مایوس نہ ہونا میرے نوجوانوں۔
ہر اندھیرے میں روشنی ہے۔
طاقتور کا سورج ڈھل رہا ہے۔
مظلوم کا سورج طلوع ہو رہا ہے۔
شہید کبھی مرتا نہیں۔
اور ہر شہید کا خون رنگ لائے گا۔
بس ذراسا صبر ذرا سی ہمت۔
وقت قریب ہے ظلمت کدہ مٹنے کا۔
اور اللہ صرف مظلوم کا ہے۔
ہر تکلیف کے بعد راحت ہے
القرآن
فروری ۲۰۲۶ سے ہمیں خان صاحب کے علاج کے حوالے سے ایسی ہی صورتحال اور عاصم منیر کے ناجائز تسلط کے ماتحت حکومتی اہلکاروں کی جانب سے ایسے ہی دھوکے کا سامنا ہے۔ کبھی الزام سوشل میڈیا پر دھر دیاجاتا ہے تو کبھی خاندان پر۔ اس مرتبہ جس ڈھٹائ سے سپریم کورٹ کی واضح ہدایات کو روندا گیا ہے بہت واضح ہے کہ بین الاقوامی اسٹیبلشمنٹ (کہ جن کو عمران خان نہ کل منظور تھا نہ آج ان کے پلانز میں فٹ بیٹھتا ہے) کے آلہ کار عاصم منیر اور حواریوں کے عزائم صرف عمران خان پر دباؤ ڈال کر اپنی انا کی تسکین اور اپنے ناجائز تسلط کی طوالت کے نہیں بلکہ ان کو خدانخواستہ راستے سے ہٹانے کے ہیں۔
عرصہ سے خان صاحب کی اپنی ہدایات ہیں، جو بارہا دہرائی جاچکی ہیں کہ اراکین اور پارٹی قیادت کی جانب سے سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دیا جائے تب تک جب تک ان کے کیسز کی سنوائی نہیں ہوجاتی اور انہیں ان کے معالجین تک رسائ اور علاج کی مناسب سہولیات نہیں مہیا کی جاتیں۔ ہمیں فوری طور پر سپریم کورٹ کے باہر دھرنا دے کر اس بات پر زور دینا چاہئے کہ کورٹ اپنے احکامات منوائے اور ساتھ ساتھ فارم ۴۷ کی اس ناجائز حکومت کے خلاف توہین عدالت کی کاروائ عمل میں لائی جائے۔
عسکری ترامیم کے زریعے عدلیہ کا چہرہ مسخ اور آئین پامال کر دیا گیا لیکن اس کے باجود ہم خان صاحب کے حکم پر انہی عدالتوں سے انصاف مانگ رہے ہیں پھر بھی اگر اتنا عرصہ گزرنے کے بعد کیسسز کی سنوائی تک نہ ہوسکی اور اب باوجودعدالتی آرڈر کے علاج جیسی بنیادی سہولت بھی نہیں دی جاسکتی اور عدالت اس معاملے میں مکمل طور پر اپنی بے بسی ظاہر کرتی ہے تو یہ آخری نقاب بھی اٹھ جائے تاکہ پھر فیصلےعوامی عدالت میں ہوں اور انہی سڑکوں پر ہوں۔
سیاسی اختلافات اپنی جگہ، میں صدق دل سے نواز شریف کی صحتیابی کیلئے دعاگو ہوں۔ انہیں علاج معالجے کی بہترین ممکنہ سہولیات فراہم کرنے کیلئے میں تمام متعلقہ حکام کو ہدایات دے چکا ہوں۔
حکومتی رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ فروری ۲۰۲۶ تک عمران خان کا بلڈ پریشر نارمل تھا۔ پچھلے دنوں اُن کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبروں کے باوجود بحث خبر دینے والوں پر فوکس رہی، جب کہ اُس خبر کی اب تصدیق ہورہی ہے۔ آنکھ ضائع ہوگئی، ناحق اسیری کو تین سال ہوگئے، ملاقاتیں بند کروائی گئیں، جان لیوا حملے ہوئے اور اب کبھی آپ کی صفوں کے اندر سے نئی بحث شروع کروا کر اصل ایشو کا رخ موڑ دیا جاتا ہے کبھی کوئی شوشہ چھوڑ کر تو کبھی کوئئ تماشہ لگا کر۔ آہستہ آہستہ سب نارملائز ہوچکا ہے۔ لندن پلان سے لے کر آج تک کے تمام واقعات، حادثات اور حالات سے اگر ابھی تک کے تمام حالات اور واقعات کو جانتے ہوئے بھی، ان کے مضموم مقاصد کے متعلق اگر کسی کی آنکھ نہیں کھلتی، نشانہ سیدھا نہیں رکھتا، فوکس نہیں رہتا تو پھر وہ بھی کسی نہ کسی انداز سے سہولت کاری کرکے پاکستان کے مستقبل اور عمران خان کی زندگی سے کھیل رہا ہے۔
کچھ عرصہ پہلے خان صاحب نے کہا تھا کہ ذاتی ڈاکٹرز یعنی ڈاکٹر فیصل اور ڈاکٹر عاصم تک رسائی اور انصاف کے حصول کے لیے کیسسز کی سنوائی تک سپریم کورٹ کے باہر پر امن دھرنا دیا جائے۔خان صاحب کی ہدایت بروقت پہنچائی بھی گئیں اور یاد دہانی بھی کرائی گئی۔
لاحاصل بحثوں میں پڑنے اور خبر دینے والوں کا زائچہ تیار کرنے کے بجائے خان صاحب کی ہدایت پر عمل کریں۔
کیا وہ نا حق مقید ہیں؟ جی۔
کیا خان صاحب کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ ان کی تحویل میں ہیں؟ جی۔
کیا ان کو نقصان پہنچانے کی کوششیں ہوئ ہیں؟ جی۔
کیا اسیری سے قبل صحت مند ہونے کے باوجود ان کی آنکھ کو نقصان پہنچایا گیا؟ جی۔
کیا ان کی صحت کے حوالے سے تشویش کن معلومات موصول ہورہی ہیں؟ جی۔
کیا عمران خان کی کسی سے ملاقات کروائ گئی ہے؟ نہیں۔
کیا عمران خان کی آنکھ میں خرابی کی خبر سے لے کر آنکھ ضائع ہونے اور ابھی تک ذاتی ڈاکٹرز یا کسی سے ملاقات ہوئی؟ نہیں۔ تو جب ان کے صحتمند ہونے کی تصدیق نہیں کی جاسکتی تھی تو بار بار ان کی جان کو لاحق خطرات کا علم ہونے کے باوجود تردید کیوں کی جاتی ہے؟ ان کی فوری ہسپتال منتقلی ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں تمام ٹیسٹ اور علاج کا سوال اہم ہے، ناحق اسیری ختم ہونا اہم ہے یا دیگر بحث؟
