کیا۔ ذمہ دار مراد سعید تھا۔
۵ اکتوبر کو وزیر علی امین گنڈاپور لانگ مارچ لے کر آئے، روابط مراد سعید سے تھے۔ (پھر اُسی علی امین گنڈاپور کو ان کے ٹاوٹس یقین دہانیاں کراتے رہے کہ آپ کو وزارت سے ہٹانے کی سازش مراد سعید نے رچائی)۔
۲۶ اکتوبر کو گولی کیوں چلائی کا جواز یہ تھا کہ مراد سعید کنٹینر پر موجود تھا، بلکہ لانگ مارچ کے لیے افغانستان سے ۱۵۰۰ بندہ لے کر آیا تھا۔ وہی مراد سعید جس نے اپنی قوم کو ساتھ ملا کر انہیں مجبور کیا تھا کہ اپنے فوجی ٹرکوں میں، اپنے لائے ہوؤں کو اُس افغانستان چھوڑ کر آئیں جس کے ساتھ بارڈر کی سیکیوریٹی ان کی ذمہ داری تھی۔
عمران خان نے قبائلی نوجوان سہیل آفریدی کو وزیر اعلی نامزد کیا بندوقوں کا رُخ پھر مراد سعید کی جانب ہوگیا۔ روپوش مراد سعید نے جیل میں بیٹھے عمران خان سے اپنے دستِ راست کی منظوری کرالی۔
سہیل آفریدی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہا تھا، تو ”عمران خان کو مروانا چاہتا ہے؛ جان نشینی کا طلبگار“؛ مراد سعید
۲۷ ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ہوا تو ٹاؤٹوں نے جا کے اہل خانہ کو پیغام دیا کہ خان صاحب سے ملاقاتیں نہیں ہوسکتیں کیونکہ مراد سعید کو ان کا پیغام پہنچ جاتا ہے پھر وہ احتجاج پر زور دلواتا ہے۔ یعنی ان کے جائز حقوق چھیننے کا مجرم بھی مُراد سعید۔
خیبر پختونخواہ کے امن کا سودا انہوں نے کیا، یہاں کے وسائل کا اختیار انہیں چاہئیے تھا۔ خان صاحب کی رہائی کے بدلے عوام کے خون کی بلی یہ مانگ رہے تھے۔ مذاکرات ناکام مُراد سعید نے کیے۔
گورنر سے لے کر، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، سیکٹر کمانڈرز سے لے کر، اُس کے میڈیائی پالتوؤں اور پارٹی کے اندر کے ٹاؤٹوں سے لے کر سوشل میڈیائ گھس بیٹیھوں تک۔ سب کی نااہلیوں، بے غیرتیوں اور غداریوں کے لیے موردِ الزام مراد سعید۔
بات میری قوم کے مستقبل، میرے لوگوں کی زندگیوں کی نا ہوتی تو مجھے آپ خدائ کے دعویداروں کی اس مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
جو جو خیبر پختونخواہ میں ایمرجنسی کی حمایت کر رہا ہے سمجھ لیجئیے یا تو وہ آئین کے غداروں اور مینڈیٹ چوروں کا سہولتکار ہے، مددگار ہے، بینیفیشری ہے یا ایمرجنسی کے نفاذ سے اُس کے مفادات جڑے ہیں۔
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
خیبر پختونخوا کے غیور محبِ وطن عوام کی منتخب کردہ حکومت کو طاقت کے بل پر ختم کرنا اور عوام کی دو تہائی اکثریت سے منتخب وزیرِاعلیٰ کو گرفتار کرنا عوامی مینڈیٹ، آئینی بالادستی اور جمہوری اقدار پر سنگین حملہ ہے۔
عوامی حمایت اور اعتماد کے بغیر ملک کو درپیش سنگین چیلنجز کا مقابلہ کرنے اور پائیدار امن قائم کرنے کا خواب کبھی شرمندۂ تعبیر نہیں ہو سکتا۔ قیامِ امن طاقت کے بے دریغ استعمال سے نہیں، عوام کے اعتماد، سیاسی استحکام، انصاف اور مؤثر حکمتِ عملی سے قائم ہوتا ہے۔
غربت، مہنگائی اور بے روزگاری کے ہاتھوں پسے ہوئے عوام پہلے ہی شدید مشکلات کا شکار ہیں۔ ایسے میں منتخب حکومت کو ہٹانا، وزیرِاعلیٰ کو گرفتار کرنا اور گورنر راج و ایمرجنسی کے ذریعے عوامی اختیار محدود کرنا ملک کو استحکام کی طرف لے جانے کے بجائے مزید سیاسی تصادم اور انتشار کی طرف دھکیلنے کے مترادف ہے۔
یاد رکھیں! عوامی مینڈیٹ کو طاقت کے زور پر کچلا جا سکتا ہے، لیکن عوام کے دلوں سے ان کی سیاسی وابستگی اور اپنے حقوق کے لیے جدوجہد کا عزم نہیں نکالا جا سکتا۔
عوام کو مسلسل دیوار سے لگایا جائے، ان کے ووٹ کی توہین کی جائے اور آئینی و جمہوری راستے بند کر دیے جائیں تو اس کے نتائج کسی ایک جماعت یا حکومت تک محدود نہیں رہتے، بلکہ پورا سیاسی نظام عدم استحکام کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے لوگوں کو سمجھ لینا چاہیے کہ عوامی مینڈیٹ کوئی کاغذ کا ٹکڑا نہیں جسے جب چاہیں پھاڑ کر پھینک دیں۔
یہ ملک کسی فرد، خاندان یا مسلط کردہ رجیم کی جاگیر نہیں۔ پاکستان کروڑوں عوام کا ملک ہے اور یہاں اقتدار کا فیصلہ عوام کے ووٹ سے ہونا چاہیے، طاقت کے ایوانوں میں بیٹھ کر نہیں۔
ہم خیبر پختونخوا میں گورنر راج، ایمرجنسی کے نفاذ اور عوام کے منتخب وزیرِاعلیٰ کی گرفتاری کی شدید مذمت کرتے ہیں۔ آئین کی بالادستی، عوامی مینڈیٹ کا احترام اور سیاسی حقوق کا تحفظ کسی حکمران کا احسان نہیں، بلکہ عوام کا بنیادی حق ہے۔
یہ وقت خاموشی کا نہیں، آئین، جمہوریت اور عوام کے حقِ حکمرانی کے دفاع کا ہے۔ تاریخ گواہ ہے کہ طاقت کے بل پر اقتدار تو حاصل کیا جا سکتا ہے، لیکن عوامی اعتماد نہیں۔ جو حکمران عوام کی آواز دبانے اور ان کے مینڈیٹ کو روندنے نکلتے ہیں، انہیں بالآخر تاریخ کے کٹہرے میں جواب دہ ہونا پڑتا ہے۔
پاکستان کا استحکام جمہوریت، آئین کی بالادستی اور عوامی مینڈیٹ کے احترام میں ہے، نہ کہ جبر و استبداد، گرفتاریوں اور غیر جمہوری اقدامات میں۔