🔴🔴🔴🔴
سینٹرل جیل گوجرانوالہ سے انتہائی خطرناک اور تشویشناک اطلاعات!
منڈی بہاؤالدین سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی حاجی امتیاز چودھری MNA کی صحت اور جیل میں ان کے ساتھ مبینہ سلوک کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی خوفناک اور دل دہلا دینے والی ہیں۔
اطلاعات کے مطابق انہیں انتہائی تاریک کمرے میں رکھا گیا ہے، مناسب خوراک اور پانی، ضروری ادویات اور ڈاکٹر تک رسائی میسر نہیں، جبکہ اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں پر بھی سخت پابندیاں عائد ہیں۔ ذہنی و جسمانی تشدد کے سنگین الزامات صورتحال کو مزید تشویشناک بنا رہے ہیں۔
حاجی امتیاز چودھری پہلے ہی متعدد عوارض میں مبتلا ہیں۔ ان کے وکلا کا مؤقف ہے کہ عدالتی احکامات کے باوجود ان کی قانونی رسائی اور ملاقات میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔
آخر اس ملک میں قانون کہاں ہے؟
عدالتی احکامات کی حرمت کہاں ہے؟
ایک منتخب رکنِ قومی اسمبلی کے بنیادی انسانی اور آئینی حقوق کی ضمانت کون دے گا؟
ان انتہائی تشویشناک اطلاعات پر عوام میں شدید غم و غصہ، بے چینی اور مایوسی پائی جاتی ہے—خصوصاً ضلع منڈی بہاؤالدین میں، جہاں لاکھوں ووٹروں نے حاجی امتیاز چودھری کو اپنا نمائندہ منتخب کرکے قومی اسمبلی بھیجا۔
اور اس پوری داستان کا شاید سب سے دردناک پہلو ایک ماں کا انتظار ہے۔۔۔ 💔
حاجی امتیاز چودھری کی 100 سالہ والدہ شدید علالت کے باعث ہسپتال میں ہیں۔ عمر کے اس انتہائی نازک حصے میں، بیماری اور کمزوری کے عالم میں، ایک ماں اپنے قید بیٹے کی راہ تک رہی ہے۔
کیا ایک 100 سالہ بیمار ماں کو اپنے بیٹے کو دیکھنے کا حق بھی نہیں؟
وہ ماں جس نے اپنے بیٹے کو پالا، دعائیں دیں اور زندگی بھر اس کی سلامتی مانگی—آج ہسپتال کے بستر پر اسی بیٹے کے انتظار میں ہے۔
یہ صرف سیاست کا معاملہ نہیں۔
یہ ایک منتخب نمائندے کے حقوق کا معاملہ ہے۔
یہ ایک ماں اور بیٹے کا معاملہ ہے۔
یہ انسانی وقار، آئین، قانون اور بنیادی انسانی حقوق کا معاملہ ہے۔
ہمارا مطالبہ بالکل واضح ہے:
حاجی امتیاز چودھری کا فوری اور آزادانہ طبی معائنہ کرایا جائے، انہیں تمام ضروری ادویات، مناسب خوراک اور پانی فراہم کیا جائے، اور قانون کے مطابق اہلِ خانہ اور وکلا تک رسائی دی جائے۔ ان کے ساتھ مبینہ غیر انسانی سلوک اور تشدد کے الزامات کی آزادانہ، شفاف اور غیر جانبدارانہ تحقیقات بھی ہونی چاہئیں۔
خدانخواستہ ان کی صحت یا جان کو کوئی نقصان پہنچا تو ذمہ داری کا تعین قانون کے مطابق ہونا چاہیے۔
سیاسی اختلاف کتنا ہی شدید کیوں نہ ہو، کسی انسان کو اس کے بنیادی حقوق، علاج، قانونی معاونت اور انسانی وقار سے محروم نہیں کیا جا سکتا۔
منڈی بہاؤالدین سوال کر رہا ہے۔
ایک 100 سالہ بیمار ماں اپنے بیٹے کی راہ دیکھ رہی ہے۔
اور تاریخ سب کچھ دیکھ اور لکھ رہی ہے۔