ہر فورم استعمال کرکے فوری ذاتی ڈاکٹرزکی موجودگی میں علاج اور کیسسز کی سنوائی اور انصاف کے حصول تک جدوجہد یہی عمران خان کی ہدایت تھی، یہی عمران خان کی ہدایت ہے۔ اس ہفتے خان صاحب کے کیسسز لگے ہیں،مستقل دھرنا تو نہیں دیا گیا امید ہے خان صاحب کے کیسسز کی سنوائی کے لیے متعلقہ تمام زمہ داران پہنچ جائینگے۔ ہاں احتجاج کے لیے کارکن سے لے کر سوشل میڈیا تک کی رائے اور آپشنز مختلف ہوسکتے ہیں لیکن خان صاحب کی یہی ہدایت تھی ذاتی ڈاکٹرز تک رسائی اور تمام کیسسز کی سنوائی اور انصاف تک وکلاء اراکین اسمبلی اور مرکزی قیادت کا سپریم کورٹ کے باہر دھرنا۔
شہید ارشد شریف کو کینیا میں شہید کیا گیا تو میڈیا چینلز کو آئی ایس پی آر اور آئی ایس آئی نے فون کیے کہ اس کو حادثہ، شناخت کی غلطی وغیرہ کی خبر بنا کر چلائیں اور بے دردی سے ہونے والے قتل کو کار حادثہ بنا کر چلا بھی دیا گیا۔
۱۵ مارچ کو زمان پارک پر حملہ ہوا پوری دنیا لائیو دیکھ رہی تھی رات کو بریکنگ نیوز چلی کہ زمان پارک پختونخواہ سے دہشت گرد لائے گئے تھے۔ ایک کمانڈر بھی نکال لائے اور اس کا تعلق سوات سے بتا کر مجھ سے جوڑا گیا۔
ظِل شاہ کو بےدردی سے شہید کیا گیا تو اس کو گاڑی کی ٹکر اور حادثہ قرار دینے کی کوشش کی گئی۔
۱۸ مارچ کو جوڈیشل کمپلیکس میں ڈیتھ ٹریپ بچھایا گیا، ناکامی ہوئی تو تھوڑ پھوڑ کے مقدمے پی ٹی آئی پر کیے گئے۔
عمران خان پر قاتلانہ حملہ کروایا اور منٹوں میں ایک طوطے کو ٹی وی سکرین پر لا کر رٹا رٹایا سبق نشر کرکے، اس قاتلانہ حملے کو مذہبی شدت پسندی کا رنگ دیا گیا۔
نو مئی کا فالس فلیگ کروایا گیا،سی سی ٹی وی فوٹیج غائب کروا دی گئی۔ ریڈیو پاکستان ایک طرف، احتجاج دوسری طرف لیکن بیانیہ بنانا تھا صوبائی حکومت نے ریڈیو پاکستان پر کمیشن بٹھایا تو عدالت سے سٹے ارڈر لے آئے (صوبائی حکومت کی غفلت اور ایکسپوز نہ کرنا بھی اپنی جگہ)۔ پشاور میں جب نقاب پوشوں کو پکڑا گیا تو ادارے کے اہلکار نکلے، مالاکنڈ میں گولیاں چلیں تو انتشار کے لیے بھیجا اپنا سپاہی بھی زد میں آیا، ہسپتال سے ہی اس کو اٹھا کر لے گئے لیکن نومئی کا الزام پی ٹی آئی پر۔
چھبیس نومبر کو نہتے معصوم لوگوں کو سیدھی گولیاں ماری گئیں۔ ان کی ڈیڈ باڈیز دینے سے انکار کیا گیا لیکن اگلے دن ہی وزیر اطلاعات وزارت داخلہ کے ساتھ مل کر پریس کانفرنس کرکے مجھ پر الزام لگایا گیا کہ میں افغانستان سے ۲۵۰۰ دہشت گردوں کو لاکر گولیاں چلا رہا تھا اور خود بھی موجود تھا۔ پورا میڈیا ایک ہفتے تک افغانستان سے دہشت گردوں کو لانے کا بیانیہ اس زور شور سے چلاتا رہا، سیدھی گولیاں مار کر جن کو شہید کیا گیا ان کا ذکر تک نہیں کیا گیا۔کسی بھی صحافی یا ٹی وی چینل نے ثبوت نہیں مانگے بس تماشہ چلتا رہا۔
ماہ رنگ بلوچ اور سمی دین بلوچ لاپتہ افراد کے خاندانوں کی آواز بنیں تو پورا بلوچستان ان کا ہم نوا تھا ان کو بی ایل اے سے جوڑ کر وطن دشمن قرار دے دیا۔ کسی نے سوال نہ پوچھا کہ مسخ شدہ لاشیں کیوں برآمد ہوئیں، ہیلی کاپٹر سے لوگوں کو کیوں گرایا گیا، کس طرح تیرہ-پندرہ سال کے بچے، جن کو ادارے اٹھا کر لے گئے تھے، ان کی پرانی لاشیں برآمد ہو رہی تھیں۔
کشمیر یکجہتی کمیٹی اپنے حقوق کے لیے نکلتی ہے تو جو کشمیری لائن آف کنٹرول پر پاکستان کا ہر اول دستہ ہیں، جو پاکستان کے نام پر جان دیتے ہیں، جو سبز ہلالی پرچم میں دفنائے جاتے ہیں ان کو بھی غدار، ریاست دشمن، انڈیا کی پراکسی اور دہشت گرد قرار دے دیا گیا۔
دہشت گردوں کو لے کر آرہے تھے، سوال اٹھایا تو غدار بن گئے، کوئی میری طرح ایسے مقدموں میں الجھا جن کی سزا پھانسی، کسی کو شیڈول فور میں ڈال دیا۔ کسی کے گھر پر ڈرون حملہ۔
حال ہی میں لڑاکا طیاروں کی بمباری سے بائیس افراد شہید ہوئے، کاٹلنگ ڈرون حملے میں سوات کی گجر برادری کے نو افراد شہید ہوئے، یہی میڈیا اور مارنے والے ان کو دہشت گرد ثابت کر رہے تھے۔ ڈیڑھ سو ڈرون حملوں میں سینکڑوں شہادتوں کو دہشت گردوں سے منسوب کیا گیا اور اسی میڈیا نے یہ بیانیہ چلایا لیکن وہ سب عام پاکستانی شہری تھے۔
لاپتہ افراد جن کی لسٹیں تک نہیں جاری کی جاتیں، کسی بھی حملے کے بعد دو تین کو نکال کر مار دیا جاتا ہے اور اس کو دہشت گردی کے خلاف کامیاب آپریشن کا نام دیا جاتا ہے۔
پچھلے چار سال سے کتنے معصوم اس طرح بے دردی سے کبھی بیانیہ بنانے، کبھی کولیٹرل ڈمیج کے نام پر اور کبھی کسی جرنیل کی انا کی بھینٹ چڑھائے گئے۔
