یہ سنیے۔ بہت اہم گفتگو ہے۔ برطانوی ایمپائر نے کچھ لوگوں کو لائسنس دے رکھے تھے کہ وہ جتنی چاہیں برطانوی ایمپائر پر تنقید کریں۔ شور مچائیں۔ ویلاگز کریں۔ ٹویٹ کھڑکائیں لیکن اس طرح کہ ایمپائر کے بنیادی ڈھانچے basic structure کو نقصان نہ پہنچے۔ وہ قائم رہے۔
اس تنقید کی برطانیہ خود حوصلہ افزائی کرتا تھا۔ اس کا مقصد تھا عوام کو ٹھندا رکھنا۔ بلکہ ٹھنڈا ٹھار رکھنا۔ تا کہ کبھی عوام کا غصہ اس لیول تک نہ چلا جائے کہ وہ برطانوی ایمپائر کے خلاف کوئی منظم ہو کر تحریک چلا دیں۔ اور کوئی انقلاب برپا کر دیں۔
جن لوگوں کو ایسی تنقید کا لائسنس ملتا تھا انہیں licensed critics کہا جا سکتا ہے۔ یہ طریقہ سو سال پرانا ہو چکا یے لیکن اب بھی رائج ہے۔ اب بہت ساری ریاستیں لائسنس یافتہ نقادوں کو عوام کو ٹھنڈا رکھنے کے لئے استعمال کرتی ہیں۔ وہ شور مچا کر عوام کو پیچھے لگاتے ہیں لیکن موقعہ پیدا ہوتے ہی چکمہ دے جاتے ہیں۔
اگر آپ کے ذہن میں وطن عزیز کے کچھ ایسے صحافی، ویلاگرز یا انفلواینسرز کے نام آتے ہیں تو ضرور لکھیے تا کہ عوام مستفید ہو سکیں۔
Under the guise of the war on terror the Government of Pakistan has launched a crackdown against a popular political force in one of the country's highly sensitive provinces following similar actions in Balochistan. In my view, this is a grave mistake. Balochistan and Khyber Pakhtunkhwa are regions where the populace has become disillusioned due to flawed government policies and repeated military operations. Given the shifting global landscape and evolving circumstances, such an approach by Pakistan's powerful rulers could further exacerbate the situation; therefore, matters should be resolved politically, avoiding the imposition of an emergency or the use of force.
کہ رات جب کسی خورشید کو شہید کرے
تو صبح اک نیا سورج تراش لاتی ہے
سو یہ جواب ہے میرا مرے عدو کے لیے
کہ مجھ کو حرص کرم ہے نہ خوف خمیازہ
اسے ہے سطوت شمشیر پر گھمنڈ بہت
اسے شکوہ قلم کا نہیں ہے اندازہ
مرا قلم نہیں کردار اس محافظ کا
جو اپنے شہر کو محصور کر کے ناز کرے
1. پرانی تصویر کو بحال کریں
Prompt 👇
Restore and enhance this photograph. Remove scratches, dust, noise, compression artifacts, fading, and other damage. Recover realistic details and improve contrast and color while preserving the original person's identity, facial features, clothing, and overall character of the photograph.
عظیم الشان مغلیہ سلطنت کے آخری بادشاہ بہادر شاہ ظفر کی انگریزوں کے ہاتھوں قید اور بچھڑے خاندان کی داستان
ازبکستان میں مقیم بہادر شاہ ظفر کے حقیقی پڑپوتے زین الدین مولا سے ذبیح اللہ بلگن کا خصوصی انٹرویو
Follow Tashkent Urdu on X for latest updates around the world.
کس بدبخت اور منافق نے کہا کشمیر ہماری شہ رگ ہے کشمیر بدقسمت ، مظلوموں اور مجاہدوں کا خطہ ہے ریاست یہاں کے مکینوں کو قتل کر رہی ہے انکے املاک کو لوٹ رہی ہے اس ویڈیو میں اٹھائے گئے اور سڑکوں سے پکڑے گئے پرامن لوگوں کے موٹر سائیکل جان بوجھ کر جلائے گئے یہ انسانیت ہے ؟؟
بریکنگ نیوز۔۔۔!
