"چکوال فائرنگ واقعہ: پولیس قبر پر پھول ڈال رہی ہے اور سربراہ تعزیت کے لیے پہنچ گئے! اگر بچی اور اس کے والدین کی آسٹریلیا کی شہریت نہ ہوتی، اور آسٹریلین میڈیا اور حکومت نے اس قتل کو نہ اٹھایا ہوتا، تو ایک بچی چھوڑ کر سارا خاندان بھی قتل ہو جاتا تو کسی کو کوئی فرق نہ پڑتا۔ بس! یہی ہمارا سسٹم ہے۔"سجاد مصطفیٰ باجوہ
@sajjadmustafa
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
#Pakistan
Quite possibly it was the CCD trying to rob this family and the father managed to speed away. Only he didn't realize Maryam Nawaz's Gestapo force had license to kill anyone who resisted. It's not hard to imagine this force was created rob citizens of whatever they're left with after the govt has squeezed them through insane taxes and levies. And even easier to imagine the booty collected by CCD goes all the way to Jati Umra.
#JusticeForHania
#KillerChiefMinister
بالکل 9 مئی والا منظر دوبارہ دہرایا جا رہا ہے۔ یہ ویڈیو میں نے زیرو پوائنٹ پل سے ریکارڈ کی تھی۔ اُس وقت میں بھی غم و غصے میں تھا اور میرا خیال تھا کہ پی ٹی آئی کے حامی اسلام آباد اور ملک کے دیگر شہروں میں توڑ پھوڑ کر رہے ہیں۔ لیکن دفتر سے گھر جاتے ہوئے میں نے خود ایک عجیب منظر دیکھا جس پر مجھے حیرت ہوئی۔
راولپنڈی سے فیض آباد کی جانب نقاب پوش افراد سیکیورٹی اداروں کی موجودگی میں، بغیر کسی خوف کے، اسلام آباد میں داخل ہو رہے تھے اور راستے میں آنے والے عام شہریوں اور گاڑیوں پر پتھراؤ کر رہے تھے۔ ان کی حرکات سے صاف ظاہر ہو رہا تھا کہ یہ تربیت یافتہ لوگ ہیں اور ایک منظم منصوبے کے تحت یہ سب کچھ کر رہے ہیں۔
مقصد یہی معلوم ہوتا تھا کہ عوام کو گمراہ کیا جائے اور یہ تاثر دیا جائے کہ دیکھو، یہ شرپسند لوگ ہیں۔ بدقسمتی سے یہ طریقۂ واردات مختلف مواقع پر مختلف گروہوں کے خلاف استعمال کیا جاتا رہا ہے۔
یار، کچھ تو خوفِ خدا کریں، کچھ تو شرم کریں۔
بلوچستان کی گیس فوجی فاؤنڈیشن کو پانی سے بھی سستی دی جا رہی ہے،پیداواری لاگت کے محض 13 فیصد پر۔
یہ رعایت نہیں، کھلی معاشی ناانصافی ہے ماہر معاشیات قیصر بنگالی
PTI supporters’ celebration in Gilgit election saw “Baby Calm Down” played followed immediately by chants of “Maryam ke papa chor hain,” a moment that quickly went viral on social media amid ongoing election excitement.
یہ ہے پاکستانی اشرافیہ کا سفاک چہرہ۔۔۔ان کے سکول، ہسپتال، بنک اکاؤنٹس،جائیدادیں سب سوئٹزرلینڈ/یورپ میں ہیں، یہ صرف اقتدار کیلئے پاکستان میں ہوتے ہیں، گلگت بلتستان میں ترقی کے انقلاب کی نوید سنا کر،صحت کی معیاری سہولیات ہر گھر تک پہنچانے کے وعدے،سبز باغ دکھا کر جناب نواز شریف صاحب روٹین کی صحت معائنہ کیلئے سوئٹزرلینڈ روانہ ہوگئے۔۔۔۔یاد رہے کہ یہ روٹین معائنہ بھی پاکستان میں کرنے کا اپنی شان کیخلاف سمجھتے ہیں باقاعدہ علاج معالجہ کا تو پاکستان سے سوال ہی پیدا نہیں ہوتا؟؟؟
اشرافیہ کے نام پر مافیا ہی پاکستان کے مسائل کا اصل ذمہ دار ہے۔
اللہ اپنے نیک بندوں کی صحت کا خیال رکھتا ہے! سات سال پہلے میاں صاحب کے پلیٹ لیٹ فرشتوں کی سازش سے ڈھائی ہزار تک گر گئے تھے! اللہ کو فرشتوں کی یہ گستاخی پسند نہیں آئی! اور ایسی صحت عنایت کی کہ سات سال کے بعد بھی ماشاللہ گلگت میں لوگوں کو پھدو بنانے پہنچ گئے ہیں! اور لوگ بھی ایسے بدنصیب ہیں کہ قیامت تک پھدو بننے کے لئے تیار ہیں!
جیسے مرنے والے کو خبر نہیں ہوتی کہ اس کی مال و دولت کون لے گیا، ویسے ہی مردہ قوموں کو بھی احساس نہیں ہوتا کہ ان کے وسائل اور سرمایہ کون لوٹ رہا ہے۔ مظہر برلاس
#pakistan@mazhar_barlas
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں
فوج کی جانب سے ہر آرمی چیف کو دورانِ ملازمت خدا بنایا اور بتایا جاتا ہے، اور ریٹائرڈ ہوتے ہی تمام گناہوں کا ملبہ اس پر ڈال دیا جاتا ہے کیونکہ پھر فوجیوں کا نیا خدا جو آ جاتا ہے! عادل راجہ
#pakistan@soldierspeaks
خبر کا ذریعہ جاننے کے لیے QR Code Scan کریں