’میرے پیٹ کے دائیں جانب اچانک شدید درد شروع ہو گیا۔ پہلے مجھے لگا شاید گیس ہے۔ دوا لینے کے باوجود درد کم نہ ہوا۔ آخرکار جب ٹیسٹ کروائے گئے تو معلوم ہوا کہ میرے پتے کے اندر پتھری موجود ہے۔‘
مکمل خبر: https://t.co/7850vJ9FIy
اپنی 27 سالہ سیاست کے دوران میں نے کبھی کسی بھی موڑ پر اپنے کارکنان کو تشدد کی تلقین نہیں کی۔ چنانچہ 9 مئی کے واقعات (کی تفصیلات معلوم ہونے پر) پر پہلے تو مجھے نہایت تعجب اور حیرانگی ہوئی اور پھر مجھے ��س حقیقت تک پہنچنے میں کچھ زیادہ وقت نہیں لگا کہ میری پرتشدد گرفتاری سے جلاؤ گھیراؤ اور پھر نازیوں کے سے انداز میں (تحریک انصاف کیخلاف) کریک ڈاؤن تک کا پورا ڈرامہ ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت رچایا گیا۔
اس صحافی کی یہ ویڈیو اس سب کی مکمل تصدیق کرتی ہے۔
یہی وجہ ہے کہ میں نے روزِ اوّل سے اس واقعے کی آزادانہ تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
“All means of removing me from the political landscape were used. There were two assassination attempts on my life.” @ImranKhanPTI writes from prison that his party is being unfairly muzzled, in a guest essay for The Economist https://t.co/fjxBaqJ87B
وزیر اعلیٰ سہیل آفریدی کو چکری قیام و طعام میں پارٹی کارکن کی طرف سے منفرد تحفہ۔
ایسے نوٹ تحفے میں دیئے جن کے آخر میں 804 آتا ہے۔
پاکستانیوں کی اپنے کپتان اور اسکے کھلاڑی کے ساتھ پیار کی انتہا ہے۔
#Pakistan: Imran Khans solitary confinement and inhumane detention conditions must end - UN expert. Prolonged or indefinite solitary confinement is prohibited under int'l human rights law – and when it extends longer than 15 days, it's a form of #torture.
https://t.co/m2Re8Yhyc0
کل ہی امن تحریک کے ساتھی��ں کو پیغام دیا تھا کہ ہم بھلے اپنے علاقوں میں لاکھوں کی تعداد میں نکلیں لیکن ڈالری جنگ کی خواہش رکھنے والے آپریشن کا ارادہ کر چکے ہیں، انہوں نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ایک دفعہ پھر ہمارے لوگوں کو بے گھر کرنا ہے اور اسی آڑ میں ہمارے وسائل پر قبضہ کرنا ہے لہذا ہمیں اب پرامن مارچ کا رخ اسلام آباد کی طرف کرنے کے لیے جرگہ بلانا ہے، اور آج تیرہ میں نہتے معصوم لوگوں پر گولیاں چلا دیں گئیں۔۔
آج آپ کو یہ بھی اطلاع دے دوں کہ پانچ ماہ قبل خی��ر، تیرہ اور شمالی وزیرستان میں آپریشن کا فیصلہ ہوچکا ہے جس کی صوبائی حکومت اپنے صوبے کے حالات اور عمران خان کے پالیسی کے مطابق اجازت نہیں دے رہی لہذا اس مقصد کے حصول کے لیے اگلے ایک آدھ ماہ میں اراکین صوبائی اسمبلی کو نااہل کرکے حکومت تبدیلی کا بھی فیصلہ کیا گیا ہے کیونکہ عالمی طاقتوں سے پختونخواہ کے وسائل کے حوالے سے کی گئی کمیٹمنٹ اور قبضے پر کوئی کمپرمائز نہیں ہوسکتا!