#HajiImtiaz #HajiImtiazChaudhry #MNA #MandiBahauddin #GujranwalaJail #HumanRights #RuleOfLaw #Justice #Constitution #Democracy #Pakistan #PTI #ImranKhan #ReleaseHajiImtiaz #PoliticalPrisoners #HumanDignity #JusticeForHajiImtiaz
عمران خان کی بہنوں کے ساتھ جو ظالمانہ سلوک ہورہا ہے اس کا کیا جواز ہے؟ ان کو کسی الزام کے تحت گرفتار نہیں کیا گیا، یاد رکھیں کسی کو جب تھری ایم پی او کے تحت گرفتار کیا جاتا ہے تو ان پہ کوئی الزام نہیں ہوتا، اندیشے کے تحت جیل میں ڈالا ہوا ہے اس اندیشے کی بنیاد پر خاندان اور وکلاء سے ملاقاتیں روکنا ان کی خوارک ادویات کو روکنا یہ تمام تر ظلم ہے اس کا آئین و قانون میں کوئی جواز نہیں ہے۔
جس طرح عمران خان کی تینوں بہنوں کو گرفتار کیا گیا 100 سے زائد مرد پولیس اہلکار گھر میں گھسے، وہاں بچیاں تھیں، انہوں نے دروازے توڑے سفاکیت اور فسطائیت کی تمام حدیں عبور کیں۔
ہم نے بار بار عدالت کے سامنے یہ تمام واقعات رکھے اس کے باوجود نو دن گزر گئے ہیں، نو دن اور گزر جائیں گے ریاست کا جو ان کو عوام سے دور رکھنے کا مقصد ہے وہ پورا ہوگیا اس کے بعد ان کو چھوڑا بھی گیا تو پھر کیا یہ انصاف ہوگا؟ عدالت کا فرض ہے کہ فوری رہائی کا حکم دے یہ ایک ایسی نظربندی ہے جس کا کوئی جواز نہیں بنتا۔
سلمان اکرم راجہ
باجی لاہور میں ایک اور غیر ملی خاتون کا ریپ ہوا ہے اور اسوقت پنجاب میں آپکی ہمشیرہ وزیراعلی ہیں اور خواتین انکی ریڈلائن تھی- اس سے پہلے آپ گواہ ہیں کہ آپکے سسرالی رشتہ دار نے بھی ایسی حرکت کی اور اس کیس کا بھی کچھ پتہ نہیں کہاں دب گیا!
آپ اس بات پہ راہنمائی فرما سکتی ہیں کہ خواتین والا معاملہ اب بھی آپکی خاندان کی priority ہے یا پھر ذاتی مسائل کے باعث ریڈ لائن والی بات مٹا دی گئی ہے؟
برا مت مانیے گیا لیکن یہ کوئی طنز ہر گز نہیں بلکہ انتہائی سنجیدہ سوال ہے
@ASNsharif
وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا محمد سہیل آفریدی کی زیر صدارت امن و امان سے متعلق اجلاس سے خطاب
پشاور: خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس اور فوج نے امن کے قیام کے لیے بے شمار قربانیاں دیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: خیبر پختونخوا کے 80 ہزار سے زائد افراد نے پاکستان کے لیے اپنی جانوں کا نذرانہ پیش کیا ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: دو دہائیوں کی قربانیوں سے حاصل ہونے والا امن رجیم چینج آپریشن کے بعد دوبارہ بدامنی کی نذر کر دیا گیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: دہشتگردوں کے پہاڑوں پر جانے سے لے کر ان کی دوبارہ آبادکاری تک ہم نے ریاست اور وفاق کو مسلسل خبردار کیا، وزیراعلی
پشاور: ہم نے خیبر پختونخوا کے مختلف اضلاع میں جلسے، جلوس اور مظاہرے کرکے بدامنی کی واپسی کے خلاف آواز اٹھائی، وزیراعلیٰ