اب ایک اور معصوم کو مار کر جھنڈا، اسلحہ، لیٹریچر وغیرہ کی وہی کند ذہن عسکری کہانی ہے، وہی گھسا پٹا سکرپٹ جو نہایت بے شرمی سے اس لیے چلایا جاتا ہے کہ پاکستان کی عوام کو بتایا جاسکے کہ ہماری کہانی جتنی بھی بھونڈی ہو تمہاری اوقات نہیں کہ اس کو چیلنج کرسکو۔
یہ خون آشام عفریت کہ جس کے مونہہ کو خون لگ چکا ہے۔ جب تک اس کی بیخ کنی نہیں ہوگی پاکستانی قوم ایسے ہی بھونڈے بیانیوں کی بھینٹ چڑھتی رہے گی۔ ایسے ہی جسٹس فار فلانہ ڈمگانہ کرتے کرتے ہم سب کی باری آجانی ہے اگر ہم نے اپنا اصل قاتل نہ پہچانا۔
عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویش ناک خبریں موصول ہونے کے بعد بھی ایسے کون سے مستند زرائع ہیں کہ بغیر کسی ملاقات کے بھی آپ یقین کر بیٹھے ہیں؟ عمران خان کی زندگی کو جن سے خطرہ ہے وہ انہی کی تحویل میں ہیں۔ اس سے قبل عمران خان پر جان لیوا حملہ ہو چکا ہے کئی منصوبے بن چکے آنکھ ضائع ہوچکی۔ عمران خان نے واضح طور پر اپنے ڈاکٹرز تک رسائی کے لیے ہر فورم استعمال کرنے اور آواز اٹھانے کی بات کی تھی۔ خدارا سب مل کر ہر فورم کا استعمال کریں۔بشری بی بی کی بھی آنکھ کا وہی ایشو بنا اور اب دوسری انکھ بھی متاثر ہو رہی ہے کیا یہ سب اتفاق ہے؟
چند ہفتے قبل آپ کو بتایا تھا کہ خیبر پختونخواہ میں پی ٹی آئی کے لیے حالات ایسے بنائے جائیں گے کہ آپ نہ امن کے لیے آواز اٹھا سکیں گے نہ عمران خان کی رہائی کے لیے تحریک چلا پائیں گے، اس لیے جلدی کیجئے۔ اگست کے آغاز سے متعدد واقعات ان خدشات کو درست ثابت کر رہے ہیں۔ پارٹی سے گزارش ہے کہ اتحادیوں سے بات کرکے ستمبر کی بجائےاسی مہینے قومی جرگہ بلائے؛ ہمارے پاس وقت کم ہے ہر گزرتا دن مزید جنازوں کی راہ ہموار کرے گا۔ یہ بھی گزارش ہے کہ امن تحریک کے ساتھیوں، نام نہاد دہشت گردی میں شہید اور زخمیوں،کشمیر کے مظلوموں، بلوچستان کی خواتین اور لاپتہ افراد کے اہل خانہ کو بھی جرگے میں بلائیں۔ قومی جرگے کو لسانی بنیادوں پر محدود کرنے کے بجائے اس کو پاکستانی قوم کے ہر مظلوم محروم اور پسے ہوئے طبقے کا جرگہ بنا کر اتحاد کا پیغام دیں تاکہ پورا ملک آپ کے ساتھ کھڑا ہو۔
پولیس سے آج پھر گزارش ہے کہ گزشتہ کئی واقعات کی تفصیل قوم کے سامنے رکھیں ورنہ یونہی آپ کے بھی جنازے اٹھتے رہیں گے۔قوم کو اگاہ کرو کہ کیسے انکو لایا گیا،کیسے آپ کو اکیلے چھوڑا گیا، کیوں آپ کے جوان ایسی بے بسی میں شہید ہوئے پورا واقعہ سامنے رکھ دو اس میں آپ کی بھی بہتری ہے اور قوم بھی آپ کے ساتھ کھڑی ہوگی یہ گارنٹی میں اپ کو دیتا ہوں، آپ اس ڈرٹی گیم کو ایکسپوز کریں۔ پولیس والے شہید ہوئے تو سی ٹی ڈی کو فوج نے یہاں تک کہا کہ آپ فوج سے اپیل کریں کہ پولیس ناکام ہوگئی ہے اور پختونخواہ حکومت آرٹیکل ۲۴۵ کے تحت فوج سے مدد مانگ لے۔ کمال نہیں ہوگیا؟
انشاءاللہ امن پاسون میں اب تیزی آئے گی اور یہ سلسلہ صرف سوات تک محدود نہیں رہے گا ۔دہشت گردی کی نئی لہر کی یہ کوششیں ۲۰۲۲ سے بار بار ہوئیں لیکن ہماری قوم نے اسے خود ناکام بنایا تھا اور حالیہ کوشش کو بھی انشاءاللہ عوامی طاقت سے ناکام بنایا جائے گا۔
آخری اور اہم ترین گزارش اس کو عوام تک پہنچانے میں میری مدد کریں میں بار بار اپنے حالیہ پیغامات میں یہ دہرا رہا ہوں لیکن شاید پاکستان کے باقی علاقوں کو اس تباہی کی سمجھ نہیں۔ فوج عوام کو لشکر بنانے کے لیے دباو دے رہی ہے۔ پچھلی مرتبہ آپریشن کے وقت فوج نے اپنی نگرانی میں امن کمیٹیز بنائیں، بہت سارے علاقوں میں امن کمیٹی کے اہم ترین لوگوں نے فوجی چھتری تلے طاقت کا استعمال کرتے ہوئے ظلم کیا۔ بہت سارے بے گناہ فوج کی تحویل میں دئیے گئے جن میں متعدد کی اموات ہوگئیں، کسی کا گھر توڑا گیا کسی کو قتل کروایا گیا۔ فوج چلی گئی اور ان لوگوں کی ذاتی دشمنیاں بن گئیں گزشتہ کچھ عرصے سے خصوصاً حالیہ ٹارگٹ کلنگ میں نشانہ بننے والے وہی امن کمیٹی کے لوگ ہیں۔اب سوچیں کہ امن کمیٹیز کے اتنے عرصے بعد بھی دشمنیاں چلی آرہی ہیں تو فوج جب پوری قوم کو بندوق اٹھانے کا کہہ کر لشکر بنانے کا حکم دے رہی ہے تو اس کا کیا اثر ہوگا؟ پھر لشکر بنا کر وہ لڑے بھی کس سے لانے والوں سے یا آنے والوں سے؟ پھر ریاست کی پالیسی تبدیل ہوگی تو ہر شہری جو لشکر کا حصہ بن چکا ہوگا، یہ دشمنی ذاتی نہیں قوموں اور نسلوں تک جائے گی۔ اس لیے میری قوم سے درخواست ہے کہ خدارہ ان کی گیم کو ایکسپوز کریں۔ اس سے پہلے کہ معاملات مکمل طور پر ہمارے ہاتھ سے نکل جائیں اور ہماری اگلی ایک دہائ بھی انہی ناکردہ گناہوں کی سزا کاٹتے گزرے۔
🇵🇰 Pakistan's restrictions on foreign news outlets, extending to local staff of these organizations, under the new Foreign Media Facilitation Guidelines, 2026 are an attack on press freedom.
