خیبر پختونخوا کے طلبہ کے مستقبل کے ساتھ ناانصافی کیوں؟
120 میڈیکل سیٹیں بڑھائی گئیں، مگر 194 کم کر دی گئیں۔ نتیجہ؟ 74 سیٹوں کا خالص نقصان!
یہ صرف 74 سیٹیں نہیں، نوجوانوں کے خوابوں اور مستقبل کا سوال ہے۔
ہمارا مطالبہ: 194 سیٹیں فوری بحال کی جائیں!
#RestoreKPMedicalSeats
ګورنر پختونخوا درې ځايونو کښې ډېر بد بد ګېر دی
1 کور کمانډر کور
2 مفتي محمود مرکز
3 د امير مقام هوټل
ګورو چې ګورنر صاحب شروعات د کوم ځاي نه کوي
#GovernmentPfPakhtunKhwa
خواجہ آصف آپ نے بات چھیڑ دی، تو پھر لو جی کچھ ریکارڈ درست کردیں۔
یہ سوال بھی جناب احمد کنڈی صاحب نے جمع کیا تھا، جس کا جواب محمکہ معدنیات نے کمیٹی میں پیش کیا۔۔۔۔ FWO شمالی وزیرستان کاپر مائننگ!!!!
محترم خادم صاحب !
ایک تو تحریر پورا پڑھ لیا کریں،تاکہ غلط فھمی نا رہے، اور اپ بھی مردان کی ایک پختون ہے اور پختونخوا کی معدنیات ھم سب کا قومی میراث ہیں، خدارا سیاسی تعصب میں جھوٹ دفاع ہرگز مت کریں، میں خود صوبائی حکومت کی پالیسیوں کیساتھ شدید اختلاف رکھتا ہو، انکی ناقص حکمرانی، کرپشن ، بدعنوانیو اور اقربا پروری پر میں نے ھمیشہ فلور پر اور میڈیا اسکو شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہیں، میں ہرگز انکی دفاع نہیں کرتا، لیکن جھوٹ اور پروپیگنڈا کو ایکسپوز کرنا ضروری تھا،
میں نے لکھا ہے کہ یہ لارج اسکیل لائسنس ایف ڈی اے کے پاس تھا، جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کیا، اور نیچے دیے گئے ڈاکومنٹس کو غور سے پڑھ لیں۔
وزیرستان کاپر معاھدہ میں واضح لکھا ھے کہ کمپنی رائلٹی،رنٹ کے علاوہ 10 ٪ منرلز ڈیپارٹمنٹ کو منافع میں بھی دیگا۔ سی ایس ار کی مد میں22٪ دیگا اور قومی کمیشن الگ سے 18٪ دیگا ۔تو اج انٹرنیشنل ریٹ کی بجائے اگر صرف صحافی حامد میر کے کمزور ریٹ مبلغ 7 لاکھ روپے فی ٹن بھی حساب کریں تو میرے صوبہ کی فی رائلٹی صرف 35000 فی ٹن بنتی ھے جبکہ کمپنی نے جو کل 16.9 کروڑ ادائیگی کی ھے وہ تو 198 روپے فی ٹن بنتی ھے ۔ اسکے علاوہ صوبہ کا 10 فی صد منافع، اینول رنٹ، سی ایس ار اعر اور مقامی کمیشن یہ سب کدھر ہیں ؟؟؟
میں نے پوری تحریر میں لکھا ہے کہ یہ ریکارڈ محمکہ معدنیات ھمیں فراہم نہیں کر پارہے تھے، اور سب باتیں کمیٹی میٹنگز کی ریکارڈ کا حصہ ہیں، لیز منرلز ڈیپارٹمنٹ کی ملکیت ھے کمپنی کا نہیں، منرلز ڈیپارٹمنٹ 10 فی صد کا حصہ دار پارٹنر اور ریگولٹر بھی ہے۔ کمپنی ڈیولپر ھے۔ کمپنی نے اج تک اپنے پارٹنر اور ریگولٹر کو کبھی پراجیکٹس کے اندر گھسنے بھی نہیں دیا ہے، کہ یہ معلوم کرے کہ وہ تانبے کے علاؤہ اور کون کونسے منرلز صاف کرکے بیچھ رہے ھیں ؟
آپ کی سوال کے مطابق اگر رائلٹی خام مال پر اگر دیتے ھو تو پھر حساب کرو، 9 لاکھ ٹن کو 25 سے 30 فی صد مال بنانے کے لیئے کتنا خام نکال کر لایا ہوگا ؟ خود حساب کرو اگر ایک فی صد کاپر کو 25٪ فی صد بنانے کے لیئے 1×25 کے حساب سے 9 لاکھ ٹن کے لیئے 2 کروڑ 25 لاکھ ٹن خام مال کی ضرورت ھے۔ تو اس حساب خام مال کی رائلٹی کا حساب لگالو پھر کتنی رقم بنتی ھیں ؟
میرے صوبہ کی تانبے کی رائلٹی صرف 33 ارب بنتی ھے، کمپنی تو معدنیات صاف کرکے گولڈ، سلور اور دیگر ریئر ارتھ الگ سے صاف کرکے لے جارہے ھیں جو کہ لاکھوں روپے گرام کے حساب سے قیمت ھے انکا تو حساب دیتے بھی نہیں ھو۔ صوبہ کا منافع قومی کمیشن یہ سب کا احتساب کروانا ضروری ہیں۔۔۔۔۔!!
