آپ کے خیال میں ساری تحریک انصاف نسلی غدار ہے یا فوج کی بندوق نے انہیں ڈرا رکھا ہے؟
کیا ��اقعی سارے سکے کھوٹے ہیں یا کرنسی تبدیل کر کے ان سکوں کو بے وقعت کیا گیا ہے؟
یاجوج ماجوج حضرت ذوالقرنین کی لوہے اور تانبے کی دیوار کو روز کھودتے ہیں، جب تقریباً توڑنے کے قریب پہنچ جاتے تو یہ سوچ کر سوتے ہیں کہ کل اسے ختم کر کے باہر نکل آئیں گے اور ہر طرف تباہی پھیلائیں گے۔ صبح جب جاگتے ہیں تو دیوار پہلے سے بھی مضبوط ہو چکی ہوتی ہے۔
غریدہ جی بھی پچھلے چار سال سے روز پی ٹی آئی کو “ختم شد” کر کے سوتی ہیں، لیکن صبح پی ٹی آئی وہیں کی وہیں ہوتی ہے 🤓
گورنر راج۔۔!!🚨🚨
عمران خان کی حکومت میں کیا یہی سڑکیں نہیں تھی یہی روڈ نہیں تھے۔
میرا عمران خان کے حکومت میں لاکھوں کا علاج ہوا کل مجھے کہا گیا تمہاری بیوی کے گردے کے علاج پر چھے لاکھ خرچ آئے گا۔۔!!💔
گورنر راج و ایمرجنسی وقتی طور پی ٹی آئی کے لیئے نقصان دے ہوگا
مگر اس عمل نے بہت سے سیاستدانوں و سیاسی جماعتوں کے مکروہ چہرے بے نقاب کر دیئے
جسکے مستقبل میں دور رس نتائج ہونگے
پی ٹی آئی عمران خان کو مائنس کرنے والے خود ہمیشہ کے لیئے بدکرداری کی وجہ سے مائنس ہونگے۔
انشاء اللہ
ایک گمنام دوست کا مشورہ ہے کہ شہباز گل کو چپ کر جانا چاہئیے۔ آرام کرنا چاہئیے۔ مسلہ انکا یہ ہے کہ انکو لگتا ہے شہباز گل جو بولے انکی مرضی سے بولے۔ ایک دن پہلے انسے سے عرض کی تھی کہ انکے اندر بھی ایک عاصم منیر ہے جو دوسروں کو بولنے کا پورا حق نہیں دینا چاہتا
انسے گزارش کی تھی آذادی اظہار رائے تو ہمارا اصل مسلہ ہے اسی آذادیبکی تو لڑائی چل رہی ہے عاصم منیر سے۔
ساتھ ساتھ انسے گازارش کی تھی کہ : آپکو ایک فرق جاننا پڑے گا۔ آپکا جس دن دل کرے آپ اکاؤنٹ بند کریں اور نارمل زندگی گزارا یں۔ شہباز گل بولنا بند کرے یا بولتا رہے۔اس کے اسکے خاندان کے لئے ذندگی اب نارمل نہیں ہو سکتی۔ شہباز گل اب اپنے بزرگوں کی قبر پر نہیں جا سکتا۔ اس لئے تنقید ضرور کریں۔ لیکن ایک فرق کو ملحوظ خاطر رکھیں کہ آپ جو لڑائی لڑ رہے ہیں اس میں آپ نے اپنا وقت سکون آرام بہت کچھ داؤ ہو لگایا کیلن اس میں آپ نے ابھی تک اپنی اور اپنے خاندان کی شناخت داؤ پر نہیں لگائی۔ آپ کے ہاس چوائس ہے اکاؤنٹ بند زندگی نارمل۔ شائید ابھی بھی آپ اپنے خاندان کے ساتھ نارمل وقت گزارتے ہوں گے۔ ہمارے پاس یہ سہولت نہیں ہے۔ آپ ہمارے بھائی بنیں دوست بنیں۔ سر آنکھوں پر۔ لیکن ہمارے باپ نہ بنیں۔
زندگی میں انسان کبھی کبھی ایسے لیول پر آجاتا ہے کہ وہ دل کی کرتا ہے۔ اسے پزیرائی کی فکر نہیں رہتی۔
جہاں سینکڑوں ہزاروں لوگ تنقید کرنے ہیں ��پ بھی کریں۔ ویسے بھی پچھلے دو ہفتے میں آپ نے ہر ممکن حملہ کیا ہے۔ اس لئے دوستی کے دستانے اتاریں اور کھل کر حملہ کریں آپ کا کوئی رنج نہ رہ جائے کہ آپ نے کوئی لیول حد کراس نہیں کی تھی۔ وہ بھی کراس کریں۔
زیادہ سے زیادہ ننگی گالی دیں گے وہ بھی دیں۔ لیکن آواز ہماری بند انشاللہ نہیں ہوگی۔
Along with receiving no information about Imran Khan, the family has also had no updates on the condition of his elderly sisters, who have been illegally incarcerated for over a month without access to legal counsel.