Why is the government afraid of truth?
The disturbing reports emerging from Rawalakot are consistent with the Pakistani authorities’ long history of unlawful violence against protesters in Jammu and Kashmir.
A prompt, independent, and transparent investigation must be ordered into the security forces’ use of force against protesters.
So long as an internet and mobile services blackout remains in place, it will severely impede the independent verification of the full extent of the situation on the ground.
We urge the Pakistani authorities to restore all communications access and allow media and independent observers into the area
PAKISTAN: Ahead of the third anniversary of former Prime Minister Imran Khan’s ongoing detention, Isabelle Lassee, Amnesty International’s Acting Regional Director for South Asia, said:
“For three years, Pakistan’s authorities have systematically denied Imran Khan the right to a fair trial, subjected him to prolonged solitary confinement, and limited his access to medical care and visitation rights. He has not been allowed to meet his family for more than eight months and his vision has reportedly deteriorated significantly. Both he and his wife, Bushra Bibi Khan, have now been denied regular access to legal counsel since December 2025."
Read more: https://t.co/hc6eKnIITh
2/2
شہدا کے لواحقین سوال پوچھیں کہ آپ کی ہی بچھائی گئی بساط پر مہرے بن کر کب تک عام شہری سے جوانوں تک قربان ہوتے رہیں؟ آپ کی طاقت کی ہوس کی بھینٹ کیوں چڑھیں ہمارے بچے؟ سوال پوچھیں کہ خود ہی دہشت گردوں کو لانے کی پالیسی کیوں بنائی؟ آج کیوں پولیس کو بھی آپ پر اعتماد نہیں رہا؟
جس شہید کے اہل خانہ کو آگے کرکے شہدا کے نام پر اپنی طاقت بڑھانا چاہتے وہ بھی سوال اٹھائیں کہ دہشت گردوں کی ایک ایک تشکیل کی آمد کے وقت ان کے لیے روٹ لگا کر، انتظامیہ کو صرف نظر کرنے کی ہدایات جاری کرکے، اب ان نت نئے ناموں ”فتنتہ الہندوستان”، ”خوارج” وغیرہ سے کس کو بے وقوف بنا رہے ہو؟
پوچھیں کہ امن کا سفید پرچم لہو رنگ کرنے والوں کیا پاکستانی قوم دیکھ نہیں رہی کہ تم کا طرف کھڑے ہو؟
امن کی ہر آواز کو غدار اور شیڈول فور میں ڈال کر تم نے دہشت گردوں کا ساتھ نہیں دیا؟
۲۰۲۳ میں بھی ۸۰ کے دہائی کی دوغلی پالیسی اپنانے والو! تمہاری ہوس کو اور کتنوں کا لہو چاہئے؟
امن کے نام سے تم خوفزدہ ہو کیونکہ امن ہوگا تو سیکورٹی کے نام پر قبضے کا کاروبار جو بند ہوگا۔ خود لا کر خود بسا کر اب قوم کو ہی لشکر بنانے کے لیے دھمکا رہے ہو، محدود لوگوں کی امن کمیٹیز بنا کر جو ظلم کروایا اور ذاتی دشمنیاں بنوائیں وہ کافی نہیں کہ اب قوم کو بندوق اٹھانے کا درس دے رہے ہو؟
کیوں قوم لڑے اور لڑے بھی تو کس سے آنے والوں سے یا لانے والوں سے؟
میرے پاکستانیو!
جس دن سے ہم ایشوز اور ایونٹس پر ریکٹ کرنے کے بجائے اور کسی کے مرنے پر دو جذباتی ٹویٹس، فیس بک، وٹس ایپ سٹیٹسز لگانے کے بجائے ان سانحات کو روکنے کا سامان کرنے لگیں تب شاید یہ لوگ ہمیں انسان سمجھنے لگیں۔ ان کو اتنا خون اتنے عرصے اور خصوصا پچھلے چار سال میں پلایا گیا ہے کہ یہ اب عفریت بن کر آدم بو آدم بو چلاتا مزید خون مانگتا پھر رہا ہے۔ مزید خون کی اس طلب میں اور کس کس کا گھر اجڑے گا؟ اور کتنے مریں گے؟ کوئی یہ نہ سمجھے کہ وہ بچا رہے گا اس لیے فیصلہ کیجئے کہ قطار میں لگ کر اپنی باری کا انتظار کرنا ہے یا یہ سلسلہ روکنا ہے، یہ پاگل پن روکنا ہے۔
کبل، دیر، وزیرستان، ہنگو میں شہادتیں، بلوچستان میں شہادتیں۔ کسی کو علاقہ چھوڑنے کا حکم، تو کہیں فصل تیاری سے قبل کاٹنے کا حکم!!!
جو ڈرون،لڑاکہ طیاروں، دھماکوں، میڈ اپ دہشت گردی کی پہنچ سے دور ہیں ان کے لیے ریاست ہر پر امن اجتماع کو نشانہ باندھ کر مقتل گاہ بنانے کے لیے تیارہے۔
میرے پاکستانیو!
روزانہ بنیادوں پر آئی ایس آئی پی آر کی پریس ریلیزز آ رہی ہیں کہ فلاں جگہ ”کامیاب“ آپریشن کیا، پریس کانفرنسز میں ڈھائی دہشت گردوں کے مدمقابل ایک شہادت کو کارکردگی بنا کر پیش کیا جارہا ہے۔ روز ہماری پولیس کے جوانوں اور شہریوں کی شہادتوں کی خبریں چلتی ہیں اور یوں سیکورٹی سٹیٹ کے نام پر جرنیلوں کی طاقت کا کھیل جاری رہتا ہے۔ ہم ایشوز اور ایونٹس پر ریکٹ کرنی والی قوم، ہم واقعات کو حادثات اور پھر سانحات کے بدلنے کے انتظار میں بیٹھی قوم بس اسی دن اسی ایشو پر ریکشن مانگتے ہیں پھر ایک اور سانحہ ایک اور جنازہ ایک اور آپریشن ایک اور بم دھماکہ، ایک اور ڈی چوک، ایک اور مرید کے، ایک اور راولا کوٹ۔ اور اگر کوئی ایک واقعے، ایک پالیسی کی نشاندہی کرے، دہرائے، بارہا بتائے، تاریخ کا سبق یاد دلائے تو جرنیل تو غدار قرار دیتے ہی ہیں اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ جن کو روز نیا مواد چاہیے وہ کہتے ہیں پرانا چھوڑو اب بتاؤ۔
ڈرون پر ٹویٹ کرو، شہید پر بات کرو۔
بیماری کی جڑ پر کیوں بات نہ کروں؟
اصل وجہ پر کیوں بات نہ کروں؟
میں اگر کہوں کہ دو دفعہ تو قوم کے ساتھ مل کر ان کو نکالا یہی جرنیلی اکاونٹس کہیں گے کہ وہ چھوڑو جو آج حالات خراب ہیں اس کا بتاو، اُس کا کیا؟
کیا ہماری اجتماعی یاداشت اتنی کمزور ہے یا تیز تر خبروں کی دوڑ میں ہم کل کی بات بھی بھولتے جا رہے ہیں؟
چند عسکری ٹاوٹس کے ذریعے اتنا کہا جاتا ہے کہ لمبی بات نہیں، پرانی بات نہیں ابھی کا بتاو، ہمارے نادان دوست بھی اسے بیانیے کا نشانہ بن کر ایشوز پر ریکٹ کرنے تک محدود ہوگئے ہیں اور اسی بیانیے کی آڑ لے کر جرنیل اپنی ڈالری جنگ کی خواہش اور میڈ اپ دہشت گردی سے لے کر نہتے لوگوں پر گولی چلانے تک کے سوال سے بچ نکلتے ہیں۔
میرے پیارے پاکستانیو!
