جو لوگ فوج کے خلاف بولتے ہیں یا اداروں کے خلاف، ان کا ایک ہی علاج ہے، تلوار سے ان کا سر قلم کردیا جائے، ان کا صفایا کردیا جائے۔ چوہدری غلام حسین اور صابر شاکر #خان_دور
کل طلبا پر حملے کروانے والا پروفیسر جدون افغانی قوم پرست نکلا۔
یہ رہتے پاکستان میں ہیں،
پاکستان کی یونیورسٹی میں نوکری کرتے ہیں،
تنخواہ پاکستان سے لیتے ہیں
اور سوشل میڈیا پر اپنی پروفائل پر افغانستان کے جھنڈے لگاتے ہیں
یہی گھٹیا لوگ پاک فوج کے خلاف ذہن سازی کرتے ہیں
یہ ویڈیو سلو موشن کی ہے اسے تسلی سے دیکھ لیجئے اس وقت ادارے بھی دیکھ رہے ہوں گے فریم بائے فریم ایک ایک چیز واضح ہو جائے گی ایسا نہی کہ کوئی وردی والا آفیسر آیا اور اچانک فائرنگ شروع کر دی پہلے اس کی بیوی کا راستہ روکا پھر اس پر حملہ کیا سب نظر آ رہا ہے
لیجیے جنہوں نے جدون کو کل سے باپ بنایا ہوا تھا ان کی اطلاع کے لیے عرض ہے جدون بنوں بھاگ گیا ہے اور پہلے بھی دھمکی دینے اور بدتمیزی کرنے ہر پولیس سیٹیشن میں معافی نامہ لکھ کر دے چکا ہے اور طلبا کا گروپ اس نے دھمکی کے مطابق ہی ایکٹو کیا تھا ۔ ( مشعال کیس کسی کو یاد ہے ؟ )
میں دیہات کا رہنے والا ہوں اور میں نے دیکھا ہے جہاں عزت اور غیرت کی بات آجائے تو دشمنیاں نسلوں تک جاتی ہیں اور گھروں کے گھر اجڑ جاتے ہیں لوگ قتل ہو جاتے ہیں اور جو آج واقعہ سرحد یونیورسٹی میں پیش آیا وہاں بھی بات غیرت اور عزت پر آ گئی تھی تصویر میں دیکھا جا سکتا کیسے فوج افسر پر اور اس کی بیوی پر کتے جھپٹ رہے تھے اس کی وردی کو نوچا گیا اسے اور اس کی بیوی کو دھکے دیے گئے باقاعدہ مارا گیا تو کیا اس کی غیرت نہ جاگتی؟
ٹھیک ہے فوج ایک منظم ادارہ ہے انکا اپنا خو احتسابی کا عمل ہے وہ بہتر جانتے انہوں نے کیا کرنا اس افسر کے ساتھ لیکن میری ذاتی رائے ہے فوجی افسر نے بہت صبر اور برداشت کیا اور اتنا کچھ ہونے کے باوجود یوتھیوں کے ہجوم سے بچنے کے لیے اور اپنی بیوی کی عزت بچانے کے لیے بس ہوائی فائر کیا ورنہ کوئی سویلین ہوتا تو کم از کم دو چار قتل ہو جاتے میں ذاتی حیثیت سے اس افسر کے ساتھ کھڑا ہوں اس نے یہ عمل اپنی عزت اور غیرت کے لیے کیا جو کوئی بھی غیرت مند انسان کرتا
البتہ یہاں ایک بات مزید کرنا چاہوں گا ہر کوئی یوتھیا نہیں ہوتا جو خود اپنی ماؤں بہنوں کو ڈی چوک میں ناچنے کے لیے اور راتیں گزارنے کے لیے لیکر جاتے ساتھ یہ بھی کہتے میری امی عمران خان سے شادی کرنا چاہتی ہیں ہمیں اور ہمارے پاپا کو کوئی اعتراض نہیں
المختصر کوئی بھی غیرت مند ہوتا یہی کرتا بلکہ اس سے زیادہ کرتا....
