مریم نواز صاحبہ کو افسر شاہی اور سہیلی گروپ نے بلدیاتی نوعیت کے کاموں کے فوٹو سے بہلایا ہوا ہے جبکہ پنجاب کے عوام پر نون لیگ کی مرکز اور انکی اپنی حکومت نے زندگی عذاب کر دی ہے پیٹرول ، بجلی ، گیس ، آٹا ، فون بل سب مہنگے ترین تو تھے پنجاب میں جو سو طرح کے جرمانے اور ہر طرح کے لوکل ٹیکس میں اضافہ ہوا پھر پیرا جیسی بدمعاش فورس روزانہ جس طرح کاروبار تباہ کر رہی اس کے بعد مریم صاحبہ کی حکومت الٹی بھی لٹک جائے عوام نے ووٹ بھی نہی دینے اور اس وقت جو نفرت نون کے خلاف وہ بے حساب ہے
صرف چار دن کے قلیل وقت میں ڈیزل 51 روپے جبکہ پٹرول 16 روپے فی لیٹر مہنگا ہوگیا اور ان حالات میں جب عوام پہلے ہی مہنگائی بجلی بلوں سے تنگ ہوچکی ہے اس اضافہ سے مہنگائی کا ایک اور طوفان عوام کو اپنی لپیٹ میں لے گا
میاں صاحب اللہ دا واسطہ جے غریب دیہاڑی دار عوام دے حالات بارے سوچو
🙏
لگاتار دوسرے دن پٹرولیم مصنوعات میں مزید اضافہ سے ایک بات ثابت ہوتی ہے کہ وفاقی حکومت کا عام عوام سے کوئی لینا دینا نہیں اور نہ ہی آئندہ انتخابات میں عوام سے ووٹ کی توقع ہے اور شاید لون لیگ کا حال بھی ق لیگ جیسا ہونا ہے
یہ معاشی ٹیم کی نالائقی نہیں بلکہ مجرمانہ اقدام ہے
پوری دنیا تیل کی قیمتوں میں اضافے کا شکار ہے لیکن جو بندر تماشہ شہباز حکومت نے لگایا ہوا ہے، پوری دنیا میں کسی ملک نے نہیں لگایا۔ ہر چوبیس گھنٹے بعد عوام کا غیض و غضب، نواز شریف کا ووٹ اور مریم نواز کی کارکردگی تباہ۔ دارا شکوہ کے بعددوسرا بڑا انتقام ہے بھائی کا بھائی سے۔
اور ناظرین ریاست مخالف زہر اگلنے پر عمران خان کی باجی نورین کو این سی سی آئی اے نے نوٹس جاری کرتے ہوئے 20 جولائی کو اسلام آباد طلب کرلیا
ڈسکلیمر علیمہ خانم شاندانہ گلزار کے خلاف مقدمات بھی درج ہیں لیکن ہوا ککھ بھی نہیں
ایسی زبان ارناب گوسوامی، انجنا اوم کشیپ ختی کہ روبیکا لیاقت جیسے زہریلے بھارتی اینکرز نے پاکستان کے لئے استعمال نہیں کی جو عمران نیازی کے گھرانے سے پاکستان مخالف ہو رہی ہے۔
"مودی چاہتا تو دو منٹ میں پاکستان کو فکس کردیتا"
اسی فتنے کا ڈاکٹر اسرار احمد نے ہمیں 30 سال پہلے بتایا
جناب علی پرویز ملک صاحب
آپ قوم کے ساتھ ہاتھ کرنا بند فرمائیں۔ یہ جو پٹرول کی قیمتوں میں "اوسط" قیمت کے فراڈ کے نام پر آپ تیل بیچنے والی کمپنیوں کی سہولت کاری کر رہے ہیں اسے ختم فرمائیں۔ سیدھا انوائس اور بل آف لیڈنگ کی بنیاد پر قیمت کا فیصلہ کریں۔