دوسرے مرحلے میں خیبر اور وزیرستان کے بعد باجوڑ، مہمند اور ملحقہ علاقوں میں بھی اس ڈالری جنگ کو پھیلایا جائے گا اور چونکہ مالاکنڈ ریجن ہماری تحریک کے بعد سے نسبتاً پرامن ہے لہذا باجوڑ سے ملحقہ ضل�� مالاکنڈ میں ٹارگٹڈ آپریشن کے نام پر سرگرمیاں شروع ہوچکی ہیں۔ ملاکنڈ کے عوام کے لیے بھی پیغام ہے کہ جو خطرہ ٹل چکا تھا وہ پھر سے آپ کے سروں پر منڈلا رہا ہے، اگلے ہفتے سے آپ بھی سڑکوں پر نکلنے ک�� تیاری کریں۔
خیبر پختونخوا کو تو سمجھ آگئی ہے لیکن اپنے باقی ہم وطنوں کو بتانا چاہتا ہوں کہ آپ بھی دیکھ لیں کہ ریاست کے نام پر قابض مافیہ کیسے خون کی ہولی کھیل رہا ہے۔ کیا اب بھی آپ میں سے کسی کو شک ہے کہ یہ کھیل کون اور کس لیے کھیل رہا ہے؟ اب بھی کوئی شک ہے کہ ۲۰۲۲ میں دہشت گردوں کو کس مقصد سے واپس لانے کا پلان بنا؟ سرحد پر باڑ کے باوجود، وہ قافلوں کی شکل میں تشکیل کرتے رہے، ہم نے آواز اٹھائی، شور مچایا لیکن اس کو آئی ایس پی آر اور وزارت داخلہ نے پروپیگنڈا قرار دیا۔۔ کیا ہماری ہر بات درست ثابت نہیں ہوئی؟ مجبوراً ہم نے عوام کو کال دی اور عوامی طاقت سے اپنا امن حاصل کیا تو ریاست کو یہ بھی ناگوار گزرا، ”رینک اینڈ فائل“ کی جانب سے شدید غم و غصے کا اظہار کیا گیا۔ کیا تب ہم نے نہیں کہا تھا کہ اب پروپیگنڈا قرار دیا جا رہا ہے پھر دہشت گردی کی بریکنگ نیوز اور پھر آپریشن کا ماحول بنایا جائے گا؟ پھر ہمیں ہی ہمارے گھروں سے بے گھر کیا جائے گا اور وہی ڈالری کھیل رچایا جائے گا، کیا یہ سب درست ثابت نہیں ہوا؟ پھر نگران حکومت کے دوران ان کی آباد کاری کا آغاز ہوا اور مینڈیٹ چوری اور نئے الیکشن کے بعد سے آپریشن کا راگ الاپا جانے لگا؛ وہی اولڈ پلے بک جو چار دہائیوں سے جاری ہے۔ اور بے شرمی کا یہ عالم ہے کہ پختونخواہ کے بچے بچے کو اس بات کا علم ہے لیکن بجائے اس کے کہ ڈالری جنگ وسائل پر قبضے اور ریلیونٹ رہنے کے لیے ہماری زندگیوں سے کھیلنا بند کر دیں الٹا ہماری لاشوں پر بیانیے بنائے جاتے ہیں۔ اس پہ حکم کے لاشیں اٹھاؤ، بے گھری سہو، اُف تک نہ کرو کہ ہماری توہین ہوج��تی ہے۔۔
اگر کسی نے اس پورے کھیل کو سمجھنے کی کوشش کرنی ہے تو رجیم چینج سے لے کر ابھی تک میری تمام ٹویٹس، ویڈیو پیغامات، اور امن تحریک کی تقاریر دیکھیں اور سنیں جو جو کہا تھا ایک ایک لفظ بدقسمتی سے سچ ثابت ہو رہا ہے مگر وٹس ایپ سے مینج ہونے والا میڈیا ایشوز اور ایونٹس پر فوجی پیغامات کے مطابق صرف ریکٹ کرتا رہا اور فوجی قیادت نے حالات اتنے خراب کر دیے کہ اب اس گند کو سمیٹنے میں نا جانے کتنا وقت اور کتنی جانیں قربان ہونی ہیں۔
میں آج اپنے امن کے سفیروں اور سالاروں کو بھی پیغام دیتا ہوں کہ کل میں نے جو پیغام بھیجا تھا اس کے مطابق جرگہ بلائیں، جب یہ ہمیں گھروں سے نکال کر کیمپوں میں بھیجنے کا فیصلہ کر ہی چکے ہیں تو تب نکلنے کے بجائے آج نکل کر اپنا امن حاصل کریں۔ تمام اضلاع کے جرگے مشترکہ طور پر ایک گرینڈ قومی جرگہ بلائیں (اس کے لئے میں نے کوارڈنیٹرز منتخب کر دیے ہیں ان کے نام ٹویٹ میں لکھ کر ان کے لیے مزید مشکلات پیدا نہیں کر سکتا کیونکہ پہلے ہی ڈرون کے خلاف ریاست کا جھوٹ بے نقاب کرنے پر ڈاکٹر امجد مشکل میں، ڈاکٹر حمید اور گل ظفر کے گھر پر بم حملہ ہوچکا،مہمند، خیبر، وزیرستان، لکی، بنوں،کرم اورکزئی کے دوست مشکل میں اور امن کے ساتھی شہید ہو رہے ہیں)۔
آخری بات، صوبائی حکومت سے بھی اپیل ہے کہ جیسے کچھ دن پہلے آپ نے بھی وہی باتیں کیں جو ہم کرتے آرہے ہیں آپ بھی آپریشن کے خلاف ہیں اور اگر آپ کو بھی بائی پاس کرکے یہ ظلم ہو رہا ہے تو آپ بھی اس قومی جرگہ کا حصہ بنیں اور ہمارے ساتھ اسلام آباد کا رخ کریں۔
