دنیا شاید خاتمے کی جانب گامزن ہے سائنس اور ٹیکنالوجی کی ترقی حیران کن ہے معروف آنجہانی پنجابی گلوکار سدھو موسے والا کی ٹورنٹو میں ہولوگرام ٹیکنالوجی کی مدد سے اسٹیج پرفارمنس کروائی جسے دیکھ کر سچ کا گمان ہوتا ہے۔
انڈین پنجاب میں یہ سرائیکی گیت ’چھلڑے چھلڑے وال‘ ٹاپ ٹرینڈ بن چکا ہے۔ سنندا شرما کے بعد اب کئی سکھ، ہندو اور مسلمان گلوکار اس گیت کو اپنی اپنی آواز میں گا رہے ہیں اور سرائیکی زبان کی مٹھاس، مٹی کی خوشبو اور شاعری کے سحر کا کھل کر اعتراف کر رہے ہیں۔
اندھیرے میں رہنے کی عادت پڑی ہے تم کو، غلامی کرنے کی عادت پڑی ہے، پہلے راجائوں مہاراجوں کی غلامی کی، پھر انگریزوں کی، اب چند غدار نیتائوں (سیاستدانوں) کی، سب کیڑے بن گئے ہو، رینگتے رہو، سڑتے رہو اور مرو، آنجہانی نانا پاٹیکر کا یادگار ڈائیلاگ۔۔!!
#NanaPatekar
کیپٹن صفدر تو احسن بھون، اعظم نذیر تارڑ کی خوب دھلائی کررہے ہیں۔
وہ اور لوگ ہوں گے جو ڈر جاتے ہوں گے وہ ندیم اور پروین بی بی لاہور کی ہو گی جو خاموش ہو گے تھے
گالیاں دینے سے بات نہیں بنے گی ڈگریاں دکھانی پڑیں گے
آپ ایک چھوٹی سی application ڈرافٹ نہیں کر سکتے ہیں
ڈگریاں دکھائیں بات ختم ہو جائے گی وگرنہ بہت بڑی تحریک شروع ہونے جا رہی ہے
کیپٹن صفدر VS احسن بھون لڑائی شروع کہاں سے ہوئی؟ اصل اور بنیادی وجہ کیا ہے؟؟وکلاء کی زبانی۔۔
معاملہ وزیر اعظم کے علم میں لایا گیا تھا۔۔
یہ سال 2021 کی بات ہے، مانسہرہ میں کیپٹن صفدر صاحب اور انکے بھائیوں نے مشترکہ کھاتہ کی164 کنال زمین میں سے دس کنال زمین خریدی لیکن اس اراضی کا قبضہ مبینہ طور پر غیرقانونی طریقہ سے حاصل کیا۔یہ 164کنال اراضی کئی دہائیوں سے سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس اعجاز افضل خان صاحب کے خاندان کے زیر قبضہ تھی تاہم جب کیپٹن صفدر، اسکے بھائی سجاد اعوان اور دیگر نے مل کر مبینہ قبضہ غلط طریقے سے حاصل کیا تو جسٹس اعجاز افضل خان کے بیٹوں سجاد افضل خان اور سیف افضل خان کی طرف سےخصوصی عدالت میں مبینہ غیرقانونی قبضہ کرنے پر انسداد غیرقانونی قبضہ ایکٹ کے تحت کیپٹن صفدر، انکے بھائی سجاد اعوان اور دیگر کیخلاف استغاثہ دائر کر دیا گیا۔ ان فریقین کے درمیان قانونی لڑائی ابھی تک عدالتوں میں چل رہی ہے۔
ایڈووکیٹ امجد شاہ اور احسن بھون پر غصہ کیوں ؟؟
