پی ٹی آئی کو آپ مشرف دور کی ق لیگ ہی سمجھیں۔ ان سے کسی قسم کی توقعات رکھنا فضول ہیں۔ گروپ بندی کچھ اس طرح ہے:
عمران خان، عوام، سوشل میڈیا ایک طرف
فوج، عدلیہ، ن لیگ، پی پی، میڈیا، گنڈاپور اور تحریک انصاف کے 90 فیصد اراکین اسمبلی دوسری طرف
تحریک انصاف سے توقعات وابستہ مت کریں۔ جب تک علیمہ خانم یا کوئی اور مخلص لیڈر میسر نہ ہو، تب تک سوشل میڈیا کے ذریعے دباؤ برقرار رکھیں۔ اس کے علاوہ جب جب موقع ملے، پی ٹی آئی کے اراکین اسمبلی، بالخصوص خیبرپختون خواہ اور پنجاب کی قیادت کو جوتے رسید کرتے رہیں۔
یہ کوئی چھوٹی موٹی جھڑپ نہیں تھی جو چند ماہ میں ختم ہوجاتی۔ یہ آزادی کی جنگ ہے، یہ لمبی وار ہے جو کئی سال جاری رہتی ہے۔
آزادی اتنی آسانی سے نہیں ملتی۔ یہ طویل اور صبرآزما جنگ ہے۔
یہ جنگ بالآخر عوام نے ہی جیتنی ہے۔ آج نہیں تو کل، کل نہیں تو پرسوں۔ ہم نہ رہے تو آنے والی نسلیں اس کا پھل کھائیں گی!!!
ایک سانپ کی کہانی
ایک عورت پانی بھرنے دریا پر گئی تو اس نے کنارے پر ایک سانپ کو زخمی، کمزور اور تکلیف میں تڑپتا دیکھا۔
اسے ترس آیا، اس نے اسے اٹھایا اور گھر لے آئی۔
سانپ بولا: "اگر تم میری دیکھ بھال کرو گی تو میں بدلے میں تمہاری حفاظت کروں گا"۔
چنانچہ انہوں نے ایک معاہدہ کر لیا۔
عورت نے اس کے زخموں کا علاج کیا، اسے گرم جوشی اور خوراک دی – محبت کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس امید پر کہ اس کے تحفظ کا وعدہ پورا ہوگا۔
اور سانپ بدلے میں گھر کی نگرانی کرتا رہا – وفاداری کی وجہ سے نہیں، بلکہ اس لیے کہ اسے کھانا مل رہا تھا۔
راتیں سکون سے گزرتی رہیں، وہ گھر کی گشت کرتا رہا۔
صبحیں جنگل میں خاموش چہل قدمی کے ساتھ گزرتی تھیں، کافی ایسے پی جاتی جیسے پرانے دوست ہوں۔
باہر سے یہ سب ہم آہنگی لگتی تھی۔
ایک دن، اچانک، سانپ نے اسے کاٹا – اور غائب ہو گیا۔
حیران، دل گرفتہ اور تکلیف میں، وہ چلائی – صرف زہر کی وجہ سے نہیں، بلکہ دھوکے کی وجہ سے بھی۔ اس نے جواب کی تلاش میں اپنا گھر چھان مارا۔ لیکن سانپ جا چکا تھا۔
اب بھی زہر سے متاثر، وہ دنیا میں بھٹکتی رہی – جنگلوں، صحراؤں، وادیوں میں – یہ جاننے کے لیے پرعزم تھی کہ ایسا کیوں ہوا۔
آخر کار، ایک اندھیری غار میں، اسے دوبارہ سانپ ملا۔ اس کی آواز کانپ رہی تھی:
"تم نے مجھے کیوں کاٹا؟ میں نے تمہیں بچایا تھا۔ میں نے تمہیں پناہ دی تھی۔"
سانپ نے جواب دیا:
"میں نہیں چاہتا تھا۔ لیکن تم نے مجھے بہت سختی سے پکڑ رکھا تھا۔ مجھے فرار ہونا تھا۔ کاٹنا ہی واحد راستہ تھا۔"
"پھر تم نے مجھے چھوڑنے کے لیے کہا کیوں نہیں؟"
انہوں نے بحث کی – وہ تکلیف میں، وہ بات کو ٹالتا رہا۔
نہ کوئی معافی۔ نہ کوئی وضاحت۔
بس دو آوازیں الزام اور کڑواہٹ میں کھو گئیں۔
