سوئٹزر لینڈ میں حکومت لوگوں کو سس��ے گھر دے رہی ہے, اس وعدے کے بدلے کہ وہ ذاتی سواری نہیں رکھیں گے, اب دیکھنے والوں کو تو یہ بڑا شاندار تجربہ و موقع نظر آۓ گا ویسے بھی ذاتی سواری حریدنے کی استعداد کتنے لوگوں میں ہے, لیکن اگر حکومت تمام لوگوں کو ذاتی سواری ��ھوڑنے پر مجبور کر دے, سستی پبلک ٹرانسپورٹ چلا دے, اور دوسری طرح کے لالچ دے پھر کیا ہوگا ساری آبادی ذاتی سواری سے محروم ہو جاۓ گی.! 🤔
🔴 گذشتہ روز مسجدِ حرام میں عشاء کی نماز ہوئی۔
اس نماز میں امام عبداللہ الجہنی نے دوسری رکعت میں قرآن مجید کی تلاوت کی۔
انہوں نے یہ تلاوت ایک خاص نَغمے (آواز کے انداز) میں کی، جسے حجاز مقام کہتے ہیں۔
یہ انداز وہ بہت کم استعمال کرتے ہیں۔
1990: حج سے منافع صفر
1991: حج سے منافع صفر
1992: حج سے منافع صفر
1993: حج سے منافع صفر
1994: حج سے منافع صفر
1995: حج سے منافع صفر
1996: حج سے منافع صفر
1997: حج سے منافع صفر
1998: حج سے منافع صفر
1999: حج سے منافع صفر
2000: حج سے منافع صفر
2001: حج سے منافع صفر
2002: حج س�� منافع صفر
2003: حج سے منافع صفر
2004: حج سے منافع صفر
2005: حج سے منافع صفر
2006: حج سے منافع صفر
2007: حج سے منافع صفر
2008: حج سے منافع صفر
2009: حج سے منافع صفر
2010: حج سے منافع صفر
2011: حج سے منافع صفر
2012: حج سے منافع صفر
2013: حج سے منافع صفر
2014: حج سے منافع صفر
2015: حج سے منافع صفر
2016: حج سے منافع صفر
2017: حج سے منافع صفر
2018: حج سے منافع صفر
2019: حج سے منافع صفر
2020: حج سے منافع صفر
2021: حج سے منافع صفر
2022: حج سے منافع صفر
2023: حج سے منافع صفر
2024: حج سے منافع صفر
2025: حج سے منافع صفر
2026: حج سے منافع صفر
کھلے ذرائع (Open Sources) میں دستیاب معلومات کے مطابق سعودی عرب حج سے ایک ریال بھی منافع حاصل نہیں کرتا، بلکہ حج کے انتظامات، توسیعات، سہولیات، سکیورٹی، صحت اور دیگر خدمات پر اربوں ریال خرچ کرتا ہے، جس کا بوجھ مملکت خود برداشت کرتی ہے تاکہ ضیوفِ رحمن کو بہترین سہولیات فراہم کی جا سکیں۔ 🇸🇦
ریاستِ سعودی کے قیام سے لے کر آج تک، تقریباً تین صدیوں سے حرمین شریفین کی خدمت کو ایک عظیم دینی ذمہ داری سمجھا جاتا ہے۔
بلاشبہ حرمین شریفین کی خدمت ایک عظیم سعادت اور بہت بڑی ذمہ داری ہے۔
اللہ کی شان ہی نرالی ہے، جب وہ دیتا ہے تو چھپر پھاڑ کر دیتا ہے۔ اس انسان کو ہی دیکھ لیں، کھدائی کے دوران اسے کچھ ملا، جب اس نے اسے کھولا تو اس میں سے قیمتی موتی نکلے جو بے حد قیمتی تھے۔ بے شک اللہ ہی اسباب پیدا کرنے والا ہے۔
تہران و اصفہان، ریاض و دوحہ اور بغداد و بیروت میں بہنے والے آنسو ایک ہیں۔ شیعہ سنی، ترک کرد، عرب فارسی کی تفریق سے کوئی فرق نہیں پڑتا، مارنے والے کی نظر میں سب م��لمان ہیں۔ کوئی فرق نہیں پڑتا کہ ہم میں سے کسی کا نام علی ہے، کسی کا عمر ہے، عائشہ و زینب ہے، حسن و حسین ہے۔ صدر رجب طیب ایردوان
سوشل میڈیا کے جس پلیٹ فارم پر بھی جائیں تو سعودی عرب کے لوگوں کی پاکستان کے ساتھ محبت دیکھنے کو ملتی ہے۔
اللہ تعالیٰ خادم الحرمین الشریفین 🇸🇦 اور محافظ الحرمین الشریفین شریفین کا بھائی چارہ تا قیامت قائم ودائم رکھے
آمین آمین یارب العالمین 🤲
⚔️🇵🇰❤️🇸🇦⚔️
يا أيها الناس، اشهدوا أني أحب المملكة العربية السعودية، لأني أعتبر حبها جزءًا من ديني. تلك المدينة، تلك الشوارع والأزقة والأسواق التي كان يسير فيها النبي الكريم (صلى الله عليه وسلم)، أحب تلك الشوارع. اللهم ثبتني على ذلك.
