مراد سعید کا یہ بیان سانحہ باڑہ میں کلیدی کردار ادا کرنے والے سی سی پی او پشاور میاں سعید احمد، اور ان کے ماتحت دستے کے لئیے ہے۔
«خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں.» مراد سعید
کل کو آپ کی اولاد بھی پوچھے گی: آپ ظالم تو نہیں؟
#گولی_کیوں_چلائی
اصل توجہ طالب معاملات؛
تین سال سے زائد عرصے سے عمران خان جعلی کیسز میں سزا بھگت رہا ہے۔ ۹ مہینے سے عمران خان کو غیر انسانی قیدِ تنہائی میں ڈال رکھا ہے۔ سپریم کورٹ کے حکم کے مطابق اُن کو ان کا بنیادی علاج کا حق نہیں دیا جارہا۔ ان کی اہلیہ، بہنوں، رشتہ داروں کو ناجائز قید کا سامنا ہے۔
پاکستان کی واحد، عوامی منتخب کردہ خیبر پختونخواہ کی حکومت کو اس دہشت گردی کا بہانہ بنا کر معطل کیا گیا جس کی واپسی کے منصوبوں کے متعلق ان کے آرمی چیف سے لے کر وزراء تک کے بیانات موجود ہیں۔ آج اسی کے بہانے پی ٹی آئ کو کرش کیا جارہا ہے۔
۴ کروڑ عوام کا منتخب نمائندہ، ان کا وزیر اعلی لاپتہ اور حبس بے جاء میں ہے۔ صوبائ اسمبلی کے سپیکر سے لے کر وزراء، منتخب نمائندگان، ایک سابق وزیر اعلی اور سیاسی کارکنان اغوا ہیں۔ ان کے عیال کے جان و مال غیر محفوظ ہیں۔
خیبر پختونخواہ کے عوام کی بلی چڑھا کر بیرونی آقاؤں کی خوشنودی مطلوب اور یہاں کی عوام اور ان کے وسائل کا سودا کیا جارہا ہے۔
عاصم منیر اور اس کے حواری ۲۵ کروڑ عوام کے مجرم ہیں۔ ان کی زندگیوں ان کے ملک اور اس کے وسائل کا سودا کرکے اپنی طاقت کو دوام دے رہے ہیں۔ ملک میں آئین و قانون اور بنیادی حقوق معطل ہیں اور بدترین فسطائیت کا دور ہے۔
باقی مافیہ کی تکلیف اور چیخ و پکار بھی بے معنی نہیں ہے، اکتوبر کا مہینہ ہے اور ایک مظلوم کا بہیمانہ قتل چار سال سے انہیں سکون کی نیند سونے نہیں دیتا میں نے تو کہا تھا کہ یہ خون تیزاب بن کر تمہاری رگوں میں اترے گا۔
خیبر پختونخواہ کی پولیس کو غیر سیاسی رکھنا ہمارا فخر تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں سب سے زیادہ قربانیاں ہماری پولیس نے دیں۔ پختونخواہ کے عوام آج بھی اپنی پولیس کی سر کٹی لاشیں، خودکش دھماکوں کے بعد بجلی کے کھمبوں سے ان کے یونیفارم کے ٹکڑے اور اپنی سڑکوں سے ان کے گوشت کے لوتھڑے جمع کرنے کے مناظر بھولے نہیں۔ قابض مافیہ نے جب خیبر پختونخواہ کو دوبارہ آگ میں جھونکنے کا فیصلہ کیا تو ہماری قوم نے اپنی ملک سعد اور صفوت غیور کی وارث پولیس کے شانہ بشانہ کھڑے ہو کر ان کے اس ناپاک منصوبے کو خاک میں ملایا تھا۔ آج عاصم منیر اور اس کی کٹ پتلیوں نے دہشت گردی کا بہانہ استعمال کرکے اپنے ناجائز استعمار کو تقویت دینے کے لیے پولیس کو اپنی عوام کے مقابل کھڑا کر تو دیا ہے۔ مگر اس کا خمیازہ اسی پولیس کو بھگتنا پڑیگا جو ذاتی فوائد، ترقیوں اور تنخواہ کے لیے ان غیر آئینی قوتوں کی آلہ کار بن رہی ہیں۔ کل کو جب ان کے لائے ہوئے دہشت گرد آپ کو اپنی کاروائیوں کا نشانہ بنائیں گے اور عاصم منیر کی فوج ہمیشہ کیطرح آپ کو canon fodder بنائے گی، ایسے میں جب آپ کی پشت پر یہ قوم نہیں ہوگی تو آپ کو احساس ہوگا کہ آپ کی تنخواہیں اور ترقیوں کی کوئ وقعت نہیں۔ باڑہ میں نہتے مظاہرین کس بات پر احتجاج کررہے ہیں جو وہ واجب القتل ہوگئے؟ ان کا منتخب نمائندہ، تمام عمر سے محروم علاقے کا پہلا وزیر اعلی گذشتہ تین دن سے غاصبوں کے ہاتھوں لاپتہ ہے۔ اُس کا جرم اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکار۔۔
آپ میں رتی برابر غیرت ہوتی تو سوال پوچھتے، کسی کی ہمت کیسے ہوئ آپ کی عملدآری میں آ کے آپ کے چار کروڑ عوام کے چیف ایگزیکٹو کو اغوا کرنے کی؟ آپ کی آنکھوں کے سامنے اور آپ سمیت جن کو ایک نئی آگ میں جھونکنے کی سبیل کردی گئی ہے وہ اپنی زندگی کا سوال بھی نا کریں؟ خاموشی سے بے گھری، بے بسی کی موت قبول کرلیں؟
افسوس صد افسوس۔ عاصم منیر اور اس کے حواری تو اپنی طاقت کے لیے ملک کو بیچ چکے۔ آپ کا ہمارا تو جینا مرنا اس ملک کے ساتھ ہے آپ کی اس بے ضمیری کا انجام ہم نے اکیلے نہیں بھگتنا۔ مریں گے آپ بھی ہمارے ساتھ۔ جنازے آپ کے گھروں سے بھی اٹھیں گے۔ یتیم آپ کی اولادیں بھی ہونگی۔ تب اپنے افسران کا گریبان مت پکڑنا۔ خود سے سوال کرنا کہ جن پر آج بندوقیں تھامے کھڑے ہو وہ کس کے حق کا سوال کررہے تھے۔
میرے ملک کے مستقبل کا سوال نہ ہوتا، میرے لوگوں کی زندگیاں داؤ پر نہ لگی ہوتیں تو مجھے اس خدائ کے دعویدار مافیہ کی مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
مئی جون ۲۰۲۲ میں مراد سعید دہشت گردی کے پھیلاؤ کا ریاست مخالف پراپگنڈہ کررہا تھا۔ لوگوں کو اُکسا رہا تھا۔
ارشد شریف پر جعلی ایف آئ آرز انہوں نے کاٹیں، اُس کو ہراساں کرنے ان کے ہرکارے اُس کے گھر تک گئے، قتل انہوں نے کیا۔ مطلوب ہوا مراد سعید۔
عمران خان کے گھر پر ان کے پہ در پہ حملے ناکام ہوئے تو مراد سعید کے لائے شرپسندوں نے زمان پارک میں ڈیرے ڈال رکھے تھے۔
جوڈیشل کمپلیکس میں عمران خان کی زندگی پر حملہ انہوں نے کیا عمران خان کے زندہ بچ نکلنے پہ قصوروار مراد سعید تھا۔ اس لیے وہ درکار تھا، ”زندہ یا مردہ”۔