وقت گزرتا گیا۔
آخر کار، وہ عورت ایک ہسپتال میں جا پہنچی، اس کی نظر دھندلا رہی تھی، سانسیں اکھڑ رہی تھیں۔ وہ دروازے پر گر گئی۔
جیسے ہی دنیا مدھم ہوئی، اس نے ایک آواز سنی:
"اس نے بہت انتظار کیا۔ جوابات کی تلاش کرتی رہی جب اسے علاج کی ضرورت تھی۔"
کبھی کبھی، تکلیف پہنچنے کے بعد سب سے خطرناک چیز یہ ہو سکتی ہے کہ
آپ 'کیوں' کی تلاش میں نکل پڑیں۔
جو لوگ آپ کو دھوکہ دیتے ہیں وہ شاذ و نادر ہی سچ بتاتے ہیں۔
اس لیے نہیں کہ سچ موجود نہیں ہوتا –
بلکہ اس لیے کہ انہیں پرواہ نہیں ہوتی کہ وہ آپ کو سچ بتائیں۔
آپ کو کسی اور کے زہر میں سکون نہیں ملے گا۔
آپ کو کسی اور کے ضمیر میں اطمینان نہیں ملے گا۔
اگر آپ کو زخم پہنچا ہے – الفاظ سے، دھوکے سے، خاموشی سے –
تو ایسی جگہوں پر وضاحتیں تلاش نہ کریں جہاں ہمدردی نہ ہو۔
آپ خود کو چنیں۔
شفایابی کو چنیں۔
آگے بڑھنے کو چنیں۔
کیونکہ آپ کی روح کبھی بھی
کسی سانپ کے معافی مانگنے کے انتظار میں ضائع ہونے کے لیے نہیں بنی تھی۔
#موناسکندر
یہ قوم عاد کی ایک سیڑھی کی تصویر ہے.
جو عمان کے مشہور صحراء الربع الخالي میں موجود ہے.
آپ اُس دور اور اِس دور کے انسانی قد و قامت کا اندازہ لگائیے.
جہاں کهڑے لوگوں کے سر سے بهی اوپر سیڑھی کا سٹیپ ہے۔۔
قوم عاد حضرت ہود علیہ السلام کی قوم کو کہتے ہیں، جن کی طاقت اور قد و قامت کا تذکرہ قرآن مجید میں بهی موجود ہے.
{ فَأَمَّا عَادٌ فَاسْتَكْبَرُوا فِي الْأَرْضِ بِغَيْرِ الْحَقِّ وَقَالُوا مَنْ أَشَدُّ مِنَّا قُوَّةً ۖ أَوَلَمْ يَرَوْا أَنَّ اللَّهَ الَّذِي خَلَقَهُمْ هُوَ أَشَدُّ مِنْهُمْ قُوَّةً ۖ وَكَانُوا بِآيَاتِنَا يَجْحَدُونَ } (حم سجدہ، 15)
ترجمہ: "جو عاد تهے وہ ناحق ملک میں غرور کرنے لگے اور کہنے لگے کہ ہم سے بڑھ کر قوت میں کون ہے؟ کیا انہوں نے نہیں دیکها کہ خدا جس نے ان کو پیدا کیا وہ ان سے قوت میں بہت بڑھ کر ہے۔ اور وہ ہماری آیتوں سے انکار کرتے رہے۔"
کیا انسان اور کیا اس کا غرور۔۔؟
اللہ تعالی ہم سب کو تکبر سے بچاۓ آمین ثم آمین یا رب العالمین
اگر عمران خان پتھر کے اعصاب رکھتا ہے
تو ہم بھی پتھر کے دل رکھتے ہیں
مجال ہے ذرا سا بھی احساس ہو کہ وہ ہماری خاطر کیا کچھ جھیل گیا
اور ہم ہیں کہ زمیں جنبد نہ جنبد گل محمد
@shafqatmm1
السلام علیکم 🙏
آج کی بات
ھزار غلطیوں کے باوجود آپ خود سے پیار کرتے ھیں
تو پھر کسی کی غلطی پر اس سے نفرت کیوں؟؟؟
دوسروں کی غلطییوں اور کوتاھیوں کو درگزر اور معاف کر کے جیو
😍😍🥰🥰🌹🌹
*تین محرم الحرام 61 ہجری کو کربلا کے میدان میں بعض اہم اور تاریخی واقعات پیش آئے، جو امام حسینؑ اور ان کے قافلے کے لیے کربلا کے المیے کو مزید سنگین بناتے ہیں*
*حر بن یزید ریاحی کا کیمپ باندھنا*
