@Khurram_zakir میڈیا نے چسکا لگا کر اپنی ریٹنگ بڑھانی ہوتی ہے انھیں کسی سے کیا مسئلہ
اور جہاں تک بات تعلیم کی صحافت وہ شعبہ جس کیلئے نہ تعلیم ضروری ہے اور نہ ہی کسی سے لائسنس لینا ضروری ہے
@Khurram_zakir اسکے نیفے میں ابھی تک پستول کیوں نہیں چلا
کوئی بندہ سگی بیٹی کے حوالے سے ایسی بات نہیں کرتا
سی سی ڈی والے اسکے نیفے میں پستول چلا کر محکمہ سے گندی بھیڑوں کو صاف کریں
ترقی یافتہ ممالک میں پولیس ملازمین یا تھانہ دیکھ کر تحفظ کا احساس ہوتا ہے جبکہ ہمارے ملک بالکل الٹ معاملہ ہے
انسان اور گدھا یہ فلم 1973 میں ریلیز ہوئی تھی۔جس کو اس وقت کے وزیراعظم بھٹو نے بین کر دیا تھا۔ یہ سین حقیقتاً ہم پاکستانی قوم کی کھلی عکاسی کرتا ہے کہ نہ تو ہم اپنے حقوق کے لیے کھڑے ہو سکتے ہیں، نہ اظہار کرتے ہیں، نہ اپنا موقف پیش کر سکتے ہیں۔ بس گدھوں جیسے زندگی گزار رہے ہیں۔
@Khurram_zakir لاہور ہائیکورٹ میں قتل کے ملزم کہ عبوری ضمانت خارج ہوئی پولیس نے گرفتار کرنے کی کوشش تک نہ کی مدعی بیچارہ اپنی مدد آپ کے ملزم کو دبوچ کر کھڑا ساتھ ملزم سے تھپڑا بھی کھا رہا ہے
@Khurram_zakir جی یہ اس زمانے کی بات ہے جب AC اور ASP کے پاس سرکاری پوٹھوہار جیپ ہوتی تھی آج ججز کے پاس ایک ہزار سی سی سے 1300 سی سی تک کار ہوتی ہے جبکہ دوسری طرف کیا حال ہے
مسنة عمرها 73 سنة أودعها أبنائها في دار المسنين.. ومع مرور الوقت حدث علاقه ببنها وبين الطبيب
وفي يوم تم تصويرهم وهم في وضع ما يصير ينشاف والموضوع صار الترند الأول في العالم حاليا.. وحدثت الكارثة!!
قائد کی بیٹی۔۔۔۔
جب قائد کی بیٹی دینا واڈیا پاکستان آئیں
Maria Khan
مارچ 2004 میں قائداعظم کی صاحبزادی مس دینا واڈیا صدر مشرف اور پی سی بی کے چیئرمین شہریار خان کی دعوت پر پاکستان تشریف لائیں۔ وہ اپنے ہمراہ اپنے بیٹے نسلی واڈیا اور پوتوں نیس واڈیا اور جہانگیر واڈیا کو بھی لائی تھیں۔ یہ تین نسلیں اپنے بزرگوں کی یادیں سمیٹنے پاکستان آئی تھیں
دینا واڈیا نے اپنی زندگی میں دو بار پاکستان کا دورہ کیا،
پہلی بار ستمبر 1948 میں اپنے والد قائد اعظم محمد علی جناح کے انتقال پر ان کی آخری رسومات میں شرکت کے لیے کراچی آئی تھیں۔ یہ ایک انتہائی غمگین موقع تھا، اور وہ جنازے میں شرکت کے بعد واپس چلی گئی تھیں۔
تقریباً 56 سال کے طویل عرصے بعد، دینا واڈیا مارچ 2004 میں دوبارہ پاکستان تشریف لائی انہوں نے اپنے والد کے مزار پر حاضری دی اور وہاں موجود مہمانوں کی کتاب (Visitor's Book) میں اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہوئے لکھا: "یہ میرے لیے ایک بہت ہی متاثر کن اور دکھ بھرا لمحہ رہا ہے۔ اللہ کرے ان کا (قائد کا) پاکستان کا خواب پورا
ہو۔
"2004 کے دورے کے دوران جب وہ مزارِ قائد پر گئیں، تو وہ کافی دیر تک خاموش کھڑی رہیں۔ وہاں موجود لوگوں کے مطابق ان کی آنکھوں میں نمی تھی کیونکہ وہ نصف صدی سے زیادہ عرصے بعد اپنے والد کی آخری آرام گاہ پر پہنچی تھیں۔ انہوں نے مزار کے احاطے میں موجود اپنے چچا زاد بھائیوں اور خاندان کے دیگر افراد سے بھی ملاقات کی تھی، لیکن اس ملاقات کو مکمل طور پر نجی رکھا گیا۔
