مسلم لیگ(ن) کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ عام آدمی کو نہ بین الاقوامی سیاست سے دلچسپی ہے، نہ پیچیدہ معاشی اصطلاحات سے، اور نہ ہی تشہیری مہمات سے۔ اس کے مسائل سادہ ہیں؛ مہنگائی، بجلی و گیس کے بل، روزگار، تعلیم، صحت اور امن و امان۔
حکومت آسمان سے تارے بھی توڑ لائے، مگر اگر یہ بنیادی مسائل حل نہ کئے تو عوامی پذیرائی حاصل نہی ہو گی۔
جس دن مریم نے نواز نے اقتدار سنبھالا اس دن پنجاب میں پچاس ہزار سرکاری سکول تھے تیرہ ہزار اب تک ٹھیکے پر جا چکے ہیں کچھ کو مرج کر رہے ہیں تین سال اور حکومت کے بعد پنجاب میں ایک بھی سرکاری سکول نہی ہو گا
اس کو نظام تعلیم کی بہتری اور انقلاب کہہ رہے ہیں
پتہ نہیں مجھے کیوں لگتا ہے ن لیگ کا یہ آخری بجٹ ہے یہ بجٹ ن لیگ کی سیاست کا رخ متعین کر دے گا کیونکہ عوام ن لیگ کی عوام دشمن پالیسیوں سے بے حال ہو چکے ہیں عوام کے پاس روزگار کے مواقع محدود ہو چکے ہیں بیروزگاری بڑھ رہی ہے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمت بجلی گیس کے بلز عوام کی پہنچ سے
27جولائی کو کشمیر میں الیکشن ہیں وفاقی حکومت کی مہنگائی ن لیگ آزادکشمیر کو بھی کھا جائے گی۔ کشمیر میں ن لیگ کے جو حالات چل رہے وہ گلگت سے بھی کم سیٹیں لے گی ۔
شاہین آفریدی کو دورئہ ویسٹ انڈیز اور انگلینڈ میں نظرانداز کیے جانے کا امکان، سلیکٹرز محمد علی اور عبید شاہ کو بھی موقع دینا چاہتے ہیں، لیفٹ آرم پیسر نے آخری کیریبیئن ٹور کے2 ٹیسٹ میں 18 وکٹیں حاصل کی تھیں
گلگت بلتستان کی عوام نے مسلم لیگ نون کی عمران خان سے دگنی بری حکومتی کارگردگی عوام پر مہنگائی معاشی بوجھ ٹیکس مہنگا پٹرول اور انتہائی مہنگی بجلی دینے پر ایک اچھا خاصا تھپڑ نواز شریف اور شہباز شریف کے منہ پر مارا ہے اب انشاءاللہ یہی حال اگلے الیکشن میں پنجاب میں بھی ہوگا۔
نواز شریف جیسے بڑے لیڈر کو گلگت کمپین پر لے جانے والے اب جواب دیں کیا بلاول نواز شریف سے زیادہ مقبول ہیں ؟
پنجاب کی ترقی کا ماڈل الیکشن کا سلوگن بنانے والے اب جواب دیں کیا سندھ کا ترقی کا ماڈل جیت گیا ؟
سوشل میڈیا کمپین راتب خوروں کے حوالے کرنے کے یہی نتائج نکلتے ہیں اب راتب خور کہہ رہے کہ نون نے قربانی دے دی تو جناب قربانی ہی دینی تھی تو کمپین بھی ویسی ڈیزائن کرتے تاکہ یہ بہانہ تو رہتا کہ ہم نے اسے سیریس ہی نہی لیا
واپڈا کے ذریعے عوام کا خون پینے والے 42 آئی پی پیز بند پڑے ہیں قوم اس کا اربوں دے رھی ھے اس ملک میں اندھیر نگری کاراج ھے بند شدہ ایک یونٹ آئی پی پی دس کروڑ ماہانہ لیتا ںے۔۔۔
وفاقی وزیر حنیف عباسی
راولاکوٹ CMH پر حملہ اور پولیس و ایف سی کے جوانوں پر سیدھی فائرنگ حقوق کی تحریک نہیں، بلکہ خالصتاً دہشتگردی ہے! 3 پولیس جوانوں اور 1 ایف سی اہلکار کی شہادت پر دل خون کے آنسو رو رہا ہے۔ 24 سے زائد زخمی جوان اس بات کا ثبوت ہیں کہ یہ غنڈے باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت خون بہانے آئے تھے۔ جب ہسپتالوں اور محافظوں پر حملے شروع ہو جائیں، تو وہ تحریک نہیں بلکہ "فتنۂ ہند" کی پراکسی بن جاتی ہے۔ اب ان قاتلوں کے خلاف بلاامتیاز اور عبرت ناک ایکشن وقت کی سب سے بڑی ضرورت ہے!
