ایمان مزاری کو جب 24 جنوری 2026 کو سزا سنائی گئی اس وقت ان کے بارے اطلاع تھی کہ وہ حاملہ ہیں۔ اب انہیں قید ہوئے 5 ماہ سے زائد ہو چکے ہیں
کس�� تنظیم یا وکلاء نے اس پر آواز اٹھانا تو دور انہیں فراموش کر دیا ہے
یہ فسطائیت کی جیت اور ہم سب کی ہار ہے
کہ ہم آواز اٹھانا بھی چھوڑ چکے ہیں
بھولنا مت 🚨
آگر زیادہ نہیں تو کم از کم ایک ٹویٹ خان صاحب کے میڈیکل check-up کے لئے ضرور کیا کریں۔ مطالبہ کریں کہ شوکت خانم کے ڈاکٹر عاصم کو عمران خان سے ملاقات کی اجازت دی جائے
کیونکہ اس وقت خان صاحب کی ایک آنکھ میں انفیکشن ہے اور چیک آپ بہت ضروری ہے
کل ایک یادگار دن تھا۔ عمران خان کی بہنوں کی تین چار گھنٹے ملاقات ہونا اور پھر عمران خان کے پیغامات کے بعد پوری قوم کو خوش دیکھ کر دل بہت خوش ہوا۔ اللہ کا شکر ہے کہ ملاقاتیں بحال ہوئیں۔ ان سب کا بھی شکریہ جنہوں نے پریشر ڈالا اور پوری دنیا میں آواز اٹھائی۔ آخر میں ان لوگوں کا بھی شکریہ جو پریشر میں آکر یہ کسی اور وجہ سے بھی دروازے کھولنے پر مجبور ہوئے۔
فیر گراؤنڈ پر کھیلیں، ظرف دکھائیں، عدالتیں آزاد کریں اور ان کے احکامات کے اور جیل مینول کے مطابق قیدیوں کے حقوق دیں۔ سب سے بڑھ کر جیسا کہ عمران خان نے کہا ہے کہ معافی مانگ لیں- یہ قدم بہت لمبا ضرور ہے مگر لمبے صفر کا پہلا اور بہت ضروری قدم بھی ہے۔ اتنا ظلم سہہ کر بھی کپتان معاف کرنے کی بات کر رہا ہے، ہمت اور حوصلے سے کام لیں۔ عوام بھی شاید کپتان کو دیکھ کر کچھ عرصے بعد غصہ کم کرے ، نہ بھی کرے تو معافی مانگتے رہنا چاہیے، ظلم کی انتہا جو کی ہے!
عمران خان کی بہادری کی مثال تو لوگ دیتے ہی ہیں مگر کل جو کیا عمران خان نے اس کی کہانی لوگ رہتی دنیا تک سنائیں گے۔ کانٹیکسٹ یہ ہے کہ ایک بندہ جو قانون کی نہیں بلکہ ایک ڈکٹیٹر کی قید میں ہے، جس کو دن میں ۲۲ گھنٹے اکیلے رکھا جاتا ہے، اخبار اور ٹی وی بند کر دیا جاتا ہے، فیملی، وکیل اور سیاسی لوگوں سے ملاقاتیں روک دی جاتی ہیں، بچوں سے فون پر بات نہیں کروائی جاتی، کتابیں نہیں دی جاتی، اور بہت طریقوں سے ٹارچر کیا جاتا ہے ، ��ہ بندہ جس طرح ظلم کرنے والے کو للکارتا ہے، ایسا تو فلموں میں بھی کم دیکھنے ملتا ہے کیونکہ وہ پھر believable نہیں لگتا۔ یہاں جتنا ظلم برداشت کیا کپتان نے اس کے بعد اتنی بہادری سے بات کرنا ایک الگ لیول پر پہنچاتا ہے خان کو۔ اس پر ماشاءاللہ اور الحمدللہ ہی کہہ سکتے ہیں اور اللہ کا شکر جتنا کریں کم ہے کہ اس نے خان کو ہمت میں رکھا ہے۔
آخری بات یہ کہ کپتان کو طاقت آپ سب سے ملتی ہے۔ کبھی یہ نا سوچیں کے آپ کے ایک احتجاج پر جانے سے کیا ہوجائے گا یا پھر آپ کی ایک سوشل میڈیا پوسٹ سے کیا ہوجائے گا؛ قطرہ قطرہ سمندر بنتا ہے اور جب کپتان اپنی قوم کی ہمت کا سنتے ہوں گے، تب کافی خوش ہوتے ہوں گے اور اپنی تکالیف کے باوجود اتنی ہمت سے بات کرتے ہیں۔ آپ سب ہیں جب تک میدان میں تب تک خان مظبوط رہیں گے۔ کل تو اچھا دن تھا کپتان کے بیانات کے بعد مگر کبھی دن اچھا نہ بھی ہو تو ذرا بھی پیچھے مت ہٹنا۔ کپتان ہم سب کے بھروسے اور ہم سب کے لیے اتنی بڑی جنگ لڑ رہ�� ہیں۔
آخر میں ہم سب ہی جیتیں گے کیونکہ اللہ الحق ہے!
