حسنِ کرشمہ ساز؛ عدالت کے شیشے دروازے توڑ کر، عمران خان کو گریبان سے پکڑ کر رینجرز گھسیٹتے ہوئے لے جا رہے ہیں۔ احاطۂ عدالت سے!
اسی صبح کی عمران خان کی ویڈیو موجود ہے جہاں انہوں نے کہا کہ مجھے وارنٹ دکھا دیں میں بلا مزاحمت گرفتاری دے دونگا۔ لیکن نہیں گرفتاری تو ایسی ہوگی کہ قوم کو اس کی اور اس کے لیڈر کی اوقات یاد آجائے۔ بہت آپے سے باہر ہوئے جارہے تھے نا! سبق تو پھر پورا سکھانا پڑیگا۔
احتجاج ہشتنگری چوک پہ ہورہا ہے، آگ ریڈیو پاکستان پشاور میں لگ گئی ہے۔ سی سی ٹی وی سے شاید سمجھ آجاتی کہ یہ سانحہ کیسے ہوا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج تو ابھی تک قوم نے دیکھ لی ہوگی؟
سوات میں ایک گملہ تک نہیں ٹوٹا لیکن ڈیڑھ سو سے زائد گرفتاریاں ہو گئیں. درجنوں دہشتگردی کی دفعات لگا کر ایف آئ آرز کاٹ دیں۔ اب اس کو ستم ظریفی کہیں تو گستاخی ہوجائیگی کہ ایف آئ ارز اس قیادت پر کٹیں کہ جنہوں نے اشتعال دلانے والے افراد کو اصل مظاہرین سے الگ کیا۔
مالاکنڈ میں کارکنان پر گولیاں چلیں، زخمیوں کو ہسپتال لے جانے والوں کو بار بار ایک زخمی سے متعلق نامعلوم نمبروں سے فون موصول ہورہے ہیں۔ پتا چلا کہ موصوف تو آن ڈیوٹی“جوان” تھے، سادہ کپڑوں میں مظاہرین کے درمیان کونسی ڈیوٹی پر تھے یہ معلوم کرنے کا موقع نہیں ملا کیونکہ ڈیوٹی لگانے والے پھر زخمی کو ہسپتال سے اٹھا لے جانے کی بھی قدرت رکھتے ہیں۔
مردان میں احتجاج کی کال کالج چوک کی تھی کس نے اس کا رخ موڑ دیا مقامی قیادت اور کارکنان کے پاس تفصیلات ہیں کسی کو سننے کی توفیق ہو تو۔۔ پشاور میں تھوڑ پھوڑ کرنے والوں کی مظاہرین نے ویڈیوز بنائیں، ڈنڈہ بردار سرکاری ملازم نکلے۔ مقامی قیادت نے شر پسندوں کو روکنے کی کوشش کی تو ان پر تشدد کیا ان کے کپڑے پھاڑ دیے، آج وہ شرپسند تو شاید کسی دفتر میں ٹانگ پر ٹانگ رکھ کر بیٹھے ڈھٹائ سے اپنی خباثت کا احوال سناتے ہوں کارکن جیلوں میں اور وہی قیادت دہشتگردی کے پرچوں میں مطلوب ہے۔ “حسنِ کرشمہ ساز”!
لاہور میں سادہ کپڑوں میں ملبوس لوگوں کو جن ٹرکوں سے اتارا جارہا تھا وہ میونسپلٹی کے تو نہیں تھے۔ آنکھوں دیکھے پہ خاموش رہو اور جن کو جرم کرتے دیکھا ہی نہیں وہ اس جرم میں اشتہاری ہوگئے؛ مگر ہم نے کہہ دیا تم ہو مجرم سو کہہ دیا تم کیا کرلوگے؟ آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ ہے؟ بکو مت۔ زبان گُتی سے کھینچ نکالیں گے۔ سیدھے سیدھے وہ غلطی سدھارو جو ۱۰ اپریل کو سڑکوں پر نکل کر کی۔ اصل گناہ تو ۱۰ اپریل کو نکل کر کیا تھا نا تم نے اور دیکھو اب تو ۹ مئی کا بہانہ بھی ہے۔
کارکن ہو تو توبہ تائب کرو اور اچھی بھیڑوں کیطرح بھیڑیوں کی بڑائ تسلیم کرو۔ لیڈر ہو تو پریس کانفرنس کی گنگا نہاؤ یا پھر ملٹری ٹرائل کے لیے تیار ہوجاؤ۔ اور کسی خوش فہمی میں مت رہنا زیادہ ہیرو پنتی کی تو تم تو تم تمہارے گھر کی عورتوں بچوں تک کو سبق سکھایا جائیگا۔ ہاں اگر بات مان لو، دوسری جانب آ کھڑے ہو تو ناصرف تمام گناہ معاف یہ بھی ممکن ہے سرکاری پروٹوکول بھی مل جائے لال نیلی بتیوں میں گھومتے رہنا۔ قوم لعنت بھیجتی ہے تو قوم کی کیا اوقات، قبولیت تو آقاؤں کے ہاں ہونی چاہئیے۔
پڑھا تھا نا سائفر؟
نام : حدیقہ کیانی
۲۰۰۵ کے زلزلہ میں ایک بچہ گود لیا، ماں اور باپ دونوں
بن کر پالا۔
وہ بچہ آج ایک روشن مستقبل والا نوجوان ہے۔
۲۰۱۰ کے سیلاب میں متاثرین کے لئیے گھر بنائے، سکول بنائے، مساجد بنائیں اور اسپتال بنائے۔
۲۰۲۳ کے سیلاب میں نصیر آباد ، بلوچستان میں سیلاب متاثرین کے لئیے ایک سو گھر تعمیر کروائے، جس میں ایک اسکول، ایک مسجد اور ایک میٹرنٹی ہوم بھی شامل ہے۔
مزید ڈھائ سو گھروں کی تعمیر جاری ہے
یہ تحریر لکھنے کا مقصد یہ ہے کہ اگر آپ کو صنفی آزادی کے حوالے سے کوئ اشکال ہیں تو عورت مارچ میں شامل ہونے کی بجائے حدیقہ کیانی کی پیروی کر لیں، آزادی کا حقیقی مفہوم آپ کو سمجھ آجائے گا۔اسی طرح اگر آپ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی سنت تآزہ کرنی ہے تو چندہ خور، فساد پرور ، فرقہ پرست مولوی کا دامن چھوڑ کر حدیقہ کیانی کا دامن تھام لیں، فلاح انسانیت اور رحمت اللعالمین کا مشن یہ نیک بخت عورت پورا کر رہی ہے۔ اور اگر کوئ دعا ل کروانی ہے تو حدیقہ کیانی سے درخواست کر لیں کیونکہ عصر حاضر کی سب سے بڑی صوفی تو یہی معلوم ہوتی ہے، جو قوالیوں، لنگروں پر چونیاں ضائع کرنے کی بجائے اپنا تن من دھن سب انسانیت کی فلاح و بہبود پر خرچ کر رہی ہے۔
اللہ تعالی ہم سب کو حدیقہ کیانی کے روشن راستے کی پیروی کرنے کی توفیق دیں۔ آمین
( نیچے تصویر میں ناد علی جونومولود تھا اور اپنے والدین ۲۰۰۵ کے زلزلہ میں کھو چکا تھا اپنی روحانی والدہ حدیقہ کیانی کے ہمراہ موجود ہے)