یہ جوکر اعظم جب اپوزیشن لیڈر تھا تو کہتا تھا غریب کیسے آپنے گھر کا خرچہ 20 ہزار تنخوا میں چلائی گا
اور آج جوکر اعظم کہہ رہا ہے جو 8 ہزار ماہانہ کما رہے ہیں وه غریب نہیں ہے
تاریخ لکھے گی کہ پچیس کروڑ زندہ لاشوں کے درمیان صرف پینتیس لاکھ باضمیر کشمیری تھے، جو اپنے حق کے لیے کھڑے ہونا جانتے تھے اور ہر قیمت پر ڈٹ جایا کرتے تھے۔"
لاؤ ترازو تول کے دیکھو ساڈا پلہ بھاری ہے.
ایک طرف میڈیا پر عمران خان کو پمز ہسپتال بھیجنے کی خبر دوسری طرف جنید اکبر خان کی اس کی تردید ۔
پہلی خبر بجٹ راستے ہموار کرنے کی ہے
اور تردید کارکنوں کو وہاں پہنچنے سے روکنے کیلئے
🚨ارشد شریف کا آخری جملہ معنی خیز ہے سوائے اللہ کے کسی کے سامنے نہیں جھکے اور حقیقی آزادی کا سفر جاری ہے کیونکہ ہمارا سر صرف ربِ کائنات کے سامنے خم ہوتا ہے
ضمیر کا سودا نہیں کرتے سر جھکانا ہماری سرشت میں نہیں ہم صرف اللہ کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں💯👍
یہ کیسی قوم ہے جو اپنے ہیرو کو زنجیروں میں جکڑا دیکھ کر بھی خاموش ہے؟
ایک شخص حق کے لیے کھڑا ہے، سچ بولنے کی قیمت ادا کر رہا ہے، اور ہم… ہم اپنی روزمرہ کی مصروفیات میں گم ہیں۔
ہم نے خوف کو اپنی عادت بنا لیا ہے، اور خاموشی کو اپنی تقدیر۔
ہم وہ لوگ بن چکے ہیں جو صرف اپنے آرام، اپنی تقریبات، اور اپنی چھوٹی چھوٹی خوشیوں تک محدود ہو گئے ہیں۔
کبھی سوچا ہے؟
کہ تاریخ میں وہی قومیں زندہ رہتی ہیں جو ظلم کے سامنے کھڑی ہوتی ہیں۔
اور جو خاموش رہتی ہیں، وہ صرف گمنامی میں مر جاتی ہیں۔
آج ایک انسان قید ہے،
مگر اصل قید تو ہماری سوچ، ہماری ہمت، اور ہماری غیرت پر ہے۔
ایسٹ انڈیا کمپنی کی قاتل قابض ناپاک آرمی مردہ آباد
سورہ یوسف ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ اللہ تعالیٰ تمہیں انہی لوگوں کے سامنے کھڑا کرے گا،
جنہوں نے تمہیں گرایا تھا، مگر اُس وقت تمہارا معیار اور مقام الگ ہو گا۔
بریکنگ
شاہدہ خورشید صاحبہ کے حلقے جی بی ایل اے 13،استور 1 کے نوجوان دعوی کر رہے ہیں کہ پراسرار سرگرمیاں جاری ہیں۔ حلقے کا ریٹرننگ افسر غائب ہے اور ان کے کمرے میں آمدو رفت کا سلسلہ جاری ہے
اس وڈیو کی تصدیق سے ہٹ کر میرے ذرائع بھی اس حلقے میں مبینہ دھاندلی کا دعوی کر رہے ہیں
""مریم کے پاپا چور ہیں" اور تاحیات نااہل بھی، یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے۔ رنگے ہاتھوں پکڑے جاتے ہیں، عوام میں جانے کے قابل نہیں رہے، لیکن چونکہ وہ اسٹیبلشمنٹ کے لاڈلے بنے رہنے کے لیے "کچھ بھی" کرنے کو تیار رہتے ہیں، اس لیے ریٹرننگ آفیسر کے ہاتھوں پکڑے جانے اور ثبوت موجود ہونے کے باوجود بھی جیل میں نہیں ہیں۔
ان کی تو انتخابی مہم کا آغاز بھی "مجھے کیوں نکالا" سے ہوا تھا۔ ووٹ چوری کر کے اقتدار حاصل کیا جا سکتا ہے، عوام کی قبولیت نہیں۔ عوامی مینڈیٹ پر ڈاکہ کبھی جمہوریت نہیں کہلا سکتا، چاہے اسے کسی بھی نام سے پکارا جائے۔
#قید_میں_خان_ووٹ_میں_خان
آنکھیں کھول لیں۔
ایک شخص 3 برسوں سےجیل میں ہے، پہلے GB میں اس کی حکومت گرائی گئی، پھر اس کی پارٹی کو توڑا گیا، پھر اس کی نئی پارٹی کو رجسٹر نہیں کیا گیا، ٌپھر اس کے امیدواروں کو پارٹی نشان نہیں دیا گیا، پھر انہیں مہم نہیں چلانے دی گئی اور پھر بھی فیصلہ ساز ہار گئے
عبرت پکڑیں😂