خیبرپختونخوا حکومت نے ان تین ڈاکٹروں کو ٹارگٹ کا نشانہ بنایا جو صحت کارڈ کرپشن کو بے نقاب کررہے تھے اور جو صحت سہولیات نظام پر بول رہے تھے ,ہیلتھ منسٹر اور ہیلتھ سیکرٹری کھلے عام کرپشن کررہے ہیں جن کے خلاف کوئی ڈاکٹر آواز آٹھائے تو ان کا تبادلہ کیا جاتا ہے۔
پاکستان تحریک انصاف حکومت نے جو صحت میں اصلاحات لائے ہیں وہ زیر نظر وڈیو میں خود سنئیے،ہیلتھ ایڈوائزر احتشام علی صرف کھوکھلے نعرے لگا سکتے ہے لیکن حقیقی کام وہ نہیں کرسکتے۔
ہیلتھ ڈیپارٹمنٹ میں KPDC کے جرگے پر PTI کے ہیلتھ منسٹر احتشام نے ڈاکٹروں پر لائٹ بھی بند کردی، سارے ڈاکٹرز گرمی میں بیٹھے ہوئے ہیں اور ہیلتھ منسٹر کسی قسم کے مذکرات کیلئے تیار نہیں ہے تبھی ہم نےکل سے انشاء اللہ احتجاج کا سلسلہ شروع کرنے والے ہیں۔
تیمور جھگڑا کا بھی یہی رویہ تھا جو آج مشیر صحت احتشام علی کا ہے ،ترجمان وائی ڈی اے خیبرپختونخوا کا ہیلتھ ایڈوائزر کے جانب سے خیبرپختونخوا ڈاکٹر حفیظ اورکزئی ڈاکٹرز کونسل جرگہ سے متعلق غلط بیان پر فوری ردعمل۔
بنوں ہسپتال اب ایک سیاسی مرکز میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں بورڈ ممبرز سیاسی شخصیات کو بلا کر ڈاکٹرز کو دباؤ میں لانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ، ہسپتال کے بورڈ ممبر شب نیاز بھی ان میٹنگز میں شامل ہوتے ہیں جہاں کھلے عام ڈاکٹرز کو دھمکایا جاتا ہے،حکومت کب ایکشن لے گی ؟؟
مشیر صحت خیبرپختونخوا کے حلقے کے تحصیل ہیڈکوارٹر ہسپتال تخت بھائی میں ایمرجنسی دوائی ناپید۔
مریض دوائی کیلئے تڑپ رہے ہیں اور یہاں PTI حکومت سولر پروگرام پر فنڈ لگا رہی ہے،صحت اور تعلیم ضروری ہے نہ کہ سولر پروگرام۔
پختونخواہ حکومت کی اصلیت کیا ہے؟ ینگ ڈاکٹر حفیظ نے بھانڈا پھوڑ دیا 😱
PTI کی حکومت میں آئے روز فنڈ نہ ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں کی بندش ہوتی ہیں اور ان لوگوں کے ترجیحات صرف جلسے جلوس ہے نہ کہ لوگوں کیلئے طبی سہولیات کی فراہمی کرنا
@Cardio_Hafeez
حیات آباد میڈیکل کمپلیکسKPکا سب سے بڑا اسپتال ہے اور ایک مثالی اسپتال سمجھا جاتا ہے۔اس کے ایمرجنسی سروسز شدید طور پر محدود ہیں، جو صرف 4 کمروں تک محدود ہیں۔ یہ ناکافی جگہ تمام ایمرجنسی کیسز کو سنبھالنے کے قابل نہیں ہے، جو کسی بڑے حادثے کی صورت میں ایک سنگین خطرہ پیدا کر سکتی ہے۔
قاضی حسین احمد میڈیکل کمپلیکس، نوشہرہ، گزشتہ 5 سے 6 سالوں سے نئے بھرتیوں سے محروم ہے۔ نوشہرہ کے نمائندگان میاں عمر ایم پی اے اور ادریس خٹک ایم پی اے کی کہنے پر وزیر صحت آھتشام اور جناب وزیر علی امین گنڈاپور کی جانب سے پابندی عائد کی گئی ہے.اپیل کرتے ہیں کہ Ban ہٹایا جائے۔
بھکر پنجاب میں ایک ڈاکٹرکو اسلئے گرفتار کیا گیا کہ آپ نے مریم نوازکے خلاف سوشل میڈیا پرکیوں پوسٹ شئیر کی تھی،یاد رکھے کہ دو دن پہلے میو ہسپتال لاہورمیں ایک سنیئر ڈاکٹر کی مریم نواز بے عزتی کرچکی تھی جن کے خلاف سارے ڈاکٹرز کمپئن چلا رہے تھے,مریم نوازکے اس عمل پرہم لعنت بجھتے ہیں۔