ریٹویٹ کریں اور اس ہیش ٹیگ کے ساتھ #معصوم_قیدی_کو_رہا_کرو
کمنٹ میں آمین لکھتے جائیں ..!
ابھی پتا چل جائے گا کہ کتنے پاکستانی چاہتے ہیں کہ انکی اولاد عمران خان جیسی ہو ۔
یہ چور تو بدنام ہیں ہی ان کو پاکستان کے اوپر دوبارہ مسلط کرنے میں سہولت کاری کرنے والے بھی بدنام ہی ہونگے عوام اس وقت سب جانتی ہے میڈیا خرید کر کوئی بیانیہ نہیں بنایا جا سکتا
#سرٹیفائڈ_چور_کی_واپسی
میں شہر بانو قرآن پاک پر حلف اٹھاتی ہوں کہ مجھے کبھی تحریک انصاف کی لیڈرشپ یا آفیشل سوشل میڈیا ٹیم کی جانب سے کسی بھی ادارے یا شخصیت کے خلاف کمپئین، ٹوئیٹ یا کوئی بھی غیرقانونی،غیراخلاقی پوسٹ کرنے کا نہیں کہا۔ عمران خان نے ہمیشہ آئین اور قانون کی حکمرانی اور پرامن جدوجہد کا سبق دیا ہے۔
پاکستان زندہ آباد 🇵🇰
#ھم_پاکستان_ہیں
کینسر کے مریض اور PTI رہنما فردوس نقوی نے قرآن پر حلف اٹھا کر گواہی دے دی کہ عمران خان نے کبھی ہم میں سے کسی کو نہیں کہا کہ جلاؤ گھیراؤ کرو یا فوجی تنصیبات کو کسی قسم کا نقصان پہنچاؤ۔
کمال ہے۔۔ اتنے گھنٹے گزر جانے کے باوجود ان کا کسی نے انٹرویو نہیں لیا؟ ان کا انٹرویو کب ہے؟ 🤔
میں حلفاً کہتا ہوں کہ عمران خان نے کبھی ادارے کیخلاف کوئی ایسی بات نہیں کی۔ ہمیشہ یہی کہا کہ یہ فوج بھی میری ہے اور ملک بھی میرا ہے۔ میں نے خود فوج کے اندر serve کیا ہے اگر کوئی ایسی بات ہوتی تو ہم کیوں تحریکِ انصاف کیساتھ کھڑے رہتے۔ پارٹی سطح پر کبھی کوئی خلافِ آئین، خلافِ قانون کوئی بات نہیں کی گئی۔
میں ساجد خان مہمند اللّٰہ سبحان تعالیٰ کو حاضر جان کر اور قرآن مجید پرحلف دیتا ہوں کہ عمران خان نے آج تک مجھے یا کسی کو میری موجودگی میں کبھی پاکستان کے آئین کو توڑنے کا یا پاکستان کے کسی بھی ادارے سےتصادم کا مشورہ یا حکم نہیں دیا اور نا ہی 9 مئی کا کسی قسم کا کوئی منصوبہ بنایا۔
اس بیان حلفی کے بعد اگر میرا کوئی بیان عمران خان کے خلاف آیا تو وہ بیان مجھ سے جبراً لیا گیا ہوگااور جھوٹ ہوگا۔
سابق ایم این اے و سینئر نائب صدر خیبر پختونخوا ساجد خان مہمند کا اہم بیان۔
#FreeImranKhanNow
تمہیں کیا لگتا ہے کہ پاکستانی قوم جانتی نہیں ہے کہ آج قاسم سوری، علی امین گنڈاپور، علی اعوان، حماد اظہر، مراد سعید مطلوب کیوں ہیں؟
فرخ حبیب، حسان نیازی لاپتہ کیوں ہیں؟