یہ لاشوں کی گنتی آپریشن کے اعداد و شمار اور ہر جنازے پر کندھا دینے والوں کے سوال کے بجائے ان کی ہر پریس ریلیز اور ہر ٹی وی ٹِکر پر سوال اٹھائیں کہ کیوں ہماری زندگیوں کا سودا کرنے کی پالیسی بنائ؟
دہشت گردی آئی نہیں لائی گئی۔
دہشت گرد آئے نہیں لائے گئے اور لا کر بسائے گئے۔
یہ دعوی نہیں گزشتہ چار ساڑھے چار سال کا میرا ہر بیان، ہر ٹویٹ اور بتائی گئی تفصیلات سے واضح ہے۔
ابھی کل ہی کی تو بات ہے یہ آگ جو آج گھر گھر تک آ گئی ہے اسی کی نشاندہی میں کر رہا تھا۔ پاکستان کے ہر چوک، چوراہے میں چیخ چیخ کر بتاتا رہا کہ لگے گی آگ تو آئینگے گھر سبھی زد میں۔ آپ کو بتایا کہ اپنی زندگی داو پر لگا کر مالاکنڈ کا امن اپنی قوم کے ساتھ بحال تو کر لیا لیکن یہ جرنیل فیصلہ کر چکے ہیں۔ یہ پھر وار کریں گے۔ مئی/جون ۲۰۲۲ میں پی ڈی ایم کی حکومت بنتے ہی اس کا ساماں کرلیا گیا تھا۔ دوبارہ پھر ان کو لایا گیا۔ سوال پوچھا کہ نکالنے کے بعد کیا آپ بارڈر محفوظ نہیں کر سکتے تھے؟بارڈر پر لگی باڑ کے باوجود پھر کیسے آئے؟ لیکن خاموشی سے اسی پالیسی کا تسلسل جاری رہا۔ میں ہی غدار۔ میں ریاست کا مجرم۔ میرے پوسٹر لگا کر اس پر غداری کا نعرہ چسپاں کروایا۔ مقدمے ایسے کہ سزا موت۔ سر کی قیمت الگ۔ ایک مرتبہ پھر انہیں اپنے لائے ہوں کو واپس بھیجنے پر مجبور کیا تو وہ ریاست جو دہشت گردوں کی موجودگی سے ہی انکاری تھی ان کو واپس لوٹا کر، ان کے جانے پر پریس ریلیز جاری کرکے کریڈیٹ لینے لگی کہ بس تھوڑے سے تھے، بروقت کاروائی سے نکال دیے حالانکہ حقیقت میں جب قوم اٹھ کھڑی ہوئ اور پولیس نے ان کے گرد گھیرا تنگ کرلیا تو ان کا فقط اتنا کردار تھا کہ گاڑیاں لا کر انہیں سیف ایگزیکٹ مہیا کیا۔
پھر جب نو مئی کا بہانہ کرکے پی ٹی آئی اور ہم سب کو کرش کیا جا رہا تھا اس وقت جنوبی اضلاع میں انہیں دوبارہ داخلہ مہیا کیا گیا اور یوں ہر سمت آگ پھیلائ گئی۔ ڈرون، لڑاکا طیارے، ٹارگٹ کلنگ، دھماکے۔۔ کب تک بند کمروں کے فیصلوں سے عام شہری سے لے کر فوج اور پولیس کے جوان تک شہید ہوتے رہیں گے؟ ہاں وطن پر جان نچھاور کرنے کا عزم کیا ہے مگر تم پہ مرنے کے لیے تو نہیں جنے گئے تھے یہ بیٹے۔
1/2
" سسٹم نہی ایک اڈہ ' ایک گندہ نالہ یا ایک کوٹھا "
(اس نظام کو سسٹم کہنا ہی غلط ہے کیوں کہ اس میں اڈوں والی بدمعاشی ' گندے نالے والا تعفن اور کوٹھے والا بازاری پن ہے )
احسن اقبال صاحب کچھ ہفتے پہلے کولمبس آیے تھے - اپنی تقریر میں تین دفعہ بولے کہ میں اسی جیل میں تھا جس میں عمران خان آج ہے - تب میں نے وہاں پوچھ لیا کہ "آپ کو بھی سات ماہ تک بہن بھائی سے نہی ملنے دیا جاتا تھا " جس پر ان کے پاس کوی جواب نہی تھا -
پھر میں نے سوال کیا کہ آپ اوورسیز سے خطاب کر رہے ہیں ' آپ نے ان کے ووٹ کا حق کیوں چھینا ؟
جواب ملا کہ یہ وہاں آکر ووٹ ڈالیں - یہاں سے انٹرنیٹ ہیک ہوسکتا ہے - (البتہ وہاں جو پیپرز پر ٹھپے لگتے ہیں وہ سب سے فول پروف سسٹم ہے )
پھر میں نے سوال کیا کہ ملک سے اتنا برین ڈرین ہورہا ہے ' آپ کے منسٹر اور فیلڈ مارشل اس کو "برین گین" کہتے ہیں - یہ سمجھادیں -
جواب ملا کہ "یہ ایک یونیورسل فنومینا ہے - پوری دنیا کا ہی برین ڈرین ہورہا ہے "
وہاں سوال ہوا کہ ہائبرڈ نظام کب تک چلے گا ' جواب ملا کہ "عمران خان نے فوج کو اتنا مظبوط کردیا ہے کہ ان کو سیاست سے نکالنے میں اب وقت لگے گا " (سو اسی لئے ہم نے ان کو اور طاقتور کرنے کیلئے فیلڈ مارشل اور پانچ سال کیلئے چیف آف ڈیفینس بنا ڈالا )-
یہ سوال جواب میں نے اس لئے لکھے کہ ان کی اس تقریر میں بھی آپ کو ایسا ہی "فلسفی " نظر آئیگا -دلچسپ بات یہ ہے کہ جو بات پہلے تحریک انصاف کے سپورٹرز اور پورا پاکستان کہتا تھا اب اس کی گواہی مسلم لیگ نواز اور پیپلز پارٹی خود دے رہی ہے - فارم 47 کا وزیر اعظم فارم 47 کا صدر ' اسی فارم 47 کی پارلیمینٹ اور اسی پارلیمنٹ کے ہاتھ سے ہونے والی 26 ویں اور 27 ویں آئینی ترامیم اور ان کے نتیجے میں بننے والا آج کا عدالتی نظام اور اور فیلڈ مارشل سمیت پانچ سال کی مدت والا چیف آف ڈیفینس فورسیز کا عہدہ ' سب ہی فارم 47 زدہ اور متنازع ہوجاتا ہے - اس وقت پوری قوم بس تماشہ دیکھ رہی ہے کہ کس طرح فرروی 2024 کے انتخابات میں ان کے مینڈیٹ پر ڈاکہ ڈالنے والے سر عام کس طرح اپنا اپنا جرم قبول کررہے ہیں اور پھر بھی نہ چہرے پر کوئی ندامت ہے نہ ماتھے پر کوئی پشیمانی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس ہونا -