“میں تمام عمر بھی جیل میں رہنے کو تیار ہوں لیکن ظلم و جبر کے آگے جھکنے کا سوال پیدا نہیں ہوتا۔ پاکستانی قوم کو بھی یہی پیغام دیتا ہوں کہ کسی صورت جبر کے اس نظام کے سامنے نہ جھکیں۔
مذاکرات کا وقت اب گزر چکا ہے، اب صرف قوم کے احتجاج کا وقت ہے۔
پچھلے کچھ روز سے جیل میں مجھ پر سختیاں مزید بڑھا دی گئی ہیں۔ میری اہلیہ بشرٰی بیگم پر بھی سختی کا دائرہ کار بڑھا دیا گیا ہے۔ ان کے سیل میں جو ٹی وی موجود تھا وہ بھی بند کروا دیا گیا ہے۔ میرے اور میری اہلیہ کے تمام انسانی اور قیدیوں کو دئیے جانے والے حقوق معطل ہیں- جس کا حساب ہونا چاہیئے۔
مجھے معلوم ہے کہ ایک کرنل اور جیل سپرنٹنڈنٹ انجم، یہ سب کچھ عاصم منیر کے کہنے پر کروا رہے ہیں۔
اپنی پارٹی کو واضح ہدایت کرتا ہوں کہ اگر مجھے جیل میں کچھ ہوا تو اس کا حساب عاصم منیر سے لیا جائے۔
بشری بیگم پر ظلم اس لیے کیا جا رہا ہے کیونکہ میرے دور میں جب عاصم منیر کو عہدے سے ہٹایا گیا تو انہوں نے زلفی بخاری کے ذریعے بشرٰی بیگم کو ملاقات کا پیغام بھ��جا تھا، جسے بشریٰ بیگم نے ٹھکرا دیا تھا۔ اسی لیے عاصم منیر نے ان پر سختیاں رکھی ہوئی ہیں۔ شروع دن سے ہی ان کی کوشش ہے کہ بشری بیگم پر سختی کر کے مجھے توڑا جا سکے۔
جس جیل میں مجھے رکھا ہوا ہے وہاں سینکڑوں پاکستانیوں کے قاتل اور دہشتگرد بھی مجھ سے بہتر حالت میں رہ رہے ہیں- ایک فوجی رضوان کو شان و شوکت سے رکھا ہوا ہے لیکن مجھ پر ہر طرح کا ظلم جاری ہے۔ یہ جو بھی کر لیں اس ظلم کے آگے نہ میں پہلے جھکا تھا نہ ہی اب جھکوں گا۔
پنجاب میں پچھلے دو سال سے مریم نواز اور محسن نقوی کے زیر سایہ جبر و فسطائیت کا جو ماحول ہے اس نے جمہوریت اور سیاسی سرگرمیوں کا خاتمہ کر رکھا ہے۔ تمام ممبران اسمبلی کا قافلے کی صورت میں پنجاب آ کر سیاسی اجتماع کرنا خوش آئیند ہے-
اس وقت مجھ سمیت کئی افراد سخت ترین جیلیں کاٹ رہے ہیں اس لیے پارٹی کا ہر شخص اپنے ذاتی اختلافات کو مکمل طور پر نظر انداز کرے، میڈیا کے سامنے اپنے ذاتی اور اندرونی معاملات کو زیر گفتگو لانا کسی طور قابل قبول نہیں ہے۔ میری سختی سے ہدایات ہیں کہ پارٹی میں بڑے سے بڑا عہدیدار یا چھوٹے سے چھوٹا رکن یا ذمہ دار سوشل میڈیا، الیکٹرانک میڈیا، پرنٹ میڈیا یا کسی بھی اور فورم پر پارٹی کے اندرونی معاملات یا اختلافات کا اظہار مت کرے۔ اپنی ساری توجہ صرف اور صرف احتجاجی تحریک پر رکھیں تاکہ ملک میں انسانی حقوق کی بحالی ��مکن ہو سکے۔ اگر کسی ذمہ دار نے اس احتجاجی تحریک میں حصہ نہ لیا پھر اس کا فیصلہ میں جیل سے خود کروں گا۔
تمام پارٹی ممبران اور عہدیداران کو ہدایت کرتا ہوں میرے ٹوئیٹر پیغامات کو خود ریٹویٹ بھی کریں اور زیادہ سے زیادہ افراد تک میرے یہ پیغامات پہنچائیں-
سینیٹ کی ٹکٹوں کے حوالے سے پارٹی باہمی مشاورت سے فیصلہ کرے۔”
سابق وزیراعظم عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلاء اور اہل خانہ سے گفتگو (15 جولائی 2025)
میرے والد، سابق وزیرِ اعظم عمران خان، اب جیل میں 700 دن سے زیادہ قید کاٹ چکے ہیں- اُنہیں اپنے وکلا تک رسائی نہیں دی جا رہی، اہلِ خانہ سے ملاقات کی اجازت نہیں، ہم بچوں سے مکمل طور پر کٹ چکے ہیں، اور ذاتی معالج تک کو ملاقات سے روکا جا رہا ہے۔ یہ انصاف نہیں، بلکہ ایک سوچا سمجھا منصوبہ ہے کہ ایک ایسے شخص کو تنہا کیا جائے اور توڑا جائے جس نے ہمیشہ قانون کی حکمرانی، جمہوریت، اور پاکستان کے لیے آواز بلند کی.