پختونخواہ کے ساتھ اظہارِ یکجہتی کے لیے ہم نے کراچی میں امن جرگے کی کال دی تھی جس کا مقصد پورے پاکستان کے اتحاد کو ثابت کرنا اور یہ پیغام دینا تھا کہ پورا پاکستان امن چاہتا ہے اور حدیث نبوی کی مثال کہ جسم کے ایک حصے میں تکلیف ہو تو پورا بدن بے چین ہوتا ہے۔ لیکن آپ کے سامنے ہے کہ پاکستان کے امن کے نام سے ڈاکو ڈفر الائنس کو کتنی نفرت ہے، امن کا سفید جھنڈا دیکھ کر پولیس جس طرح نہتے لوگوں پر ٹوٹ پڑی، ڈالری جنگ روکنے والی آوازیں کس قدر ناگوار ہونگی اس کا اندازہ آپ خود لگالیں۔
ڈفرز کا شکریہ کراچی کو بھی یہ بتانے کا کہ آپ امن چاہتے ہی نہیں کیونکہ امن ہوگا تو آپ ریلیونٹ کیسے رہیں گے؟ امن ہوگا تو آپ جو کمٹمنٹس کر کے آئے ہیں وہ کیسے پوری ہوں گی؟
میرے پاکستانیو! ایک لمحے کے لئے میرے ان ساتھیو کے حوالے سے سوچیں جو عرصے سے مارٹر گولو، بندوق اور ڈرونز کے سامنے امن کا جھنڈا تھامے ہوئے ہیں۔ جنہوں نے لاکھوں لوگوں کو امن کے لیے موبلائیز کیا اور بتایا کہ ہم اپنی سرزمین اپنے گھربار اس میڈ اپ بدامنی کی نذر نہیں کریں گے۔
پھر بھی یہ کیوں جنگ سے باز نہیں آرہے؟ کیوں حالات یہاں تک پہنچا��ے جارہے ہیں کہ آپریشن کا ماحول بن جائے؟ وہ کون سے ایسے مذموم مقاصد ہیں جن کا حصول اپنے لوگوں کو جنگ کا ایندھن بنا کر ہی ممکن ہے؟
آج کا یہ انتظامیہ کا سلوک، یہ تشدد، ڈاکو ڈفر الائنس کا یہ ظلم ان ساتھیوں کا بھی جواب ہے جو لاکھوں کی تعداد میں، بغیر پوسٹر اور انونسمنٹ کے امن کے لیے نکلنے والو کی حکمت عملی پر سوال اٹھا کر اصل مقصد اور مجرموں سے توجہ ہٹا دیتے ہیں؛ یہ ہے وہ فسطائیت جس کا سامنا ہمارے ساتھیوں کو کراچی جیسے شہر میں دن دہاڑے کرنا پڑ رہا ہے۔ سابقہ فاٹا اور خیبر پختونخواہ کے دور دراز علاقوں سے تو آپ تک ان کی خبر تک نہیں پہنچ پاتی کہ جہاں انہیں دونوں جانب سے یکساں ��ھمکیاں ملتی ہیں۔ جہاں ان کے بچوں اور عیال کی ویڈیوز بنا کر انہیں بھیجی جاتی ہیں کہ ہم چاہیں تو ابھی کے ابھی ان کے سر اڑادیں۔ جہاں انتظامیہ اور پولیس قیادت مکمل طور پر فوج کی منشاء کے سامنے ہار تسلیم کرچکی ہے، وہاں دو سال سے صرف اللہ اور اپنی قوم کے سہارے اپنے لوگوں کے امن ک�� جنگ لڑ رہے ہیں۔
“عاصم منیر میں طاقت کی بہت بھوک ہے اسی لیے اس نے بدترین آمریت قائم کر رکھی ہے۔ مجھ سے معافی کا مطالبہ کرنے کی بجائے عاصم منیر کو مجھ سے معافی مانگنی چاہیئے- نو مئی اسی نے کروائی جس نے سی سی ٹی وی فوٹیج چرائی۔ اس وقت نو مئی عاصم منیر کی انشورنس پالیسی ہے۔
ملک میں ہائبرڈ سسٹم نہیں عاصم منیر کی ڈکٹیٹرشپ قائم ہے، اسی لیے ٹرمپ نے شہباز شریف کی بجائے عاصم منیر کو بلایا۔
فسطائیت اور جبر میں تما�� حدود پار کرتے ہوئے میرے خاندان کے غیر سیاسی لوگوں کو مسلسل نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ میرے دو بھانجوں شاریز خان اور شیر شاہ کو بھی اغواء کر لیا گیا حالانکہ ان کا سیاست سے کوئی تعلق نہیں۔ میرا بھانجا شاریز خان جو ایک بہترین ایتھلیٹ ہے اسے بھی اٹھا لیا گیا۔ مجھے مکمل طور پر قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ تین ماہ میں میری محض تین ملاقاتیں کروائی گئی ہیں، میرے وکلأ اور اہل خانہ تک سے ملاقات کئی کئی ماہ روک دی جاتی ہے۔ یہ سب کچھ مجھ پر دباؤ ڈالنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