مہربانی ہو گی
علامہ راجہ ناصر عباس نے شہداء کے لواحقین کے دھرنے میں جا کر گھٹیا گفتگو کی اور پنجاب کیخلاف تعصب بنانے کی کوشش کی، ایسا لگ رہا تھا کہ یہ پاکستان کے نہیں بھارت کے سینیٹ کے اپوزیشن لیڈر ہیں۔ بلوچستان حکومت کے خلاف بھی اکسانے کی کوشش کی مگر بلوچستان حکومت اور شہداء کے لواحقین میں معاہدہ طے ہو گیا ہے اور دھرنا ختم ہو گیا ہے۔
نورین نیازی نے انتہائی گھٹیا گفتگو کی ہے۔ نورین نیازی نے ریڈ لائن کو عبور کیا ہے ان پر مقدمہ ہونا چاہیے۔ نورین نیازی نے معرکہ حق کے دوران وہ شہری جو شہید ہوئے ان کی فیملیز کے زخموں پر نمک پاشی کی ہے۔نورین نیازی کی گفتگو سن کر ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے بھارتی را کا کوئی پیڈ اکاؤنٹ یا پیڈ شخصیت پاکستان مخالف بیانیہ گڑھ رہی ہے۔
مہنگائی ایک ایسا زہر قاتل ایشو ہے جو اس حکومت کے گوڈوں گٹوں میں ضرور بیٹھے گا اور وزارتِ خزانہ عوام کو ریلیف پہنچانے میں مکمل طور پر ناکام ہوچکی ہے حالانکہ پوری دنیا میں ایران امریکہ جنگ دوران توانائی کا بحران آیا اور قیمتیں بڑھ گئیں لیکن اب یورپ میں تیل اسی پرانی قیمت پر دستیاب ہے جو جنگ سے پہلے تھی
میاں صاحب عوام دی جیب پاٹ کر گلے میں پڑ چکی ہے
بلاول بھٹو نے جس طرح کی گفتگو کی ہے کہ پاکستان نے آبنائے ہرمز کھلوا دیا ہے تو کشمیر بھی کھلوا دیں انہوں نے ایک تیر سے دو شکار کیے ہیں کشمیر کی سنگینی کا اندازہ بلاول کو بخوبی ہے وہ وزیر خارجہ رہے ہیں ۔ بلاول زیادتی کر رہے ہیں۔مسلم لیگ ن نے ریاست پر اپنی سیاست کو قربان کیا ہے تو اس میں تھوڑا حصہ اگر پیپلز پارٹی بھی ڈال دے گی تو انکو کوئی بڑا نقصان نہیں ہو گا۔
بجلی کے بل تو خوفناک ہیں ہی اصل تباہی اور فکسڈ ٹیکس کا طوفان گیس کے بلوں میں آیا ہوا ہے بغیر استعمال کیے بارہ گھنٹے کی گیس لوڈشیڈنگ کے باوجود بل ہزاروں میں آ رہے وہ بھی اس قہر کی گرمی میں
گیس پس اس تجربہ کار حکومت کے دور میں گردشی قرضہ سترہ سو ارب ہے جس کی وجہ سے فکسڈ ٹیکس اتنا لگا رہے جو استعمال شدہ گیس کی قیمت سے زیادہ ہے
ایک سو ستر روپے کی گیس پر 600روپے فکسڈ ٹیکس اور دو سو دیگر ٹیکس لگا کر ایک ہزار بل بنا دیا
دنیا کے کسی بھی اصول اور ضابطے میں اصل بل سے چار گنا ٹیکس نہی ہوتا یہ معاشی غنڈا گردی ہے
نون لیگ اس پر صرف لعنت کی مستحق ہے جبکہ راتب خور چاہتے اس کی تعریفیں کی جائیں
جو وعدہ کیا وہ نبھانا پڑے گا