ہوا یہ کہ کیپٹن صفدر صاحب نے اعظم نذیر تارڑ صاحب کو 2021 مین فون کرایا کہ مانسہرہ سے ہی تعلق رکھنے والے ممبر پاکستان بار کونسل امجد شاہ ایڈووکیٹ کو کہیں کہ وہ کیپٹن صفدر کی طرف سے جسٹس اعجاز افضل خان صاحب کے خاندان کیخلاف عدالتوں میں پیش ہوں اور اپنے وکالت نامے دیں، اعظم نذیر تارڑ صاحب نے بھی سفارش کی تو ایڈووکیٹ امجد شاہ نے اعظم نذیر تارڑ سے معذرت کرتے ہوئے مئوقف اختیار کیا کہ ہم سیاسی وکیل ہیں، ہم نے ساری زندگی ووٹ مانگنے کیلئے ہاتھوں میں کشکول پکڑ کر گزاری ہے اور آئندہ بھی گزارنی ہے، ہم سیاسی وکلا روز ہاتھوں میں کشکول اٹھائے ہر دروازے پر ووٹ کی بھیک مانگتے نظر آتے ہیں، روزانہ پانچ پانچ مرتبہ وکلا اور ججز کی خوشیوں اور غمیوں میں شریک ہوتے ہیں، ہم سیاسی وکلا میں اتنی ہمت نہیں ہوتی کہ جن وکلا بھائیوں نے ہمیں ہر مرتبہ ووٹ دیئے ہوں اور ہم ان کیخلاف پیش ہو جائیں، ہم سیاسی وکلا اخلاقی مجبوریوں اور دھڑے بندیوں کے مارے ہوتے ہیں، اس لئے میری معذرت قبول کریں۔ یہی وہ وجہ اور وقت تھا کہ سال 2021 سے کپٹن صفدر صاحب نے ممبر پاکستان بار کونسل امجد علی شاہ کے کیخلاف ذاتی کردار کشی کی مہم شروع کی اور ان کی ڈگری کے مشکوک ہونے کے الزامات عائد کئے، یہ الزامات پشاور ہائیکورٹ میں جھوٹے ثابت ہوئے اور امجد علی شاہ سرخرو ہوئے۔
اب کیا ہوا؟
اب سال 2026 میں انڈیپنڈنٹ گروپ کے سربراہ احسن بھون ایڈووکیٹ نے امجد علی شاہ ایڈووکیٹ کوسپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن کا صدارتی امیدوار نامزد کیا تو کیپٹن صفدر کی طرف سے دوبارہ مختلف زرائع سے نامزدگی واپس لینے کیلئے دبائو ڈالنے کی کوشش کی گئی تاہم احسن بھون ایڈووکیٹ اور اعظم نذیر تارڑ نے اس دبائو کو مسترد کیا اور اسے وکلا گروپ کی سیاست میں مداخلت قرار دیا۔ یہاں سے ناکامی ہونے کے بعد کیپٹن صفدر صاحب اب دوبارہ امجد علی شاہ ایڈووکیٹ کی ذات پر کیچڑ اچھالتے ہوئے ذاتی غصہ نکال رہے ہیں ،چونکہ امجد علی شاہ ایڈووکیٹ کیخلاف پشاور ہائیکورٹ یہ الزامات مسترد کر چکی ہے تو اب ساتھ احسن بھون ایڈووکیٹ کی ذات پر بھی کیچڑ اچھالنا شروع کر دیا گیا ہے ،کیپٹن صفدر صاحب کی یہ الزام تراشی کی نئی مہم گزشتہ 20دن سے جاری تھی، وزیر اعظم شہباز شریف کے علم میں بھی یہ معاملہ لایا گیا لیکن پھر بھی کیپٹن صفدر باز نہیں آئے اور وزیر اعظم شہباز شریف کے علم میں معاملہ آنے کے بعد پورے عدالتی نظام پر کرپشن کے الزامات عائد کرنا شروع کر دیئے۔وکلا کے انتخابات میں ایسی تلخیاں اور الزامات ہر سال لگتے ہیں، الیکشن ڈے کے اگلے ہی دن وکلا پھر اکٹھے ہو جاتے ہیں تو پھر کیپٹن صفدر صاحب کی کوئی relevance نہیں بنتی تھی کہ وہ وکلا کی سیاست میں مداخلت کرتے ہوئے وکلا لیڈرشپ کی ذات پر حملے کرتے۔۔ اب معاملہ جواب در جواب سے بڑھتے بڑھتے NCCIA تک جا پہنچا ہے۔۔ ن لیگی قیادت اور وکلاء قیادت کو چاہیے کہ وہ اس معاملے کر دیکھیں اور ٹھنڈا کریں۔
