خیبر پختونخواہ کے گورنر راج کی حکومت نے اس وقت بھی آئینی طور پر فعال صوبائی اسمبلی کی ڈپٹی سپیکر ثریا بی بی کو سرکاری گھر خالی کرنے کا حکم دے دیا، ڈپٹی سپیکر نے بیدخلی کی نوٹس کو پشاور ہائی کورٹ میں چیلنج کر دیا۔ رٹ درخواست میں ڈپٹی سپیکر خیبر پختونخواہ اسمبلی ثریا بی بی کی سرکاری رہائش گاہ پر محکمہ ہاؤسنگ کے عملے اور پولیس کا ریڈ اور گھر کو تالہ لگانے کا انکشاف۔ اس سے پہلے بھی ڈپٹی سپیکر کے پی کے اسمبلی کیخلاف سرکاری گاڑی واپس نہ کرنے کا مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ زیادہ سنگین بات صوبائی اسمبلی کے سپیکر بابر سلیم سواتی کا اغوا اور لاپتہ ہونا ہے جس پر پشاور ہائی کورٹ نے حکومت سے محض جواب طلب کرتے ہوئے دس دن بعد کی تاریخ رکھ دی ہے۔
ڈپٹی اسپیکر جو آج بھی ڈپٹی اسپیکر ہے لیکن کے پی کی نئی رجیم کی دہشتگردی کے خلاف جنگ میں ہو سکتا ہے رکاوٹ ہو اس لئے ڈپٹی اسپیکر کا گھر بھی خالی کروایا جاُرہا ہے
علیمہ خان صاحبہ، ڈاکٹر عظمی خان اور نورین نیازی صاحبہ کی غیر قانونی حراست کے خلاف آئینی پٹیشن لاہور ہائیکورٹ دائر کر دی گئی۔ آج کیلئے مقرر نہیں ہو سکی اس پر اب سماعت صبح ہو گی۔
11 اکتوبر سے لاپتہ / حفاظتی تحویل وزیر اعلی سہیل آفریدی گرفتار ہیں یا کہاں ہیں ؟؟ پشاور ہائیکورٹ نے 3 نومبر تک (اس وقت تک 22 دن ہو چکے ہوں گے) جواب مانگا ہے
کیا ہائیکورٹس کو اس قسم کی درخواستیں ایسے ہی سننی ہوتی ہیں ؟؟ ان میں تو urgency ہوتی ہے
عادل خان بازئی کو جمال احسن خان اور دیگر ایم این ایز کے ہمراہ لانگ مارچ سے قبل گرفتار کیا گیا تھا اس گرفتاری کے بعد ابھی تک عادل بازئی سے فیملی تک کی ملاقات نہیں کروائی گئی
اسمبلی اجلاس میں شرکت کیلئے عادل بازئی کے پروڈکشن آرڈر جاری ہوئے تو اب تک ان پروڈکشن آرڈرز پر بھی عملدرآمد نہیں ہوا
پاکستان میں اسمبلیوں کی اہمیت اور وقعت کو فوجی بوٹوں تلے روند دیا گیا ہے، ان اسمبلیوں میں مزید رہنے کا کوئی جواز باقی نہیں رہا
علیمہ خان، ڈاکٹر عظمی خان اور نورین نیازی صاحبہ کی 30 دن کی نظر بندی 19 اکتوبر کو ختم ہوگئی لیکن انہیں رہا نہ کیا۔ ہم نے جیل حکام اور ڈی سی دفتر رابطہ کیا لیکن آج تک خواتین کی مزید حراست کی وجہ یا آرڈر ہمیں نہیں دیا۔ ان کی اس غیر قانونی حراست پر آج لاہور ہائیکورٹ سے رجوع کیا ہے۔
مراد سعید کے گھر جا کر ان کی بزرگ معذور والدہ کو بے گھر کر دیا گیا 💔 سامان باہر پھینک دیا گیا!!
ظالمو خدا سے ڈرو, اس کا قہر جب نازل ہوگا تو چھپنے کی جگہ نہیں ملے گی انشاءاللہ۔
یہ وہ لمہ تھا جب کریمہ بلوچ کا جنازہ لے کے جا رہے تھے تو فورسز نے سارے آنے جانے کے تمام راستے سیل کر دئیے تھے. وہاں مقامی ابادی میں بلوچوں کی زیادہ تعداد لاپتا ہے. تو کریمہ کے جنازے کو عورتوں نے اٹھایا تھا.