تین سو یونٹ مفت بجلی کا وعدہ نون لیگ اور پی پی نے الیکشن مہم کے دوران کیا تھا پی ٹی آئی تو نئی جماعت کبھی اقتدار میں نہی رہی تھی اس کے وعدوں پر تو بندہ کہہ سکتا انکو حقائق پتہ نہی تھے مگر نون اور پی پی تو اقتدار کی پرانی جماعتیں وہ مفت بجلی کا وعدہ کچھ سوچ کر کر رہی تھئں اب یہ دونوں جماعتیں اقتدار میں ہیں مفت تو چھوڑ دیں آنہوں نے سو یونٹ تک بل اتنا بڑھا دیا کہ گرمئ میں لوگ بجلی بند کر کے بیٹھے کہ بل دینے کی سکت نہی ہے
اقتدار لیا ہے تو وعدے پورے کرو
پنجاب کی افسر شاہی کھلا مال بنا رہی ساتھ میں سب نے پرتکال سپین وغیرہ کی ریز ڈینسی لے لی ہے اس گرمیوں میں پنجاب سے ڈنمارک آنے والوں کی لائنیں لگی ہیں پولیس آفیسر ، دیگر افسران جب انٹری دینے پرتگال آتے تو یہاں بھی دوستوں عزیزوں سے ملنے آ جاتے ہیں سب نے بچے باہر بھجوا دیے ہیں جیسے حکومت جائے گی یہ سب ساتھ ہی نکل جائیں گے
جیسے گوگی پہلی فلائٹ سے غائب ہو گئی اب نئے آنے والے اپنا مال پانی بنانے میں مصروف پرانے سب کو بھول چکے یہ بھی بھول جائیں گے اس لیے کھل کر کرپشن کرتے ہیں
حکومت ایک ایسی آئینی تبدیلی بھی کرسکتی ہے کہ تیل کی قیمت میں کمی کے مطالبے کرنے والے سوشل میڈیائی صارفین کو پانچ سال کے لئے جیل میں ڈالا جا سکے۔
ہور چوپو
تفصیل سن لیجئے شہباز شریف کے راج میں سب پیٹرولیم کمپنیوں کے منافع دو تین گنا بڑھ گے
مگر اس دوران پاکستان میں کروڑوں لوگ خط غربت سے نیچے سرک گے
غریب سے لوٹ کر الیٹ کو دینے کا ماڈل بھی شہباز ماڈل کہلائے گا
کوئی اس کی وضاحت کرے گا یہ کیا تبدیلی آئی ہے کیا اب یہ قانون بنا رہے کہ جو ایک دفعہ 201 یونٹ استعمال کرے گا وہ ہمیشہ پھر زیادہ بل دے گا پہلے یہ سزا چھ مہینے ہوتی تھی ؟
اگر تو اس کا یہ مطلب تو پھر غریب کئ مکمل تباہی ہے 201 یونٹ کا بل بارہ ہزار ہے اور آپ ہمیشہ اتنا بل دو گے
جب نیتوں پر فتور غالب آ جائے تو پہلے سے پڑے 37 دن کے اسٹاک پر 55 روپے اضافہ کر دیا جاتا ہے لیکن جیسے ہی انٹرنیشنل مارکیٹ میں ایران امریکا جنگ کے خاتمے کے بعد تیل کی قیمت 68 ڈالر سے بھی نیچے گر جائیں تو وہ تیل ریفائنری کے لیے ہوتا ہے یہ ہے منطق ہمارے نااہل نالائق وزیر پیٹرولیم کی
سہیل آفریدی نے چیف جسٹس کے سامنے کہا کہ عمران خان نا حق قید ہے۔ میں سہیل آفریدی اور پی ٹی آئی کو چیلنج کرتا ہوں کہ وہ ثابت کریں کہ عمران خان نا حق قید ہے میں صحافت چھوڑ دوں گا۔ میں ثابت کروں گا کہ عمران خان بلکل ٹھیک سزا یافتہ اور قید ہے۔