انیق ناجی 🔥🔥🔥
میاں داود ایڈووکیٹ نے مریم صفدر کے نکاح کو جعلی قرار دیا اور پوری حکومت ایسی کنفیوز ہے جیسے کسی نے رنگے ہاتھوں پکڑ لیا ہو
ابھی تک اس پر پنجاب حکومت وفاقی حکومت تمام وفاقی و صوبائی وزرا تمام کیک پیسٹریاں گھریلو نوکر گھاس کاٹنے والے جو عام طور پر خارش زدہ کتوں کی طرح بھونکتی ہیں یہ گنجے دلال یہ ابوجہل کی صورت والے بڑےسور چھوٹے سور یہ سب جو غیرت مند بنتے ہیں اور سچے ہوتے تو جس مریم کو ماں سمجھھتے ہیں اسکے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت نہ پڑتی اور وہ جواب دیتے۔ یہ ہے آرٹیفیشل گووننس آرٹیفیشل لیڈرشپ آرٹیفیشل پارٹی۔ جھوٹی فیک لیڈر شپ ہے۔مریم نواز کہ لیڈرشپ فیک ہے
PMLN سے تعلق رکھنے والے پنجاب کے کم عمر ترین MPA سائیکل پر لندن میں وزیراعلی پنجاب مریم نواز سے ملاقات کرنے ایوان فیلڈ اپارٹمنٹ پہن گئے ✅
بہت خوشی ہوئی یہ ویڈیو دیکھ کر کیسے ایک نوجوان MPA نہ صرف سادگی کی مثال قائم کر رہا ہے بلکہ میڈیا کا سامنا کرتے ہوئے بہترین جواب دے رہا ہے ❤️
سوشل میڈیا پر ایک بحث گرم ہے کہ علامہ اقبال کا ذریعہ معاش کیا تھا ؟
اس سلسلے میں کچھ معلومات آپ کی خدمت میں پیش ہیں۔ دوست غلطی کی صورت میں میری تصحیح فرمائیں اور معلومات درست ہونے کی صورت میں دوسروں تک پہنچائیں۔
1۔ تدریسی دور (1899ء تا 1905ء اور 1908ء تا 1911ء)یورپ جانے سے پہلے اور وہاں سے واپسی کے فوراً بعد اقبال نے باقاعدہ ملازمتیں اختیار کیں:میکلوڈ عربک ریڈرشپ (اورینٹل کالج، لاہور): مئی 1899ء میں ایم اے کا رزلٹ آنے کے بعد، وہ 73 روپے ماہوار پر اورینٹل کالج میں عربی کے استاد مقرر ہوئے۔ یہاں وہ 1903ء تک رہے۔اسسٹنٹ پروفیسر (گورنمنٹ کالج، لاہور): 1903ء میں وہ گورنمنٹ کالج لاہور میں انگریزی اور فلسفے کے اسسٹنٹ پروفیسر بکارِ خاص مقرر ہوئے، جہاں ان کی تنخواہ 250 روپے ماہوار تھی۔لندن یونیورسٹی میں تدریس (1908ء): انگلستان میں قیام کے دوران جب پروفیسر ٹی ڈبلیو آرنلڈ رخصت پر گئے، تو اقبال نے لندن یونیورسٹی میں تقریباً چھ ماہ تک عربی کے پروفیسر کی حیثیت سے عارضی خدمات انجام دیں اور معاوضہ حاصل کیا۔