پشاور: ہماری بار بار کی تنبیہات کو وفاقی وزراء نے پروپیگنڈا اور جھوٹ قرار دیا، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: ہم نے بار بار کہا کہ ریاست کی موجودہ پالیسی غلط ہے اور اس سے دوبارہ پختونوں کا خون بہے گا، وزیراعلیٰ
پشاور: خیبر پختونخوا کے عوام کو ایک مخصوص مائنڈ سیٹ کے تجربات کا نشانہ بنایا جا رہا ہے، وزیراعلیٰ
پشاور: آج خیبر پختونخوا میں فوجی جوان، پولیس اہلکار، بچے، خواتین، بزرگ اور عام شہری دہشتگردی کا نشانہ بن کر شہید ہو رہے ہیں، وزیراعلی
پشاور: خیبر پختونخوا کے عوام کے خون اور قربانیوں کی کسی کو فکر نہیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: وفاقی وزراء خیبر پختونخوا کے عوام کو دہشتگرد اور جنگلی کہتے ہیں لیکن ان کے خلاف کوئی کارروائی نہیں ہوتی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: لاڈلوں کے لیے ایک پالیسی اور خیبر پختونخوا کے لیے دوسری پالیسی نہیں چل سکتی، وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا
پشاور: پنجاب کی جعلی وزیراعلیٰ کا یہ بیان کہ بھارت سے خطرہ نہیں بلکہ باقی تین صوبوں سے خطرہ ہے انتہائی قابل تشویش ہے، وزیراعلیٰ
پشاور: بھارت کے حوالے سے ریاستی بیانیے کی نفی کرنے والوں سے بھی سوال ہونا چاہیے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: خیبر پختونخوا کو دوبارہ دہشتگردی کی آگ میں جھونکنے کی پالیسی ناقابل قبول ہے، وزیراعلیٰ
پشاور: امن کے لیے اپنے ترقیاتی بجٹ میں 35 ارب روپے کی کٹوتی کرکے پولیس کو دی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: مالی سال 2026 میں پولیس کی استعداد بڑھانے کے لیے وسائل فراہم کیے، پولیس کے بجٹ میں 103 فیصد اضافہ کیا ہے، وزیراعلی
پشاور: پولیس کی نفری اور استعداد کار کو مضبوط، اسپیشل برانچ کو مستحکم اور پولیس کو جدید اسلحہ و دیگر ضروری آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، وزیراعلی
پشاور: صرف پولیس کو وسائل دینے سے مسئلہ حل نہیں ہوگا، وفاق کو پالیسی میں تبدیلی لانا ہوگی، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: 15 اکتوبر 2025 سے مسلسل کہہ رہا ہوں کہ 22 سال سے جاری ناکام پالیسی تبدیل کی جائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
پشاور: خیبر پختونخوا کے تمام اسٹیک ہولڈرز، حکومت، انتظامیہ اور پولیس کو اعتماد میں لے کر نئی پالیسی بنائی جائے، وزیراعلیٰ خیبرپختونخوا
پشاور: ہماری تجویز کردہ نئی پالیسی پر عمل کیا جائے تو 100 دن میں خیبر پختونخوا میں امن لا سکتے ہیں، مگر کوئی سننے کو تیار نہیں، وزیراعلیٰ
پشاور: کچھ لوگ عقل کل بنے ہوئے ہیں اور خیبر پختونخوا کے اسٹیک ہولڈرز کی بات سننے کو تیار نہیں، سہیل آفریدی
پشاور: ملک کو کس طرف لے کر جا رہے ہیں، کیا ہمارے لوگوں کا خون اتنا سستا ہے کہ اسے سیاست کی بھینٹ چڑھایا جائے، وزیراعلی