میرے ساتھ آٹھ ماہ سے بشرٰی بیگم کو بھی قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ایسا سلوک عورتوں کے ساتھ پاکستان کی تاریخ میں کبھی نہیں کیا گیا۔ یحیٰی خان نے بھی ایسا نہیں کیا-
فیصل واوڈا جو اسٹیبلشمنٹ کا ترجمان ہے اس نے بشرٰی بیگم کے حوالے سے بیانات دئیے کہ وہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں گی۔ بشرٰی بیگم پر دباؤ ڈالا گیا کہ مجھ سے علیحدگی اختیار کر لیں مگر وہ میرے ساتھ کھڑی رہیں- اس سے پہلے جب عاصم منیر کو DG ISI کے عہدے سے ہٹایا تو اس نے زلفی بخاری کے ��ریعے بشرٰی بیگم سے رابطے کی کوشش کی، لیکن انہوں نے انکار کر دیا، اسی لیے آج ان کے ساتھ یہ بدترین سلوک کیا جا رہا ہے۔ انہیں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے۔ ان کو خراب حالات میں رکھے جانے پر کرنٹ لگ چکا ہے اور زخم آ چکے ہیں۔ ان کو استعمال کے لیے گندا پانی دیا جاتا ہے۔ ان پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔
یہ سب کچھ عاصم منیر کروا رہا ہے- اس میں نہ کوئی اخلاقیات ہیں اور نہ اسلام کی سمجھ ہے- عاصم منیر کے لیے میرا پیغام ہے کہ مجھ پر دباؤ بڑھانے کے لیے چاہے میرے خاندان میں سے جس مرضی کو قید میں ڈال دو میں نہ جھکوں گا نہ اس ظلم کو قبول کروں گا۔ میں اپنی حقیقی آزادی کی جدوجہد ہر حال میں جاری ��کھوں گا۔
عاصم منیر پاکستان کے ساتھ وہ کر رہا ہے جو محسن نقوی نے کرکٹ کے ساتھ کیا ہے۔
عدلیہ تباہ، میڈیا خاموش اور پولیس سے ایسے کام کروائے جا رہے ہیں جس سے وہ کریمینالائز ہو چکی ہے۔ ایسا تو یحیٰی خان کے دور میں بھی نہیں ہوا۔ پولیس کو تحریک انصاف کے لوگوں کے خلاف استعمال کیا جا رہا ہے جس کی وجہ سے ملک میں جرائم کی شرح بڑھ گئی ہے، ملک میں بے روزگاری عروج پر ہے، ایس آئی ایف سی سے معشیت ٹھیک نہیں ہوتی بلکہ عوام کے اعتماد اور قانون کی حکمرانی سے ٹھیک ہوتی ہے۔
ان چوروں کو ہم پر مسلط کر دیا گیا ہے جن کی
کرپشن اور منی لانڈرنگ کے ثبوت مجھے خود ISI دیتی رہی ہے۔ جو شخص بھی تحریک انصاف چھوڑ دیتا ہے اس کے سارے کیس معاف کر دئیے جاتے ہیں۔
جب بھی ڈکٹیٹرشپ آتی ہے ججز کو ساتھ ملا کر ہی نظام پر قابض ہوتی ہے۔ اس وقت بے ضمیر ججز کی وجہ سے پاکستان میں قانون کی حکمرانی مکمل ختم ہو چکی ہے۔ 26ویں آئینی ترمیم کے بعد عدلیہ بالکل ہی غلام بن چکی ہے۔ بے ضمیر ججز انسانی حقوق کی پامالی کے خلاف ایکشن نہیں لے رہے۔اگر ہمارے ججز ضمیر کے ساتھ کام کرتے، پاکستان کے لوگوں کو انصاف دیتے، ان کو خوف ہوتا کہ یوم محشر اللہ کو حساب دینا ہے تو یہ جو ظلم جو ہو رہا ہے یہ کبھی نہ ہوتا۔ اس ظلم و نا انصافی میں یہ بےضمیر جج برابر کے مجرم ہیں۔
1/2
