Stay tuned……………
For the next digital class of Gám Digital in a video.
For watching the video, please follow and like gán digital official accounts at Facebook, tik tok and instagram.
Fb: Gām Digital
Tik tok: gam_digital
Insta: gam__digital
#gaam
بلوچ اور پشتون دہائیوں سے نسل کشی کا سامنا کر رہے ہیں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی
زیارت میں پیش آنے والا حالیہ سانحہ ایک بار پھر اس حقیقت کو آشکار کرتا ہے کہ بلوچستان کے عوام دہائیوں سے ریاست کی جبر پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہونے والے حالات کا سامنا کر رہے ہیں، جہاں ریاستی طاقت کے استعمال نے عام شہریوں کی زندگیوں کو گہرے طور پر متاثر کیا ہے۔
بلوچستان میں بلوچ عوام طویل عرصے سے جبری گمشدگیوں، ماورائے عدالت قتل، اجتماعی سزاؤں اور سیاسی آوازوں کو دبانے جیسے اقدامات کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ پشتون آبادی والے علاقوں میں بھی جبر پر مبنی پالیسیوں، عدم تحفظ، نقل مکانی اور مسلسل بدامنی نے عوام کو شدید مشکلات سے دوچار کیا ہے۔ بلوچ یکجہتی کمیٹی سمجھتی ہے کہ یہ تمام حالات ریاست کے جبر اور ظلم پر مبنی پالیسیوں کے نتیجے میں پیدا ہوئے ہیں اور بلوچ و پشتون اقوام کے خلاف نسل کش پالیسی کا حصہ بھی ہیں۔ یہ واقعہ بھی اسی تسلسل کی ایک کڑی ہے۔
زیارت سانحے کو ایک ہفتہ گزر چکا ہے، مگر متاثرہ خاندان آج بھی اپنے جائز مطالبات کے حصول کے لیے پُرامن احتجاج جاری رکھے ہوئے ہیں۔ ان خاندانوں کا بنیادی مطالبہ انصاف، شفاف تحقیقات، ذمہ داران کا تعین اور متاثرین کے حقوق کا تحفظ ہے۔ ریاست کی ذمہ داری ہے کہ وہ ان کی آواز سنے، ان کے تحفظات کو سنجیدگی سے لے اور مسائل کو طاقت، خاموشی یا نظرانداز کرنے کے بجائے انصاف اور سیاسی مکالمے کے ذریعے حل کرے۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی واضح کرتی ہے کہ بلوچ اور پشتون عوام کا دکھ مشترک ہے؛ دونوں اقوام دہائیوں سے قتلِ عام اور ریاستی جبر کا سامنا کر رہی ہیں۔ ہم ریاست پر واضح کرتے ہیں کہ پائیدار امن طاقت کے استعمال سے نہیں بلکہ انصاف، قانون کی بالادستی، انسانی حقوق کے احترام، عوام کی سیاسی آواز کو تسلیم کرنے اور مکالمے کے ذریعے ہی ممکن ہے۔ جب تک عوام کے بنیادی حقوق، جان و مال کے تحفظ اور سیاسی شرکت کو یقینی نہیں بنایا جاتا، اس خطے میں دیرپا امن اور استحکام کا خواب پورا نہیں ہو سکتا۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی زیارت سانحے کے متاثرین اور ان کے اہلِ خانہ کے ساتھ مکمل اظہارِ یکجہتی کرتی ہے اور ان کے جائز مطالبات کی بھرپور حمایت کا اعادہ کرتی ہے۔ ہم تمام سیاسی و سماجی قوتوں اور انسانی حقوق کے اداروں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ متاثرین کے ساتھ یکجہتی کا اظہار کریں اور بلوچستان میں انسانی حقوق اور انصاف کے لیے اپنی آواز بلند کریں۔
بلوچ یکجہتی کمیٹی ہر اُس آواز کے ساتھ کھڑی ہے جو انسانی وقار، انصاف، امن اور ایک ایسے مستقبل کے لیے بلند کی جاتی ہے جہاں کسی بھی انسان کو تشدد، خوف اور ناانصافی کا سامنا نہ کرنا پڑے۔
Today marks a significant step in our ongoing legal battle for justice and fundamental human rights. During today's proceedings at the Balochistan High Court (BHC), official notices were issued regarding the appeals we have filed. These appeals directly challenge the unjust life sentences imposed on my sister, Dr. Mahrang Baloch, and Sibghatullah Shahji for their unwavering peaceful advocacy for human rights in Balochistan.
We were deeply encouraged by the presence of Mohsin Dawar, who attended the BHC proceedings today in a show of solidarity. I want to extend my deepest and most respectful gratitude to him for standing with us. His presence is a support for us and a reminder that we are not alone in this struggle.