پشاور: خیبر پختونخوا کے عوام کی مرضی اور عوامی مینڈیٹ کے برعکس کوئی اقدام قابل قبول نہیں، وزیراعلی
پشاور: ایسی کرسی پر لعنت بھیجتا ہوں جو مجھے اپنے نظریے سے ہٹا دے، وزیراعلیٰ
پشاور: گورنر راج یا ایمرجنسی کی دھمکیوں سے اپنے مؤقف سے پیچھے نہیں ہٹوں گا، وزیراعلیٰ
پشاور: وفاق اپنی پالیسی تبدیل کریں اور پالیسی شفٹ لائیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: اپنے فوجی جوانوں، پولیس اہلکاروں اور شہریوں کو مزید خون خرابے سے بچائیں، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
پشاور: پالیسی میں تبدیلی خیبر پختونخوا کے ساتھ پورے پاکستان کے مفاد میں ہے، وزیراعلیٰ سہیل آفریدی
سینٹرل جیل گوجرانوالہ میں قید منتخب رکنِ قومی اسمبلی حاجی امتیاز چودھری کے حوالے سے سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔ انہیں مسلسل تنہائی میں انتہائی محدود اور نامناسب حالات میں رکھا جا رہا ہے، اہلِ خانہ اور وکلاء سے ملاقات میں رکاوٹیں ہیں اور بیماری کے باوجود مناسب طبی سہولیات فراہم نہیں کی جا رہیں۔ اس کی فوری، شفاف اور آزادانہ تحقیقات ہونی چاہئیں اور انہیں قانون کے مطابق علاج، صاف پانی، وکلاء اور خاندان تک رسائی سمیت تمام بنیادی انسانی و قانونی حقوق فراہم کیے جانے چاہئیں۔
اس سے بھی زیادہ سنگین یہ ہے کہ حاجی امتیاز چودھری پر قومی اسمبلی کی نشست سے استعفیٰ دینے، PTI چھوڑنے یا عمران خان سے لاتعلقی اختیار کرنے کے لیے سیاسی دباؤ ڈالا جا رہا ہے۔ اگر کسی منتخب نمائندے کے حالاتِ حراست یا بنیادی ضروریات کو اس کی سیاسی وابستگی تبدیل کرانے کے لیے استعمال کیا جا رہا ہے تو یہ معاملہ قانون اور انسانی حقوق کے تناظر میں انتہائی سنجیدہ جانچ کا متقاضی ہے۔ سیاسی اختلاف اپنی جگہ، مگر ہر شخص کا انسانی وقار اور قانونی حقوق بلاامتیاز محفوظ رہنے چاہئیں ۔
دو سال ہو گئے، مگر ناانصافی ختم نہ ہوئی!
سید سلمان رضا امن اور روزگار کی تلاش میں شارجہ گئے اور سوشل میڈیا سے کنارہ کش ہو کر اپنی زندگی میں مصروف ہو گئے، لیکن 27 ستمبر 2024ء کو انہیں جبراً اغوا کر لیا گیا، آٹھ ماہ نا معلوم مقام پر بے رحمانہ تشدد اور بغیر اینستھیزیا کے ہولناک طبی سزاؤں کے بعد مئی 2025ء سے وہ ابوظبی کی الوثبہ جیل میں قید ہیں، ان کی اہلیہ نے 18 ماہ متحدہ عرب امارات میں تنہا جنگ لڑی اور انہیں ایک بار بھی بالمشافہ ملاقات کی اجازت نہیں دی گئی۔ 8 تکلیف دہ مہینوں کی قید کے بعد بالآخر انہیں ویڈیو کالز کی اجازت دی گئی جو ان کا بنیادی حق تھا لیکن صرف 8 مختصر کالز کے بعد پچھلے 4 ماہ سے وہ سلسلہ بھی مکمل طور پر بند کر دیا گیا ہے، پاکستان میں ان کے شدید علیل اور بستر سے لگے والد جو دل اور گردوں کے امراض میں مبتلا ہیں، اپنے بیٹے کی ایک آخری جھلک دیکھنے کو ترس رہے ہیں۔
سید سلمان رضا کے ساتھ قید جنید جہانگیر بھی اسی بے گناہی کی سزا کاٹ رہے ہیں، دو سال ان کی زندگی سے چھین لیے گئے۔