۹ مئی کو کالر سے گھسیٹ کر تشدد کرکے اغوا عمران خان کو انہوں نے کیا۔ فالس فلیگ انہوں نے کیا۔ ذمہ دار مراد سعید تھا۔
۵ اکتوبر کو وزیر علی امین گنڈاپور لانگ مارچ لے کر آئے، روابط مراد سعید سے تھے۔ (پھر اُسی علی امین گنڈاپور کو ان کے ٹاوٹس یقین دہانیاں کراتے رہے کہ آپ کو وزارت سے ہٹانے کی سازش مراد سعید نے رچائی)۔
۲۶ اکتوبر کو گولی کیوں چلائی کا جواز یہ تھا کہ مراد سعید کنٹینر پر موجود تھا، بلکہ لانگ مارچ کے لیے افغانستان سے ۱۵۰۰ بندہ لے کر آیا تھا۔ وہی مراد سعید جس نے اپنی قوم کو ساتھ ملا کر انہیں مجبور کیا تھا کہ اپنے فوجی ٹرکوں میں، اپنے لائے ہوؤں کو اُس افغانستان چھوڑ کر آئیں جس کے ساتھ بارڈر کی سیکیوریٹی ان کی ذمہ داری تھی۔
عمران خان نے قبائلی نوجوان سہیل آفریدی کو وزیر اعلی نامزد کیا بندوقوں کا رُخ پھر مراد سعید کی جانب ہوگیا۔ روپوش مراد سعید نے جیل میں بیٹھے عمران خان سے اپنے دستِ راست کی منظوری کرالی۔
سہیل آفریدی امیدوں پر پورا نہیں اتر رہا تھا، تو ”عمران خان کو مروانا چاہتا ہے؛ جان نشینی کا طلبگار“؛ مراد سعید
۲۷ ستمبر کے لانگ مارچ کا اعلان ہوا تو ٹاؤٹوں نے جا کے اہل خانہ کو پیغام دیا کہ خان صاحب سے ملاقاتیں نہیں ہوسکتیں کیونکہ مراد سعید کو ان کا پیغام پہنچ جاتا ہے پھر وہ احتجاج پر زور دلواتا ہے۔ یعنی ان کے جائز حقوق چھیننے کا مجرم بھی مُراد سعید۔
خیبر پختونخواہ کے امن کا سودا انہوں نے کیا، یہاں کے وسائل کا اختیار انہیں چاہئیے تھا۔ خان صاحب کی رہائی کے بدلے عوام کے خون کی بلی یہ مانگ رہے تھے۔ مذاکرات ناکام مُراد سعید نے کیے۔
گورنر سے لے کر، وزیر داخلہ، وزیر اطلاعات، سیکٹر کمانڈرز سے لے کر، اُس کے میڈیائی پالتوؤں اور پارٹی کے اندر کے ٹاؤٹوں سے لے کر سوشل میڈیائ گھس بیٹیھوں تک۔ سب کی نااہلیوں، بے غیرتیوں اور غداریوں کے لیے موردِ الزام مراد سعید۔
بات میری قوم کے مستقبل، میرے لوگوں کی زندگیوں کی نا ہوتی تو مجھے آپ خدائ کے دعویداروں کی اس مراد سعید فوبیا پر ہنسی آتی۔
@tayyabarajah دل اداس ہے کیا نصیب پایا ہے ہمارے بچوں نے ۔۔۔۔۔ ہمارے بچے خاموش رہیں تو مارے جائیں گے احتجاج کریں تو مارے جائیں گے ۔۔۔دونوں صورتوں میں ہمارے ہی بچے مارے جائیں گے
As abductions and arrests continue , we demand to know the whereabouts of our leaders from our CM to Speaker, @AbdulKhalidPTI and @JunaidAkbarMNA . It shows you their intent when no one is safe in their own mandated province.