پروفیسر آف فلاسفی (1908ء تا 1911ء): یورپ سے بیرسٹری کی ڈگری لے کر واپسی پر انہوں نے دوبارہ گورنمنٹ کالج لاہور میں فلسفہ پڑھانا شروع کیا، لیکن مئی 1911ء میں انہوں نے تدریس سے مستقل استعفیٰ دے دیا کیونکہ وہ ملازمت کی پابندیوں کے ساتھ آزادانہ علمی و سیاسی کام نہیں کر سکتے تھے۔2۔ وکالت کا پیشہ (1908ء تا 1934ء)یہ علامہ اقبال کی زندگی کا طویل ترین اور بنیادی معاشی ستون ہے۔آغاز: انہوں نے اکتوبر 1908ء میں چیف کورٹ پنجاب (موجودہ لاہور ہائی کورٹ) میں بطور بیرسٹر رجسٹریشن کروائی۔ ان کا چیمبر لاہور میں اَنارکلی کے قریب تھا۔پیشہ ورانہ اصول: محققین (بشمول جسٹس جاوید اقبال) لکھتے ہیں کہ اقبال وکالت کو محض حصولِ رزق کا ذریعہ سمجھتے تھے، شہرت یا اندھی دولت کا نہیں۔ ان کا اصول تھا کہ وہ مہینے میں صرف اتنے کیس لیتے تھے جن سے ان کے خانگی اخراجات (تقریباً 400 سے 500 روپے) پورے ہو جائیں۔ ہدف پورا ہوتے ہی وہ نئے مقدمات کے لیے معذرت کر لیتے تھے۔آمدنی کا حجم: وہ اپنے دور کے مہنگے وکیلوں میں شمار ہوتے تھے۔ ان کی فیس عام طور پر 100 روپے سے 250 روپے فی پیشی تھی، جو اس دور میں ایک خطیر رقم تھی۔ راولپنڈی، پشاور اور ریاست ہائے ہند (جیسے حیدرآباد دکن، بھوپال) کے وکیلوں کی حیثیت سے بڑے مقدمات کے لیے انہیں ہزاروں روپے بھی ملے۔خاتمہ: 1934ء میں گلے کی خرابی (موتھرے کی بیماری) کے باعث ان کی آواز بیٹھ گئی، جس کی وجہ سے وہ عدالتوں میں بحث کرنے سے قاصر ہو گئے اور انہوں نے وکالت کا پیشہ مستقل طور پر چھوڑ دیا۔3۔ کتب کی اشاعت اور رائلٹیاقبال نے اپنی کتب خود شائع کرنے کا سلسلہ شروع کیا تھا، جو ایک کامیاب تجارتی ماڈل ثابت ہوا۔درسی کتب اور نثری تصانیف: انہوں نے شروع میں کچھ درسی کتابیں مرتب کیں (جیسے تاریخ ہند)۔ ان کی معاشی موضوع پر لکھی گئی کتاب "علم الاقتصاد" (1903ء) بھی آمدنی کا ذریعہ بنی۔شعری مجموعوں کی رائلٹی: اقبال اپنے شعری مجموعے (جیسے بانگِ درا، بالِ جبریل، اسرارِ خودی) اپنے اہتمام میں چھپواتے تھے اور کتب فروشوں کو کمیشن پر فروخت کے لیے دیتے تھے۔ تاج کمپنی (لاہور) اور دیگر پبلشرز سے انہیں باقاعدہ رائلٹی ملتی تھی۔ خطباتِ مدراس (The Reconstruction of Religious Thought in Islam) کی آکسفورڈ یونیورسٹی پریس سے اشاعت پر بھی انہیں معقول معاوضہ ملا۔4۔ ریاست بھوپال کا وظیفہ (1935ء تا 1938ء)جب 1934ء کے بعد اقبال علالت اور آواز کے چلے جانے کی وجہ سے شدید معاشی دباؤ میں آ گئے، تو مسلم ملوک اور ریاستوں نے ان کی علمی خدمات کے بدلے ان کا ہاتھ تھاما۔سر اکبر حیدری کی کوششیں: حیدرآباد دکن کے وزیر اعظم سر اکبر حیدری کے توسط سے علامہ کو کچھ یکمشت گرانٹس ملیں۔