ٹرمپ اور فیلڈ مارشل کی خوشنودی حاصل کرنے کے علاوہ وزیراعظم شہباز شریف صاحب کی چار سال کی کارکردگی صفر ہے۔کسی کو اختلاف ہے تو ازراہِ کرم اُن کے باقی کارنامے بھی گنوا دے۔
وہاڑی کنونشن: ربِ کعبہ کی قسم یہ جدوجہد اقرارالحسن کے اقتدار یا مفاد کے لیے نہیں بلکہ یہ پاکستان کے غریبوں اور مڈل کلاس والوں کو مسندِ اقتدار پر بٹھانے اور ایک جمہوری عوامی ادارہ بنانے کی تحریک ہے اور صرف اسی طرح فوجی آمریت، شخصیت پرستی اور موروثیت سے چھٹکارا مل سکتا ہے۔
26 مئی ہو، سانحۂ مریدکے ہو یا اب آزاد کشمیر کے سانحات۔۔۔ موجودہ حکومت اور اُس کے اصل “حکمرانوں” نے بربریت کی نئی تاریخ رقم کی ہے۔ درجنوں لوگ شہید ہوئے یا سینکڑوں، اس سے قطع نظر موجودہ رجیم کا ہر سانحے میں مکمل میڈیا بلیک آؤٹ، مظاہرین پر سیدھی گولیاں برسانا اور پھر شہادتوں کی خبر اور لاشوں کی تعداد کو چھپانا تاریخ کا بدترین ظلم ہے۔ سکیورٹی اہلکاروں کی شہادت میں جو بھی ملوث ہے اُسے قرار واقعی سزا دیں لیکن عام شہریوں پر سیدھی گولیاں برسانے کی روایت قابلِ مذمت اور ناقابلِ قبول ہے۔
خدا گواہ ہے کہ کشمیریوں نے ہمیشہ پاکستان اور پاکستانیوں سے محبت کی ہے۔ مجھے جب بھی کشمیر جانے کا موقع ملا یا پاکستان سے باہر آباد کشمیریوں سے ملاقات ہوئی تو ہر ایک نے محبت نچھاور کی۔ آج کچھ ٹاؤٹ اکاؤنٹس کو کشمیریوں کے خلاف زہر اُگلتے دیکھ رہا ہوں تو حیرت اور تکلیف میں ہوں۔
مصیبتیں سر برہنہ ہوں گی عقیدتیں بے لباس ہوں گی
تھکے ہوؤں کو کہاں پتہ تھا کہ صبحیں یوں بد حواس ہوں گی
یہ جس کی بیٹی کے سر کی چادر کئی جگہ سے پھٹی ہوئی ہے ،
تم اس کے گاؤں میں جا کے دیکھو ، تو آدھی
فصلیں کپاس ہوں گی ۔۔۔!
پنجاب کے ہر ضلع اور لاہور کے ہر ٹاؤن میں عوام راج تحریک کے عہدوں کی تفویض کے لیے ہیڈ کوارٹرز میں روزانہ ملاقاتوں کا سلسلہ جاری ہے۔ انشاء اللہ آنے والے چند دنوں میں عوام راج تحریک پاکستان کے ہر شہر میں منظم ہو گی۔
#اب_راج_کرے_گی_خلق_خدا
عمران خان سمیت سیاسی قیدیوں کی رہائی اب اگر ڈیل کے بغیر ممکن ہے تو صرف ایک نئی تحریک کی صورت میں۔ عوام راج تحریک سیاسی انتقام کے خاتمے پر یقین رکھتی ہے اور اس کے خاتمے کے لیے جدوجہد کرنے کے لیے پرعزم ہے۔
دل تھام کر بیٹھیں on my radar جو کہانی آپ کے سامنے رکھ رہا شاید وہ سننے کی آپ میں ہمت ہی نہ ہو کراچی کی کہانی صرف ٹوٹی سڑکوں، پانی کی قلت اور ٹریفک جام کی نہیں، بلکہ سیکڑوں ارب روپے کے ان نامکمل بیمار منصوبوں کی بھی ہے جو آج شہر پر بوجھ بن چکے ہیں۔ K-4 پانی منصوبہ، S-3 سیوریج منصوبہ، کراچی سرکلر ریلوے، سیف سٹی اور ریڈ لائن بی آر ٹی جیسے منصوبے دسیوں سالوں سے تباہ حالی کا شکار ہیں اور سیکڑوں ارب رپے نگل چکے ہیں سیکڑوں اربوں روپے خرچ ہونے کے باوجود شہری بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں۔ کئی منصوبوں کی لاگت کئی گنا بڑھ چکی ہے جبکہ تکمیل کی نئی نئی تاریخیں دی جارہی ہیں۔ سوال یہ ہے کہ آخر کراچی کے عوام کب تک ان ادھورے خوابوں اور ناکام وعدوں کی قیمت چکاتے رہیں گے؟کراچی کے ان نام نہاد میگا پروجیکٹس کی چونکا دینے والی تفصیلات جاننے اور اس سنسنی خیز رپورٹ سے بھرپور لطف اٹھانے کیلئے OMR کا مکمل ایپی سوڈ دیکھنے کیلئے نیچے دیے گئے یوٹیوب لنک پر کلک کریں https://t.co/SplyW6YGq3
لوگ تو لوگ تھے ، جی بھر کر خسارا کرتے ،
کم سے کم تم تو نہ نقصان ہمارا کرتے ،
کر تو لینا تھا تیرے ساتھ گزارا لیکن ،
اب تیرے ساتھ بھی کرتے تو گزارا کرتے ۔۔۔!
#Urdu#Poetry
میری عمر کا خسارہ پوچھتے ہیں
یعنی مجھ سے لوگ تمھارا پوچھتے ہیں
میں بتاتا ہوں میرا تعلق نہیں رہا ان سے
انھیں یقین نہیں آتا وہ دوبارہ پوچھتے ہیں
#Urdu#Poetry