My father, former Prime Minister Imran Khan, has now spent over 700 days in prison - held in solitary confinement. He is denied access to his lawyers, not allowed visits from his family, fully cut off from us (his children), and even his personal doctor is refused entry. This is not justice. It is a deliberate attempt to isolate and break a man who stood for rule of law, democracy, and Pakistan.
Imran Khan is Isolated!
Over the past 8 months, Imran Khan has been subjected to increasing isolation in Adiala Jail.
1. Imran Khan has not been allowed to speak to his sons for the past six months, despite jail regulations allowing weekly calls. This continued denial is both inhumane and unlawful.
2. Over the past month, the jail authorities have refused to provide him the books we submitted , a clear attempt to cut him off intellectually and spiritually.
3. For the past eight months, as head of the largest political party in Pakistan, Imran Khan has been barred from meeting his party members. He is being denied his constitutional right to political consultation and leadership.
4. Imran Khan has been denied proper access to his legal team for several weeks. On Tuesday, July 1, his lawyer Zaheer Abbas was granted only 95 seconds to consult with him , an utter mockery of due process.
5. Our family has been blocked from meeting Imran Khan for several months. For the past three months, my sisters and I arrive at Adiala, only to be stopped several kilometers before the prison by Punjab Police. Volunteers stand with us at these roadblocks. We then walk 1.5 km to the next blockade. After hours of waiting, only Dr. Uzma Khan and Noreen Niazi are allowed to briefly see their brother. What used to be a half-hour visit has now been reduced to just 15 minutes , for the past four Tuesdays.
6. For the past ten months, Imran Khan’s doctors ( Dr. Faisal Sultan and Dr. Aasim Yusaf ) have not been allowed to examine him. His health is being put at risk by the continued denial of essential medical care.
We have been told that this extreme isolation is being enforced on the instructions of Maryam Nawaz, not the colonel controlling Adiala. The jail lies in Punjab, where a 17-seat PML-N government is so fearful that it has blocked all access to Imran Khan. They fear any information going in or coming out.
Insha’Allah, we will continue to bring out Imran Khan’s complete message until he is freed from this illegal incarceration and once again leads his people.
“Loss of human life in Pahlgam incident is deeply disturbing and tragic. I extend my deepest condolences to the victims and their families.
When the False Flag Palwama Operation incident happened, we offered to extend all-out cooperation to India but India failed to produce any concrete evidence. As I predicted in 2019, the same is happening again after Pahlgam incident. Instead of introspection and investigation, Modi Sarkar is again placing the blame on Pakistan.
Being a country of 1.5 billion people, India needs to act responsibly instead of messing with a region already known as “nuclear flashpoint.” Peace is our priority but it should not be mistaken as cowardice. Pakistan has got all the capabilities to give a befitting response to any Indian misadventure, as My Government, backed by whole nation, did in 2019.
I have always emphasized the importance of the Kashmiris’ right to self-determination, as guaranteed by United Nations resolutions.
I have also been highlighting the fact that India led by RSS ideology is a grave threat, not only to the region but beyond it. Indian oppression in Kashmir, intensified after the illegal abrogation of Article 370, has further fueled the Kashmiri people’s desire for freedom.
Sadly, the nation has been divided by an illegitimate government imposed through fraudulent Form-47 results. And yet, ironically, Narendra Modi’s aggression has united the people of Pakistan in one voice against Indian hostility. While we reject this fake regime, we stand firmly as one Pakistani nation and strongly condemn Modi's war-mongering and his dangerous ambitions that threaten regional peace.
Needless to say, to win the war against an external enemy, the nation must first be united. It is high time to put a halt to all actions that are further polarizing the nation. The state’s excessive focus on political victimisation at this critical time is deepening internal divisions and undermining the nation’s collective ability to confront external threats.
It is naive to expect any strong stance from self-serving figures like Nawaz Sharif and Asif Zardari. They will never speak out against India because their illegal wealth and business interests lie abroad. They profit from foreign investments, and to protect those financial interests, they remain silent in the face of foreign aggression and baseless allegations against Pakistan. Their fear is simple: that Indian lobbies might freeze their offshore assets if they dare to speak the truth.”
Illegally incarcerated Former Prime Minister of Pakistan Imran Khan’s discussion with the lawyers in Adiala Jail Rawalpindi (29-04-2025)
I am making absolutely clear to the int community that if India was to be reckless enough to conduct a false flag operation against Pakistan, it would confront a strong national Pakistani resolve & be given a befitting response at all levels of the threat. Make no mistake.