نوٹ!! مجھے پی ٹی آئی کیساتھ کوئی ہمدردی نہیں، تحریک انصاف کی صوبائی حکومت نے پچھلے 29 مہینوں سے میرے حلقے کی فنڈز نہیں دی۔ دونوں وزیر اعلیٰ گنڈاپور اور سہیل آفریدی نے میرے فنڈز مجھے نہیں دی، بلکہ پی ٹی آئی کی اپنے سابقہ پارلیمنٹرین اور اپنے شکست خوردہ امیدوار کو میرے حلقے کی فنڈز جاری کی، اور ہاں آج کل آپ لوگوں کا جس مقتدرہ کیساتھ ہے، انہوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔۔۔۔۔
لیکن گورنر راج اور ایمرجنسی کیخلاف ھمارے پارٹی کا موقف بڑا کلیر ہے کہ ھم اس غیر جمہوری عمل کی شدید مخالفت کرتے ہیں، اور ھم اسکے خلاف ہے، ھمارے مرکزی صدر @AimalWali
نے دو ٹوک الفاظ میں اسکی بھرپور مخالفت کی ہیں، اور گورنر راج اور ایمرجنسی کی نفاذ کی پس پردہ جو مذموم مقاصد نظر آرہے ہیں اسکی بھی کھل کر نشاندھی کی ہیں۔۔۔
پچھلے دو سال سے میں رکن صوبائی اسمبلی کے حثیت سے صوبائی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی ماینز اینڈ منرل کا ممبر ہو، اور محکمہ معدنیات پختونخوا کا ریکارڈ ھمارے ساتھ کمیٹی میں ڈسکس کیا جاتا رہا، اور تقریباً یہ سب مندرجہ ذیل باتیں ھمارے ریکارڈ کا حصہ ہیں،
محکمہ معدنیات پختونخوا نے لارج اسکیل لائسنس 4 چار جاری کی ہیں، جس میں ایک لارج اسکیل لائسنس ایف ڈبلیو او کے پاس ہے، وزیرستان میں کاپر کی کان کنی ہورہی ہیں، 2016 میں یہ لاسینس ایف ڈی ایم اے کے پاس تھا جس کیساتھ ایف ڈبلیو او نے جائنٹ وینچر کرکے حاصل کیا ہے، 2017 میں پختونخوا ماینز اینڈ منرل ایکٹ بنا، اب ایک ہی لارج اسکیل لائسنس فنکشنل ہے اور وہ وزیرستان میں کاپر کی ہے ایف ڈبلیو او کے پاس ہے،
اس کا رقبہ 30 مربع کلومیٹر یعنی 7,410 ایکڑ ہے، جو 37 عام لیزوں کے برابر ہے۔ مقامی عوام کو صرف 50 سے 500 ایکڑ دیا جاتا ھے
محکمہ معدنیات کے ریکارڈ کے مطابق وہاں سے 2016 سے 2024 تک 987,000 ٹن کاپر نکالا گیا، جس میں پچھلے دو سال کا ریکارڈ شامل نہیں 2025,26 کا، اسکے باوجود ایف ڈبلیو او نے 10 لاکھ ٹن کاپر اوپن بولی کے ذریعے فروخت اور ایکسپورٹ کیا۔
اب اسکے پراسیسنگ کرکے 25٪ سے لیکر 30 فی صد کاپر تیار کرکے مارکیٹ میں بیچھتے ھیں، اج انٹرنیشنل مارکیٹ میں 25٪ کاپر کا ریٹ 9500 ڈالر جبکہ 30٪ کاپر کا ریٹ 11500 ڈالر فی ٹن ھے،
اب اس کاپر کی مالیت صحافی حامد میر کے بیان کردہ 7 لاکھ روپے فی ٹن نرخ کے حساب کے مطابق اس نکالی گئی کاپر کی مجموعی مالیت تقریباً 6.9 کھرب روپے بنتی ہے۔
اب پختونخوا کی محکمہ معدنیات ایکٹ 2017 کے معدنی قانون کے مطابق 5٪ رائلٹی کے حساب لگا کر تقریباً 34.5 ارب روپے بنتے ہیں، جبکہ محکمہ معدنیات کی ریکارڈ کے مطابق محکمہ معدنیات کو صرف 16.9 کروڑ روپے ادا کیے گئے۔