“They are women in their 70s who are in jail without any charges. It’s unlikely they are faring well, but our aunties are strong women.” - @Kasim_Khan_1999
#FreeImranKhanAndFamily
شہباز گل نام نہی لیتا تو گلہ کرتے ہیں نام لے کر بولو. وہ نام لے کر بولتا ہے تو کہتے ہیں پارٹی میں پھوٹ ڈال رہا ہے. میرا خیال ہے کہ اب اس اسٹیج پہ جبکہ فارورڈ بلاک اور عمران خان کو مائنس کرنے کا پلان سامنے آچکا ہے. اب کسی بھی قسم کا لحاظ اور پھوٹ والی باتوں کو سائیڈ پہ رکھ کر ہر ایک کا نام لے کر بلا تفریق ننگا کرنا چاہیے. مزمل اسلم کو دیکھ لو اس نے ہر وہ کام کیا جو اسکو سیکٹر کمانڈر نے بولا. اور ابھی بھی اپنے عہدے پہ بیٹھا ہے. بجٹ پاس کرنے کی مخالفت سب سے زیادہ شہباز گل نے کی. لیکن پھر بھی فوج جو حصہ چاہتی تھی وہ پاس بجٹ میں پاس ہوگیا اور فوج کو مل بھی گیا. کون اتنا طاقت ور ہے کہ عمران جان کی صوبے میں حکومت لیکن کام سارے فوج کے ہوتے رہے؟؟
فیصلے نہیں انصاف ہونا چاہیے!
آج کوٹ لکھپت جیل میں شاہ محمود قریشی اور ڈاکٹر یاسمین راشد کی طرف سے ٹرائل میں جرح کی،جس میں ایک بار پھر سزا سنائی جائے گی لیکن بد قسمتی سے آج بھی انکی ضمانتوں میں ریکارڈ پیش نہیں کیا اور 31 اکتوبر تک سما ملتوی ہو گئی۔
@SMQureshiPTI@Dr_YasminRashid
پاکستان دنیا کا واحد ملک ہے جہاں چیف جسٹس آف پاکستان بھی ہیں، مگر ان کے اوپر فیڈرل کانسٹیٹیوشنل کورٹ موجود ہے۔ یعنی چیف جسٹس پاکستان بھی ہیں، مگر سب سے بڑے جج نہیں
ڈاکٹر صاحب سے شکوہ یہی ہے کہ جب لانگ مارچ کا اختتام ہوا تو اسکے بعد سہیل آفریدی سے گلہ بنتا نہیں تھا۔ کمزور ترین پوزیشن میں وہ یہی کرسکتا تھا جو اس نے کیا ۔عمران خان نے اگست 2014 میں لانگ مارچ کیا۔ جس مقصد کے لیے کیا وہ نہیں ملا۔ مئی 2022 میں الیکشن کے لیے کیا الیکشن نہیں ملا۔ پھر نومبر 2022 میں کیا قاتلانہ حملہ ہوگیا۔ یہی بات اکبر بھائی نے بھی کہی۔ ڈ��کٹر صاحب نے غصے بھرا جواب دیا اورپھر ڈیلیٹ کردیا۔