یہ بھی بس پاکستان میں ہی ممکن ہے کہ عوام کے مینڈیٹ کی مل کر چوری کرو اور پھر سرعام اس چوری کو قبول کرکے ہنسوں ؛ اور قہقہے اور تالیاں بجاؤ -' آپ کو کوئی پوچھنے والا ' کوئی سوال کرنے والا نہی - یہ ہے اصل سسٹم کا کولیپس کرنا - کہ آپ کو جوابدہی کا خوف ہی نہ رہے - سسٹم اتنا کھوکھلا اور کرپٹ ہو کہ وہ اپنے منہ سے اپنے جرائم قبول کرنے والوں کو بھی پروسیکیوٹ نہ کرسکے - سٹسم اتنا کمزور ہو کہ وہ سائکل کی چوری پر ایک سال سزا سنا دے پر کروڑوں لوگوں کے ووٹ کی چوری پر آپ کو وزیر اعظم اور صدر بنادے اور جب وہ اپنے اپنے منہ سے اپنا گناہ تسلیم بھی کریں تب ان کیلئے پنڈال سجاے اور تالیاں بجاے-
اچھے خاصے چلتے سسٹم کو تباہ کرکے جو ایک غیر فطری سسٹم بنایا آج خود مان رہے ہیں کہ "سسٹم نہی چل رہا ' اور اب مزید تجربوں کی بات کر رہے ہیں "
یہی بات جب سڑکوں پر عوام کرتے تھے تو یہ ان پر گولیاں چلاتے تھے -
بھائی ! سسٹم پر مزید بات کرنے سے پہلے ان کو تو سزا ادیں جو یہ سسٹم لے کر آیے تھے کیوں اگر اگلے سسٹم کے موجد بھی ووہی اناڑی ' self proclaimed انجنئیر ہیں تو وہ بھی کیا خاک چلے گا - جنہوں نے پہلا سسٹم برباد کیا پہلے ان کو تو ایک ایک طمانچہ رسید ہو ' پھر اگلے سسٹم کی بات ہو -
سسٹم ؟ کیا ہے یہ سسٹم ؟
کسی ارشد شریف کا قتل ہو تو اسی دن سب کو قاتلوں کا پتا ہو پر ساتھ میں یہ بھی یقین ہو کہ ان کو سزا نہی ملے گی - یہ ہے سسٹم ؟
الیکشن سے تین ہفتے پہلے سب سے بڑی جماعت کا انتخابی نشان چھین لیا جائے ' اور یہ بھی معلوم ہو کہ یہ ووٹر کے حق پر حملہ ہے ' یہ ہے سسٹم ؟
پھر بھی جب انتخابات میں منہ کی کھانی پڑے تو 2 + 2 کو 22 لکھ دیا جائے ' الیکشن کمیشن کی ویب سائٹ کو کسی سرکاری سکول کا حاضری والا رجسٹر بنا کر وہاں کاٹے مآٹے مار کر نمبرز پورے کیے جائیں ' یہ ہے سسٹم ؟
جو سب سے زیادہ ووٹ جیتے اس کو 33 سال کی قید سنادو ' جیل میں اس کے خاندان کا ملنا اس سے بند کردو ؛ اس کی بینائی ضایع ہونے لگے تو اپنی آنکھیں بند کرلو - اس کو وہ بنیادی حقوق بھی نہ دو جو ایک عام قیدی کا بھی حق ہوتا ہے ' یہ والا سسٹم ؟
جو صحافی آواز اٹھاے اس کو اٹھا لو - ملک بدر کردو - جیل میں ڈال دو - چینل سے نکال دو - یہ والا سسٹم ؟
جو جج اپنے کمروں میں کیمرے لگانے کے خلاف خط لکھے ' جو الیکشن ٹریبونل میں فارم 47 کو ویریفائی کرنے کیلئے وہاں کے فارم 45 بھی منگوالے ' اسکی ڈگری کو 35 سال بعد جعلی ثابت کردو ' اس کا چھوٹی عدالتوں میں ٹرانسفر کروادو ' اور کسی دوسری کورٹ سے 15 ویں رینک کے جج کو بلا کر اسکوان کے اوپر چیف جسٹس لگا دو ' عدالتوں کو جرگہ بنا دو ' یہ والا سسٹم ؟
جنہوں نے اس غیرعوامی حکومت کو یہ سسٹم بنا کر دیا' ان کے عہدوں کو ایکسٹنشن دو ' ان کو فیلڈ مارشل اور چیف آف ڈیفینس بناؤ ' اور اپنے اس "symbiosis " اور اس بند بانٹ کو جب کوئی اور نام نہ ملے تو "ہائبرڈ " نظام کا نام دے کر کوئی بلغم کو مقیت شہد کہنے کی کوشش کرو ' یہ والا سسٹم ؟
سینیٹ اور کابینہ میں اپنے بندے بغیر الیکشن کے لاؤ ' ان کو ڈائریکٹ سینیٹر اور وزیر داخلہ لگاو اور پھر تین سال بعد اسی سے کہلواؤ کہ "سٹسم کولیپس کر گیا ہے " یہ والا سسٹم ؟
میری نظر میں اس نظام کو "سسٹم " کہنا ہی غلط ہے - سسٹم میں اصول ہوتا ہے ' نظم و ضبط ہوتا ہے ' دو جمع دو چار ہوتا ہے ' اس میں پروڈکشن ہوتی ہے - اس میں جواب طلبی ہوتی ہے ' اس میں مواخذہ ہوتا ہے - اس نظام کو سسٹم نہی "اڈہ" ' گندہ نالہ " یا "کوٹھا " کہنا زیادہ مناسب ہے کیوں اس میں "اڈوں " والی بدمعاشی ہے ' "گندے نالے " والا تعفن ہے اور "کوٹھے " والا بازاری اور کنجرپن ہے جس کی گواہی اب یہ سسٹم اور اس کے بینیفشری اپنی زبان سے خود دے رہے ہیں -
قلم کی جسارت وقاص نواز
-------------------------------------------------------
@MoeedNj@ImranRiazKhan@javerias@soulful7867
ڈی جی آئ ایس پی آر صاحب!