جب مجھ سمیت دیگر ممبران اسمبلی احمد کریم کنڈی، ایم پی اے عدنان خان سمیت دیگر سیکٹری معدنیات، ڈی جی معدنیات سے اس حوالے سوال اٹھائے کہ کیوں پورا حساب کتاب نہیں دیا جارہا ہیں، تو بچارے خاموش ہو جاتے اور اکثر کہتے ہیں کہ سر ھم کچھ نہیں کرسکتے۔ یہ سب باتیں کمیٹی ریکارڈ کا حصہ ہیں، اور ھمارے پاس ڈاکومنٹس کی شکل میں بھی موجود ہیں،
بشرط یہ کہ اگر اب اس گورنر راج اور ایمرجنسی کی مارشلائئ دور میں محمکہ معدنیات کی ریکارڈ میں ردوبدل نا کریں۔۔
اب آتے ہیں احتساب کے طرف، کہ سب سے پہلے کس کا؟ جب صوبے کی 4000 زیادہ چھوٹے لیز ہولڈرز کی مجموعی سالانہ آمدن تقریباً 14 ارب روپے تک پہنچ چکا ہیں، تو دوسری طرف صرف ل اس ایک لیز ( وزیرستان کاپر ) کی مبینہ رائلٹی 33 ارب روپے بنتی ہے اور ادائیگی صرف 16.9 کروڑ دیکر باقی رقم نہیں دیتے،تو ائیں سب سے پہلے اس کا شفاف آڈٹ اور احتساب تو کریں۔؟
ہاں میں مانتا ہوں کہ پی ٹی آئی کی ناقص حکمرانی کے ساتھ ھمارا اختلاف تھا اور رہے گا، کیونکہ اسکے دور حکومت میں اقربا پروری، کرپشن سب کچھ ہو رہا تھا، ھم بھی اسکے ساتھ اختلاف رکھتے ہیں،
لیکن ریکارڈ کو دروست رکھنے کیلے یہ لمبی تحریر لکھنا پڑھ رہا ہیں، تاکہ پنجاب کی سول ملٹری اشرافیہ نے جس طرح پچھلے دو دنوں سے عوام کو گمراہ کرنے کی مذموم کوشش شروع کر رکھے ہیں، اسکے آڑ میں پختونخوا کی موجودہ تمام چھوٹے لیز ہولڈرز کی لایسینز مشکوک کرکے ختم کرنے کی سازش ہورہی تاکہ اسے ختم کرکے کمپنی سرکار اپنے لیے لارج اسکیل لائسنس کا اجراء کرکے ھمارے وسائل پر قبضہ جمانے کی کوشش ہورہی ہیں،
اب آتے موجود چھوٹے لائسنس کی اجراء کے بارے میں بات کرکے ہیں،
محمکہ معدنیات پختونخوا نے آن لائن پورٹل 2017 میں رسالپور میں سیکیورٹی ادارے نے محکمہ معدنیات کو تربیت دے کر شفاف آن لائن پورٹل نظام تیار کروایا، جس سے شہری گھر بیٹھے لائسنس کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔
2024 میں مائن اونرز ایسوسی ایشن نے میڈیا اور اداروں کو بتایا کہ فیسیں اور کاغذات مکمل ہونے کے باوجود 7000 درخواستوں پر لائسنس جاری نہیں ہوئے۔
اس ایشو کو کمپنی سرکار کی حکم پر نیب نے نوٹس لیا، اور اکتوبر 2024 میں نیب نے مشترکہ پریوینشن کمیٹی کے ذریعے جانچ پڑتال کی اور زیرِ التوا لائسنسوں کا معاملہ فوری حل کرنے پر زور دیا۔
نیب اعلامیے کے بعد محکمہ معدنیات کی اس وقت کی ڈائریکٹر جنید خان نے درخواستوں کی پراسیسنگ شروع کی اور قانونی تقاضے پورے کرنے والوں کو لائسنس جاری کیے۔ اور کمیٹی میں باقاعدہ رپورٹ پیش کیا،