علی امین گنڈا پور کو سپریم کورٹ جا کر مجھ سے ملاقات کی اجازت مانگنی چاہیئے۔ اس سے پہلے بجٹ پر بھی مجھ سے مشاورت و ملاقات نہیں کی گئی۔ علی امین کو آ کر مجھے صوبے کی گورننس، امن و امان اور دیگر اہم امور پر بریفنگ دینی ہے جس کے لیے سپریم کورٹ سمیت ہر فورم پر بھرپور کوشش کرنی چاہیے-
میں دوبارہ تاکید کرتا ہوں کہ خیبرپختونخوا حکومت وفاق کی جانب سے اپنے ہی شہریوں پر ہونے والے ملٹری آپریشن اور ڈرون حملوں کے خلاف بھرپور سٹینڈ لے۔ خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں ہمارے دور میں امن آچکا تھا اور ہمارے دور میں کوئی ڈرون ح��لہ نہیں ہوا۔ اب وہاں حالات جان بوجھ کر خراب کیے جا رہے ہیں تاکہ واحد عوامی مینڈیٹ والی پارٹی کو کمزور کیا جا سکے۔
خیبرپختونخوا اور قبائلی علاقوں میں آپریشن مسئلے کا حل نہیں ہے۔ وہاں کے مسائل مقامی نمائندوں کی مدد سے بات چیت سے حل ہونے چاہئیں۔ ڈرون حملوں اور فوجی آپریشنز سے دہشتگردی بڑھتی ہے۔ ان آپریشنز کو نہ ہی عوام کی حمایت حاصل ہے، نہ ہی عوامی نمائندوں کی اور نہ ہی سیاسی جماعتوں کی تو ایسا آپریشن کیسے کامیاب ہو سکتا ہے۔
افغان مہاجرین کے ساتھ جو سلوک کیا گیا اس پر میں شرمندہ ہوں۔ وہ ہمارے مسلمان بھائی یہاں پناہ لیے ہوئے تھے انھیں ایسے دھکے مار کر ملک سے نکالنا اسلامی روایت اور انسانیت کے خلاف ہے-
فیصل آباد کی عدالت کی جانب سے ایک اور جھوٹے کیس میں ہمارے 75 ممبران اور کارکنان کو دی گئی سزائیں اس ظلم کے نظام کو مزید ننگا کر رہی ہیں۔ ہم سب کو اس ظلم کے خلاف اکٹھے کھڑے ہونا ہے جب ہم مل کر مقابلہ کریں گے تو فتح ہمارا مقدر بنے گی۔
میری رائے میں 9 مئی کیسز میں جھوٹے الزامات پر دی گئی سزاؤں کے ذریعے خالی کرائی گئی سیٹوں پر ضمنی انتخابات میں حصہ لینا ان جھوٹی سزاؤں کو جائز تسلیم کرنے کے مترادف ہو گا- اسی لیے پارٹی اس معاملے پر غور کر کے حتمی فیصلے کے لیے کل دوبارہ اپنی تجاویز میرے پاس لے کر آئیں- حماد اظہر کا حلقہ میاں اظہر صاحب کی وفات کے بعد خالی ہوا ہے- اس سیٹ پر ہم الیکشن لڑیں گے۔
جو ظلم و فسطائیت اس وقت پورے ملک میں جاری ہے اس کے خلاف پشاور میں ایک گرینڈ جلسہ کیا جائے گا جس کی تاریخ کا اعلان پارٹی کرے گی۔
خیبرپختونخوا اور گلگت بلتستان میں سیلاب نے شدید تباہی مچائی ہے اور سینکڑوں قیمتی جانوں کے نقصان کے ساتھ لاکھوں افراد متاثر ہوئے۔ میں نے اسی ماحولیاتی تبدیلی کے مقابلے کے لیے Billion Tree جیسے منصوبے شروع کیے تھے۔ اس طرح کے منصوبے ہی ہمارا ماحول بچا سکتے ہیں ورنہ ہم ہر سال تباہی ہی دیکھیں گے” -
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں اہم گفتگو
(26 اگست، 2025)
2/2
“Asim Munir has an insatiable hunger for power, which is why he has imposed the worst form of dictatorship. Instead of demanding that I apologize, Asim Munir should apologize to me. The events of May 9th (2023) were orchestrated by the same person who stole the CCTV footage. At present, May 9th has become Asim Munir’s insurance policy.