نواب بھوپال کا تاریخی فیصلہ: مئی 1935ء میں ریاست بھوپال کے حکمران نواب حمید اللہ خان نے علامہ اقبال کے لیے 500 روپے ماہوار وظیفہ مقرر کیا۔ یہ کوئی خیرات نہیں تھی بلکہ علمی و فلسفیانہ خدمات (خصوصاً اسلامی فقہ کی جدید تدوین کے منصوبے) کے لیے ایک "ریسرچ فیلوشپ" یا اعزازیہ تھا۔ یہ وظیفہ اپریل 1938ء (ان کی وفات) تک جاری رہا اور آخری عمر میں ان کا واحد ذریعہ معاش تھا۔
جواد ھمدانی کی تحقیق
کراچی کی رہائشی دعا زہرہ کاظمی 16 اپریل 2022 کو اپنے گھر سے لاپتہ ہو گئی تھیں اور چند دن بعد معلوم ہوا تھا کہ انہوں نے اوکاڑہ پنجاب میں ظہیر احمد نامی لڑکے سے شادی کر لی ہے۔ یہ کیس ملک بھر میں سرخیوں کا موضوع بنا اور مہینوں تک خبروں پر چھایا رہا۔۔۔
16 اپریل 2022 کو دعا کے والدین نے پولیس کو اطلاع دی کہ وہ الفلاح ٹاؤن سے لاپتہ ہو گئی ہیں جس پر وزیر اعلیٰ سندھ نے نوٹس لیا اور آئی جی سندھ نے بازیابی کے لیے خصوصی ٹیم تشکیل دی۔ 21 اپریل 2022 کو ایک پولیس افسر کی جانب سے لیک ہونے والی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا کہ کوئی لڑکی دعا کے گھر کے قریب گاڑی میں داخل ہو رہی ہے تاہم بعد میں یہ فوٹیج کسی اور لڑکی کی نکلی اور ویڈیو لیک کرنے والے اہلکار کو معطل کر دیا گیا۔
دس دن بعد دعا کا سراغ لگا۔ وہ اوکاڑہ میں تھیں جہاں ان کی شادی لاہور میں ظہیر احمد سے ہو چکی تھی۔ جاری کردہ ایک ویڈیو پیغام میں انہوں نے کہا کہ وہ اپنی مرضی سے گھر سے نکلیں اور دعویٰ کیا کہ ان کی عمر 18 برس ہے جبکہ دوسری طرف والدین کا موقف تھا کہ نادرا کے ریکارڈ کے مطابق وہ نابالغ ہیں اور شادی نہیں کر سکتیں۔
معاملہ سندھ ہائی کورٹ اور لاہور ہائی کورٹ دونوں میں زیر سماعت رہا۔ 8 مئی 2022 کو دعا کے والد نے بیٹی کی بازیابی کے لیے سندھ ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی جس پر 11 مئی کو عدالت نے متعلقہ حکام کو نوٹس جاری کیا۔ 19 مئی کو لاہور کے ایک جوڈیشل مجسٹریٹ نے دعا کی عمر معلوم کرنے کے لیے طبی معائنے کی پولیس کی درخواست اس بنیاد پر مسترد کر دی کہ متعلقہ شخص کی رضامندی کے بغیر ایسا معائنہ ممکن نہیں جبکہ 24 مئی کو عدالت عظمیٰ نے سیکرٹری داخلہ کو 30 مئی تک دعا کو تلاش کر کے پیش کرنے کا حکم دیا۔