افسوس اس چیز کا ہے کہ لانگ مارچ کے خاتمے کے بعد ہم نے ان لوگوں پر دباؤ ڈالنا تھا جو اسمبلیوں میں ہیں عہدوں پر ہیں لیکن ڈاکٹر صاحب کی پھیلائی ہوئی ڈسٹریکشن کے سبب اب ایک انتشار کی سی کیفیت ہے۔ الٹا نقصان یہ ہوا کہ ان لوگوں کو باتیں بنانے کا موقع مل گیا جو پہلے ہی یہ کہتے تھے کہ یوٹیوبرز اور اوورسیز صرف انتشار پھیلاتے ہیں۔ ایک لانگ مارچ ، ایک احتجاج ، ایک جلسے سے کچھ نہیں ہونے والا۔ اس قوم کو طویل جدوجہد کے لیے تیار ہونا ہے۔ سب کو ساتھ لیکر چلنا ہے۔ ایک لانگ مارچ ، اگلا لانگ مارچ ، اس سے اگلا لانگ مارچ پھر احتجاج پھر ردعمل یہ ناکامیاں نہیں جدوجہد کی مختلف منازل ہیں۔ صرف مشکوک ہی بنانا ہو تو وہ تو لوگ خدا کو بھی ٹھہرا لیتے ہیں شہباز گل یا سہیل آفریدی یا ایک گمنامی اکاونٹ کی کیا حیثیت۔
نوٹ نمبر ایک ؛ جس ٹویٹ کے بعد یہ پوسٹ کی کہ ڈاکٹر صاحب کو کچھ عرصہ ریسٹ کرنا چاہیے وہ پوسٹ ڈاکٹر صاحب نے خود ڈیلیٹ کردی۔ یعنی ڈاکٹر صاحب نے کچھ غلط محسوس کیا تو وہ پوسٹ ڈیلیٹ کی نا؟ اسی چیز کی طرف نشاندہی تھی کہ ڈاکٹر صاحب کو تھوڑا ریسٹ کرنا چاہیے کہ غلط کررہے ہیں۔
نوٹ نمبر دو ؛ یہ پھر کبھی سہی۔ شکریہ۔
خان میرا وعدہ ہے۔ خدا کی قسم اپنی اوقات کے مطابق تمہارے ساتھ ایمانداری سے کھڑا ہونے کی کوشش کروں گا۔ جس دن نہ ہو سکا۔ کھلا اعلان کروں گا۔ کہ اب میری بس۔ پیٹھ میں چھرا نہیں گھونپوں گا۔
ہم نے سانپ پالا تھا🎶🎧
رکھوالی کے لیے۔ دودھ اپنے ہاتھ سے پلایا اور گھر کے خرچ میں اس کا حصہ ہر سال پہلے نکالا، کہ رکھوالا ہی بھوکا رہا تو گھر کون بچائے گا۔
انیس سو اکہتر میں آدھا گھر نگل گیا تو بھی یہی تسلی رہی کہ باقی آدھا تو بچ گیا۔
اب سانپ ہی سانپ ہے۔
“Time is a fearsome healer. Slowly it fills your wound, and every year we tear it open again.” @ImranRiazKhan
Four years after Arshad Sharif was shot dead in Kenya, there is still no justice. His mother died waiting for it.
EuroPak has taken a step so his name is never lost to the dust of time. At the Geneva Press Club on 23 October, we inaugurated the Arshad Sharif Human Rights Award.
From now on, the honour, respect and memory of Arshad Sharif will be a living legacy. He gave his blood, but he never gave up his pen or his voice. Every year, this award will pass them on to a journalist or defender who refuses to be silenced.
We will keep this cause alive until justice is done.
@PressClubGva @ARYSabirShakir@RSF_inter@pressfreedom@IFJGlobal
#JusticeForArshadSharif