کراچی میں واقع فلیگ اسٹاف ہاؤس (جو اب قائد اعظم ہاؤس میوزیم ہے) کے دورے کے دوران دینا واڈیا نے ان اشیاء میں گہری دلچسپی لی جو ان کے والد کے زیرِ استعمال رہی تھیں۔ انہوں نے وہاں موجود پرانی تصاویر کو بڑے غور سے دیکھا، خاص طور پر وہ تصاویر جن میں وہ خود اپنے والد کے ساتھ موجود تھیں۔ انہوں نے اس بات پر خوشی کا اظہار کیا تھا کہ ان کے والد کی یادگاروں کو اتنے اچھے طریقے سے محفوظ رکھا گیا ہے۔
2004 کے دورے کے دوران وہ صرف کراچی تک محدود نہیں رہیں بلکہ لاہور بھی گئیں۔ اس وقت پاکستان اور بھارت کے درمیان مشہور کرکٹ سیریز چل رہی تھی۔ انہوں نے قذافی اسٹیڈیم لاہور میں پاکستان اور بھارت کا ایک ون ڈے میچ بھی دیکھا تھا۔ یہ ان کے لیے ایک یادگار تجربہ تھا جہاں عوام نے ان کا بھرپور استقبال کیا تھا۔
دینا واڈیا کے بارے میں یہ بات مشہور ہے کہ اگرچہ ان کے اپنے والد کے ساتھ سیاسی اور ذاتی نوعیت کے اختلافات رہے (جس کی وجہ سے وہ امریکہ منتقل ہو گئیں)، لیکن وہ ہمیشہ اپنے والد کی شخصیت کی معترف رہیں۔ وہ اکثر کہتی تھیں کہ ان کے والد ایک "سخت گیر لیکن انتہائی ایماندار انسان" تھے۔ ان کے دورہ پاکستان نے ثابت کیا تھا کہ وقت گزرنے کے باوجود اپنے والد اور ان کی سرزمین سے ان کا جذباتی لگاؤ برقرار رہا۔
وفات اور آخری خواہش
دینا واڈیا نے اپنی وفات تک (2017) کبھی بھی پاکستان کی شہریت نہیں لی تھی، لیکن وہ ہمیشہ پاکستان کی بہتری کے لیے دعاگو رہتی تھیں۔ ان کے انتقال پر پاکستان کی حکومت اور عوام نے بڑے پیمانے پر دکھ کا اظہار کیا تھا کیونکہ وہ بانیِ پاکستان کی آخری نشانی تھیں۔
اگرچہ یہ دورہ سرکاری سطح پر ترتیب دیا گیا تھا، لیکن دینا واڈیا نے اسے بڑی حد تک نجی رکھا اور میڈیا سے گفتگو کرنے سے گریز کیا۔ ۔
دینا واڈیا کا یہ دوسرا دورہ پاکستان کی تاریخ میں ایک اہم جذباتی اور تاریخی حیثیت رکھتا ہے کیونکہ یہ ان کا اپنے والد کی بنائی ہوئی ریاست کا آخری دورہ ثابت ہوا۔۔
لاہور میں قیام کے دوران ایک شام وہ ڈنر کے لیے مشہور "شیزان ریستوران" تشریف لائیں۔ میری ایک عزیزہ اپنے اہل خانہ کے ساتھ وہیں موجود تھیں۔ قائد کی بیٹی کو اپنے سامنے دیکھ کر انہوں نے انکو پہچان لیا اور وہ اپنےجذبات پر قابو نہ رکھ سکیں، قریب گئیں، ان کا ہاتھ تھاما اور عقیدت سے ان کے گال پر پیار کیا۔ دینا صاحبہ اس خلوص کو دیکھ کر پگھل گئیں اور شفقت سے وہ تاریخی جملہ کہا جو آج بھی ان عزیزہ لیے اثاثہ ہے:
"You people really love the Quaid from your heart."
(تم لوگ واقعی اپنے قائد سے دل کی گہرائیوں سے محبت کرتے ہو۔)
ریستوران سے باہر نکلتے وقت جب سیکیورٹی نے ایک صفائی کرنے والے نوجوان کو قریب آنے سے روکا، تو دینا صاحبہ نے سیکیورٹی کو منع کیا اور اسے خود پاس بلا کر گلے لگایا۔ جب انہوں نے پوچھا: "کیا تم مجھے جانتے ہو؟" تو اس نوجوان نے فخر سے جواب دیا: "جی، آپ قائداعظم کی بیٹی ہیں۔"
دینا واڈیا 2017 میں 98 برس کی عمر میں اس دنیا سے رخصت ہو گئیں، لیکن ان کی یادیں اور پاکستان کے عوام سے ان کی یہ مختصر مگر گہری ملاقاتیں ہمیشہ ہماری تاریخ کا ایک روشن حصہ رہیں گی۔
Maria Khan
صاحب علم روشنی ڈالیں کیا ایسے گھات لگا کر راہگیر کو روکنا مناسب ہے؟؟؟
اگر راہگیر اچانک ڈر کر اپنا توزن کھو بیٹھیں تو بھی نقصان اگر سیدھا ٹریفک پولیس والے کو ٹکر مار دے تو دونوں کا نقصان