عمر کا معاملہ خاصا متنازع رہا۔ 4 جولائی 2022 کو کیے گئے طبی معائنے میں دعا کی عمر 14 سے 15 سال کے درمیان بتائی گئی جبکہ اس سے پہلے کیے گئے ایک ٹیسٹ میں یہ عمر 16 سے 17 سال کے درمیان ظاہر ہوئی تھی۔ بالآخر سندھ ہائی کورٹ نے فیصلہ دیا کہ یہ معاملہ اغوا کے زمرے میں نہیں آتا اور دعا زہرا کو اپنی مرضی کا فیصلہ کرنے کی آزادی ہے تاہم بعد میں دعا اپنے والدین کے حوالے کر دی گئی۔
اس دوران گمشدگی کے ابتدائی دنوں میں دعا کی تلاش کے دوران خاندان کو تاوان کی جھوٹی کالز بھی موصول ہوئیں جن کی تحقیقات کے بعد پولیس نے چند افراد کو حراست میں لیا جنہوں نے یہ کالیں محض شرارتاً کی تھیں۔ بعد میں دعا نے ایک یوٹیوبر کو دیے گئے پہلے تفصیلی انٹرویو میں اپنے والدین سے معافی مانگتے ہوئے بتایا کہ وہ ایک اجنبی ٹیکسی ڈرائیور کی مدد سے کراچی سے لاہور پہنچی تھیں اور کرایہ ظہیر احمد نے ادا کیا تھا۔
اس کیس کے برسوں بعد دعا زہرا میڈیا میں دوبارہ نظر آنا شروع ہوئیں۔ فروری 2025 میں انہوں نے اے آر وائی سے وابستہ ایک شو میں شرکت کی۔ اب ان کے والد مہدی علی کاظمی نے کاظمی فیملی کے نام سے ایک یوٹیوب چینل شروع کیا ہے۔ اس چینل پر یہ خاندان اپنے روزمرہ کے لمحات، سیر و تفریح اور دعا زہرا اور ان کی بہنوں سے متعلق اپڈیٹس کی ویڈیوز بناتے ہیں جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ خاندان اب دعا کے ساتھ ایک مثبت اور خاندانی ماحول میں دوبارہ جڑ چکا ہے۔۔۔
سوچیں کہ جو والدین اس قدر بڑے سماجی ہیجان، عدالتی جنگ اور میڈیا کی بے رحم توجہ کے بعد بھی اپنے بچے کو شرمندگی یا مستقل خاموشی کی سزا دینے کی بجائے دوبارہ اپنے ساتھ کھڑا کر کے زندگی کی طرف لے آئیں وہ حقیقی معنوں میں قابل تحسین ہیں۔ ایسے حالات میں عام رجحان یہ ہوتا ہے کہ خاندان مستقل طور پر کنارہ کشی اختیار کر جاتا ہے یا رشتہ صرف رسمی حد تک محدود رہتا ہے لیکن جب باپ خود آگے بڑھ کر بیٹی کو ایک نئے، محفوظ اور خاندانی طور پر ایسے پلیٹ فارم پر ساتھ لے کر آئے تو یہ اس بات کا اعتراف ہے کہ اولاد کی غلطی چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ رہی ہو اسے ہمیشہ کے لیے خاندان سے کاٹ دینے کا جواز نہیں بنتی۔ وہ خود بتاتے ہیں 'بہت سے لوگ میرے بارے میں برا بھلا کہتے ہیں لیکن مجھے اس بات کی پروا نہیں۔ اگر اپنی بیٹی کو بچانا اور اسے وہ عزت، محبت اور توجہ دینا جس کی وہ واقعی حقدار ہے برا کام ہے تو پھر ٹھیک ہے میں برا انسان کہلانا ہی بہتر سمجھوں گا، بجائے اس کے کہ ہمارے معاشرے کے ان نام نہاد دانشوروں میں شمار ہوں جو اپنی ہی بیٹیوں اور عورتوں کے نام پر غیرت کے نام پر ق ت ل جیسے جرائم کرتے ہیں'
