میں بھی گھر سے نکلا تھا جن دِنوں تو میں اک وجیہ جوان تھا
مجھے راستوں نے نگل لیا یہ مسافتیں مجھے کھا گئیں
مری عمر بھر کی اذیتیں اسی ایک مصرعے میں بند ہیں
کئی حسرتوں کو میں کھا گیا کئی حسرتیں مجھے کھا گئیں
چلو ان دنوں کی طرف
چلو واپسی کوچلیں گاؤں
بوڑھے درختوں سے ہوتی ہوئی
کچی قبروں کوجاتی ہوئی
آدھی ترچھی سی پگڈنڈیوں پر
وہاں مٹےکتبوں کو تازہ کریں
چلو
اس حویلی کی گرتی ہوئی سرخ اینٹیں سنبھالیں
حویلی کہ جس نے
بہت سال وہ سب کھلونے سنبھالے
جنہیں ہم بڑا ہونے،بننے کی
عجلت میں چھوڑ آئے تھے
مِرے ہاتھوں کی لرزش اور قدموں کا یہ بوجھل پَن
یہ اُمیدوں کی قبریں اور ہمت کا جنازہ سب
چراغِ دِل کی مرتی ڈوبتی لَو کی علامت ہیں
خُدایا مُجھ منافق بَد عمل کے مَرتے بُجھتے دِل کو دے رونق
دِکھاوے کو ہی ہے شہرت تِرا بندہ
تِرے دَر کے سِوا ہر دَر کو دیواروں میں گِنتا ہے