بلوچستان میں کابینہ کی ممکنہ تبدیلی؛ وزارت کے لیے نیا معیار کیا ہوگا؟
تحریر: مرتضیٰ زہری
بلوچستان کی سیاست میں ایک بار پھر کابینہ میں تبدیلی کی بازگشت سنائی دے رہی ہے۔ سیاسی حلقوں میں یہ سوال زیرِ بحث ہے کہ آیا آنے والے دنوں میں کچھ وزرا کے قلمدان تبدیل ہوں گے، کچھ نئے چہرے کابینہ میں شامل ہوں گے اور بعض موجودہ وزرا کو فارغ کیا جائے گا۔
اس پس منظر میں بعض سیاسی ذرائع کا دعویٰ ہے کہ آئندہ کابینہ میں محض سیاسی نمائندگی کافی نہیں ہوگی بلکہ وزرا سے ریاستی پالیسی، امن و امان اور دہشت گردی کے خلاف حکومتی مؤقف کی واضح ترجمانی کی توقع بھی کی جائے گی۔
تاہم یہ بات ابھی تک سرکاری طور پر سامنے نہیں آئی کہ وزارتوں کی تقسیم کے لیے ایسا کوئی باضابطہ نیا معیار طے کیا گیا ہے۔
یہ بحث ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب بلوچستان میں ریاستی بیانیے، دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں اور صوبے میں امن و امان کے معاملات سیاسی گفتگو کے مرکز میں ہیں۔ وزیراعلیٰ میر سرفراز بگٹی نے حالیہ دنوں میں متعدد مواقع پر دہشت گردی کے خلاف سخت مؤقف اختیار کیا ہے۔ ستمبر میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ریاست کے خلاف ہتھیار اٹھانے والوں سے مذاکرات نہیں ہوں گے اور سول و عسکری قیادت دہشت گردی کے خلاف ایک مؤقف رکھتی ہے۔
اسی ماحول میں بعض ذرائع یہ تاثر دے رہے ہیں کہ آئندہ ایک ہفتے کے دوران کابینہ میں تبدیلیاں سامنے آسکتی ہیں۔ ان ذرائع کے مطابق مسلم لیگ ن کو کابینہ میں مزید حصہ ملنے کا امکان بھی زیرِ بحث ہے، تاہم اس کی حتمی شکل اور وزرا کے نام فی الحال سرکاری طور پر سامنے نہیں آئے۔
بلوچستان میں کابینہ کی سیاست نئی نہیں۔ گزشتہ چند ماہ میں ہی دو اہم وزرا کابینہ سے باہر ہوچکے ہیں۔ فروری 2026 میں پیپلز پارٹی کے میر علی حسن زہری کو وزارت سے ہٹایا گیا، جبکہ جولائی میں مسلم لیگ ن کے سردار عبدالرحمان کھیتران کو بھی وزارتِ پبلک ہیلتھ انجینئرنگ سے فارغ کردیا گیا۔ دونوں معاملات میں باقاعدہ حکومتی احکامات جاری ہوئے۔
کھیتران کی برطرفی کے بارے میں ڈان نے رپورٹ کیا تھا کہ وزیراعلیٰ سرفراز بگٹی اور کھیتران کے درمیان مختلف معاملات پر اختلافات پیدا ہوئے تھے۔
اسی معاملے کے بعد کھیتران پر کالعدم تنظیم سے تعلق یا اسے بھتہ دینے سے متعلق الزامات بھی سامنے آئے، جنہیں انہوں نے واضح طور پر مسترد کیا اور کہا کہ الزامات بے بنیاد اور سیاسی طور پر محرک ہیں۔ انہوں نے قانونی کارروائی کا اعلان بھی کیا۔
یہ نکتہ اس لیے اہم ہے کہ کسی بھی سیاست دان یا وزیر پر کسی کالعدم تنظیم کو مالی معاونت فراہم کرنے کا الزام الزام ہی رہتا ہے جب تک اس کی آزادانہ طور پر تصدیق یا قانونی طور پر ثابت ہونے کی صورت سامنے نہ آئے۔