سابق وزیراعظم و چئیرمین تحریک انصاف عمران خان کی اڈیالہ جیل میں وکلأ سے گفتگو:
چھبیسویں آئینی ترمیم پر تحریک انصاف کے جو تحفظات تھے وہ درست ثابت ہو رہے ہیں۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ آج انصاف کا نظام مکمل طور پر مفلوج ہو چکا ہے۔ انصاف کی فراہمی تو دور ہمارے کیس عدالتوں میں ہی نہیں لگ رہے۔ ملک میں آئین و قانون کی بےحرمتی عام ہو چکی ہے، عدالتی فیصلوں کی دھجیاں اڑائی جا رہی ہیں۔ یہ اس بڑھتی لاقانونیت ہی کا نتیجہ ہے کہ آج ملک میں سرمایہ کاری صفر ہے۔
اس حوالے سے میں نے قانونی کمیٹی اور پارلیمنٹ میں موجود سینئیر وکلاء کو کہا ہے کہ وہ ایک جامع پریس کانفرنس کریں اور بتائیں کہ 26ویں آئینی ترمیم کے حوالے سے ہمارے خدشات کیسے درست ثابت ہو رہے ہیں۔ میں نے سیکرٹری جنرل تحریک انصاف، سلمان اکرم راجہ کو کہا ہے کہ میرے کارکنان، میرے خاندان اور بشریٰ بی بی کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں پر چیف جسٹس آف پاکستان کو فوری طور پر ایک مفصل خط لکھیں۔ ان کا آئینی منصب انہیں اس ملک میں آئین و قانون کی پاسداری کا محافظ بناتا ہے۔ اس لاقانونیت پر اگر آج وہ خاموش ہیں تو کل قانون شکنی کی یہ ذمہ داری کس کے سر جائے گی؟ مجھے افسوس ہے کہ میرے پارٹی ارکان، رفقأ، وکلاء اور میرے اہل خانہ تک کو مجھ سے بات کرنے کی اجازت نہیں دی جا رہی۔
نو مئی کے مقدمات، سیاسی مقدمات ہیں اور تحری��ک انصاف سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنانے کے لئے CCTV فوٹیجز غائب کر دی گئی ہیں۔ میرا پہلے دن سے مطالبہ ہے کہ نو مئی سے متعلق CCTV فوٹیجز سامنے لائی جائیں تاکہ دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی ہو سکے۔
تحریکِ انصاف کو کرش کرنے کے لئے ملک میں تمام اداروں کو تباہ کر دیا گیا ہے۔ عدلیہ، پارلیمنٹ، پولیس، ایف آئی اے سمیت تمام ادارے اپنی افادیت کھو چُکے ہیں۔
ملک میں دہشتگردی کے بڑھتے واقعات اور قیمتی جانوں کا زیاں نہایت افسوسناک ہے۔ ہماری حکومت نے پہلے ہی اس خطرے کو بھانپ کر افغان حکومت سے سفارتی بات چیت کا آغاز کیا تھا تاکہ دہشتگردی کا راستہ روکا جا سکے۔ مگر موجودہ حکو��ت نے اقتدار پر قبضے کے بعد اس مسئلے کو انتہائی غیر سنجیدگی سے لیا اور اس حوالے سے افغان حکومت سے بات چیت میں بہت دیر کر دی ہے۔ اسی بےحسی کے باعث آج ایک بار پھر ملک دہشتگردی کی لپیٹ میں ہے- خیبر پختونخوا حکومت کو افغان حکومت سے بات کرنے کی اجازت دی جائے کیونکہ دہشتگردی کی وجہ سے وہ بحیثیت صوبہ بہت متاثر ہورہے ہیں۔
میں مائنز اینڈ منرلز بل پر واضح کر چکا ہوں کہ جب تک علی امین گنڈاپور، سیاسی رفقاء اور خیبرپختونخواہ کی قیادت مفصل بریفنگ نہیں دیتے اس پر ہرگز کوئی پیشرفت نہیں ہوگی۔
خیبرپختونخواہ میں دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات نہایت سنگین اور تشویشناک صورتحال اختیار کر چکے ہیں۔ روزانہ پولیس کے بہادر جوانوں کو ٹارگٹ کر کے شہید کیا جا رہا ہے اور بدقسمتی سے ہمارا میڈیا اس اہم مسئلے کو وہ توجہ نہیں دے رہا جو اس کا تقاضا ہے۔ یہ صرف خیبرپختونخواہ کی صوبائی حکومت کی نہیں بلکہ بنیادی طور پر وفاقی حکومت کی آئینی و ریاستی ذمہ داری ہے کہ وہ ملک میں امن و امان اور شہریوں ��ے جان و مال کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
افغان مہاجرین کے معاملے کو بھی بری طرح مس ہینڈل کیا جا رہا ہے- افغانستان کے خلاف اپنائی جانے والی موجودہ پالیسی سے نفرت کو مزید ہوا ملے گی اور دہشتگردی میں مزید اضافہ ہو گا۔ میں خیبر پختونخوا حکومت کو ہدایت کرتا ہوں کہ افغان مہاجرین کو ملک سے زبردستی اور عجلت میں بےدخل کرنے کے معاملے پر صوبائی اسمبلی میں قرارداد لا کر بح�� شروع کروائی جائے-“
23 April 2025: 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐫𝐞𝐦𝐚��𝐧𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐢𝐥𝐲 𝐝𝐞𝐭𝐚𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐟𝐨𝐫 627 𝐝𝐚𝐲𝐬.