ہم اماراتی قیادت، بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی برادری سے سید سلمان رضا اور جنید جہانگیر کی فوری، غیر مشروط اور بحفاظت رہائی کا پرزور مطالبہ کرتے ہیں۔
@uaeembassyisb@hrw@amnesty@UNHumanRights@amnestysasia@amnestyAR@RSF_inter@DropSiteNews@FirstPakGlobal
#TransnationalRepression
#ReleaseSalmanRaza
#ReleaseJunaidJahangir
ہماری سی ٹی ڈی اور پولیس کو کمزور ثابت کرنے کی کوشش میں کس کو حملے کی دعوت دی جا رہی ہے؟ کیا APS جیسے سانحے کی تیاری کی جا رہی ہے؟ کیا اپنی جعلی حکومت کو بچانے کے لیے ملک میں کسی نئے سانحے کی پلاننگ ہو رہی ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو ایک بار پھر لہو لہان کرنے کے لیے پیش کیا جا رہا ہے؟ کیا خیبرپختونخواہ کو تجربہ گاہ سمجھ کر PML N کوئی بڑی گیم کرنے والی ہے؟ وزیر اعلی سہیل آفریدی کا اختیار ولی کے الزامات پر ردعمل
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
#SohailAfridi
*عطاء اللہ تارڑ خیبر پختونخوا پر الزامات لگانے کے بجائے وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومتوں کی کارکردگی کا حساب دیں، پاکستان تحریک انصاف*
وفاقی وزیر اطلاعات عطاء اللہ تارڑ کی خیبر پختونخوا حکومت کے خلاف الزام تراشی دراصل وفاقی اور پنجاب حکومت کی اپنی ناکامیوں سے عوام کی توجہ ہٹانے کی ناکام کوشش ہے۔
عطاء اللہ تارڑ بتائیں کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں خیبر پختونخوا کے عوام، پولیس، سیکیورٹی اہلکاروں اور سیاسی کارکنوں نے سب سے زیادہ قربانیاں دی ہیں، پھر وہ کس بنیاد پر پوری صوبائی حکومت کو دہشت گردوں کا سہولت کار قرار دے رہے ہیں؟
پاکستان تحریک انصاف کے دورِ حکومت میں خیبر پختونخوا کے ایک صوبائی وزیر اسرار اللہ گنڈاپور دہشت گردی کے حملے میں شہید ہوئے۔ 16 اکتوبر 2013 کو ڈی آئی خان میں خودکش حملے میں صوبائی وزیر قانون اسرار اللہ گنڈاپور سمیت کئی افراد شہید ہوئے۔ یہ حقیقت اس الزام کی تردید کے لیے کافی ہے کہ پی ٹی آئی دہشت گردی کے خلاف کھڑی نہیں۔
پی ٹی آئی کے کارکنوں، منتخب نمائندوں، پولیس اور عام شہریوں نے دہشت گردی کے خلاف بے شمار قربانیاں دی ہیں۔ عطاء اللہ تارڑ کو سیاسی پوائنٹ اسکورنگ کے بجائے شہداء کے خون کا احترام کرنا چاہیے۔
عطاء اللہ تارڑ خیبر پختونخوا کے عوام کو صحت کی سہولتوں پر لیکچر دینے سے پہلے صحت کارڈ کی حقیقت دیکھیں۔
پاکستان تحریک انصاف نے خیبر پختونخوا کے غریب عوام کے لیے صحت کارڈ کا انقلابی پروگرام شروع کیا، جس کے ذریعے مستحق خاندانوں کو بڑے اور پیچیدہ امراض سمیت مختلف علاج کی سہولت فراہم کی گئی۔
آج بھی صحت کارڈ پلس خیبر پختونخوا کے تحت اہل مریضوں کو جگر کی پیوندکاری کی سہولت مفت فراہم کی جا رہی ہے، جبکہ جگر ٹرانسپلانٹ کے مکمل طریقۂ علاج اور ٹرانسپلانٹ کے بعد ایک سال کی ادویات کے اخراجات بھی پروگرام کے تحت کور کیے جاتے ہیں۔