ذرائع کی جانب سے سامنے آنے والی بات کا اصل سوال یہی ہے۔ اگر کابینہ میں تبدیلی ہوتی ہے تو کیا وزارتیں صرف جماعتی، قبائلی اور سیاسی توازن کو دیکھ کر تقسیم ہوں گی یا وزرا کی کارکردگی، امن و امان پر مؤقف، عوامی رابطے اور حکومت کے فیصلوں کی ترجمانی بھی معیار بنیں گے؟
یہ سوال اس لیے بھی اہم ہے کہ وزیراعلیٰ پہلے ہی حکومتی کارکردگی میں جواب دہی پر زور دے رہے ہیں۔ ستمبر میں انہوں نے سرکاری ملازمتوں میں مبینہ بے ضابطگیوں کے معاملے پر کہا کہ اگر کسی وزیر یا سیکریٹری کے خلاف قابلِ اعتبار ثبوت سامنے آئے تو اسے بھی نہیں بخشا جائے گا۔
اس سے یہ ضرور ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومت وزارت کو صرف سیاسی عہدہ سمجھنے کے بجائے کارکردگی اور جواب دہی سے جوڑنے کا پیغام دے رہی ہے۔ تاہم یہ نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا کہ آنے والی کابینہ میں صرف ریاستی بیانیے کی ترجمانی کو وزارت حاصل کرنے کی شرط بنایا جا رہا ہے۔
بلوچستان کی سیاست میں ایک اور اہم سوال ہمیشہ یہ رہا ہے کہ صوبائی حکومت کے بڑے سیاسی فیصلوں میں سول حکومت، اتحادی جماعتوں اور ریاستی اداروں کا کردار کس حد تک ہوتا ہے۔
ذرائع کا دعویٰ ہے کہ اس بار کابینہ کی تشکیل میں ریاستی پالیسی سے ہم آہنگی کو زیادہ اہمیت دی جا سکتی ہے۔ لیکن اس حوالے سے کسی حتمی فیصلے یا مقتدرہ کی طرف سے ایسی کوئی باضابطہ ہدایت عوامی سطح پر سامنے نہیں آئی۔ اس لیے اسے فی الحال سیاسی حلقوں میں زیرِ گردش ایک دعوے کے طور پر ہی دیکھا جانا چاہیے۔
دوسری جانب حکومت کے اپنے حالیہ اقدامات سے یہ ضرور واضح ہے کہ ریاستی رٹ، دہشت گردی کے خلاف کارروائی اور امن و امان اس کی ترجیحات میں نمایاں ہیں۔ نومبر 2025 میں صوبائی ایپکس کمیٹی نے بھتہ خوری، غیر قانونی ہنڈی حوالہ اور دیگر جرائم کے خلاف کارروائی تیز کرنے کے ساتھ ریاست مخالف اور نفرت انگیز مواد کے خلاف بھی اقدامات کی منظوری دی تھی۔
اب اگر کابینہ میں تبدیلی ہوتی ہے تو اصل امتحان یہ ہوگا کہ نئے وزرا سے سیاسی وفاداری کے ساتھ ساتھ انتظامی کارکردگی، عوامی خدمت اور حکومت کی پالیسیوں کی مؤثر ترجمانی کس حد تک مطلوب ہوتی ہے۔
بلوچستان کی سیاست میں وزارتیں ماضی میں بھی طاقت، اتحاد اور سیاسی توازن کا حصہ رہی ہیں۔ آنے والے دن یہ بتائیں گے کہ موجودہ حکومت کابینہ کی نئی تشکیل میں بھی اسی روایتی فارمولے پر چلتی ہے یا وزارت کے لیے کارکردگی، واضح سیاسی مؤقف اور حکومتی پالیسیوں سے ہم آہنگی کو زیادہ نمایاں معیار بنایا جاتا ہے۔
#Balochistan
#BalochistanPolitics
#Quetta
#BalochistanCabinet
#MurtazaZehri
@HamidMirPAK@CMOBalochistan
بلوچستان کی پہلی ماس ٹرانزٹ ٹرین | جناح پیپلز ٹرین
وزیراعلیٰ بلوچستان میر سرفراز بگٹی کی قیادت میں عوام کو جدید، محفوظ، آرام دہ اور کم خرچ سفری سہولت کی فراہمی کی جانب ایک اہم پیش رفت۔