ان کے منہ کو خون لگ چکا ہے اپنے شہریوں پر گولیاں چلانے کی لت پڑ چکی ہے۔ ایک طرف تھوڑ پھوڑ اغوا کا سلسلہ جاری ہے دوسری طرف نہتے شہریوں پر گولیاں برسائی جا رہی ہیں اسی مقصد کے لیے ایمرجنسی لگائی نا کہ انہیں بادشاہ سلامت کی غلامی قبول نہیں تو کچل ڈالو، کرش کر دو۔ دہشت گردوں کو بسانے والے پر امن شہریوں پر ہی گولیاں برسا سکتے ہیں۔ اسی خیبر میں جب صوبائی اسمبلی کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ منعقد ہوا اور امن کے لیے پورا صوبہ سیاسی مذہبی برداری کی تقسیم سے بالاتر ہوکر متحد ہوا تو اگلے دن تم نے ہیلی کاپٹرز بھر کر اینکرز روانہ کیے، خیبر کو دہشت گردی کا مرکز اور پاکستان کے مسائل کا جڑ بنا کر پیش کیا، بیانیہ بنا کر عوام کو نکالنے کا حکم جاری کیا۔ صرف اس لیے کہ اس حلقے سے منتخب پہلا قبائلی وزیراعلی بدنام ہو۔ پورے خیبر نے چیخ چیخ کر کہا کہ برف باری میں کون سا آپریشن، کیوں بے گھر کر رہے ہو، کہاں جائیں گے ہم؟ پھر جب وہ اپنی قوم کے ساتھ کھڑا ہوکر کہنے لگا کہ اب جب تم نے بندوق کی زور پر میری قوم کو نکالا ہے تو میں انہیں اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔ جواباً تم نے پریس کانفرنس کرکے سینہ ٹوک کے کہا، یہ کہتے رہیں کہ آپریشن نہیں ہونے دیں گے، آپریشن تو ہو رہے ہیں۔
پھر کیا ہوا؟ وہی۔ سردیوں میں آپریشن ہونا نہیں تھا، نہیں ہوا۔ عوام بے گھر ہوگئے پھر جب صوبائ حکومت نے زبردستی بے گھر افراد کو ریلیف دیا تو اسی کی لسٹ جاری کرکے کہا کہ صوبائ حکومت نے آپریشن کی حمایت کرلی۔ ان کو بے گھر، برف باری میں بغیر ٹینٹ، بغیر کھانے کے چھوڑ دیتے؟ تم سے ظالم ہیں کیا؟
آج دیکھ لو وہی خیبر عمران خان کے لیے کھڑا ہے تمہارے خلاف اور تم وطن فروش، ضمیر فروش۔ دہشت گردوں کے بجائے اس قوم پر گولیاں برسا رہے ہو۔ کتنے مکار ہو، عیار ہو، غدار ہو تم!
آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
Now, as Pakistanis have taken to the streets to protest my father’s release, Asim Munir’s regime imposes emergency rule in Khyber Pakhtunkhwa (my father’s political stronghold).
Having failed to secure Balochistan or Azad Kashmir, Munir once again invokes terrorism to justify another military operation in Pashtun lands. Yet again sacrificing lives in an attempt to cling on to power.
Khyber Pakhtunkhwa’s democratic mandate must be restored. My father, our detained family members, PTI representatives and all political prisoners must be released immediately. The people’s right to peaceful protest must be respected.
Pakistan belongs to its people, not its military.
