@ShifaKhanz ہمارے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں جنت بھی نہیں چاہیئے بس آپ کا دیدار چاہیئے
مانا کہ جنت خوبصورت ہو گی
پر آپ کی ہستی سے زیادہ نہیں 😭
@HamzaTa03037619@Badass1ZQ1 Brother history hum sb ki nangi ha Lekin bohot Sy log family k Sath drama aur movie dekhty Hain family system ma aik parda ha aik had muqarar ha please ye baat smjhny ki Koshish karain.
@Badass1ZQ1 مموں پر ہاتھ رکھنا کون سا عام سین ہے ؟ یہ 18+ سین ہے ہمارے لحاظ سے۔
آپ کو اور مجھے یہ سمجھنے کی ضرورت ہے ہمارا فیملی کلچر کیا ہے بہت سے گھروں میں پوری فیملی اکٹھی ڈرامہ اور موویز دیکھتی ہے۔ ہماری ایک حد تو مقرر ہے نہ۔ احتیاط کرنی چاہیئے
الفاظ کا چناؤ برا لگا تو معزرت
برصغیر کا معاشرہ گٹر بن چکا ہے، انسانیت نام کی کوئی چیز باقی نہیں رہی۔ یہاں ہر دوسرا شخص اپنے آپ میں فرعون بنا بیٹھا ہے۔ اور اگر اس بچی کے والدین زندہ ہیں تو اُن پر بھی لعنت ہے جو اولاد پیدا کرکے ایسے بے غیرت اور درندہ صفت لوگوں کے حوالے کر دیتے ہیں۔ آخر اس معصوم بچی کا قصور کیا ہے؟
عجیب بات ہے اسی گھر کی بار بار وڈیوز آ رہی ہیں کوئی پوچھنے والا ہی نہیں اور ویڈیو والا بھی اپنی روزی روٹی بنائے کھڑا ہے کہ وویوز بڑھیں گے خود روکتا نہیں اور نا ہی اداروں کو مطلع کرتا ہے۔ملازم بچی پر تشدد کی یہ اسی گھر کی چوتھی وڈیو ہے۔
@DilKNawabR وہ گاڑی والے سے ہی تو بھاگ رہا تھا اس سے کچھ دیر پہلے کی ویڈیو بھی دیکھیں وہ شدید سہما ہوا تھا بچنے کے لیے ادھر ادھر گھوم رہا تھا انہی ظالموں سے بھاگ رہا تھا
بابا جی کو ٹرین میں چڑھانے کے چکر میں ایک جاہل بیوقوف ٹاور میں جا لگا آپ اندازہ کریں اس جاہل کی اتنی لمبی گردن بھی نہیں ھے جتنی مونڈی باھر نکال کر ایکٹنگ کر رھا تھا اور پتہ نہیں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا ھے یا ابھی سانس باقی ھے
فیصل آباد میں مبینہ سود خوری کا سنگین معاملہ، عبیدہ اعظم انصاف کے لیے اسلام آباد نیشنل پریس کلب پہنچ گئیں
دو لاکھ روپے کے مبینہ قرض کے بدلے 40 لاکھ روپے ادائیگی، مزید 40 لاکھ کا مطالبہ اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کا الزام
اسلام آباد: فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی خاتون عبیدہ اعظم مبینہ سود خوری اور جان سے مارنے کی دھمکیوں کے خلاف انصاف کی دہائی لے کر نیشنل پریس کلب اسلام آباد پہنچ گئیں۔ خاتون نے عمر نامی شخص پر الزام عائد کیا ہے کہ ان کے خاندان کو قرض کے نام پر شدید مالی اور ذہنی اذیت کا سامنا ہے، جبکہ انہیں جان سے مارنے کی دھمکیاں بھی دی جا رہی ہیں۔