یہ پہلی مرتبہ نہیں ہوا کہ میں نے سوال آپ پر اٹھایا ہو اور جواب مجھے دوسری جانب سے ملا ہو۔ اپریل ۲۰۲۳ میں بھی یونہی آپ پر سوال اٹھانے کا جواب مجھے میرے گاؤں میرے لوگوں کو لہولہان کرکے ملا تھا اور آج پھر کبل سوات میں ہونے والے امن پاسون پر حملے اور امن کا سفید جھنڈا لی کر نکلنے والے ہمارے معصوم شہریوں کو لہولہان کیا گیا ہے۔
امن پاسون کا اعلان ہوتے ہی امن تحریک کے پرانے ساتھی اور اولسی پاسون کے خلاف جو کریک ڈاون ہوا اس سے واضح تھا کہ امن کے نام سے کس کو نفرت ہے۔ آج کے امن پاسون کو روکنے کی کوشش ناکام ہوئی تو دھماکہ کروایا گیا۔ اس کا ایک ہی مقصد ہے کہ جو قوم میڈ اپ دہشت گردی کی کئی کوششوں کو ناکام بنا کر اپنا امن قائم کر چکی ہے اس دفعہ ان کے اجتماعات پر دھماکے اور فائرنگ سے خوف پیدا کرکے اپنے مذموم مقاصد حاصل کیے جائیں۔
کئی دفعہ مالاکنڈ سے ریاست کی چھتری تلے دہشت گردوں کو بسانے کی کوشش کو ہم نے ناکام بنایا۔ پچھلے سال سے پھر کوشش جاری تھی اور کچھ عرصہ قبل میں نے پوری تفصیل بیان کی کہ بیس دہشت گردوں کی سوات، پندرہ شانگلہ، دس بونیر اور اس طرح دیر تشکیل ہوگئی ہے۔ سات مہینے پہلے پختونخواہ حکومت کو بھی آگاہ کیا۔ کتاب میں ان کو باجوڑ سے روٹ لگا کر لے جانے اور پھیلانے کی پوری تفصیل لکھ دی۔ سوات میں پرسوں جو خیبر پختونخواہ پولیس کے جوانوں کی شہادتیں ہوئی ہیں اس واقعے کی تفصیلات اتنی خطرناک ہیں کہ متعلقہ لوگ سب جانتے ہوئے بھی خاموش ہیں کہ ”گیم بڑی لگ رہی ہے کچھ کہیں گے تو مارے جائینگے“۔ مارے جانے کا ساماں تو ریاست کر چکی ہے بس فیصلہ یہ کرنا ہے آپ نے کہ پھر سے بے گھر ہونا ہے، ایک ایک کر کے نشانہ بننا ہے یا اسی طرح ان کو نکال باہر کرنا ہے جس طرح ہم پہلے کئی بار کر چکے ہیں۔ جنوبی اضلاع میں پولیس نے کھل کر اس ڈبل گیم پر اعتراض اٹھایا سوات اور مالاکنڈ پولیس سے گزارش ہے کہ پردہ پوشی چھوڑیں، دیکھ لیجئے آج پھر آپ نشانہ بن گئے۔کھل کر پچھلی دفعہ ڈی ایس پی کو گولی لگنے اور پھر مٹہ کے پہاڑوں میں پولیس کے اغوا کی کہانی قوم کے سامنے رکھیں۔ ۲۰۲۳ میں کبل سی ٹی ڈی پولیس لائن پر ہونے والے حملے کی حقیقت قوم کے سامنے رکھیں جس کو شارت سرکٹ کہہ کر دبایا جارہا تھا۔ پرسوں جو شہادت ہوئی جس کا ذکر آپ نے بند کمرے میں کیا قوم کے سامنے وہ حقیقت رکھیں ورنہ یونہی فرنٹ لائن پر رہتے ہوئے جنازے اٹھاتے رہیں گے۔ اداروں کے کہنے پر امن کی آوازوں کو حراساں کرنے کا سلسلہ روکیں کیونکہ ان کی پالیسی تو بدل جائے گی بے گھر ہم نے ہونا ہے۔ قیمت ہم نے مل کر ادا کرنی ہے۔ سوال پوچھیں کہ آخر یہ چھپن چھپائی یہ لانا، بسانا، جنازے اٹھانا اس سے کونسا ملک کا مقصد حاصل ہو رہا ہے جس کی ہمیں سمجھ نہیں۔ جھوٹ بولنے اور ہمارے جنازوں کے اعداد و شمار دکھانے کی بجائے ایک دفعہ سچ پر مبنی بریفنگ دے کر اپنی پالیسی بدلیں۔ اور کان کھول کر سن لیں کہ آج کا یہ ترقی یافتہ مالاکنڈ ریجن یہ سیاحت ترقی اور امن کا گہواہ مالاکنڈ ہم نے ۲۰۱۳ کے بعد سے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اور کسی کو اس کا امن تباہ نہیں کرنے دیں گے چاہے وہ آنے والے ہوں یا لانے والے!