رجیم چینج کی رات عمران خان کے الفاظ تھے، ”اللہ الحق ہے۔ سچ کا خدا ہے”۔
ارشد شریف نے کہا، ”عمران خان نے بہت بڑا کام کیا۔ سب کو ایکسپوز کردیا“۔
گذشتہ مدت میں بہت بار سُنا میں نے، ”مراد سعید کے لڑکے“، ”مُراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان کو بیچ دیا“، ”ُمراد سعید کے لڑکوں نے عمران خان سے غداری کی“۔ اللہ گواہ ہے مراد سعید کی کوئی ٹیم نہیں۔ مراد سعید خود محض عمران خان کی مرہون منت ہے۔ پھر بھی مجھے فخر ہے کہ “مراد سعید کے لڑکوں نے“ اپنے لیڈر عمران خان کی طرح حکومت قربان کردی اپنی قوم کا سودا نہیں کیا۔ عمران خان سے ملاقات کے بدلے پختونوں کے خون کی بلی مانگنے والے ہوس پرست درندوں کے سامنے سرینڈر نہیں کیا۔ جس طرح عمران خان نے رجیم چینج کی رات ہر نام نہاد محب وطن، ہر زبان و کلام کے جمہوری، ہر دکھاوے کے وطن پرست کے چہرے سے نقاب نوچا تھا آج اُس کی ٹیم نے بھی ان غاصبوں کو مجبور کردیا کہ اپنے گھناؤنے منصوبوں کے ساتھ کھل کر سامنے آئیں اور قوم کے سامنے اپنے لفظوں میں اقرار کریں کہ عمران خان کے نام پر بنی حکومت۔ اس کے منتخب کردہ وزیر اعلی کا جرم اپنے لوگوں کی زندگیوں کو اقتدار پر مقدم رکھنا تھا۔ قوم اپنے غداروں کے چہرے دیکھ اور جان چکی ہے۔
مجھے ہمیشہ سے اس بات کا یقین رہا ہے کہ عمران خان کی زندگی کی ضمانت، اس امر میں پوشیدہ ہے کہ ہم عمران خان کے نظریے کو اس طرح رپلیکیٹ کریں کہ یہ گمان ذائل ہوجائے کہ عمران خان کو قید رکھ کر، اسے دنیا سے کاٹ کر اس جدوجہد کو روکا جاسکتا ہے۔ آج ہم نے ثابت کردیا ہے کہ سلاخوں کے پیچھے سے بھی عمران خان اپنی قوم کا سودا کرنے سے انکاری ہے۔ کہ عمران خان کی خاموشی بھی ان درندوں کی سب چھنگاڑوں پر بھاری ہے۔ کہ عمران خان ایک نسل کو عمران خان بنا چکا ہے۔
میرے پاکستانیو! لیڈر ہمارا ناحق قید میں، اس کا پورا خاندان مقید، سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت میسر نہیں۔ مینڈیٹ ہمارا چرایا، جعلی لوگ مسلط کرکے جعلی لوگوں سے، جعلی قانون سازی کروا کر عدالتیں کنٹرول کیں، جبر اتنا کہ ہلاکو خان بھی شرما جائے۔ گھر توڑے خواتین کو ہراساں کیا، کارکنان، اراکین اسمبلی، ان کے بچوں تک کو اغوا اور لاپتہ کیا۔ اس سب کے باوجود ہم نے انصاف کا دروازہ کھٹکھٹایا۔ آئینی و قانونی ہر راستہ اپنایا اور بار بار اپنایا۔ اب جب سپریم کورٹ کے حکم پر بھی علاج کی سہولت نہ ملی، نو مہینے کی بے رحمانہ قید تنہائ، اپیلوں کی سنوائی کے لیے اور نا حق اسیری کے خلاف پر امن لانگ مارچ کا آغاز ہوا تو جعلی مسلط شدہ ٹولہ اور ان کی ڈوریاں ہلانے والوں نے اس کے نام پر شروع؛ آئین و قانون کے مطابق اور پر امن مارچ کے سامنے پختونخواہ کی عوام کا سودا کرنے کی شرط رکھ دی۔ وہ جس نے ملک و قوم کا سودا کرنے سے انکار کرتے ہوئے وزارت عظمی قربان کی، تین سال سے ناحق اسیری کاٹ رہا ہے۔
شرط ہے کہ اپنی عوام کو میڈ اپ دہشت گردی کا ایندھن بناؤ یعنی لشکر کشی میں ساتھ دو۔ عوام کو بے گھر کرکے فوجی چیک پوسٹیں قائم کرکے، قطاروں میں ذلیل کرنے کی تاریخ دہراؤ۔ اُن پر بے دریغ بمباری کی اجازت دو، تو ہی آپ کے لیے آسانی ہوگی ورنہ آسانی تو دور پختونخواہ حکومت ختم کرکے آپ کو کچل کے رکھ دیں گے۔عمران خان کی حکومت میں اس بات کا ایبسلوٹلی ناٹ کے علاوہ تو کوئ جواب مل نہیں سکتا تھا۔ جواب یہی ملا کہ لعنت تمہاری ایسی آسانی پر جو اپنے لوگوں کے خون کا سودا کرنے سے مشروط ہو۔