سنقاتل بأرواحنا دفاعاً عن المملكة العربية السعودية.
🇸🇦❤️🇵🇰
⚠️⛔️⚠️
In view of the developing situation in the Middle East, #PIA is suspending its flights to #UAE 🇦🇪, #Bahrain🇧🇭, #Kuwait🇰🇼 and #Doha 🇶🇦 till tomorrow evening, or till opening of respective airspaces.
Flights to #KSA 🇸🇦 have been rerouted, avoiding conflict hit zones.
Valued passengers are requested to kindly contact PIA Call Centre at 021 111 786 786 for flight information and / or reaccomodation.
بریکنگ نیوز 🚨: حامد میر کا بڑا انکشاف 🔥
عمران خان کسی حکومتی یا سپیشلسٹ کی شرائط پر رہائی نہیں لیں گے جبکہ حال ہی میں عمران خان کو رہائی کی آفر کی گئی بلکہ منتیں کی گئی تھی جس پر قیادت تو راضی تھی لیکن عمران خان نہیں مان��
تم سلاخوں کے پیچھے کیوں ہو؟
تم ستارے کیوں نہيں دیکھ سکتے؟
ہمیں تمہاری آواز کی ضرورت ہے!
عالم اسلام کے عظیم رہنما عمران خان کے لئے فلسطینی بچوں کی دِل گُداز، درد انگیز شاعری
کم از کم چار ہزار ڈاکٹر ز پچھلے سال پاکستان چھوڑ گئے ؟دل مضبوط کرلیں… کیونکہ پاکستان ایک ایسے بحران سے گزر رہا ہے جو خاموش ضرور ہے مگر خطرناک حد تک گہرا ہے اور اس کا سب سے بڑا ثبوت صرف 2025 میں تقریباً چار ہزار ڈاکٹر ملک چھوڑ گئے یہ ہماری تاریخ کا سب سے بڑا سالانہ doctors exodus ہے�� سوال یہ ہے کہ آخر کیوں؟معاشی دباؤ، غیر محفوظ ماحول، ناقص ورکنگ کنڈیشنز اور ترقی کے محدود مواقع نوجوان ڈاکٹروں کو مایوس کر رہے ہیں۔ سرکاری اسپتالوں میں ایک ڈاکٹر کے پاس فی مریض اوسطاً دو منٹ سے بھی کم وقت ہوتا ہے۔ ریاست لاکھوں روپے خرچ کر کے ڈاکٹر تیار کرتی ہے، مگر فائدہ بیرونِ ملک نظام اٹھا رہے ہیں۔کیا پاکستان اپنے شہریوں کیلئے ڈاکٹر بنا رہا ہے یا ایک “میڈیکل ایکسپورٹ انڈسٹری” بن چکا ہے؟آج On My Radar میں میرے ساتھ موجود ہیں سابق صوبائی وزیر صحت ڈاکٹر سعد نیاز، جو کھل کر گفتگو کریں گے کہ آخر ہمارا ہیلتھ سسٹم کیوں تیزی سے بوسیدہ اور غیر مؤثر ہوتا جا رہا ہے۔مکمل اور بے لاگ گفتگو کیلئے OMR YouTube link پر کلک کریں https://t.co/Qtt5D695jQ