It is not a hybrid system that is in place in our country, but the dictatorship of Asim Munir. That is precisely why (President) Trump invited him instead of Shehbaz Sharif.
In their extreme fascism and oppression, they continue to target non-political members of my family. My two nephews, Shahrez and Shershah Khan, have been abducted despite having no involvement in politics. My nephew Shahrez Khan, who is an excellent athlete, was forcibly taken away. I am being held in complete solitary confinement. Over a period of three months, I have been allowed only three meetings. Even meetings with my lawyers and family are blocked for months at a time. All of this is being done to pressure me.
For the past eight months, my wife, Bushra Bibi, has also been held in solitary confinement. Such treatment of women is unprecedented in the history of Pakistan, not even under Yahya Khan.
Faisal Vawda, who acts as a mouthpiece of the establishment, issued statements that Bushra Bibi would seek separation from me. She was pressured to do so, but she stood firmly by my side. Previously, when Asim Munir was removed from the post of DG ISI, he attempted to contact Bushra Bibi through Zulfi Bukhari, but she refused. That is why she is being subjected to such cruel treatment today. She is kept in solitary confinement under deplorable conditions, where she has suffered electric shocks and physical wounds. She is provided polluted water to use. Every form of cruelty is being inflicted upon her.
Asim Munir is behind all this. He has neither morality nor an understanding of Islam. My message to him is this: no matter which member of my family you imprison to increase pressure on me, I will neither bow down nor accept this tyranny. I will continue my struggle for Haqeeqi Azadi (genuine freedom), no matter what.
Asim Munir is doing to Pakistan what Mohsin Naqvi has done to cricket.
The judiciary has been destroyed, the media silenced, and the police forced into actions that have criminalized the institution itself. Even during Yahya Khan’s era, such circumstances did not exist. The police are being used against the members of Pakistan Tehreek-e-Insaf (PTI), which has led to a rise in crime across the country. Unemployment is at its peak. The economy cannot be fixed by the SIFC, but through public confidence and the rule of law.
Criminals have been imposed upon us, despite the fact that ISI had itself shared with me evidence of their corruption and money laundering. All cases against anyone who left PTI were immediately forgiven.