لعنت ایسی ہوسِ اقتدار پر جو اپنے لوگوں کو آگ کا ایندھن بنادے۔ملک کو تو تباہ کر دیا آپ کی اس ہوس نے۔ بلوچستان میں لشکر کشی کے بعد آپ کا وزیر اعلی اور کور کمانڈر کینٹ سے باہر نہیں جا سکتا لیکن پختونخواہ پر لشکر کشی کرنی ہے۔ امن مقصد ہوتا تو صوبائی اسمبلی میں پختونخواہ کی تاریخ کا سب سے بڑا جرگہ ہوا جس میں صوبے کے تمام سٹیک ہولڈرز شامل تھے، دیرپا امن کے لیے ان کی بتائ پالیسی پر عمل ہوتا لیکن فوج و وفاقی حکومت نے اس جرگے پر بغاوت غداری اور وفاق کو تقسیم کرنے کا فتوی لگایا۔جن کی زندگیاں وابستہ ہیں، جن پر ان حالات کا براہ راست اثر ہونا ہے۔ ان کی پالیسی قبول نہیں کیونکہ مقصد امن نہیں۔
مقصد؛ ایک طرف افغانستان کے حوالے سے کی گئی کمٹمنٹس کو پورا کرنے کا وقت آپہنچا ہے جس کے لیے پختونخواہ کو ایندھن بنایا جائے گا۔ دوسری طرف پاکستان کے ہر دور کے جنرل و ڈکٹیٹر کا طاقت کے طول کا آزمودہ فارمولہ؛ پاکستان کو نئی پیکنگ میں سیکورٹی سٹیٹ بنا کر پیش کرنا ہے۔ رہی بات ایمرجنسی کی تو کون نہیں جانتا جن دہشت گردوں کی آبادکاری کی پالیسی یہ عقلِ کُل لے کر آئے تھے اُن کے مطالبات کا تیسرا نکتہ فاٹا کو وفاق کے زیر انتظام دینا یعنی فاٹا مرجر کو واپس کرناتھا۔ وہی مرجر جس کے حوالے سے انہی کا بیانیہ تھا کہ ملک دشمن قوتیں اور ان کے آلہ کار فاٹا انضمام کے خلاف ہیں۔ تو کیا اب یہ دشمن کے ایجنڈے پر عمل پیرا نہیں؟
مارچ عمران خان کی رہائی کا تھا ہے اور یہی مطالبہ ہے۔ رہی بات دہشت گردی کے حالیہ بیانیے کی تو حقیقت یہی ہے کہ موجودہ لہر آئی نہیں لائی گئی، دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے، صرف لائے نہیں گئے باقاعدہ رُوٹ لگا کر اپنی نگرانی میں پھیلائے گئے۔ اور جس ایمرجنسی کے لگانے کے لیے آج ان کٹ پتلیوں کو بٹھا کر بیانیے بنائے جارہے ہیں یہ انہی کے آرمی چیف کے الفاظ ہیں کہ فاٹا کو وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔جی! آرمی چیف نے کہا فاٹا کو صوبے سے وفاق کے حوالے کرنا طالبان کا مطالبہ ہے۔ جس پالیسی کے تحت ان دہشت گردوں کو آباد کیا جا رہا تھا اس کا تیسرا نکتہ ہی یہی تھا۔ ایک بار پھر ہر میدان میں ناکامی کے بعد بالآخر جمال، کمال کا نام استعمال کرکے پاکستان کو دلدل میں دھکیلا جارہا ہے مگر یہ قوم نہ تو مزید کسی کی جنگ میں ایندھن بنے گی نا ہی بے گھر ہوگی نا ہی مارٹر گولوں، ڈرون اور لڑاکا طیاروں کا نشانہ بن کر کولیٹر ل ڈیمج بنے گی، نا ہی اپنے گھر میں قطاروں میں کھڑے ہوکر آپ کے ہاتھوں ذلیل ہوگی۔ جب نکلنا ہی ہے تو اپنے گھروں کی تباہی کے بعد بے گھری کیوں جھیلیں، تمہارے ان گھناؤنے منصوبوں کے خلاف نکل کر اپنے مسیحا عمران خان کو واپس لانے کے لیے نکلیں گے۔
خیبر سے اقبال آفریدی اور عبدالغنی آفریدی آپ پر بھاری ذمہ داری ہے آپ کو فرنٹ پر آکر خیبر کی عوام کو لے کر حیات آباد ٹول پلازہ کی طرف سے پشاور پہنچنا ہوگا
خیبر پختونخوا کی عوام کان کھول کر سن لو!