یہ ہے ریاستی ظلم جبر.
اہم خبر ، گورنر راج ایمرجنسی کے خلاف بیرسٹر گوہر و دیگر کی درخواستوں پر سماعت کا پشاور ہائیکورٹ نے تحریری حکم نامہ جاری کر دیا عدالت نے وفاق ، اٹارنی جنرل ، ایڈوکیٹ جنرل خیبرپختونخواہ و دیگر کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 10 نومبر سے پہلے جواب جمع کرانے کا حکم دے دیا
بنوں سے 1 لاکھ 47 ہزار ووٹس حاصل کرنیوالے منتخبMNA مولانا نسیم علی شاہ کو 3MPO کے تحت ہری پور جیل بھجوا دیا گیا۔
ڈیٹینشن آرڈر کے مطابق ریاست مخالف سرگرمیوں میں ملوث ہے، پبلک سیفٹی نہیں رہی، عوامی شکایات پر اٹھایا گیا، 4 امن پاسون کرنیوالا امن کیلئے خطرہ بن چکا۔
قانون اور آئین سے متصادم چل رہا ہے۔
آپ نے اتنے دفعات کے تحت اٹھالیا، ثبوت کیا ہے؟
ڈپٹی کمشنر صاحب فرماتے ہیں، ثبوت میرے سامنے رکھے گئے، تو اس بنیاد پر
I am convinced with the above mentioned order about culprit who can be serious threat to people's safety.
یہ وہ کالا قانون ہے جس نے قیام پاکستان کے بعد خیبرپختونخواہ کے عوام کا جینا محال کئے رکھا ہے، غیرجمہور اور ڈکٹیٹر نے اس کالے قانون کو ہتھیار بنا کر عوام کے حقوق کو سلب و غصب کئے رکھے ہیں، اس قانون کے زد میں صرف آج مولانا صاحب نہیں عرصہ دراز سے سب اس کے شکار بن رہے ہیں۔
اس ڈیٹینشن پر حضرت یوسف علیہ الصلٰوۃ والسلام کے مشہور اقوال یاد آجاتے ہیں جو قرآن میں ذکر ہے
يَا صَاحِبَيِ السِّجْنِ أَأَرْبَابٌ مُّتَفَرِّقُونَ خَيْرٌ أَمِ اللَّهُ الْوَاحِدُ الْقَهَّارُ(سورۃ یوسف)
اے میرے جیل کے ساتھیو! کیا الگ الگ معبود بہتر ہے یا وہ الله پاک جو ایک ہیں اور انتہائی غالب ہیں۔
الحمدللہ، ہم ایک اللہ کے ماننے والے ہیں، جتنا بھی ظلم و جبر کا ماحول ہو، فسطائیت کا مقابلہ ہو، کسی صورت مقابلہ کرنے سے دریغ نہیں کیا جائے گا۔
انشاءاللہ، ایم این اے صاحب، عمران خان، پارٹی لیڈرشپ اور بنوں گل کے عوام کےساتھ ڈٹ کر کھڑے تھے، ڈٹ کر کھڑے ہیں، اور کھڑے رہینگے۔
مقتدرہ کیلیے ایک ہی پیغام ہے
فَلَمَّا تَرَآءَ الْجَمْعٰنِ قَالَ اَصْحٰبُ مُوْسٰۤى اِنَّا لَمُدْرَكُوْنَۚ، قَالَ كَلَّاۚ-اِنَّ مَعِیَ رَبِّیْ سَیَهْدِیْنِ
(سورۃ الشعراء)
گنڈا پور سرکار میں SIFC کی طرف سے ایک ڈرافٹ آیا تھا کہ آپ لوگ 2017 کے مائنز اور منرلز ایکٹ میں تبدیلی کریں اور اس کی بنیاد پر بہت سارے اختیارات وفاق کو دینا چاہتے تھے لیکن ہم نے بھرپور مخالفت کی اور وہ چیز ڈراپ ہوئی۔ اب گورنر راج کی آڑ میں سب ہونے والا ہے، نثار باز خان
پی ٹی آئی کے اندرونی اتفاق پر اسوقت غیر جمہوری فیصلہ سازوں کا حملہ ہے۔ بیانیہ پھیلایا جا رہا ہے کہ خیبر پختونخواہ اسمبلی کے 68 ارکان ایک گروپ کے طور پر عمران خان صاحب اور پارٹی کی پولیٹیکل کمیٹی کی اجازت کے بغیر صوبائی صدر اور آئندہ وزیر اعلی کے امیدوار کا اعلان کرنے والے ہیں۔ کہا جا رہا ہے کہ اسی گروپ نے آخری دنوں میں وزیر اعلی سہیل آفریدی اور انکی ٹیم سے رابطہ منقطع کر کے سرکاری جبر، ایمرجنسی اور گورنر راج کی راہ ہموار کی۔ کسی سازشی بیانیے پر یقین نہ کیا جائے جب تک تحقیقات مکمل نہ کر لی جائیں۔ جنید اکبر صاحب خیبر پختونخواہ میں پارٹی کے بدستور صدر ہیں۔ انکا تقرر عمران خان صاحب نے خود کیا ہے۔ انکی غیر موجودگی میں صوبے کے جنرل سیکریٹری علی اصغر خان صاحب قائم مقام صدر ہیں۔ سہیل آفریدی قانون اور آئین کی رو سے آج بھی وزیر اعلی ہیں۔ وسوسہ پھیلانے والے سانپوں اور سنپولیوں کو شکست ہو گی۔ اللہ تعالی کی پناہ مانگتا ہوں انکے شر سے۔
یہ ظالم حکومت خواتین، بچوں اور خاندانوں کو مسلسل نشانہ بنا رہی ہے!
”آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ کیا ایک بیمار انسان، ایک معذور ماں اور معصوم بچوں کو بھی جینے کا حق نہیں؟
میں گزشتہ تین سال سے بیمار ہوں اور کینسر جیسے موذی مرض کے خلاف جنگ لڑ رہا ہوں۔ میری والدہ محترمہ گزشتہ 17 سال سے معذوری کی حالت میں گھر پر ہیں۔ گزشتہ چار سال سے میں مبینہ طور پر اسٹیبلشمنٹ کے مظالم بھی برداشت کر رہا ہوں، لیکن آج جو کچھ ہمارے ساتھ کیا گیا، اس نے ظلم اور بے حسی کی تمام حدیں پار کر دیں۔
آج جب میں گھر پر موجود نہیں تھا بلکہ اسپتال میں زیرِ علاج تھا، تو میرے گھر کی چار دیواری پامال کی گئی، گھر کا تمام سامان باہر نکال دیا گیا، میری معذور والدہ محترمہ اور میرے معصوم بچوں کو گھر سے نکال کر گھر چھوڑنے کا کہا گیا۔
آخر ہمارا قصور کیا ہے؟ ہمارا جرم کیا ہے؟
کیا ایک بیمار انسان کو اس لیے اذیت دی جائے کہ وہ اپنے اصولوں پر قائم ہے؟ کیا ایک معذور ماں اور معصوم بچوں کا کوئی حق نہیں؟ کیا انسانیت، رحم اور اخلاقیات نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی؟
میں ایک اسپورٹس مین ہوں۔ میرا سیاست سے کوئی ذاتی تعلق نہیں تھا اور نہ ہی میں نے کبھی کسی کے خلاف ذاتی دشمنی رکھی۔ میرا قصور، اگر کسی کی نظر میں کوئی قصور ہے، تو صرف اتنا ہے کہ میں مراد سعید کا بھائی ہوں، اور مراد سعید نے عمران خان کے ساتھ کھڑے ہونے اور پاکستان کے لیے اپنی جدوجہد جاری رکھنے کا فیصلہ کیا۔
اگر اپنے اصولوں پر قائم رہنا، اپنے نظریے سے وفادار رہنا اور حق سمجھ کر کسی کا ساتھ دینا جرم ہے، تو ہاں! ہم نے یہ جرم کیا ہے، ہم آج بھی اپنے مؤقف پر قائم ہیں اور ان شاء اللہ اپنے اصولوں پر ثابت قدم رہیں گے۔
لیکن خدارا! ذرا انسانیت کا بھی خیال کریں۔ ایک ایسے شخص کے ساتھ، جو تین سال سے کینسر کے خلاف جنگ لڑ رہا ہے، اس کی معذور ماں اور معصوم بچوں کے ساتھ اس طرح کا سلوک کرتے ہوئے کیا آپ کے دل میں ذرا سا بھی رحم نہیں آتا؟
یاد رکھیے! طاقت ہمیشہ قائم نہیں رہتی، حالات ہمیشہ ایک جیسے نہیں رہتے اور وقت کبھی ایک جگہ نہیں ٹھہرتا۔ آج جن کے پاس اختیار ہے، کل ان کے پاس شاید یہ اختیار نہ ہو۔
وقت بدلے گا، حالات بدلیں گے، لیکن ظلم کی داستانیں اور مظلوموں کی آہیں تاریخ کا حصہ بن کر رہ جائیں گی۔
ہم اپنے اصولوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے، لیکن اپنے ساتھ ہونے والی اس زیادتی کو بھی خاموشی سے بھول نہیں جائیں گے۔