عبیدہ اعظم کے مطابق تقریباً چھ سے سات ماہ قبل ان کے شوہر نے عمر نامی شخص سے دو لاکھ روپے قرض لیا تھا، تاہم ان کا دعویٰ ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ یہ رقم بڑھ کر 40 لاکھ روپے تک پہنچ گئی، جو ادا بھی کر دی گئی۔ خاتون کا کہنا ہے کہ اس کے باوجود مبینہ طور پر مزید 40 لاکھ روپے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔ ان کے بقول، وہ دو پلاٹ اور اپنا گھر بھی دے چکے ہیں، لیکن اس کے باوجود انہیں مسلسل دباؤ اور دھمکیوں کا سامنا ہے۔
متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ عمر نامی شخص انہیں جلد مزید 40 لاکھ روپے کا بندوبست کرنے کا کہہ رہا ہے اور بصورت دیگر جان سے مارنے کی دھمکیاں دے رہا ہے۔ خاتون کے مطابق اس صورتِ حال نے ان کے خاندان کو شدید خوف اور پریشانی میں مبتلا کر رکھا ہے۔
عبیدہ اعظم نے مزید دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص ماضی میں فیصل آباد کے علاقے گگوال، ملت روڈ پر ایک نوجوان کے قتل کے مقدمے میں بھی ملوث رہا ہے۔ تاہم اس الزام اور مقدمے کی موجودہ قانونی حیثیت کی آزادانہ تصدیق ضروری ہے۔
خاتون نے اعلیٰ حکام اور متعلقہ قانون نافذ کرنے والے اداروں سے اپیل کی ہے کہ ان کی شکایت کا فوری نوٹس لیا جائے، مبینہ مالی لین دین اور دھمکیوں کی غیر جانب دارانہ تحقیقات کی جائیں اور انہیں تحفظ فراہم کیا جائے۔
باجی میں نے چوری نہیں کی آپ میرا یقین کریں
شیخوپورہ کی حدود گجر ٹاؤن میں مبینہ طور پہ پولیس ملازمین میاں بیوی نے اپنے گھر میں کام کرنے والی 9 سالہ بچی ایمان فاطمہ پہ چوری کا الزام لگایا
چوری ثابت کروانے کے لیئے ہر حربہ استعمال کیا جس کی وجہ اے بچی کا بازو ٹوٹ گیا جب بچی کے رونے کی آوازیں سنائی دیں تو
پڑوسیوں کی مداخلت پہ بچی کو چھوڑا ۔
اس کے بعد بچی کو سول اسپتال منتقل کیا گیا جہاں ایمان فاطمہ نے بیان دیا کہ
میں ہاتھ جوڑتی رہی لیکن بھائی وارث اور زنیرہ باجی کو ترس نہ آیا
انہوں نے مجھے گرـم کرکے سریہ تک لگایا جب پولیس والے آئے تو انہوں نے مجھے اسپتال چھوڑ دیا
اور وہاں سے چلے گئے
ملزمان نے دھمکایا اور ایک اسٹام پیپر پہ انگوٹھے لگواتے رہے کہ کاروائی نہیں کریں گے
پولیس نے مقدمہ درج کرلیا لیکن میرا بازو ٹوٹنے کی کوئی دفعہ درج نہیں کی
کیا کوئی اس بچی کو انصاف دلوا سکتا ہے ؟؟؟؟
آر پی او شیخو پورہ سے گزارش ہے کہ اس معاملے پہ ایکشن لیں
ایک اللہ کا ولی مختلف یتیم خانوں میں جاکر لاوارث بچے ڈھونڈتا ھے ان کے گھر والوں کو ڈھونڈتا ھے ،دونوں کو ملاتا ھے،لیکن اکثر یتیم خانے اس قدر بڑے کرائمز میں مصروف ھیں یہ لوگ بچوں کے نام تبدیل کردیتے ھیں،کسی کو ان کے ریکارڈز تک رسائی نہیں دیتے،ان بھائی کے مطابق ان میں ایدھی ھومز بھی شامل ھیں ،اس بابت حکومت کو قانونی کاروائی کرنی چاھئے۔