🚨The authoritarian military regime, under General Asim Munir, has kept 𝑰𝒎𝒓𝒂𝒏 𝑲𝒉𝒂𝒏 𝒊𝒍𝒍𝒆𝒈𝒂𝒍𝒍𝒚 𝒊𝒏𝒄𝒂𝒓𝒄𝒆𝒓𝒂𝒕𝒆𝒅 𝒖𝒏𝒅𝒆𝒓 𝒄𝒐𝒏𝒅𝒊𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔 𝒘𝒉𝒊𝒄𝒉 𝒗𝒊𝒐𝒍𝒂𝒕𝒆 𝑼𝒏𝒊𝒕𝒆𝒅 𝑵𝒂𝒕𝒊𝒐𝒏𝒔’ 𝑵𝒆𝒍𝒔𝒐𝒏 𝑴𝒂𝒏𝒅𝒆𝒍𝒂 𝒓𝒖𝒍𝒆𝒔: incommunicado for weeks at a time, solitary confinement, no electricity, no sunlight, suspect food, no medical aid, no basic facilities🚨
“The military establishment has done all they could against me. 𝐀𝐥𝐥 𝐭𝐡𝐚𝐭 𝐢𝐬 𝐥𝐞𝐟𝐭 𝐟𝐨𝐫 𝐭𝐡𝐞𝐦 𝐢𝐬 𝐭𝐨 𝐧𝐨𝐰 𝐦𝐮𝐫𝐝𝐞𝐫 𝐦𝐞.” - Imran Khan, 2 May 2024
“They all know that all cases against me will be thrown out so 𝐭𝐡𝐞𝐲 𝐰𝐚𝐧𝐭 𝐭𝐨 𝐭𝐚𝐤𝐞 𝐦𝐞 𝐭𝐨 𝐦𝐢𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐨𝐮𝐫𝐭𝐬.” - Imran Khan, 21 August 2024
“The ISI controls all administrative matters related to my imprisonment. I’m saying it again: 𝐢𝐟 𝐚𝐧𝐲𝐭𝐡𝐢𝐧𝐠 𝐡𝐚𝐩𝐩𝐞𝐧𝐬 𝐭𝐨 𝐦𝐞, 𝐭𝐡𝐞 𝐀𝐫𝐦𝐲 𝐂𝐡𝐢𝐞𝐟 𝐚𝐧𝐝 𝐃𝐆 𝐈𝐒𝐈 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐛𝐞 𝐫𝐞𝐬𝐩𝐨𝐧𝐬𝐢𝐛𝐥𝐞.” - Imran Khan, 26 August 2024
“𝐈 𝐚𝐦 𝐤𝐞𝐩𝐭 𝐢𝐧 𝐬𝐨𝐥𝐢𝐭𝐚𝐫𝐲 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐦𝐞𝐧𝐭. My cell heats up like an oven. 𝐈 ���𝐦 𝐧𝐨𝐭 𝐚𝐥𝐥𝐨𝐰𝐞𝐝 𝐭𝐨 𝐬𝐩𝐞𝐚𝐤 𝐰𝐢𝐭𝐡 𝐦𝐲 𝐜𝐡𝐢𝐥𝐝𝐫𝐞𝐧. I have the same facilities that an inmate on death row has.” - Imran Khan, 4 September 2024
“𝐓𝐡𝐞𝐲 𝐩𝐥𝐚𝐧 𝐭𝐨 𝐟𝐢𝐧𝐢𝐬𝐡 𝐦𝐞 𝐨𝐟𝐟 𝐟𝐨𝐥𝐥𝐨𝐰𝐢𝐧𝐠 𝐭𝐡𝐞 𝐬𝐚𝐦𝐞 𝐩𝐚𝐭𝐭𝐞𝐫𝐧 𝐚𝐬 𝐭𝐡𝐞𝐲 𝐝𝐢𝐝 𝐭𝐨 𝐌𝐨𝐫𝐬𝐢 𝐢𝐧 𝐄𝐠𝐲𝐩𝐭.” - Imran Khan, 10 September 2024
“𝐈 𝐰𝐚𝐬 𝐭𝐨𝐫𝐭𝐮𝐫𝐞𝐝 𝐛𝐲 𝐛𝐞𝐢𝐧𝐠 𝐜𝐨𝐧𝐟𝐢𝐧𝐞𝐝 𝐢𝐧 𝐚 𝐜𝐚𝐠𝐞 𝐚𝐧𝐝 𝐭𝐫𝐞𝐚𝐭𝐞𝐝 𝐰𝐨𝐫𝐬𝐞 𝐭𝐡𝐚𝐧 𝐚𝐧𝐢𝐦𝐚𝐥𝐬. Electricity to my cell was shut off for five days. I was confined to the cell for ten days. For several weeks, any visits by family members, doctors, or lawyers were blocked.” - Imran Khan, 29 October 2024
“I will never accept this dictatorship, and I am prepared to remain in a prison cell for as long as it takes in the struggle against this tyranny. 𝐈 𝐰𝐢𝐥𝐥 𝐧𝐨𝐭 𝐜𝐨𝐦𝐩𝐫𝐨𝐦𝐢𝐬𝐞 𝐨𝐧 𝐦𝐲 𝐩𝐫𝐢𝐧𝐜𝐢𝐩𝐥𝐞𝐬 𝐨𝐫 𝐭𝐡𝐞 𝐟𝐢𝐠𝐡𝐭 𝐟𝐨𝐫 𝐭𝐡𝐞 𝐭𝐫𝐮𝐞 𝐟𝐫𝐞𝐞𝐝𝐨𝐦 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧.” - Imran Khan, 17 January 2025
The #UNReportOnImranKhan released in June 2024 states:
“𝐓𝐡𝐞 𝐝𝐞𝐩𝐫𝐢𝐯𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐥𝐢𝐛𝐞𝐫𝐭𝐲 𝐨𝐟 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐀𝐡𝐦𝐚𝐝 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐍𝐢𝐚𝐳𝐢… 𝐢𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐲 𝐚𝐧𝐝 𝐟𝐚𝐥𝐥𝐬 𝐰𝐢𝐭𝐡𝐢𝐧 𝐜𝐚𝐭𝐞𝐠𝐨𝐫𝐢𝐞𝐬 𝐈, 𝐈𝐈 𝐚𝐧𝐝 𝐈𝐈𝐈.