Whenever dictatorship takes hold, it does so by colluding with judges. At present, due to shameless judges, the rule of law in Pakistan has completely collapsed. After the 26th Constitutional Amendment, the judiciary has become entirely subservient. These judges without a conscience do not take action against human rights violations. If our judges acted upon their conscience, provided justice to the people of Pakistan, and feared accountability before Allah on the Day of Judgment, then such tyranny would never have been possible. These conscienceless judges are equally complicit in this injustice and oppression."
Important Conversation of Former Prime Minister Imran Khan from Adiala Jail
(August 26, 2025)
1/2
"Ali Amin Gandapur should petition the Supreme Court for permission to meet me. Earlier, during the budget process, no meetings or consultation took place with me. Ali Amin must come and brief me on governance, law and order, and other important provincial matters. For this, efforts must be made at every forum, including the Supreme Court.
I emphasize once again that the Khyber Pakhtunkhwa government must take a strong stand against the federal government’s military operations and drone strikes against our own citizens. During our tenure, peace had returned to Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas, and not a single drone strike took place. Now, the situation is being deliberately worsened in order to weaken the only party with a genuine public mandate.
Military operations are not the solution for Khyber Pakhtunkhwa and the tribal areas. Their issues should be resolved through dialogue with the help of local representatives. Drone strikes and military operations only increase terrorism. These operations neither have the support of the people, nor of local representatives, nor of political parties. How can such operations ever succeed?
I am ashamed of the treatment meted out to Afghan refugees. They are our Muslim brothers who had taken refuge here, and to expel them in such a humiliating manner is against both Islamic tradition and humanity.
The recent sentences handed down by the Faisalabad court to 75 of our members and workers in yet another false case expose this oppressive system even further. We must all stand united against this tyranny. Victory will be our destiny when we resist together.
In my opinion, contesting by-elections on the seats vacated through the false convictions in the May 9th cases would be tantamount to legitimizing these fabricated sentences. Therefore, the party should deliberate on this matter and present its final recommendations to me tomorrow. The seat of Hammad Azhar, however, has fallen vacant following the demise of Mian Azhar. We will contest the election on that seat.
A grand rally will be held in Peshawar against the ongoing oppression and fascism across the country, the date of which will be announced by the party.
Severe floods in Khyber Pakhtunkhwa and Gilgit-Baltistan have caused massive destruction, claiming hundreds of precious lives and affecting millions of people. It was for combatting such impacts of climate change that I initiated projects like the Billion Tree campaign. Only such projects can save our environment. Otherwise, we will continue to witness such disasters year after year.”
2/2
عمران خان قید میں نہيں ہے۔ عقوبت خان میں ہے۔ عمران خان سزا نہيں کاٹ ریے عذاب جھیل ریے ہیں۔
عمران خان کو ظلم کی ویسی چکی میں رکھا ہوا ہے جیسی dark ages میں یورپ میں بادشاہ اور سردار اپنے مخالفین کو رکھتے تھے۔ جیسے چند صدیاں قبل برصغیر کے ظالم جاگیردار اپنے دشمنوں کو رکھتے تھے۔
خان قید میں نہیں ہے۔ عقوبت خانے میں ہے۔
اس تصویر میں کچھ نا دیکھیں، صرف علیمہ خانم کی نظریں دیکھیں۔ ڈرتے ہیں یہ سب نہتی مگر انتہائی بہادر خواتین سے!
خان تمھاری بہنیں رہ گئی ہیں، صرف تمھاری بہنیں۔ تاریخ میں لکھا جائے گا۔
@Aleema_KhanPK
علیمہ خانم کو گرفتار کرکے دور جاکے چھوڑنے کا ڈرامہ اس دن تک چلے گا جس دن تک ان کے ساتھ ایک ہزار سیلف موٹیویٹڈ بندہ نہیں جمع ہوجاتا۔
اگر اسی طرح اکیلی اڈیالہ جاتی رہیں تو یہ کمزور سمج�� لیں گے، ان کی شیری بڑھ ��ائیگی اور یہ گرفتار ہی کرلیں گے۔
لوگوں میں شعور و جذبہ، پارٹی میں اسٹریٹیجی چاہیے۔