اللہ تعالیٰ میری والدہ محترمہ، میرے بچوں اور میرے خاندان کی حفاظت فرمائے، ہمیں صبر و استقامت عطا فرمائے اور ہر مظلوم کو انصاف نصیب فرمائے۔ آمین۔
ہمیں اپنے نظریے کی سزا دی جا سکتی ہے، لیکن ہمارے حوصلے اور اصولوں کو شکست نہیں دی جا سکتی.“۔کلیم سعید - مراد سعید کے بھائی
سوات میں مراد سعید کے گھر کا سامان باہر پھینکنے اور ان کی معذور والدہ کو گھر سے نکالنے کی اطلاعات کی شدید مذمت کرتی ہوں۔
مراد سعید کی والدہ پہلے ہی دہشت گردی کی جنگ میں مارٹر گولے کا نشانہ بن کر شدید متاثر ہوئیں اور کوما کی حالت میں ہیں، جبکہ ان کے ایک بھائی بھی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایسے حالات میں ایک متاثرہ خاندان کو مزید اذیت دینا انسانیت، اخلاقیات اور پختون روایات کے منافی ہے۔
گورنر راج اور ایمرجنسی کے نام پر سیاسی انتقام، گھروں کی حرمت کی پامالی اور بنیادی حقوق کی خلاف ورزی کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔ پختون قوم نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں بے پناہ قربانیاں دی ہیں؛ آج اسی قوم کو کس سمت دھکیلا جا رہا ہے؟
آئینِ پاکستان، قانون اور انسانی وقار کا احترام یقینی بنایا جائے۔
معصومہ میر ایڈووکیٹ
مرکزی ترجمان، انصاف لائرز فورم پاکستان (ILF)
@MuradSaeedPTI@PTIofficial@PTIKPOfficial@salmanAraja@BarristerGohar@SheikhWaqqas@ISFPakistan@NaeemPanjuthaa
سوات میں مراد سعید کے گھر کا سامان باہر پھینکنے اور ان کی معذور والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی اطلاعات انتہائی افسوسناک اور قابلِ مذمت ہیں۔
مراد سعید کی والدہ پہلے ہی دہشت گردی کے خلاف جنگ کے دوران مارٹر گولے کا نشانہ بن کر شدید متاثر ہو چکی ہیں۔ اطلاعات کے مطابق وہ طویل عرصے سے بیمار اور کوما کی حالت میں گھر پر موجود ہیں، جبکہ ان کے ایک بھائی بھی کینسر جیسے موذی مرض میں مبتلا ہیں۔ ایسے نازک اور تکلیف دہ حالات میں ایک پہلے سے متاثرہ اور بیماریوں سے نبردآزما خاندان کو مزید مشکلات میں ڈالنا، ان کے گھر کا سامان باہر پھینکنا اور بیمار والدہ کو گھر سے بے دخل کرنے کی مبینہ کوشش کرنا نہ صرف انسانی ہمدردی، اخلاقیات اور پختون روایات کے منافی ہے بلکہ بنیادی انسانی حقوق اور انسانی وقار کی سنگین پامالی کا معاملہ بھی ہے۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، لیکن کسی بھی خاندان، بالخصوص بیمار خواتین اور بزرگوں کے بنیادی حقوق، عزتِ نفس اور گھر کی حرمت کا تحفظ ریاست کی آئینی اور اخلاقی ذمہ داری ہے۔ گورنر راج یا ایمرجنسی سمیت کسی بھی انتظامی اقدام کی آڑ میں سیاسی انتقام، قانون سے تجاوز اور شہریوں کی تذلیل کسی صورت قابلِ قبول نہیں۔
متعلقہ حکام فوری طور پر ان اطلاعات کی وضاحت کریں، واقعے کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کرائیں اور متاثرہ خاندان کے قانونی و انسانی حقوق کا تحفظ یقینی بنائے۔