The Working Group concludes that 𝐡𝐢𝐬 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐡𝐚𝐝 𝐧𝐨 𝐥𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐛𝐚𝐬𝐢𝐬 𝐚𝐧𝐝 𝐚𝐩𝐩𝐞𝐚𝐫𝐬 𝐭𝐨 𝐡𝐚𝐯𝐞 𝐛𝐞𝐞𝐧 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐧𝐝𝐞𝐝 𝐭𝐨 𝐝𝐢𝐬𝐪𝐮𝐚𝐥𝐢𝐟𝐲 𝐡𝐢𝐦 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐫𝐮𝐧𝐧𝐢𝐧𝐠 𝐟𝐫𝐨𝐦 𝐩𝐨𝐥𝐢𝐭𝐢𝐜𝐚𝐥 𝐨𝐟𝐟𝐢𝐜𝐞.
…Government of Pakistan to take the steps necessary to remedy the situation of Mr. Khan without delay and bring it into conformity with the relevant international norms…
…appropriate remedy would be to 𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐌𝐫. 𝐊𝐡𝐚𝐧 𝐢𝐦𝐦𝐞𝐝𝐢𝐚𝐭𝐞𝐥𝐲 and accord him an enforceable right to compensation and other reparations, in accordance with international law.”
- https://t.co/NsiJ7oHLIU
Amnesty International’s statement on 11 September 2024:
“A year on from Imran Khan’s conviction and sentencing, Amnesty International has found 𝐬𝐞𝐯𝐞𝐫𝐚𝐥 𝐟𝐚𝐢𝐫 𝐭𝐫𝐢𝐚𝐥 𝐯𝐢𝐨𝐥𝐚𝐭𝐢𝐨����𝐬 𝐮𝐧𝐝𝐞𝐫 𝐢𝐧𝐭𝐞𝐫𝐧𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧𝐚𝐥 𝐡𝐮𝐦𝐚𝐧 𝐫𝐢𝐠𝐡𝐭𝐬 𝐬𝐭𝐚𝐧𝐝𝐚𝐫𝐝𝐬 𝐰𝐡𝐢𝐜𝐡 𝐡𝐚𝐯𝐞 𝐫𝐞𝐬𝐮𝐥𝐭𝐞𝐝 𝐢𝐧 𝐡𝐢𝐬 𝐚𝐫𝐛𝐢𝐭𝐫𝐚𝐫𝐲 𝐝𝐞𝐭𝐞𝐧𝐭𝐢𝐨𝐧, denying his right to liberty.
We have noted a pattern of 𝐰𝐞𝐚𝐩𝐨𝐧𝐢𝐳𝐚𝐭𝐢𝐨𝐧 𝐨𝐟 𝐭𝐡𝐞 𝐥𝐞𝐠𝐚𝐥 𝐬𝐲𝐬𝐭𝐞𝐦 to keep Imran Khan under detention and away from all political activity.
Amnesty International calls on the Pakistani authorities to 𝐢𝐦𝐦𝐞𝐝𝐢𝐚𝐭𝐞𝐥𝐲 𝐫𝐞𝐥𝐞𝐚𝐬𝐞 𝐈𝐦𝐫𝐚𝐧 𝐊𝐡𝐚𝐧 from arbitrary pre-trial detention.”