ان 4000 سے زیادہ لیز ہولڈرز میں مختلف سیاسی جماعتوں کے افراد، ریٹائرڈ فوجی افسران اور پاکستان بھر کے شہری شامل ہیں۔ اور یہ سب ریکارڈ کا حصہ ہیں،
اس حوالے سے ھمارا موقف بڑا واضح ہیں کہ ان لیزوں میں بے ضابطگیاں اور بی قاعدگیاں ہوئیں ہیں تو ان کی تحقیقات ضرور ہونا چاہیے، اور ـــــــ 1/2
The way he is announcing this imposed council sounds like a CEO of a company is announcing his private team. 40 million people of a province are being told who will govern them through a press conference in Islamabad. #Sharamnak
Fed govt’s decisions on KP are colonial, imposing changes without a mandate. The proposed bifurcation of province is like creating an extended FATA, isolating the region for global proxy wars and a long-standing TTP demand. We will challenge this unconstitutional move in court.
گورنر راج یا ایمرجنسی کا نفاذ ایک غیر جمہوری عمل ہے ھم اسکی بھرپور مخالفت کرتے ہیں، جمہوری لوگ سنجیدگی سے مذاکرات کے ذریعے مسائل کا حل نکال سکتے ہیں، لیکن پردے کی پیچھے مقاصد کچھ اور دیکھائی دے رہے ہیں، پختونخوا کو انتظامی طور پر تقسیمِ کرکے امن امان کی آڑ میں وفاقی حکومت اور اسٹبلشمنٹ قبائلی اضلاع سمیت جنوبی اضلاع کے معدنیات کیا اپنے قبضے میں لینا چاہتے ہیں؟ یہ عمل صوبائی خودمختاری پر ڈائریکٹ وار ہے، اور سنگین خلاف ورزی ہیں،
جبکہ دوسرے جانب صوبائی حکومت اپنی سیاسی نادانی کی وجہ سے صوبے کا اختیار وفاق کے حوالہ کررہے ہیں، مقصد سیاسی خودکشی نہیں بلکہ سیاسی شہادت حاصل کرنا ہے لیکن نقصان پورے قوم کا ہوگا اس قدر گھمبیر صورتحال اختیار کرچکی ہیکہ لڑائی لڑنے والوں کو تو اپنے اپنے فائدے نظر آرہے ہیں لیکن نقصان مسلسل عوام کا ہورہا ہے اور مزید ہوگا، صوبہ پختونخوا پہلے سے کافی نقصان اٹھا چکا ہے صوبہ پہلے سے معاشی عدم استحکام کا شکار ہے مہنگائی بے روزگاری، اور اوپر سے بدامنی کے واقعات اور اب مزید سیاسی عدم استحکام کی طرف بڑھ جائے گا، جو صوبہ کا موجودہ انتظامی ہرارکی نہیں سنبھال پائے گی، اور عوام مزید مسائل تلے دب جائیں گے، مقتدرہ نے پختونخوا کو سیاسی تجربہ گاہ بنایا دیا ہے، اب یہ صوبہ مزید نئے تجربات کی متحمل نہیں ہوسکتا۔۔!!!
@نثار باز
سینیٹر محمد مرزا آفریدی نے ایک بار پھر پاکستان بھر کے MDCAT طلبہ کے مطالبات کی نمائندگی کرتے ہوئے چیئرمین سینیٹ پاکستان کو باضابطہ خط ارسال کیا ہے_
#DelayMDCAT2026
Letter Details 👇
https://t.co/mSNZ1a3UQo
@SenMMAfridi@pmc_org_@SenatePakistan@HamidMirPAK