‼️__A major meeting was held in Iran at the invitation of National Security Council Secretary Mohsen Rezaei, with the participation of countries signatory to the Makkah Agreement.
Participants included Pakistan's Chief of Defence Forces Field Marshal Syed Asim Munir, Saudi Arabia's Defence Minister Khalid bin Salman, and Turkey's Intelligence Chief Ibrahim Kalin.
This is a clear indication that for peace, harmony and progress in the region, Islamic brotherhood is the most fundamental step we must now work towards. We hope for good news for Muslims and for the entire region in the near future.
مولانا فضل الرحمٰن آپریشنز کی مخالفت کرتے ہیں، مگر دہشت گردوں کے خلاف کارروائی نہ ہو تو پھر ریاست کیا کرے؟ صرف مخالفت سے امن قائم نہیں ہوتا۔ #پہلے_ریاست_پھر_سیاست
خیبر پختونخوا میں طویل حکمرانی کے باوجود امن کا مسئلہ حل طلب ہے۔ پی ٹی آئی قیادت بتائے کہ صوبے کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
مولانا فضل الرحمان آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں، مگر دہشت گردی کے خاتمے کا راستہ نہیں بتاتے۔ کیا عوام کو صرف بیانات کے سہارے چھوڑ دیا جائے؟
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
مولانا فضل الرحمان کو فوجی کارروائی پر اعتراض ہے تو دہشت گردی کے خاتمے کا متبادل بھی سامنے رکھیں۔ دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کی مخالفت آسان ہے، امن کی ضمانت دینا اصل امتحان ہے۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
مولانا فضل الرحمان بتائیں کہ اگر دہشت گرد ہتھیار ڈالنے سے انکار کردیں تو کیا ریاست خاموش تماشائی بنی رہے؟ دہشت گردی کے خاتمے کا واضح راستہ دیں۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
پاکستان میں نئے صوبوں اور انتظامی یونٹس کی ضرورت صرف آبادی یا لسانی شناخت کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ معاشی ترقی اور قومی سلامتی سے بھی جڑی ہوئی ہے۔ سرحدی علاقوں کو صرف سیکیورٹی کے نقطۂ نظر سے دیکھنے کے بجائے وہاں قانونی تجارت، صنعت، سیاحت اور روزگار کے مواقع پیدا کرنے ہوں گے۔ جب مقامی لوگوں کو اپنے ہی علاقے میں روزگار ملے گا اور کاروبار کے راستے کھلیں گے تو معاشی محرومی کم کرنے میں مدد ملے گی۔
دوسرا اہم پہلو یہ ہے کہ ہر علاقے کے وسائل وہیں کی خوشحالی کا ذریعہ بنیں۔ جہاں زراعت ہے وہاں فوڈ پروسیسنگ اور کولڈ اسٹوریج بنیں۔ جہاں معدنیات ہیں وہاں مقامی سطح پر صنعتیں قائم ہوں اور جہاں سیاحت کی گنجائش ہے وہاں سرمایہ کاری اور سہولتیں فراہم کی جائیں۔ اس طرح چند بڑے شہروں پر آبادی کا دباؤ بھی کم ہوگا اور لوگوں کو روزگار کے لیے اپنا علاقہ چھوڑنے پر مجبور نہیں ہونا پڑے گا۔ نئے انتظامی یونٹس مقامی ضروریات کے مطابق منصوبہ بندی اور فیصلوں کو تیز کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔
سب سے اہم بات یہ ہے کہ عوام کو اپنے مسائل کے حل کے لیے دور دراز دارالحکومتوں کے چکر نہ لگانے پڑیں۔ انتظامیہ قریب ہوگی تو شہریوں کا وقت اور پیسہ بچے گا اور حکام سے جواب طلب کرنا بھی آسان ہوگا۔ لیکن صرف نئے صوبے بنا دینا کافی نہیں ہوگا۔ بجٹ کی شفاف تقسیم اور مقامی حکومتوں کو حقیقی اختیارات دینا بھی ضروری ہے۔ پاکستان کو ایسا انتظامی نظام چاہیے جہاں وسائل چند شہروں تک محدود نہ رہیں بلکہ ہر علاقے کی پیداوار وہاں کے لوگوں کی خوشحالی بنے اور ہر خطہ قومی معیشت اور سلامتی کو مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کرے۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
#مضبوط_خیبرپختونخوا
#فضلو_کا_خاندان_چور
Joint Meeting of High-Level Delegations from Pakistan, Saudi Arabia, and Turkey with President Dr. Pezeshkian in Tehran, Iran
Field Marshal Syed Asim Munir was accompanied by Interior Minister Syed Mohsin Naqvi during the visit.
Foreign Minister Syed Abbas Araqchi, Secretary of the Supreme National Security Council General Mohsen Rezaei, and senior officials from Pakistan, Saudi Arabia, and Turkiye were present at this meeting.