تحریک انصاف نے تمام اسمبلیوں سے استعفے دینے کا عندیہ دے دیا۔
ابھی خبر آئی ہے کہ محسن نقوی نے شہباز شریف اور آصف زرداری سے ملاقات کی ہے، وہاں تہہ یہ پایا ہے کہ خیبرپختونخوا کے اندر لانگ مارچ کرتے ہیں تو کرنے دیں، اگر یہ لانگ مارچ پنجاب یا اسلام آباد کی طرف بڑھا،
حکومتی لیکس کی ٹائمنگ بڑی اہم ہےآپ مانیں یانہ مانیں
ڈاکٹرلندن سےمنگوایاآرڈرکورٹ سےکروائےمیڈیاکوذراخبر ہوئی نہ ورثاکوپتہ چلا
توپھر
🚨عین لانگ مارچ کےدوران یہ خبرلیک کرنیکااصل مقصد کیاہے ؟
آئینی عدالت نے بشری بی بی کی سزا معطلی درخواست پر دو ماہ سے نمبر ہی نہیں لگایا
تین قیدیوں کی اپیل پر چار دن بعد نمبر لگا تھا بارہ دن بعد کیس مقرر ہو گیا تھا۔
سلمان صفدر
#خان_کی_سالگرہ_مزاحمت_کے_نام
تکلیف صرف بمبوں کی نہیں نفسیاتی تکلیف اُس سے بھی بڑی ہے جو آپ اپنی آنکھوں سے دیکھ سکتے ہیں !غزہ کے فلسطینی قیدی شادی ابو سیدہ کو بتایا کہ اس کے اہل خانہ اور بچے بمباری میں مارے گئے ہیں۔تاہم، رہائی کے بعد اس نے اپنے اہل خانہ اور بچوں کو زندہ پایا۔وہ برسوں تک ان کی موت کی خبر اٹھائے زندہ رہا؛جب اسے آزادی ملی تو اس نے انہیں اپنے سامنے کھڑا پایا تو اسکی حالت پاگلوں جیسی ہو گئی ! غزہ کی جنگ میں لوگوں کو پہنچنے والا درد صرف بموں تک محدود نہیں ہے۔
آج عمران خان کی بہنیں جیل میں ہیں۔
اگر بھائی کے لیے آواز اٹھانے پر بہنیں جیل جا سکتی ہیں، تو کل آپ کی بہن، آپ کی ماں، آپ کی بیٹی بھی محفوظ نہیں۔
خاموشی کسی کو نہیں بچائے گی۔
اٹھو، اگلی واری تہاڈی اے۔
شرطیہ کہتا ہوں کہ پاکستان بھر کے وکیلوں کی ڈگریاں اگر چیک ہو جائیں تو 50 فیصد سے زائد کی جعلی نکلیں گی۔ صرف پنجاب یونیورسٹی نہیں، تقریبا ہر یونیورسٹی اور لاء کالجز کی ڈگریاں فروخت ہوتی رہی ہیں۔ لاء کی 3 سالہ ڈگری ختم ہونے سے قبل ڈگریوں کی فروخت میں یکدم بہت تیزی آئی، BZU ملتان سے لوگوں نے حال ہی میں ڈگریاں حاصل کیں وہ چیک ہو جائیں تو سینکڑوں ہزاروں لوگ پھنس جائیں۔ یہ معلومات سیکنڈ ہینڈ نہیں فرسٹ ہینڈ ہیں، سرگودھا یونیورسٹی میں لاء ڈیپارٹمنٹ ہمارا ماس کمیونیکیشن کا ہمسایہ تھا، متعدد دوست لاء ڈیپارٹمنٹ سے رہے ہیں، درجنوں وکیل آج بھی دوست ہیں جن میں متعدد لاہور، سرگودھا، بہاولنگر، چنیوٹ، جھنگ، میانوالی، خوشاب وغیرہ کی ضلعی عدالتوں میں جھک ماری کرتے ہیں اور بہت سے لاہور ہائیکورٹ میں بھی ہیں، روایت رہی ہے کہ دیہی علاقوں سے تعلق رکھنے والے اور بالخصوص زمیندار گھرانوں کے لڑکے لاء کی ڈگری صرف اس مقصد سے لیتے ہیں کہ وکیلوں کا کارٹل بہت طاقتور ہے عملی زندگی میں اس کا بہت فائدہ ہوگا، پاکستان بھر میں اگر 5 لاکھ وکیل ہیں تو ان میں سے بمشکل 10 فیصد قابل وکیل ہوں گے جو کیسز میں مرکزی کونسل بن کر دلائل بھی دیتے ہوں گے ورنہ 90 فیصد کسی سینئر چیمبر سے منسلک ہوکر منشی بن رہتے ہیں پیشیوں کی تاریخیں لینے، اسٹپنی وکیل بن کر فائلیں اٹھانے اور سائلین سے رشوت وصولنے کے علاوہ بار کی سیاست میں بطور ووٹر اہمیت اور بدمعاشی کے وقت جتھہ بندی کے علاوہ انکی کوئی قابلیت نہیں۔ احسن بھون کے بارے میں وکلاء بتاتے ہیں کہ آج تک انہوں نے کسی کیس میں مرکزی کونسل کے طور پر کبھی دلائل نہیں دیے کبھی جرح نہیں کی اور کبھی کسی کیس کو شروع سے اختتام تک نہیں لڑا ہے، صرف ایک پاوا وکیل رہنما کے طور پر عدالتوں میں پیش ہوکر اپنے عہدے اور نمائندگی کی بنیاد پر فیصلے حاصل کیے ہیں۔ اور فواد چوہدری جیسے افراد صرف اس وجہ سے احسن بھون جیسوں کی حمایت کرتے ہیں کیونکہ کہاوت ہے کہ "مجاں مجاں دیاں پیناں ہوندیا نیں"۔ کارٹل کلچر ہے تو وکیل ہونے کا ہر دعویدار یا لاء کی ڈگری حاصل کر لینے والا اپنے کارٹل کے ساتھ کھڑا ہوتا ہے۔ لاہور میں جب وکیلوں نے پنجاب انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی پر دھاوا بولا، تو ان میں میرے کئی دوست بھی شامل تھے، اس کیس کی رپورٹنگ کی وجہ سے متعدد دوستیاں دشمنی میں بدل گئیں کیونکہ وکیل دوست مجھ سے بھی توقع کررہے تھے کہ میں اصول کی بجائے ان سے دوستی کا پاس رکھوں جیسے وہ اپنے وکیل دوستوں اور مارٹل کی حمایت میں سب داو پر لگا رہے تھے۔ بدقسمتی سے حسان نیازی میں اسی کارٹل کلچر کا حصہ بنتے ہوئے اس سنگین واقعہ میں بطور لیڈر ملوث تھے۔
میٹرک اور انٹر میں سپلیاں دے دے کر سی گریڈ میں پاس ہونے والے اور ہاورڈ سے پڑھے لائق فائق ہیرے موجودہ جعلی نظام کو کندھا دینے میں ایک دوسرے سے بڑھ کر خدمات دے رہے ہیں۔ کیا حسین امتزاج ہے۔ کیا بہترین مرکب ہے۔ سرکاری ملازم کے دربار میں پہنچے تو سبھی ایک ہوئے۔