In a concurrent development, the Supreme Court of Pakistan has also taken up the matter of the detained Baloch Yakjehti Committee (BYC) leaders. The Supreme Court has formally issued notices concerning three separate bail petitions filed on behalf of Dr. Mahrang Baloch, Beebagr Baloch, and Beebow Baloch. We look to the higher judiciary to deliver true justice in this case, which is absolutely essential to maintaining and restoring the public’s trust in this legal system.
#ReleaseBYCLeaders
چاچا اسہ اننو ءُ سوال ئس ءِ کہ ننے سوچ خلینگ ءِ مجبور کیک ءُ اناڑن نن اسہ اننو جواب ئس پیش تمک کہ او ننا گمان ئٹ مفک
دا انگریزی ٹی (riddle) پاننگ یک
اننو کہ اسہ چاچا اس ارے
۱) کاہک کاہک کُٹیپک انتس ءِ
دانا جواب دون مریک کہ کسر ءِ
#GaamDigital
سقراط سے فکری نسبت، فلسفیانہ شعور اور ذہنی ہم آہنگی رکھنے والے یقیناً کم نہ ہوں گے۔ اُس کا نام سُنتے ہی زہر کا پیالا ، ایتھنز کی عدالت اور اپنے استاد کے آخری لمحے قلم بند کرتا افلاطون بھی غالباً ذہن میں آتا ہی ہوگا مگر اس انجام تک پہنچنے والے سفر کو سمجھے بغیر سقراط کو سمجھنا ممکن نہیں۔
| ایتھنز سے شال تک – سنگت ھانلی
مزید پڑھیں: https://t.co/cMxQMkYVHG
The sea misses your presence, Dad. Its waves long to reach you, but they return without you. Every tide carries the pain of your absence, while we continue to wait, hoping for the day you come home.
76 days of enforced disappearance. Bring Dad Shah home.
#ReleaseDadShahBaloch
جیونی، گوادر کے رہائشی اصغر علی کو رواں سال 16 اپریل کو جبری گمشدگی کا نشانہ بنایا گیا۔ آج تک ان کے اہلِ خانہ کو ان کے بارے میں کوئی اطلاع نہیں دی گئی۔ مگر ریاستی جبر ان کی گمشدگی پر نہیں رکا۔
گزشتہ کئی ماہ سے سیکیورٹی فورسز ان کے گھر پر مسلسل چھاپے مارتی رہیں، اہلِ خانہ کو ہراساں کیا گیا، حتیٰ کہ ان کے ایک بھائی کو جبری پریس کانفرنس کرنے پر بھی مجبور کیا گیا۔ اس کے باوجود انتقامی کارروائیاں ختم نہ ہوئیں۔
آج صبح تقریباً گیارہ بجے سیکیورٹی فورسز کے اہلکار ٹریکٹروں اور بھاری مشینری کے ساتھ پہنچے اور ان کے گھر کو ملبے کا ڈھیر بنا دیا۔
ریاست سے سوال ہے: آخر کس قانون کے تحت ایک ایسے خاندان کو اجتماعی سزا دی جا رہی ہے جس کا بیٹا پہلے ہی جبری گمشدگی کا شکار ہے؟ کون سا آئین، کون سا قانون، اور کون سا انصاف ایک طرف کسی شخص کو لاپتہ کرنے اور دوسری طرف اس کے خاندان کی چھت چھین لینے کی اجازت دیتا ہے؟
اگر ریاست کے پاس ایسا کوئی جواز موجود ہے تو عوام کے سامنے پیش کیا جائے۔ اگر نہیں تو یہ قبول کرنے میں نا ہچکچائیے کہ کہ جبر اور فسطائیت کے علاوہ کوئی راہ نہیں بچا، قانون آئین عدلیہ سب ناکارہ ہوچکے ہیں۔
The primary #school of Lango Abad has over 50 enrolled students, yet there is a severe shortage of fundamental necessities. The students do not have sufficient textbooks to meet their needs for their #educational growth.
@BLC_BSAC#Bsac
The life imprisonment of the Baloch Yakjehti Committee leaders is unjustified and raises serious concerns about the rule of law and the independence of the judiciary. Civil society has written to the Supreme Court , urging it to address the injustice faced by Dr. Mahrang Baloch, Sibghatullah Baloch, and other BYC leaders, and to ensure that they receive a fair trial without further delay.
The BYC leaders continue to face 50 cases alongside faceless trials that undermine the principles of due process and fair justice. These proceedings have strengthened concerns that the justice system is being used to prolong their detention instead of protecting their legal rights.
It is time for the Supreme Court to intervene, uphold constitutional guarantees, and ensure transparent and fair trials for all BYC leaders. Justice delayed is justice denied, and the integrity of the judiciary depends on its commitment to protecting fundamental rights and the rule of law.
#ReleaseBYCLeaders