President Pezeshkian: We Support Any Understanding That Leads to the Unity of Islamic Nations
Tehran, IRNA - During his meeting with top officials from Pakistan, Turkiye, and Saudi Arabia, the President stated:
"By leveraging their shared capacities, Islamic nations can present a model of justice and development to the world. The Islamic Republic of Iran supports any understanding aimed at strengthening the unity and cohesion of Islamic nations."
With firm conviction and a resolute will, the Islamic Republic of Iran stands ready to take steps toward deepening regional cooperation, resolving differences, and utilizing the collective potential of Islamic nations. Furthermore, it supports any understanding that contributes to the strengthening of unity, cohesion, security, and development within the region.
مولانا فضل الرحمان کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر اعتراض ہے تو متبادل بھی بتائیں۔ عوام کو یہ جاننے کا حق ہے کہ امن کیسے قائم ہوگا۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
فضل الرحمان فوجی آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں، لیکن دہشت گردی روکنے کا متبادل کہاں ہے؟ عوام کو نعروں نہیں، عملی اقدامات کی ضرورت ہے۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
مولانا فضل الرحمٰن کو دہشت گردوں کے خلاف کارروائی پر اعتراض ہے، مگر دہشت گردی کا نشانہ بننے والے خاندانوں کو کیا جواب دیں گے؟ امن کے نام پر بات کرنے والوں کو متاثرین کی سلامتی کا جواب بھی دینا چاہیے۔ #پہلے_ریاست_پھر_سیاست
خیبر پختونخوا میں برسوں اقتدار کے باوجود امن کا مسئلہ برقرار ہے۔ پی ٹی آئی دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنی حکمرانی کی ناکامیوں کا جواب دے۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
خیبر پختونخوا میں برسوں اقتدار کے باوجود امن کا مسئلہ برقرار ہے۔ پی ٹی آئی دوسروں پر انگلی اٹھانے کے بجائے اپنی حکمرانی کی ناکامیوں کا جواب دے۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
مولانا فضل الرحمٰن کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر اعتراض ہے تو وہ بتائیں کہ مسلح گروہوں کو روکنے کا طریقہ کیا ہے۔ ریاست کو تنقید کا نشانہ بنانا آسان ہے، حل پیش کرنا اصل ذمہ داری ہے۔ #پہلے_ریاست_پھر_سیاست
مولانا فضل الرحمٰن آپریشنز کی مخالفت کرتے ہیں، مگر دہشت گردی کے خاتمے کا واضح منصوبہ کیوں نہیں دیتے؟ ریاست کو روکنے کا مطالبہ کرنے والے متبادل حل پیش کرنے کے بھی پابند ہیں۔ #پہلے_ریاست_پھر_سیاست
مولانا فضل الرحمٰن کو واضح کرنا چاہیے کہ دہشت گردوں کے سامنے مذاکرات کی پیشکش بار بار رکھنے کے باوجود اگر حملے جاری رہیں تو کیا ریاست ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھی رہے؟ #پہلے_ریاست_پھر_سیاست
مولانا فضل الرحمٰن کو دہشت گردی کے خلاف کارروائی پر اعتراض ہے تو پہلے بتائیں کہ دہشت گردوں کو روکنے کا متبادل کیا ہے۔ ریاست کو تنقید کا نشانہ بنانا آسان، حل دینا مشکل ہے۔ #پہلے_ریاست_پھر_سیاست
خیبر پختونخوا میں طویل حکمرانی کے باوجود امن کا مسئلہ حل طلب ہے۔ پی ٹی آئی قیادت بتائے کہ صوبے کو دہشت گردی سے نجات دلانے کے لیے کیا عملی اقدامات کیے گئے؟
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
خیبر پختونخوا میں امن و امان پر سوالات اٹھ رہے ہیں، مگر پی ٹی آئی اپنی ذمہ داریوں کا واضح جواب دینے کے بجائے سیاسی بحث میں الجھی ہوئی ہے۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
مولانا فضل الرحمان آپریشن کی مخالفت کرتے ہیں، مگر دہشت گردوں کو روکنے کا متبادل کیا ہے؟ عوام کو صرف اعتراضات نہیں، واضح جواب چاہیے۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
خیبر پختونخوا میں 13 سالہ تبدیلی کے دعوے اپنی جگہ، مگر اصل سوال امن کا ہے۔ فضل الرحمان دہشت گردی کے خاتمے کے لیے اپنا عملی منصوبہ سامنے لائیں۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست
پی ٹی آئی قیادت کو خیبر پختونخوا میں امن و امان کی صورتحال پر کھل کر جواب دینا چاہیے۔ حکومت کی ذمہ داری الزام تراشی نہیں، عوام کا تحفظ ہے۔
#پہلے_ریاست_پھر_سیاست