صحت کارڈ کے ذریعے لاکھوں غریب خاندانوں کو علاج کی سہولت فراہم کرنا پی ٹی آئی حکومت کا عملی کارنامہ ہے، جبکہ عطاء اللہ تارڑ صرف پریس کانفرنسوں میں الزامات کی سیاست کر رہے ہیں۔
عطاء اللہ تارڑ پنجاب کی حالت زار پر بھی نظر ڈالیں۔
پاکستان بیورو آف اسٹیٹسٹکس کی HIES 2024-25 رپورٹ کے مطابق پنجاب میں 5 سے 16 سال کی عمر کے 21 فیصد بچے اسکول سے باہر ہیں، جبکہ UNICEF کے مطابق پنجاب میں اسکول سے باہر بچوں کی مجموعی تعداد تقریباً 97 لاکھ ہے۔
اگر خیبر پختونخوا کے بچوں اور عوام کی فکر ہے تو پہلے پنجاب کے ان لاکھوں بچوں کا جواب دیں جو آج بھی اسکولوں سے باہر ہیں۔
پنجاب کے کسان بھی اپنے مسائل کے حل کے لیے سڑکوں پر آنے پر مجبور ہیں۔ حالیہ دنوں کسان اتحاد نے پنجاب حکومت کی زرعی پالیسیوں کے خلاف احتجاج اور اسلام آباد مارچ کا اعلان کیا، جبکہ کسان رہنماؤں نے زرعی شعبے کو درپیش مسائل اور حکومتی پالیسیوں پر شدید تحفظات کا اظہار کیا۔
عطاء اللہ تارڑ خیبر پختونخوا کی فکر چھوڑ کر پہلے پنجاب کے کسان، پنجاب کے لاکھوں اسکول سے باہر بچے اور پنجاب کے عوام کو جواب دیں۔
وفاقی وزیر یہ بھی بتائیں کہ وفاق کے سرکاری اسپتالوں میں عوام کو درپیش مسائل کیوں ختم نہیں ہو رہے؟ پنجاب میں بھی عوام کو معیاری اور بروقت طبی سہولتوں کی فراہمی یقینی کیوں نہیں بنائی جا سکی؟
خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے خلاف جنگ جاری ہے اور صوبے کے عوام و پولیس قربانیاں دے رہے ہیں۔ ایسے حالات میں وفاقی وزیر کا الزام تراشی کے بجائے صوبے کے ساتھ تعاون کرنا قومی ذمہ داری ہے۔
عطاء اللہ تارڑ کو یاد رکھنا چاہیے کہ خیبر پختونخوا کے عوام دہشت گردی کے خلاف فرنٹ لائن پر کھڑے ہیں، اور پی ٹی آئی اپنے شہداء کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کرے گی۔
وزیر اطلاعات پہلے اپنے گریبان میں جھانکیں، وفاق اور پنجاب میں اپنی حکومتوں کی کارکردگی کا حساب دیں، پھر خیبر پختونخوا کے عوام کو لیکچر دیں۔
منجانب: مرکزی میڈیا ڈیپارٹمنٹ
پاکستان تحریک انصاف
ہم سے پوچھا گیا کہ ہم پاکستان کے ساتھ ہیں یا افغانستان کے ساتھ ؟ ہم تو پاکستان کے ساتھ ہیں کیونکہ پاکستان ہمارے ایمان کا حصہ ہے، تم بتاؤ کہ تم بھارت کے ساتھ ہو یا پاکستان کے ساتھ؟ شفیع اللہ جان
وفاق پر جعلی طریقے سے قابض ٹولہ ملک میں تباہی پھیلانا چاہ رہا ہے۔ پاکستان ہمارا ہے۔ پاکستانی ہمارے ہیں۔ کسی بھی قسم کا کوئی بھی ایڈونچر کرنے کی کوشش کی گئی تو آئین و قانون کے مطابق ایسا جواب دیں گے کہ پوری عمر سر نہیں اُٹھا پاؤ گے۔
وزیراعلی خیبر پختونخواہ سہیل آفریدی
Hajra sister, may you remain safe and strong. You have taken a truly remarkable and courageous step. May Allah grant you and your entire family steadfastness and strength. You are our pride.