اگر عمران خان کی صحت کے حوالے سے تشویشناک اطلاعات کی تصدیق کی ہمارے پاس کوئی ٹھوس وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں ہے، جب ان سے کسی کی ملاقات ہی نہیں ہوئی۔ پچھلی دفعہ جب آنکھ کا مسئلہ آیا تو ایسے ہی تردید کی جاتی رہی اوراس کو ڈس ٹریکشن کہا گیا لیکن پھر بینائی کے شدید متاثر ہونے کی خبر کی تصدیق ہوگئ۔
جب ملاقات ہی نہیں ہوئ، قابل اعتماد معالجین تک رسائی ہی میسر نہیں تو تردید،جھوٹ اور پروپیگنڈا قرار دینے کے بجائے کیوں نہ تمام تر قیادت عمران خان کو ذاتی ڈاکٹرز کی موجودگی میں ہسپتال منتقل کرنے کے لیے ہر فورم کا استعمال کریں۔ اگر ”متعلقہ لوگ” اتنے ہی قابل بھروسہ اور ہمدرد ہیں تو ان کی آنکھ کیسے ضائع ہوگئی؟ ابھی تک علاج کیوں نہیں کروایا گیا؟ اور اب تسلی دینے کے بجائے ذاتی ڈاکٹرز سے ملاقات کیوں نہیں کروائ جا رہی؟
یہاں جعلی پلیٹ لیٹس رپورٹس پر طوفان کھڑا کیا جاتا ہے لیکن ان کی بینائی کے معاملے پر اتنی شدید غفلت کے بعد اب مزید ایسی خبروں پر خاموشی مجرموں کی سہولت کاری ہے۔ جیسے پچھلی دفعہ آٹھ فروری کے ایونٹ کا انتظار کرتے ہوئے دو ہفتے ضائع کیے گئے اس دفعہ بے شک پانچ کی تیاری جاری رکھیں لیکن فوری طور پر قیادت و صوبائی حکومت ہر آئینی قانونی اور عوامی فورم استعمال کرے۔ تصدیق کی وجہ نہیں تو تردید کا بھی کوئی جواز نہیں۔
یہ علاج پاکستانی ڈاکٹرز کیوں نہیں بتاتے ؟
پہلی بات کیونکہ پاکستان میں 100 میں سے 50 پرسنٹ ڈاکٹرز سرے سے ھوتے ھی نہیں ھیں اور جو ڈاکٹرز ھوتے ھیں یا تو انکو یہ علاج معلوم ھی نہیں یا وہ یہ علاج اسلیے نہیں بتاتے کیوں۔۔۔
ڈی جی آئی ایس پی آر نے آج پاکستانیوں کی شہادتوں کا ذکر کیا کتنی بے شرمی سے شہادتوں کا ذکر کرتے کہا کہ ہماری کارکردگی اچھی ہوگئی کیوں کہ پچھلے سال ہمارے ایک شہید کے بدلے دو دہشتگرد مرے اس سال ایک شہید کے بدلے اڑھائی دہشتگرد مرے۔
میں نے اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ کیسے یہ ان دہشتگردوں کو واپس لانے کے لیے دلائل دے رہے تھے لیکن عمران خان کا جواب تھا Absolutely not پھر عمران خان کی حکومت گراکر پی ڈی ایم کو لایا گیا انہوں نے کوئی اعتراض نہ کیا اور اگست کے پہلے ہفتے ہی دہشتگردوں کی واپسی شروع ہوگئی۔
میں چیخ چیخ کر بتا رہا تھا یہ غلط ہورہا ہے ہمیں دوبارہ دہشتگردی کی آگ میں جھونکا جارہا لیکن آپ ڈی جی آئی ایس پی آر کے اکاؤنٹ کی پریس کانفرنسز سن لیں یہ کہتے جھوٹ بول رہا پروپیگنڈہ کررہا ہے۔
بارڈر پر باڑ لگے ہونے کے باوجود دہشتگردوں کی واپسی کیسے ہوئی، چوکیاں خالی کیوں کرائی گئیں؟ جو دہشتگرد قیادت کررہے وہ فوج کی تحویل میں تھے۔ مراد سعید کا پاکستانیوں سے سوال اٹھانے کی اپیل ۔ @MuradSaeedPTI
کشمیر کے حوالے سے حکومت سے تین واضح مطالبات:
1۔ ایدھی، تمام ریلیف تنظیموں، ادویات،ایمبولینسوں، صحافیوں، نیوز چینلز، سیاستدانوں اور دیگر آزاد مبصرین کو کشمیر جانے سے نہ روکا جائے تاکہ وہ زمینی حقائق دنیا کے سامنے لا سکیں۔
2۔ شہداء کی میتیں فوری طور پر ان کے لواحقین کے حوالے کی جائیں اور ان کی تدفین میں رکاوٹیں ڈال کر ان کی بے حرمتی کا سلسلہ بند کیا جائے۔
3۔ پُرامن مظاہرین کے خلاف کریک ڈاؤن فوری ختم کیا جائے اور انہیں مظفرآباد میں اپنا پُرامن احتجاج ریکارڈ کرانے دیا جائے۔
کشمیر کے عوام کے بنیادی انسانی حقوق کا احترام ہر صورت یقینی بنایا جائے۔
We have absolutely no reliable information on Imran Khan’s health. Imran Khan have never had any blood pressure issues. His normal blood pressure has always been on the lower side since he does regular exercise for several hours a day. So this disinformation being spread on Imran Khan has all the markings of the agency disinformation cell. Are they trying to set the stage for something more serious to happen to him? All those claiming credible sources are effecting their own credibility!
چیئرمین عمران خان نے گزشتہ ہفتے اپنے خطاب میں پیش گوئی کی تھی کہ؛
”مجھے گرفتار کر لیں پھر بھی تحریک انصاف کا امیدوار جیتے گا“
خیبرپختونخوا میں آج کا بلدیاتی انتخاب ان کے مؤقف پر مہرِ تصدیق ثبت کرتا اور یہ ثابت کرتا ہے کہ رب العزت کے بعد طاقت کا حقیقی سرچشمہ عوام ہی ہیں۔
#PTISMT
لا الہ اللہ کا مطلب آزادی ہے اور قرآن نے انبیا کے بعد شہید کا مقام سب سے اونچا قرار دیا ہے۔ سید حسن نصر اللہ اور اسماعیل ہانیہ اپنے وطن کے دفاع میں شہید ہوئے اور ان کا مقام بہت بلند ہے۔ میں ہمیشہ ٹیپو سلطان کی طرح لڑتے لڑتے شہید ہونے کو بہادر شاہ ظفروالی موت پر ترجیح دونگا، اور میں نے ہمیشہ اللہ سے ٹیپو سلطان جیسی موت کی دعا کی ہے۔
اللہ نے انسان کو آزاد پیدا کیا ہے۔
ایک مشہور قول ہے: "جب اللہ تعالیٰ نے تمہیں پر دیے ہیں تو چونٹیوں کی طرح کیوں رینگتے ہو”
اس وقت پاکستان میں گینگ آف تھری اور پی ڈی ایم چاروں نے مل کر ہر ادارے کو غلام بنایا ہوا ہے۔ پاکستان میں صرف سپریم کورٹ واحد ادارہ بچ گیا ہے جس کو غلام بنانے کیلئے غیر آئینی ترمیم لائی جا رہی ہے۔ پاکستان سے قانون کی حکمرانی مکمل طور پر ختم ہو چکی ہے اور کسی کا کوئی احتساب نہیں۔ گینگ آف تھری نے اپنی ایکسٹنشن کیلئے ہر قانون کو توڑ کر ملک میں لاقانونیت کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ جس کا سب سے بڑا اثر ملکی معیشت پر پڑ رہا ہے جو کہ مکمل طور پر تباہ ہو چکی ہے۔
اس وقت کے تمام حکمرانوں کا سارا پیسہ بیرون ملک ہے اس لئے وہ اپنے ذاتی مفاد اور طاقت کیلئے ملک کے ہر ادارے کو بے دردی سے تباہ کر رہے ہیں۔
میرے پاکستانیو!
میری ساری جدو جہد آپ کو آزاد کروانے کیلئے ہے اس لئے آپ خوف کے سارے بت توڑ کر نکلو۔ یہ وقت Do or Die کا ہے۔ میں اپنی ذات کی قربانی آپ لوگوں کی آزادی کے لیے دے رہا ہوں۔ آپ بھی اپنی ذات کی نفی کرتے ہوئے پورے ملک کے روشن مستقبل کا سوچیں اور میری ہر کال پر احتجاج کیلئے باہر نکلیں۔
پاکستان زندہ باد۔