جناح پیپلز ٹرین کے لیے 32 کلومیٹر طویل ریلوے ٹریک کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ صرف 120 روز میں مکمل کرلیا گیا۔
جناح پیپلز ٹرین کے روٹ میں کچلاک سے سریاب تک 7 اسٹیشنز شامل ہیں، جو کوئٹہ اور گردونواح کے شہریوں کے لیے سفری سہولیات میں بہتری کا ذریعہ بنیں گے۔
طلبہ، ملازمین، کاروباری افراد اور عام شہریوں کے لیے یہ منصوبہ روزمرہ سفر کو مزید آسان بنانے، وقت اور سفری اخراجات میں کمی لانے کی جانب اہم قدم ہے۔
حکومتِ بلوچستان، عوامی سہولیات، بروقت تکمیل اور بہتر سفری نظام کے لیے عملی اقدامات۔
#JinnahPeoplesTrain
غوث بخش بزنجو اور حاصل بزنجو کی سیاسی جدوجہد کو خراجِ عقیدت، نیشنل پارٹی کا تعزیتی ریفرنس
کوئٹہ: نیشنل پارٹی کے زیرِ اہتمام بابائے بلوچستان میر غوث بخش بزنجو اور میر جمہوریت میر حاصل خان بزنجو کی یاد میں تعزیتی ریفرنس کوئٹہ پریس کلب میں منعقد ہوا، جس میں پارٹی کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں، ارکانِ اسمبلی اور کارکنوں نے شرکت کی۔
ریفرنس سے نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ، مرکزی سیکرٹری جنرل میر کبیر احمد محمد شہی، صوبائی صدر اسلم بلوچ، میر شاوس حاصل بزنجو سمیت دیگر رہنماؤں نے خطاب کیا۔
مقررین نے میر غوث بخش بزنجو اور میر حاصل خان بزنجو کی سیاسی و قومی جدوجہد، جمہوریت کے لیے خدمات اور سیاسی بصیرت کو خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ دونوں شخصیات نے جمہوریت کے استحکام، آئین کی حکمرانی، پارلیمان کی بالادستی اور آزادیٔ اظہار کو ملک کے استحکام کی بنیاد قرار دیا۔ ان کے مطابق غوث بخش بزنجو اور حاصل بزنجو نے ملک اور بلوچستان کے حالات کی نشاندہی کرتے ہوئے طاقتور حلقوں کو خبردار کیا کہ عوام کی رائے کو مقدم رکھا جائے، بصورتِ دیگر حالات قابو سے باہر ہوسکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فیض محمد یوسفزئی، بابو کریم، شورش اور گل خان نصیر نیشنل پارٹی کے اکابرین میں شامل تھے۔ قلات اسٹیٹ کنونشن کا جس طرح سرداروں اور نوابوں نے سبوتاژ کیا، وہ تاریخ کا حصہ ہے۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے کہا کہ ایوب خان کی آمریت کے خلاف نیشنل عوامی پارٹی (نیپ) کی قیادت نے جیلیں کاٹیں اور انہیں کھلی کیمپوں میں رکھا گیا، جہاں انہیں تشدد کا بھی سامنا کرنا پڑا۔ ان کے مطابق میر غوث بخش بزنجو، محمد حسین عنقا، گل خان نصیر اور دیگر رہنماؤں نے اپنی زندگی کے کئی سال جیلوں میں گزارے۔
سابق وزیراعلیٰ بلوچستان نے میر حاصل بزنجو کے ساتھ اپنے سیاسی سفر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک بہترین لیڈر ہونے کے ساتھ ساتھ کارکن بھی تھے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک موقع پر کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کی جانب سے میر حاصل بزنجو سمیت دیگر رہنماؤں کو مدعو کیا گیا، جہاں ہزاروں افراد موجود تھے۔ جب میر حاصل بزنجو کو یہ کہہ کر اسٹیج پر بلایا گیا کہ وہ میر غوث بخش بزنجو کے فرزند ہیں تو پورے ہال نے کھڑے ہوکر ان کا استقبال کیا۔