Umvi
5 جولائی، 2022: وزیر اعظم شہبازشریف کی زیر صدارت پارلیمانی کمیٹی برائے نیشنل سکیورٹی کے پارلیمنٹ ہاؤس میں ہونے والے اجلاس کے بعد سرکاری اعلامیے، تحریک طالبان پاکستان سے مذاکرات کی نگرانی کے لیے پارلیمانی اوورسائیٹ کمیٹی کی تشکیل کی منظوری، قومی سلامتی سے متعلق پارلیمانی کمیٹی کا اجلاس پانچ گھنٹے تک جاری رہا، جس میں فوجی حکام کی طرف سے ڈیڑھ گھنٹے تک بریفنگ دی گئی۔
https://t.co/N1dCqwWawz
پاکستان میں ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو واپس کون لایا؟ 'ہم نے موجودہ افغان حکومت (افغان طالبان) کی درخواست پر نان اسٹیٹ ایکٹرز (ٹی ٹی پی) سے بات چیت شروع کی'۔ ٹی ٹی پی سے مذاکرات پر ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل بابر افتخار کی 5 جنوری 2022 کو کی گئی پریس کانفرنس میں گفتگو
سورس جاننے کیلئے کیو آر کوڈ سکین کریں
#Pakistan
منڈی بہاؤالدین سے منتخب رکنِ قومی اسمبلی حاجی امتیاز چودھری رکن قومی اسمبلی کی صحت اور سینٹرل جیل گوجرانوالہ میں ان کے ساتھ مبینہ سلوک سے متعلق سامنے آنے والی اطلاعات انتہائی تشویشناک ہیں۔
مبینہ طور پر انہیں نامناسب حالات میں رکھا گیا ہے، جہاں مناسب خوراک و پانی، ضروری ادویات اور طبی سہولیات تک رسائی کے حوالے سے سنگین خدشات ظاہر کیے جا رہے ہیں۔ اہلِ خانہ اور وکلا سے ملاقاتوں میں مبینہ رکاوٹیں اور ذہنی و جسمانی تشدد کے الزامات بھی صورتحال کی سنگینی میں اضافہ کرتے ہیں۔
ان کے وکلا کے مطابق عدالتی احکامات کے باوجود قانونی ملاقات اور رسائی میں رکاوٹیں برقرار ہیں۔
یہ فوج ہی پاکستان اور پاکستانیوں کو انڈیا سے زیادہ اپنا دشمن سمجھتی ہے۔ ہمیں کچلنے کے لیے دہشت گرد بناتی ہے۔ پختونخوا حکومت گرانے کے لیے اپنے ہی لوگوں کو کیوں مار رہے ہو؟ تمہاری یہ ذہنیت کب بدلے گی؟ مجھے افسوس ہے، نہیں بدلے گی۔
تمہاری پالیسی پہلے دن سے یہ ہے کہ امریکا کی دلالی کرو اور ڈالر گھر لے جاؤ۔ 9/11 کے بعد امریکا ہماری معاونت کرتا تھا کہ افغانیوں کو پکڑ کر ان کے حوالے کرو ۔ آج وہ معاونت ہمیں افغانیوں سے بچانے کے لیے کر رہا ہے۔
میں نے مشرقی پاکستان میں تمہیں نہتے بنگالیوں کو شکار کے شوق میں مارتے دیکھا ہے۔ وہ وزیرستان ہو یا تربت، سانحہ APS کا مجرم ہو یا دہشت گرد، وہ تمہارے گھروں میں پناہ لے رہے ہوتے ہیں! اپنی دہشت گردی سے باز آ جاؤ۔
"میری والد کی بنائی ہوئی جماعت کو ختم کرنے کے لیے حکومت اور فوج نے ہر حد پار کر دی ہے۔ قیادت پر تشدد کیا گیا اور انہیں جیلوں میں ڈال دیا گیا۔ آج پاکستان میں حق اور سچ کے لیے کھڑے ہونا جرم بنا دیا گیا ہے۔ دنیا کو پاکستان کے ان حالات پر توجہ دینی ہوگی۔"
"عام شہری سے لے کر ملک کے سب سے مقبول لیڈر میرے والد تک— جو بھی حق کے لیے آواز اٹھاتا ہے اسے تشدد اور جبر کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پاکستان میں آمریت کا راج ہے اور دنیا کو اس ظلم کا نوٹس لینا ہوگا۔"
قاسم خان @Kasim_Khan_1999 سی این بی سی نیوز @CNBC کو دیا گیا انٹرویو۔
#PakistanUnderFascism #FreeImranKhan
اے آر وائی ارشد شریف کا خون اور ڈی ایچ اے لیگونا کی پارٹنرشپ ہضم کرنے کیلئے جو پھکی استعمال کر رہا ہے وہ اسے اس بیماری میں مبتلا کر دے گی کہ تشریف پر بیٹھنا بھی محال ہو جائے گا ۔ اس کروٹ قرار ہو گا نہ اس کروٹ