عمران خان، وہ نام جو 1992 میں پاکستان کے ہر دل کی دھڑکن بن گیا تھا۔ وہ ہیرو جس نے ناممکن کو ممکن کر دکھایا اور ہمیں وہ ورلڈ کپ جیت کر دیا جس کی ہمیں سب سے زیادہ ضرورت تھی۔ ان کی قیادت، ان کا جذبہ، اور ان کی محنت آج بھی ہماری یادوں میں تازہ ہے۔
لیکن آج... وہی چہرہ، وہی ہیرو، حکومت کے ڈر اور خوف کی وجہ سے چھپایا جا رہا ہے۔ ایک ایسا لیڈر جس نے ملک کی خاطر سب کچھ قربان کر دیا، اسے آج ایک قیدی کی طرح رکھا جا رہا ہے۔
کیا یہ انصاف ہے؟ کیا ہم اپنے ہیروز کے ساتھ یہی سلوک کرتے ہیں؟
میاں عباد فاروق کی جیل سے رہائی پرخوشی ہوئی ہے۔ عباد نے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہو کر وہ ثابت قدمی دکھائی جس کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی۔ دو سال کی جیل کی قید، بہت سی تکالیف، اور مشکلات کے باوجود عباداپنے اصولوں سے ایک قدم بھی پیچھے نہیں ہٹے۔یہ بات بھی قابلِ ذکر ہے کہ ان کے لیے یہ سفر اور بھی مشکل رہا جب ان کے جیل میں ہوتے ہوئے ان کے جگر کے ٹکڑے نے زندگی کی بازی ہار دی۔ اس غم کے باوجود اپنے عزم کو برقرار رکھا، جو کسی بھی سیاسی ورکر کی قربانیوں کی ایک عظیم مثال ہے۔
بزدل دشمن کا راولپنڈی پر ایک ہفتے میں دوسرا ناکام حملہ!
اصل فکر اڈیالہ جیل میں بے گناہ قید اُس امید کی ہے جس کا نام عمران خان ہے۔
خطرہ خان کو نہیں، ہمیں ہے… کیونکہ پاکستان کا مستقبل اسی سے جڑا ہے۔
عمران خان کو فوری رہا کیا جائے ۔۔
9 مئی کو پولیس کی فائرنگ سے آنکھ کی بینائی چلی گئی، کسٹم کی جاب کھو دی، 15 چھرے جسم میں پیوست ہیں، 10 ایف آئی آرز درج ہیں
پارٹی اس نوجوان کی مالی امداد ضرور کرے 💔
ہمیں یاد ہے ذرا ذرا تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو
9 مئی کو عمران خان کے کالر پر ڈالنے والے ہاتھ سے لے کر میری گردن نوچنے ، بہنوں بیٹیوں کے دوپٹے چھیننے، چادر چار دیواری کی عصمت پامال گھر کاروبار تباہ کرنے تک۔ ایک ایک لمحہ یاد ہے جس کا حساب انشااللہ اس دنیا میں بھی ہونا ہے اور آخرت میں بھی۔