*پنجاب حکومت کا بڑا ایکشن!*
سرکاری ملازمین کے سوشل میڈیا استعمال پر مکمل پابندی
*سوشل میڈیا پر ویڈیو لگائی تو نوکری سے فارغ!*
پنجاب حکومت کا سب سے سخت حکم
مسلم لیگ ن کے سوشل میڈیا ہیڈ اور ایم این اے اظہر لغاری صاحب کے نوجوان فرزند صفدر لغاری کے انتقال پر دلی دکھ ہوا۔ دکھ کی اس گھڑی میں میری ہمدردیاں اظہر لغاری صاحب اور ان کے اہل خانہ کے ساتھ ہیں۔ اللہ تعالی مرحوم کو جنت الفردوس اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔ آمین
إِنَّا لِلّٰهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ
انتہائی افسوس کے ساتھ اطلاع دی جاتی ہے کہ ہمارے پیارے بھائی، پاکستان مسلم لیگ (ن) سوشل میڈیا ٹیم کے صدر صفدر خان لغاری انتقال کر گئے ہیں۔
نمازِ جنازہ آج رات 9:15 بجے ادا کی جائے گی۔
📍 مقام: 698-G، اسٹریٹ 27، ڈی ایچ اے فیز 5، لاہور
تمام احباب سے مرحوم کی مغفرت اور بلندیٔ درجات کے لیے دعا کی درخواست ہے۔
اللہ تعالیٰ مرحوم کو جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے اور لواحقین کو صبرِ جمیل عطا فرمائے۔
میں ریسرچ کا آدمی ہوں تحقیق کر سکتا دلیل گھڑ سکتا ہوں میں آٹھ سو ارب بجٹ نہی رکھتا کہ کتا فورس پال سکوں نا میں سرکاری گالیاں دینے والوں کا مقابلہ کر سکتا ہوں مگر یہ وعدہ ہے پنجاب میں تعلیم سے جڑے معاملات پر ایک ایک چیز مصدقہ حقائق اور تحقیق سے بمعہ ثبوت سامنے رکھ دوں گا فیصلہ آپ نے کرنا ہے
پنجاب میں 43 وزارتیں ہیں۔ اور ہر کسی کا وزیر علیحدہ ہے۔ باقی 42 منسٹرز میں سے کسی نے سوشل میڈیا یہ کمپئین نہیں چلائی کہ اس کے ڈیپارٹمنٹ کے اندر کام کرنے والے لوگ چور اور نا اہل ہیں۔ یہ طرہ امتیاز صرف ایجوکیشن ڈیپارٹمنٹ کو حاصل ہے کہ منسٹر صاحب اساتذہ کی تذلیل کا کوئی موقع ہاتھ سے
حکومت نے تاجروں کی مشاورت سے چھوٹے دکانداروں کے لیے فکسڈ ٹیکس اسکیم متعارف کرا دی
20 کروڑ روپے سالانہ کاروبار رکھنے والے دکاندار ایک صفحے کے آسان فارم کے ذریعےفروخت ظاہر کرکے 1 فیصد فکسڈ ٹیکس ادا کریں گے اسکیم سے فائدہ اٹھانے کے لیے کم از کم 25 ہزار روپے نقد جمع کروانا لازمی ہوگا