انہوں نے اپنی بیٹی کو دوبارہ سر اٹھانا سکھایا اور اپنی غلطیوں کو بھلا کر نئے سرے سے ایک نئی زندگی شروع کرنے کا موقع دیا۔۔دعا کاظمی کے والدین اور ان کی پوری فیملی کو خوب داد۔۔
عمیر بھائی، انیس سو نوے کی دہائی کے اوائل کی بات ہے۔ بھاولپور میں اقبال چنڑ چھوٹا موٹا بدمعاش ہوتا تھا۔ کم لوگ ہی اسے جانتے تھے۔ ایک روز پورے شہر میں خبر پھیلی کہ ایک نوجوان کی لاش ملک اقبال چنڑ کے ڈیرے کے باہر درخت سے لٹک رہی ہے اور لاش اتارنے پولیس والے تک نہیں آ رہے۔ مقتول اقبال چنڑ کا کوئی مخالف تھا۔ ریسکیو وغیرہ کا تو خیر تصور ہی نہیں تھا اس وقت بھاولپور جیسے شہر میں۔ سرکلر روڈ پر وکٹوریہ ہسپتال کی ایمرجنسی کے باہر ایدھی کی دو، تین ایمبولینسز کھڑی ہوتی تھیں۔ خیر لاش کئی گھنٹے کٹکتی رہی اور لوگ دیکھنے جاتے رہے۔ یہ ستر، اسی سال پہلے کا نہیں، نوے کی دہائی کا واقعہ ہے۔ آپ اس شہر میں عام غریب لوگوں کے دل میں ایسے واقعات سے خوف کا اندازہ لگا سکتے ہیں۔ اس واقعے کے بعد اقبال چنڑ بڑی سیاسی جماعتوں کے ٹکٹ کیلیے کوالی فائی کر گیا اور باقی سب تاریخ ہے۔ ہاں ایک بات بتانا ضروری ہے لاش لٹکنے یا لٹکانے کے واقعے سے نہ تو ملک اقبال چنڑ کا کوئی تعلق تھا اور نہ ہی یہ کبھی ثابت ہوا۔ اور نہ ہی کبھی کسی نے پتا لگانے کی کوشش کرنے کی ہمت کی۔ بس یوں سمجھ لیجیے کہ ان کے ایک مخالف کی لاش کوئی ان کے ڈیرے کے باہر درخت سے لٹکا کر غائب ہو گیا تا کہ انہیں بدنام کیا جا سکے۔ خیر ہر کس و ناقص، ہر طاقتور اور کمزور کو اس دنیا چلے ہی جانا ہے۔ اقبال چنڑ بھی اب اسی لٹکتی لاش کے پاس چلے گئے ہیں۔
آپ کھلے مین ہولز میں گر کر مریں گے ، آپ بجلی کے کھمبوں سے لگ کر مریں گے ، آپ امیر زادوں کی گاڑیوں کے نیچے آکر مریں گے۔ آپ نشئیوں کے ہاتھوں مریں گے، آپ جعلی پولیس مقابلوں میں مریں گے ، آپ زیادہ خون بہہ جانے کی وجہ سے مریں گے ، ڈاکٹر دستیاب نہ ہونے کی وجہ سے مریں گے ، غلط ٹیکہ لگ جانے سے مریں گے۔ آپ خودکش دھماکوں میں مریں گے۔ آپ ریلوے ٹریک پر پھاٹک نہ ہونے کی وجہ سے مریں گے ، آپ دریا کا بند ٹوٹ جانے سے مریں گے۔
کبھی آپ کی عزت نفس مرے گی، کبھی آپ کی غیرت مرے گی۔ کبھی آپ زندہ تو ہوں گے لیکن اندر سے روز مریں گے۔ آپ غیرت کے نام پر مریں گے آپ بے غیرتی کے نام پر مریں گے۔ آپ سڑک پر چلتے ہوئے مریں گے۔ گھر میں بیٹھے ہوئے مریں گے۔ آپ اچانک مریں گے۔ آپ ملاوٹ ، گندی خوراک اور غذائی قلت کے سبب آہستہ آہستہ مریں گے۔
اب آپ تین کام کرسکتے ہیں؛
مرنے پر رونا چھوڑ دیجیے
یہ ملک چھوڑ دیجیے
اس نظام کو بدل دیجیے