نہ اسٹیبلشمنٹ کو ہماری کوئی فکر ہے، نہ وفاقی حکومت کو اور نہ ہی ہم پر مسلط کی گئی دہشت گردی کے خاتمے کی کوئی سنجیدہ خواہش نظر آتی ہے۔
اگر گورنر راج لگانے سے دہشت گردی ختم ہو سکتی ہے، اگر خیبر پختونخوا میں وفاق کی مداخلت سے امن قائم ہو سکتا ہے، تو پھر بلوچستان میں یہ سب کچھ کیوں نہیں ہو سکا؟ وہاں برسوں سے مداخلت اور طاقت کا استعمال جاری ہے، مگر دہشت گردی آج بھی ختم نہیں ہوئی۔ آخر کیوں؟
حقیقت یہ ہے کہ خیبر پختونخوا میں اسٹیبلشمنٹ اور وفاقی حکومت کی مداخلت کا اصل مقصد دہشت گردی کا خاتمہ نہیں، بلکہ عوام کے ووٹ سے قائم پی ٹی آئی کی حکومت کو ختم کرنا اور گورنر راج کے ذریعے صوبے پر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے۔
ہمیں خدشہ ہے کہ دہشت گردی کو جواز بنا کر خیبر پختونخوا کے وسائل، معدنیات اور قدرتی دولت پر قبضے کی راہ ہموار کی جا رہی ہے۔
یاد رکھو! اس صوبے کے عوام نے بہت لاشیں اٹھائی ہیں، بہت قربانیاں دی ہیں اور بہت ظلم برداشت کیا ہے۔ اب مزید کسی کے سیاسی مفادات اور اقتدار کی ہوس کی قیمت خیبر پختونخوا کے عوام سے وصول نہیں کی جا سکتی۔
ہمیں گورنر راج نہیں، امن چاہیے! ہمیں سیاسی انجینئرنگ نہیں، اپنے آئینی حقوق چاہییں! ہمیں اپنے وسائل پر قبضہ نہیں، اپنے وسائل پر اختیار چاہیے!
خیبر پختونخوا کوئی مفتوحہ علاقہ نہیں کہ جب چاہا اس کی حکومت بدل دی، جب چاہا اس کے وسائل پر ہاتھ صاف کر لیا اور جب چاہا اس کے عوام کی آواز دبا دی۔
یہ صوبہ ہمارا ہے، اس کے وسائل ہمارے ہیں اور اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے کا حق بھی یہاں کے عوام کا ہے!
اکتوبر کو پورے پاکستان سے لوگ صوابی انٹرچینج پر آئینگے۔ پورے پاکستان سے پارلیمینٹیرینز اور تنظیمی عہدیدار ورکرز کو صوابی انٹرچینج تک پہنچائے۔ کل سے کسی بھی طریقے سے اُن کا پہنچنا شروع کریں۔ تمام پاکستانی بھی اُسی دن پہنچے