@Muhamma12762724@ZeeKayKay8th صحرا میں ایڑیاں رگڑنے سے چشمہ جاری ہوگیا
ابابیل کے چونچ میں کنکریاں مارنے سے انسان اورہاتھی تباہ ہوگئے
طوفان میں سب کچھ ختم ہو گیا زمین سے لیکن کشتی میں سوار افراد محفوظ رہے
قرآن پاک نے ہمیں خبر دی کہ بانجھ بڑھیا حاملہ ہو گئی، کنواری عورت نے بچہ جنا، چھری نے ذبح نہیں کیا، آگ نے جلایا نہیں، مچھلی نے نگل لیا مگر ہضم نہیں کیا، پتھر سے اونٹنی نکلی، چاند دو ٹکڑے ہو گیا، شیر خوار بچے نے بات کی، سمندر پھٹ کر دو حصوں میں تقسیم ہو گیا۔ اُس نا ممکنات کے رب سے تم کیسے یہ گمان کر سکتے ہو کہ وہ تمہاری ممکن حاجات پوری نہیں کرے گا۔
Dajjal دجال کون ہے؟
کیا آپ جانتے ہیں کہ سورہ کہف میں دجال کا براہ راست کوئی ذکر نہیں ہے؟
پھر بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ہمیں بتایا کہ دجال کےخلاف اپنی حفاظت ضروری ہے
کیونکہ یہ کسی آدمی کے بارے میں وارننگ نہیں، اصل مقصد اس خطرے کے خلاف تربیت ہے
دجال کا سب سے بڑا ہتھیار فریب (فتنہ) ہےوہ "آگ" کو "پانی" اور "جہنم" کو "جنت" کی طرح دکھاتا ہے
سورہ کہف آپ کو یہ سبق سکھاتی ہے کہ جو آپ بظاہر دیکھتے ہیں ہمیشہ وہی سچ نہیں ہوتا
سورہ کہف میں گویا 4 منزلوں کو بیان گیا ہے جو اندرونی فائر والز کا کام کرتی ہیں
دجال چار مخصوص دروازوں سے حملہ کرے گا:
• ایمان• دولت• علم• طاقت
اگر یہ 4 دروازے کمزور ہیں تو دجال کو مکمل رسائی حاصل ہے
دجال آپ کے ایمان کو کمزور کرتا ہے،
دجال دنیا کے وسائل کو کنٹرول کرے گا، وہ اپنے پیروکاروں کو "جنت" پیش کرے گا، جیسے امریکہ اپنے دوستوں کو تعریف، مدد اور انعام پیش کرتا ہے،
آج کل مالیت انسانی قدر کے لیے ایک پراکسی بن گئی ہے، اگر آپ کی "قیمت" آپ کے اثاثوں سے منسلک ہے، تو آپ 'روحانی' طور پر کسی ایسے شخص کے ذریعہ "ہیک" ہو سکتے ہیں جو معیشت کو کنٹرول کرتا ہے، آج امریکہ دُنیا کے اثاثوں کو کنٹرول کرتا ہے
الکہف میں بیان کردہ ہدایت سادہ ہے: رزق اللہ کی طرف سے ہے نہ کہ نظام کی جانب سے۔ اور یہ یقین آپ کو ناقابل خرید بنا دیتا ہے
یعنی جو ممالک رزق کیلئے امریکہ، آئ ایم ایف اور دوسرے سہاروں کی طرف دیکھتے ہیں، وہ بہ آسانی خریدے جاتے ہیں اور جو ملک یا غیرت مند افراد اپنی قدر جذبہ ایمانی کو بناتے ہیں اُنھیں دُنیا کی کوئ طاقت خرید نہیں سکتی
علم کی آزمائش (موسیٰ و خضر)
دجال ایسے "معجزات" دکھائے گا جو منطق کی نفی کرتے ہیں۔ وہ غلط کو صحیح دکھائے گا، جیسے 9/11 کے پیچھے اسلامی دہشت گردی، اسلاموفوبیا دکھا کر اسلامی ممالک کو ٹارگٹ کیا، بورڈ آف پیس بنا کر مسلمانوں کا استحصال کرے گا، نیٹو سے ممالک فتح کرے گا،
موسیٰ علیہ السلام کو یہ سیکھنا پڑا کہ انسانی منطق محدود ہے۔ خضر نے ظاہر کیا کہ ہر "سانحہ" کے پیچھے خدا کی رحمت ہوتی ہے، یعنی ہر مشکل اللہ آپ کی بہتری کے لئے دیتا ہے
سورہ الشرح میں مسلسل دو آیات میں فرمایا گیا
پس ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے. بےشک ہر مشکل کے ساتھ آسانی ہے
(94:4-5)