تمہیں کیا لگتا ہے کہ انہیں علم نہیں کہ یاسمین راشد، صنم جاوید، عالیہ حمزہ، طیبہ راجہ جیسی درجنوں خواتین جیلوں میں کیوں ہیں؟
عمر چیمہ، اعجاز چوہدری، محمود الرشید کونسی گستاخی کی قیمت چکا رہے ہیں؟
اسد قیصر، تیمور جھگڑا، عاطف خان، جنید اکبر جیسے زیر عتاب کیوں ہیں؟
بات اگر ایک عمارت کی تکریم کی ہوتی تو پریس کانفرنسوں والے معاف نہ ہوتے۔ بات اگر کسی ادارے کی تعظیم کی ہوتی تو اس کو سرِ عام گالیاں دینے والے آج منظورِ نظر نا ہوتے. بات اگر “ملک کی سالمیت” کی ہوتی تو ڈان لیک والو، ممبئ حملوں کا الزام اپنی ایجنسیوں پر لگانے والو کے لیے لیول پلئنگ فیلڈ نا سجائ جارہی ہوتی۔
بات جرم کی ہوتی تو عدالتوں میں فیصلے ہوتے۔ ثبوت آتے، دلائل دیے جاتے۔ نو مئی کا تو محظ بہانہ ہے، اصل بات کسی کی انویسٹمنٹ کی ہے۔ بات کسی کی خوشنودی کی ہے۔ بات کسی کی انا کی ہے۔
بات تو ان دکانوں کی ہے جو بند ہوجاتی ہیں اگر ‘آوٹ آف سیلیبس’ قاسم سوری کرسی پہ بیٹھ جاتا ہے۔ اگر علی امین تمہارا جبر سہتے ہوئے قہقہے لگاتا ہے۔ اگر علی اعوان ۱۸ مارچ کو تمہاری گولیوں کے سامنے پلک بھی نہیں جھپکتا۔ اگر حماد اظہر اپنے کاروبار کو تالے لگنے پہ تمہارے قدموں میں نہیں گرتا۔ اگر فرخ حبیب بے خوف ہوکر کالے ڈالوں کے سامنے کھڑا ہوجاتا ہے۔ اگر یاسمین راشد تمہاری ٹیسٹ ٹیوب سیاستدانوں کی اگلی کھیپ کے لیے راستہ نہیں چھوڑتی۔ اگر عالیہ حمزہ، طیبہ راجہ، صنم جاوید تمہیں صنفِ آہن کی اصل تعبیر بن کر دکھا دیتی ہیں۔ اگر عمر چیمہ، محمود الرشید، اعجاز چوہدری بڑی محنت سے بنائے اس متعصبانہ تاثر کو زائل کردیتے ہیں کہ پنجاب کبھی حاکمِ وقت کے خلاف نہیں کھڑا ہوتا۔
اگر اسد قیصر، تیمور جھگڑا، عاطف خان اپنی تمام تر نرم خوئ کے باوجود اصول پر سمجھوتا نہیں کرتے۔ اگر جنید اکبر تمہاری چالوں کو تمہی پر الٹ دیتا ہے۔ بات اس جسارت کی ہے جو ان ہزاروں کارکنان نے کی جنہیں تم نے کبھی اپنے اصل مجرموں سے سوال پوچھنے کا حق نہیں دینا تھا۔
بات تو ان گناہوں کی ہے جن پر پردہ ڈالنا مطلوب ہے۔ بات اس غداری کی ہے جو ملک کے منتخب سربراہ سے کی گئی۔ بات اس قتل کی ہے جہاں قاتلوں کو یقین تھا کہ ان کے جُبہ پر لگی خون کی چھینٹوں کی جانب کوئ اشارہ نا ہوگا۔ بات اُس عالمی سیاست کی ہے جہاں ہمارے جیسے ملکوں کی عوام کو ایندھن بنا کر افراد کی طاقت کو دوام بخشا جاتا ہے۔ وہ سیاست جس میں قابلِ قبول وہی عناصر ہیں جو بند کمروں میں تسلی دیتے ہیں کہ تم قتل کیے جاؤ ہم زبانی کلامی مذمت سے آگے نا بڑھینگے۔ وہ سیاست جو اپنے کاروباری مراسم کو ان پر ترجیح دیتی ہے کہ جو ۷۶ سال سے اپنے مُردے بھی پاکستان کے جھنڈے میں لپیٹ کر دفناتے ہیں۔ وہ سیاست جو اپنی سرزمین کی تقسیم کے نعرے پر قائم ہے۔ وہ سیاست جو دین کی دستار سے اپنے تر دامن ڈھانپتی ہے۔
اسی سیاست سے ہی تو تمہاری طاقتوں کو دوام ہے۔ اسی میں تو ڈیلیں ہوتی ہیں۔ باریاں لگتی ہیں۔ مفادات کا تحفظ ہوتا ہے۔ نوراکشتی ہوتی ہے۔ اسی کی بدولت تو تم سی قوتوں کو قبولیت ملتی ہے۔
اُس سیاست کی پروردہ کسی طاقت کو کیونکر ریاستِ مدینہ کا کوئ نام لیوا گوارا ہوگا۔ کسی کا ایبسلوٹلی ناٹ کہنا قبول ہوگا۔
کیسے وہ لوگ قبول ہونگے جو اپنے حق کا سوال کرنا جانتے ہیں۔ جو مقابلہ کرتے ہیں، جو ڈٹ جاتے ہیں۔ جو ملک کو اپنی میراث اور عوام کو اپنی رعایا نہیں سمجھتے۔
تمہیں کیا لگتا ہے قوم نہیں جانتی کہ تمہیں مطلوب قاسم سوری، علی اعوان، علی امین، حماد اظہر، مراد سعید نہیں ہیں تمہیں مطلوب وہ شعور ہے جس نے انہیں تمہاری طاقت کے آگے حرِف سوال بلند کرنے کی جرات عطا کی۔ تمہیں مطلوب ان کی فکری آزادی ہے۔ تمہیں مطلوب وہ ادراک ہے جس سے تم نے انہیں بے بہرا رکھنا تھا۔۔ یہ ادراک کہ وہ ریاست کا استعارہ ہیں، کوئ ایک فرد، چند عہدیدار نہیں!
غلامی ایسی ہی ہوتی ہے۔ غلام قوموں کی نسلیں ایسے ہی سسک کر جان دے دیتی ہیں۔ جب ان کی اشرافیہ ان کو ٹکوں کے عوض غیروں کے پاس گروی رکھ آتی ہے تو پھر ان کی زندگیاں ایسے ہی ارزاں ہو جاتی ہیں۔ پھر کوئ سر پھرا سوال کرے تو اس کو یہ جسارت اتنی ہی مہنگی پڑتی ہے۔ غاصبوں کو اپنی حکمرانی قائم رکھنے کے لیے ہمیشہ ایسے سر درکار ہوتے ہیں کہ جن کو وہ اپنی دانست نشانِ عبرت بنا کر سب سے اطاعت کا حلف لے لیں۔ لیکن سر جھکا کر، آنکھیں موند کر، سوچ ہر پہرے بٹھا کر، زباں پر قفل ڈال کر اگر کوئ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اپنے لیے عافیت خرید لے گا تو یہ اس کی خام خیالی ہے۔ کتنے ہی کوئ دن اطاعت زندگی کو طول دے دیگی گی؟ ایک بار جس حیوان کے منہ کو انسانی خون لگ جائے تو پھر وہ کبھی خونِ آدم سے سیراب نہیں ہوتا وہ عفریت بن جاتا ہے۔ کبھی ایک بہانے کبھی دوسرے بہانے وہ گردنیں ہی دبوچتا ہے۔
آج ایک عمار کی جان نہیں گئی۔
ہم سب کی تقدیر کا لکھا ہمیں پڑھ کر سنایا گیا ہے