حر بن یزید ریاحی جو امام حسینؑ کے قافلے کو کربلا لے کر آیا تھا، اس نے یزید کی طرف سے حکم ملنے کے بعد امامؑ کو میدان کربلا ہی میں روک دیا۔ حر اور اس کے سپاہی بھی وہیں خیمہ زن ہو گئے اور امام حسینؑ کے سامنے ایک طرح سے محاصرہ کر لیا۔
*امام حسینؑ کا قافلہ کربلا میں خیمہ زن رہا*
امام حسینؑ نے دو محرم کو کربلا پہنچنے کے بعد تین محرم کو اپنے خیموں کو مستحکم کروایا۔ اس دن اہل بیتؑ اور اصحاب نے کربلا کے زمین کو بہتر جان کر اپنی جگہوں کا تعین کیا، قبروں کی جگہیں بھی طے ہو چکی تھیں (بعض روایات کے مطابق)۔
*عمر بن سعد کی کربلا میں آمد*
عمر بن سعد، عبید اللہ بن زیاد کی طرف سے امام حسینؑ سے جنگ کے لیے بھیجا گیا تھا۔ وہ تین محرم کو تقریباً چار ہزار کے لشکر کے ساتھ کربلا پہنچا۔ اس کی آمد کے ساتھ ہی صورت حال اور زیادہ سنگین ہو گئی۔ عمر بن سعد نے یزید کی نمائندگی کرتے ہوئے امام حسینؑ سے بات چیت کا آغاز کیا، لیکن اس کا مقصد امام کو جھکانا یا لڑائی پر مجبور کرنا تھا۔
*یزیدی لشکر کی تعداد میں اضافہ*
عمر بن سعد کی آمد کے ساتھ یزیدی لشکر کی تعداد میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ روایات کے مطابق، آہستہ آہستہ لشکر کی تعداد 30,000 سے بھی تجاوز کر گئی۔
*پانی پر پابندی کی ابتدا*
تین محرم کے آس پاس پانی تک رسائی محدود کر دی گئی۔ اگرچہ باضابطہ پابندی سات محرم کو لگائی گئی، لیکن عمر بن سعد کے لشکر نے پانی کی روانی پر نظر رکھنا شروع کر دی تھی تاکہ اہل بیت اور ان کے اصحاب کو دباؤ میں لایا جا سکے۔
*امام حسینؑ کی خطبات اور نصیحتیں*
اس دن اور اس کے بعد، امام حسینؑ نے کئی خطبات دیے جن میں یزید کے باطل نظام کو بے نقاب کیا، حق و باطل کے فرق کو واضح کیا، اور اپنے ساتھیوں کو صبر، تقویٰ اور استقامت کی تلقین کی۔
یہ واقعات کربلا کے سانحے کی تمہید تھے، جو عاشورہ کے دن یعنی 10 محرم کو اپنے عروج پر پہنچا۔ تین محرم کو کربلا کے میدان میں تاریخ نے وہ سانس روک دینے والے لمحات دیکھے جب حق و باطل کی حد بندیاں واضح ہو رہی تھیں۔
اور ہاں یہ وہی وہی حُسین ہیں جن کے متعلق نبی کریم ص نے فرمایا تھا کہ حسینؑ مُجھ سے ہے اور میں حسینؑ سے ہوں۔ علامہ اقبال رح کہتے ہیں۔
مسلماں را زِ سرِ نو زندگی بخشید، کردارِ او
سچّا وے اللّٰہی بود، بے شبہ حسین ابنِ علی
*اللهم صَلِّ علی مُحَمَّدٍ وآل مُحَمَّدٍ*
محمدطاہرسرویا
اب یہ تاریخ مسخ کرنے کی کوشش ہے اللہ رب العزت نے پاکستان کو عزت عطا فرمائی ہے مگر
71 میں ہمارا آدھا ملک ٹوٹ گیا تھا۔ وہ فل فلیج جنگ تھی۔ 90 ہزار سے زائد جنگی قیدی تھے جبکہ حالیہ لڑائی میں بھارت دو ٹکڑے ہوا نہ کشمیر آزاد ہوا اور نہ جنگی قیدی اور تاریخی سرینڈر ہوا۔
71 کا بدلہ تو کم سے کم کشمیر کی مکمل آزادی ہونا چاہیئے۔