انہوں نے مولا بخش دشتی، میر حاصل بزنجو، ڈاکٹر یاسین اور ڈاکٹر عبدالحئی سمیت دیگر رہنماؤں کی سیاسی جدوجہد کو بھی خراجِ عقیدت پیش کیا۔
ڈاکٹر عبدالمالک بلوچ نے بلوچستان کی موجودہ صورتحال پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ لاپتہ افراد کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے، تشدد زدہ لاشیں مل رہی ہیں، جبکہ اغوا برائے تاوان کے واقعات بھی بڑھ رہے ہیں۔ ان کے بقول شاہراہیں بند، ٹرالرز نذرِ آتش اور کاروباری سرگرمیاں متاثر ہورہی ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ بلوچستان کو کہاں لے جایا جارہا ہے اور کہا کہ مشکل حالات میں قومی قیادت قوموں کو سہارا دیتی ہے۔
نیشنل پارٹی کے مرکزی صدر نے کہا کہ بلوچستان کو کالونی کی طرز پر دیکھا جارہا ہے، عوام کے حقِ حاکمیت کو محدود کیا گیا ہے جبکہ ساحل اور وسائل پر بھی عوام کے حقوق کا سوال موجود ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ ناانصافیوں کا خاتمہ اور عوام و قومیتوں کا احترام ہی موجودہ مسائل کے حل کی بنیاد بن سکتا ہے۔
انہوں نے کارکنوں پر زور دیا کہ پارٹی تنظیم کو مزید منظم کریں اور اپنے اکابرین کے نقشِ قدم پر چلتے ہوئے سیاسی جدوجہد کو آگے بڑھائیں۔
ریفرنس سے چیئرمین بی ایس او پجار بئیر صالح بلوچ، اراکینِ صوبائی اسمبلی رحمت صالح بلوچ اور خیر جان بلوچ، ڈاکٹر سرفراز خان، سابق رکن بلوچستان اسمبلی یاسمین لہڑی، ایڈووکیٹ چنگیز حئی بلوچ، علی احمد لانگو، حاجی فدا حسین دشتی، حاجی عطا محمد بنگلزئی، ڈاکٹر رمضان ہزارہ، خیر بخش بلوچ اور فریدہ بلوچ نے بھی خطاب کیا۔
تقریب کی نظامت کے فرائض حاجی عبدالصمد بلوچ اور سعید سمالانی نے انجام دیے، جبکہ ریفرنس میں نیشنل پارٹی کے مرکزی و صوبائی رہنماؤں اور کارکنوں نے شرکت کی۔
#balochistan
منگچر میں خواتین جنگجوؤں کی ناکہ بندی، بی ایل ایف کا دعویٰ
قلات: بلوچستان لبریشن فرنٹ (بی ایل ایف) کے ترجمان میجر گہرام بلوچ نے دعویٰ کیا ہے کہ تنظیم کی نو تشکیل شدہ خواتین عسکری یونٹ کریمہ آرمڈ اسالٹ ڈویژن (کاڈ/KAAD) کے ارکان نے قلات کے علاقے منگچر میں کوئٹہ-کراچی شاہراہ پر مختلف مقامات پر ناکہ بندی اور اسنیپ چیکنگ کی۔
نیوز کریڈٹ: X
قلات: سنگداس پولیس چوکی پر مبینہ بھتہ وصولی کی ویڈیو سامنے آگئی، تیل بردار گاڑیوں سے رقم لینے کے مناظر، معاملہ سنگین سوالات کی زد میں۔
#Kalat#Balochistan#Police#BreakingNews
@CMOBalochistan Football players traveling from Karachi were also reportedly robbed on the way. Who will answer for the safety and security of those traveling in Balochistan.