سورہ الشرح نزول کے اعتبار سے بارہویں سورت ہے جو ابتدائی مکی دور میں اس وقت نازل ہوئی جب کفار اور مشرکین مکہ کی جانب سے شدید ترین مخالفت اور ظلم جاری تھا. اس وقت اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب کو یہ تسلی عطا کی
ہم ٹوٹل انفارمیشن وارفیئر کے دور میں داخل ہو چکے ہیں• بیانیے سے 'سچائی' پیدا کی جا سکتی ہے، جیسے دہشت گردی کے خلاف جنگ، جیسے ایران کے خلاف مذہبی انتہا پسندی کا پروپیگینڈا، جیسے فلسطین کی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی سے تعبیر کرنا، جیسے کشمیر کی آزادی کی جدوجہد کو دہشت گردی بنا دینا
میڈیا نسل کشی کو "دفاع" اور ہیرو کو "دہشت گرد" بنا سکتا ہے، جیسے غزہ میں نسل کشی اسرائیل کا دفاع بنا دیا گیا، افغانستان پر امریکی قبضہ اور نسل کشی کو دہشت گردی کے خلاف جنگ بنا دیا، اب ایران نشانے پر ہے
*طاقت کی آزمائش*
دجال کو عالمی اختیار حاصل ہوگا۔ وہ ناقابل تسخیر نظر آئے گا، سویت یونین کے گرنے کے بعد عالمی اختیار امریکہ کو مل گیا تھا
اگر آپ اپنے بچوں کی حفاظت کرنا چاہتے ہیں تو انہیں صرف سورہ الکہف پڑھنا نہ سکھائیں، انہیں دجال کے خلاف اپنی حفاظت کی نفسیات سکھائیں
• جب آپ غلط بھیڑ میں کھڑے ہوں ہو تو اکیلے کیسے اپنا دفاع کرنا ہے• "بدقسمتی" کے واقعات میں اللہ کی بہتری کو پہچاننے کی صلاحیت پیدا کریں
• غلط نظام کے خلاف حق کے ساتھ کیسے کھڑے ہونا ہے
الکہف کوئی کہانیوں کی کتاب یا تاریخ کی کتاب نہیں ہے، یہ ایک بہترین کاؤنٹر انٹیلی جنس کا ازلی نسخہ ہے۔ ہر جمعہ اس کی برکات کے لیے اسے پڑھنے کی تلقین کی جاتی ہے لیکن اس کے اصل سبق اور اس میں موجود عملی تنبیہ کے لیے اس کا ترجمہ اور مفہوم، سیاق و سباق کے ساتھ مطالعہ کریں اور سب سے بہتر تو یہ ہے کہ کسی اللہ والے کی صحبت میں اسے عملی طور پر سمجھیں
جب عمر بن خطاب پر قاتلانہ حملہ ہوا تو شدید زخمی حالت میں انہیں دودھ پلایا گیا، مگر دودھ زخموں سے باہر نکل آیا۔ طبیب نے بتایا کہ اب زندگی زیادہ باقی نہیں، لہٰذا وصیت کر دیں۔
حضرت عمرؓ نے اپنے بیٹے عبداللہ بن عمر کو بلایا اور فرمایا کہ حذیفہ بن الیمان کو میرے پاس لاؤ۔ یہ وہ صحابی تھے جنہیں محمد ﷺ نے منافقین کے ناموں کا راز بتایا تھا۔ حضرت عمرؓ نے خون میں لت پت حالت میں پوچھا: “اللہ کے لیے بتاؤ، کیا میرا نام بھی منافقین میں شامل ہے؟”
حذیفہؓ رو پڑے اور کہا: یہ رسول ﷺ کا راز ہے، مگر آپ کے لیے اتنا کہہ دیتا ہوں کہ اس فہرست میں آپ کا نام نہیں ہے۔
پھر حضرت عمرؓ نے فرمایا کہ میری خواہش ہے کہ مجھے رسول ﷺ کے پہلو میں دفن کیا جائے۔ انہوں نے عبداللہ بن عمرؓ کو عائشہ بنت ابی بکر کے پاس اجازت لینے بھیجا۔ ام المؤمنین نے فرمایا: “یہ جگہ میں نے اپنے لیے رکھی تھی، مگر آج عمر کے لیے چھوڑ دیتی ہوں۔”
وفات کے بعد جب جنازہ مسجد نبوی لایا گیا اور دوبارہ اجازت طلب کی گئی تو ام المؤمنین نے خوشی سے اجازت دی۔ یوں حضرت عمرؓ کو رسول اللہ ﷺ اور ابو بکر صدیق کے پہلو میں دفن کیا گیا۔
یہ وہ عظیم خلیفہ تھے جنہیں جنت کی خوشخبری ملی، مگر پھر بھی اللہ کے سامنے جواب دہی کا خوف ان کے دل میں ہمیشہ موجود رہا۔
#PetrolDieselPrice