فضل الرحمان کے بیان پر صرف سیاسی رولا اور عمران خان کی بہن کے بیان پر اداروں کے نوٹس اور طلبی۔
یاد رہے کہ نا صرف فضل الرحمان کا دیا بیان کئی گنا زیادہ سخت ہے بلکہ وہ انکی پوری قیادت اس پر ڈٹ کر قانونی کاروائی کے طعنے بھی دے رہے ہیں مگر اسٹیبلشمنٹ کو خطرہ عمران خان کی بہن سے ہے۔
اس سے 2 چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔
1: اسٹیبلشمنٹ فضل الرحمان کو اپنے لیے فل الحال خطرہ نہیں سمجھتی۔
2: عمران خان کا خوف اب بھی انکے اعصاب پر طاری ہے۔
علیمہ خان نے درست کہا 5 اگست کی ایک روزہ احتجاج کی کال کا کوئی مقصد نہیں۔
احتجاج کرنا ہے تو راولاکوٹ کے ان مناظر سے سیکھو ۔ آج 41 واں دن ہے اور لوگ ڈٹے ہوئے ہیں
فضل الرحمان رجیم چینج آپریشن کے دوران جنرل باجوہ کا آلہ کار بننے سے انکار کردیتے تو آج ملٹری اسٹیبلشمنٹ کے نشانے پر نہ ہوتے۔ بہرحال اس وقت مولانا صاحب حق پر ہیں اور فوجی مداخلت باطل۔۔۔
مجھے کہتے ہیں پرائیویٹ لشکر بناؤ اور دہشتگردوں سے لڑو اور علاقے میں آنیوالی نسلوں کو ہمیشہ کیلئے دشمنی میں دھکیل دو میں لشکر نہیں بناؤں گا تم کس لیے تنخواہ لیتے ہو ۔۔۔ مولانا فضل الرحمان
ویسے میں پارٹی معاملات میں دخل اندازی نہیں کرتا لیکن میرا خیال ہے جس جس کو علیمہ خان صاحبہ کی سٹریٹ موومنٹ سے پریشانی ہو اسے فوری پارٹی چھوٹ دینی چائیے اور گھر پر ریسٹ کرنا چاہیے. جب کوئی اور کچھ نہیں کر پا رہا پھر بہنوں نے تو اپنے بھائی کو بچانا ہی ہے.
تیمر گرہ میں کارکنان کو اتنی بڑی تعداد میں دیکھ کر بہت خوشی ہوئی ہے ہمیں حوصلہ ملا ہے آگے ہم نے عمران خان کے لیے جدوجہد کو مزید تیز کرنا ہے ۔
علیمہ خان کا تیمر گرہ استقبال سے خطاب
عاصم منیر جو ایک سرکاری ملازم ہے اسکا نام لینے سے ڈرتے ہیں کیونکہ اسکے ہاتھ میں بندوق ہے لیکن ہم نہیں ڈرتے اس سے ،زیادہ سے زیادہ مار دے گا ہمیں شہادت قبول ہے مگر اسکا کوئی ڈر نہیں ۔۔علیمہ خان صاحبہ🔥
یہ وہی عدالتیں ہیں جو بندے کو پھانسی ہو جانے کے بعد بری کرنے کا حکم دیتی ہیں
وفاقی آئینی عدالت نے اسلام آباد مونال ریسٹورنٹ گرانے کا حکم کالعدم قرار دے دیا ۔
حالانکہ
مونال ریسٹورنٹ پہلے ہی گرایا جا چکا ہے