پاک فوج زندہ باد
ڈبلُ سٹینڈرڈ —
محمد بنُ قاسم ایک خاتون کی آواز پر پہنچے تو ہیرو ۔۔۔۔۔
ایک فوجی افسر اپنی بیوی کی آواز پر اس کی عزت بچانے کے لئے پہنچے تواس پر تنقید۔۔۔۔۔۔۔۔۔
(رانا سہیل ——اردو خبرنامہ کینیڈا )
بات جب عزت پر آتی ہے تو ہر غیرت مند شوہر وہی کرتا ہے جو اس بہادر اور غیرت مند آفیسر نے کیا ہے،
فوجی ضرور تھا لیکن ایک شوہر بھی تھا
عزت تو سب کو پیاری ہوتی ہے ،،
Lt Col Asfandyar Wali is indeed a superhero who protected his wife from such thugs, and the Pakistan Army will still investigate the matter 🇵🇰
Those criticizing him have no ghairat, no sharam. They must have never stood up to protect their own families.
ادارے سے درخواست ہے کہ ہمارے فوجی جوان نے کچھ غلط نہیں کیا
ایک عام انسان عام شہری بھی یہ ہی کرتا
اپنی فیملی کے بچاو کے لیے لوگ اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں لہذا کرنل صاحب کے خلاف کوئی کاروائی نا کی جائے
بلکہ جنھوں نے یہ تماشہ لگایا ہوا تھا ان کو گرفتار کیا جائے ان کے خلاف کاروائی کی
ادارے سے درخواست ہے کہ ہمارے فوجی جوان نے کچھ غلط نہیں کیا
ایک عام انسان عام شہری بھی یہ ہی کرتا
اپنی فیملی کے بچاو کے لیے لوگ اپنی جان پر کھیل جاتے ہیں لہذا کرنل صاحب کے خلاف کوئی کاروائی نا کی جائے
بلکہ جنھوں نے یہ تماشہ لگایا ہوا تھا ان کو گرفتار کیا جائے ان کے خلاف کاروائی کی جائے
ایک عام سویلین کی گزارش
@OfficialDGISPR
فضل الرحمن کی موقع پرستانہ مکاری جاری ہے۔
کل کے ساتھی آج کے دشمن، کل پھر دوست۔ بند میٹنگ کے بعد ‘متحدہ اپوزیشن’ کا اعلان صرف اپنی سیاسی زندگی بچانے کا تھیٹر ہے۔ حکومت کا کام مشکل بنانا بہادری نہیں، اپنی اہمیت مصنوعی طور پر زندہ رکھنے کی کوشش ہے۔
پی پی پی کے حکومت سے تعاون کی خبروں کے فوراً بعد یہ اعلان آیا۔ عوام کی مہنگائی اور بے روزگاری کا حل واک آؤٹ نہیں۔ تاریخ گواہ ہے کہ فضل الرحمن کے ایسے اتحاد ہمیشہ ناکام اور مفاد پرست رہے۔
چائے کے بعد مشترکہ بیان عوام کے لیے بے معنی ہے۔ یہ سب اپنی ختم ہوتی ساکھ بچانے کی ناکام کوشش ہے۔
ڈٹ کر کھڑا ہے کپتان والا بیانیہ اب کہاں ہے؟
وہ جو کہہ رہے تھے کہ کپتان ہسپتال نہی جا رہا تھا۔ کپتان ڈٹ کر کھڑا تھوڑ کپتان کو منتیں کرکے ہسپتال لایا گیا وہ یہ ویڈیو لازمی دیکھیں۔
🎯کپتان نے جیسے ہی گاڑی دیکھی تو چلانگ ماری اور ڈرائیور کو کہا شفا ہسپتال چلو : ڈاکٹر عظمی
بے شرموں اور بے غیرتوں کا خاندان ھے یہ ،ڈاکٹر فیصل نے بتایا کہ جو پولیس والے تھے بہت ڈیسنٹ تھے لیکن اس کو لقمہ دے رھی ھے عمران خان کی بہن کہ اغوا کہیں۔
میں ان کو رولاوں گا ان کو تکلیف پہنچے گی۔عمران خان
اللّہ تعالی بڑے بول بولنے سے بچائے ۔کل تک جو مریم نواز اور نواز شریف کو رولانے کی بات کرتا تھا آج اس عمران خان کی اپنی ہمشیرہ رو رہی ہے۔