@khaledanam1 Bhai, history ka har lamha record bhi ho raha hai. Digital duniya mein ek copy mit sakti hai, magar nishan, backups, archives aur doosri copies baqi reh jati hain. Yeh daur hamara aamaal-nama khud likh raha hai...kal yehi pixels gawahi denge ke kis ne kya kaha aur kya kiya.
'تسی اپنے کالے کرتوتاں دی کوئی وی شے میرے تے سٹو۔۔ جٹ دا منڈا واں ، تواڈی منجی پیڑی اوتھوں تک ٹھوکاں گا کہ تواڈیاں نسلاں یاد رکھن گیاں۔۔'، بھارتی پنجاب سے تعلق رکھنے والے گلوکار ایمی ورک کے گانے میں شہباز گل کے جملوں کا استعمال سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بن گیا، اب تو پکا RAW کے ایجنٹ کا ٹھپا لگ جائے گا، شہباز گل کا دلچسپ ردعمل
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
@SHABAZGIL
ایرانی وزیرِ خارجہ کا عالمی برادری سے خطاب :
مجھے ایک بات واضح کرنے دیں:
مصر نہرِ سوئز سے گزرنے کے لیے 200,000 سے 700,000 ڈالر تک فیس وصول کرتا ہے، جبکہ بڑے کنٹینر جہاز یا آئل ٹینکرز کے لیے یہ رقم 1 ملین ڈالر سے بھی تجاوز کر سکتی ہے۔
پاناما نہر سے گزرنے پر 100,000 سے 450,000 ڈالر تک فیس لی جاتی ہے، جبکہ بڑے نیو پانامیکس جہازوں کے لیے یہ فیس 500,000 ڈالر تک پہنچ سکتی ہے۔
ترکی ��بنائے باسفورس کے استعمال پر فیس لیتا ہے۔
کینیڈا سینٹ لارنس سی وے کے استعمال پر فیس وصول کرتا ہے۔
امریکہ بھی سینٹ لارنس سی وے پر فیس عائ�� کرتا ہے۔
ایران نے دہائیوں سے آبنائے ہرمز کے استعمال پر کوئی فیس وصول نہیں کی—اسے مفت رکھا ہے!
اتنی بدنامی، پابندیوں اور عالمی تنہائی کے باوجود—اور پھر بھی آپ چاہتے ہیں کہ میں یہ مان لوں کہ یہاں “برا کردار” ایران ہے؟
صرف ایک کمپنی jazz کی طرف سے پاکستانی قوم کو 6 ہزار 580 ملین ( یعنی 658 کروڑ ) کا چو&نا لگا دیا گیا . صرف ایک اوور چارجنگ کی مد میں ! AGP روپورٹ کے مطابق
آج رؤف کلاسرا کی مریم نواز پر تنقید پڑھنے کا اتفاق ہوا۔
تنقید کم اور درباری فنکاری زیادہ محسوس ہوئی۔
فرما رہے تھے کہ مریم نواز نے جہاز والے معاملے کو ٹھیک ہینڈل نہیں کیا، ورنہ وہ پنجاب میں اتنے عظیم کام کر رہی ہیں، اتنے بڑے بڑے پراجیکٹ چلا رہی ہیں کہ حالات بدل گئے، جذبات بدل گئے، زمانہ بدل گیا۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ ان عظیم پراجیکٹس کی مثال دیتے ہوئے صرف صفائی کے ایک من��وبے کا نام لیا گیا، مگر انداز ایسا تھا جیسے پنجاب میں ترقی کے ہزاروں کارخانے لگ چکے ہوں۔
گویا مسئلہ جہاز نہیں تھا، مسئلہ صرف یہ تھا کہ کہانی اچھی طرح نہیں سنائی گئی۔
اگر جہاز کا معاملہ تھوڑا بہتر لپیٹ لیا جاتا تو باقی سب کچھ تو پہلے ہی کمال تھا۔
یہ تنقید نہیں تھی، یہ بالکل گاؤں کے اس میراثی کی اداکاری تھی جسے چوہدری نے اپنے دربار میں صرف اس لیے رکھا ہوتا ہے کہ وہ کبھی ہلکی سی شکایت بھی کرے تو انجام تعریف پر ہی ہو۔
وہ دو لفظ ملامت کے کہتا ہے تاکہ تماشائیوں کو لگے کہ بڑا بے باک ہے، مگر ہر جملے کے آخر میں چوہدری کی شان میں ایک نیا قصیدہ بھی سنا دیتا ہے۔
صحافت اگر یہی ہے تو پھر یہ تنقید نہیں، دربار کی ملازمت ہے
فرق صرف اتنا ہے کہ پہلے یہ کام حویلی کے آنگن میں ہوتا تھا، اب ٹی وی س��وڈیو اور سوشل میڈیا پر ہوتا ہے
پنجاب حکومت کا طیارہ : چیئرمین سینیٹ کی کروڑوں کی گاڑی؛ اگر حکمران مٹی کے تیل میں ایک ماہ کے دوران 170روپے فی لیٹر اضافہ کرسکتے ہیں تو عوام کا بھی یہ حق ہے کہ حکمرانوں سے پوچھ سکیں کہ عوامی پیسے سے خریدا گیا طیارہ ملک سےباہر کیوں گیا؟ اس پر کتنا خرچہ آیا؟کروڑوں کی گاڑی کیوں لی؟