- https://t.co/jUnbKDeb4k
#FreeImranKhan
معیشت؛ اصلی حقائق بمقابلہ عسکری۔۔
پاکستان میں معاشرتی اور معاشی بحران سنگین نوعیت کے ہو چکے ہیں جن کو سینسر شدہ میڈیا پر دبا دیا گیا ہے۔ لیکن یہ بحران اب ہر گھرانے کو اثر کر رہیں ہیں۔ پاکستان کی معیشت زراعت اور صنعت سے وابستہ ہے۔ زراعت میں مسلسل دوسرے سال کسان شدید نقصان میں ہے۔ حکومت نے پرائس سپورٹ کی پاکیسی کو یک دم ختم کر دیا۔ بہتر ہوتا کے یہ transition ایک منصوبہ بندی کے ساتھ ہوتی کیونکہ گندم کا تیس فیصد کا خریدار جب منڈی سے ایک دم غائب ہوتا ہے تو قیمت کریش کر��ی ہے۔ گندم سب سے بڑی فصل ہے اور نجی شعبہ اس کی absorption اور logistics کے لئے ایک ہی سال میں تیار نہیں ہو سکتا تھا۔ اوپر سے حکومت نے اپنی گندم جو پہلے سے ان کے پاس تھی اس کو بھی منڈی میں بیچنا شروع کر دیا۔ نتیجہ یہ نکلا کے پچھلے سال سے کم پیداوار کے باوجود آج گندم کی قیمت پہلے سے بھی کم ہے۔ اگر حساب لگایا جائے تو موجودہ قیمت پر کسان کو اوسطاً چالیس ہزار روپے فی ایکر کا نقصان اٹھانا پڑے گا۔ لاکھوں گھرانے مقروض ہوں گے اور غربت کی لکیر سے نیچے چلے جائیں گے۔
اب آئیں صنعت کی طرف۔ حلومت کے اپنے اعداد و شمار کے مطابق پچھلے دو سال سے بڑے درجے کی صنعت سکڑ رہی ہے۔ اس کا کچھ تعلق تو زراعت کی تباہی سے بھی ہے کیونکہ جب اکثریت گھرانوں کی آمدن ہی زرعی معیشت کی تباہی کی وجہ سے ختم ہو گئی تو صنعتی مال کا گاہک بھی مارکیٹ سے نکل گیا۔ باقی معاملہ بجلی کے نرخ کا ہے جو پچھلے تین سال میں تین گنا بڑھ گیا۔ بیکنوں نے بھی صنعت کی بجائے حکومت کو قرض دینے کوترجیح دی اور private sector credit offtake بھی منفی ہو گیا۔ یہ ہی وجہ ہے کے شرح سود میں کمی کے باعث صنعتی ترقی پر اس ��ا کوئی قرق نہیں پڑا۔ سٹاک ایکسینج کی بات ہوتی ہے لیکن وہ تو مہنگائی ، روپے کی قدر میں ریکارڈ کمی اور بینکوں کے منافع کے زور پر اوپر گئی اور سوائے دو تین لاکھ لوگوں کے کو active investors ہیں کسی کو اس کا فائدہ نہیں۔
ورلڈ بینک کے مطابق پچھلے تین سال میں کڑوروں لوگ پاکستان میں غربت کی لکیر سے نیچے جا چکے ہیں۔ ریٹنگ ایجنسیز تو ہر آئی ایم ایف پروگرام کے بعد کچھ بہتری دکھاتی ہیں لیکن ان کابنیادی پیمانہ صرف ملک کی قرضہ واپس کرنے کی صلاحیت سے تعلق رکھتا ہے چاہے اس کی قیمت عوام کی بدحالی اور معیشت کا پہیا جام ہو جانا ہی کیوں نا ہو۔
حکومت معمولی سی تین فیصد معاشی ترقی پر ڈھول بجا رہی ہے لیکن یہ اعداود و شمار بھی جھوٹ پر مبنی ہے۔ معاشی ترقی کا نمبر نکالنے کے لئے حکومت ہر شعبی میں ترقی کی رفتار دیکھتی ہے۔ لیکن کچھ شعبے ایسے ہوتے ہیں جہاں براہ راست data میسر نہیں ہوتا لہازا اندازے سے فرضی نمبر لکھے جاتے ہیں مثلاً livestock اور چھوٹے درجے کی صنعت۔ نون لیگ کا پرانا وتیرہ ہے کے اپنے دور میں ان نمبرز کو بڑھا چڑھا کر fudge کیا جاتا ہے اور ماہرین کے مطابق یہ تین فیصد کا نمبر بھی ایسے ہی لیا گیا ہے ورنہ معاشی ترقی کی حقیقی رفتار دو فیصد سے بھی کم ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کے بجلی کی کھپت جو پچھلے سال کم ترین سطح پر تھی اس سال اس سے بھی %2.5 کم ہے پہلے 9 ماہ میں۔ اس کی بنیادی وجہ deindustrialization یعنی صنعتی بیس میں کمی۔
ایسی صورتحال میں کوئی تعجب کی بات نہیں کے ریکارڈ تعداد میں ہنر مند افراد اور سرمایہ دار ملک چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ اس کی وجہ سے تریلات میں تو کچھ اضافہ ہوتا ہے لیکن پاکستان جیسا ملک جو پہلے ہی خطے میں اپنی lowest labor productivity اور ہیومن ریسورس سے جانا جاتا ہے اس کا بحران مزید سنگین ہو گا۔
سینسر شدہ میڈیا پر پراپوگینڈا اپنی جگہ لیکن یہ حقائق اپنی جگہ جو ایک معاشرتی اور معاشی تباہی کا واضھ منظر پیش کر رہیں ہیں۔