@CMOBalochistan
چھٹا آل پاکستان چیف منسٹر بلوچستان فٹ بال گولڈ کپ جاری
کوئٹہ کے ایوب اسپورٹس کمپلیکس میں جاری گولڈ کپ میں بلوچستان سمیت ملک کے مختلف صوبوں سے 81 ٹیمیں شرکت کر رہی ہیں۔
مقابلوں میں شائقینِ فٹ بال کی بڑی تعداد کی شرکت، جبکہ کھلاڑی بھرپور جوش و جذبے کے ساتھ اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کر رہے ہیں۔
چیف منسٹر بلوچستان فٹ بال گولڈ کپ صوبے میں کھیلوں کے فروغ اور نوجوان ٹیلنٹ کو مواقع فراہم کرنے کے عزم کا مظہر ہے۔
#CMFootballGoldCup #BalochistanSports
زیارت کے علاقے 'فیلہ' میں صنوبر کے نایاب جنگلات میں چار روز سے لگی آگ، ہزاروں قیمتی درخت جل کر راکھ، حکومت اور متعلقہ محکموں کی جانب سے آگ بجھانے کے مؤثر اقدامات نہ ہونا انتہائی تشویشناک ہے
آئی ایس پی آر کے مطابق بلوچستان میں گزشتہ 96 گھنٹوں کے دوران 71 سے زائد دہشت گرد ہلاک، بڑی مقدار میں اسلحہ، گولہ بارود اور دھماکا خیز مواد برآمد کیا گیا۔
#Pakistan#balochistan
بلوچستان میں نواب اکبر بگٹی کی برسی کے موقع پر مختلف اضلاع میں بیک وقت حملے ہوئے ہیں جن میں 37 افراد ہلاک اور کئی زخمی ہوئے ہیں۔ حملہ آوروں نے متعدد گاڑیاں بھی نذرِ آتش کی ہیں۔ تفصیلات بتا رہے ہیں مرتضیٰ زہری۔
#Balochistan#VOAUrdu
بلوچستان میں حملوں اور فورسز کی جوابی کارروائیوں میں 60 سے زائد ہلاکتیں ہو چکی ہیں۔ پاکستان فوج کے مطابق بلوچستان میں 14 سیکیورٹی اہلکار ہلاک ہوئے ہیں اور جوابی کارروائیوں میں 21 عسکریت پسند مارے گئے ہیں۔ ان حملوں پر بلوچستان کے شہری کیا کہتے ہیں؟ جانیے مرتضیٰ زہری کی رپورٹ میں۔
بلوچستان میں ہونے والے حملوں میں ہلاکتوں کی تعداد 60 ہو گئی ہے جن میں 14 سیکیورٹی اہلکار بھی شامل ہیں۔ متاثرہ علاقوں میں اب کیا صورتِ حال ہے؟ جانیے مرتضیٰ زہری کی رپورٹ میں۔
#Balochistan#VOAUrdu
حکومت پاکستان نے حال ہی میں بلوچستان سمیت ملک بھر میں لاپتا ہونے والے افراد کے لواحقین کے لیے فی کس 50 لاکھ روپے امداد کا اعلان کیا ہے۔ یہ رقم ان خاندانوں کی دی جائے گی جن کے پیارے گزشتہ پانچ برس سے لاپتا ہیں۔ حکومت کے اعلان پر لواحقین کیا کہتے ہیں؟ جانیے مرتضیٰ زہری کی رپورٹ میں
کوئٹہ میں چمن پھاٹک پر فورسز کی چوکی کے قریب دھماکہ ہوا ہے جس میں دو افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔ سیکیورٹی فورسز کی بھاری نفری نے علاقے کو گھیرے میں لے لیا۔ دھماکے کے مقام سے شواہد بھی جمع کیے جا رہے ہیں۔ حالیہ دنوں میں بلوچستان میں تخریبی کارروائیوں میں اضافہ ہوا ہے۔
پاکستان میں لاپتا افراد کا مسئلہ کئی برسوں سے چلا آ رہا ہے۔ اس مسئلے کو حل کرنے کی کوششیں تو کی گئیں لیکن اب بھی لاپتا افراد اہلِ خانہ اپنے پیاروں کی واپسی کے منتظر ہیں۔ ڈاکٹر اکبر بلوچ بھی لاپتا ہونے والوں میں شامل ہیں جنہیں ان کے خاندان کے بقول 14 سال قبل لاپتا کیا گیا۔
بلوچستان کی یونیورسٹیز کے اساتذہ اور ملازمین تنخواہیں نہ ملنے کی وجہ سے سراپا احتجاج ہیں۔ مالی بحران کے باعث کئی اساتذہ یونیورسٹی چھوڑ چکے ہیں جب کہ بعض جانے کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس تمام صورتِ حال میں طلبہ کی تعلیم پر بھی اثر پڑ رہا ہے۔ دیکھیے مرتضیٰ زہری کی رپورٹ۔
#VOAUrdu
اے پی کے مطابق حکومت اور پولیس حکام نے بتایا ہےکہ پاکستانی سکیورٹی فورسز نے پیر کی رات بلوچستان میں تربت میں نیول بیس پر حملے کو ناکام بناتے ہوئے چار حملہ آوروں کو ہلاک کر دیا۔ بلوچستان لیبریشن آرمی نے اس حملے کی زمہ داری کا دعویٰ کیا ہے۔ https://t.co/mNPZYo5ZC5