تحریکی سوشل میڈیا ایکٹیویسٹس کے اغواء کی نئی لہر اس بات کی غمازی کر رہی ہے کہ آپریشن رجیم چینج و لندن پلان آخری مراحل میں جا رہا ہے
یہ کچھ نیا اور بڑا کرنیکا پلان بنا کر بیٹھے ہیں
تحریکی قیادت کو تمام ہائیکورٹس و سپریم کورٹ میں 184/3 کے تحت درخواست دینا چاہئے
بنوں میں امن مارچ کے شرکاء پر فائرنگ کا مجھے اس کے علاوہ کوئی مقصد سمجھ نہیں آتا کہ اپنی مٹھیوں سے سرکتی ہوئی طاقت بچانے کے لیے پاکستان کی فوجی قیادت خیبر پختونخواہ کو آگ میں دھکیل کر اب یہاں نفرت کی سیاست کو فروغ دینا چاہتی ہے ورنہ جو گھر سے نکلے ہی امن کے نام پر ہیں ان پر گولیاں برسا کر انہیں کس سے محبت کا درس دینا مقصود ہے؟
کونسی پالیسی ہے یہ کہ پہلے سیف پیسج فراہم کرو، پھر واپس لاکر بساؤ، پھر ان کو مارنے کے بہانے بے گناہوں کا خون بہاؤ، وہ اپنے خون کا حساب مانگنے نکلیں تو اور گولیاں چلاؤ۔ اور خون بہاؤ۔۔ چالیس سال سے یہی ہی کھیل رچایا جارہا ہے، لیبل بدل بدل کے ایک ہی سودا ہے جو ہمارے خون کی قیمت پر بیچا جاتا ہے۔ دو سال سے ہم کہہ کہہ تھک گئے ہیں کہ مزید جنازے اٹھانے کے متحمل نہیں ہوسکتے۔ کسی کے دل میں خلوص کی رمق بھی ہو تو دو سال کم عرصہ نہیں ہوتا اس بات کی طرف توجہ کرنے کے لئے کہ جس کا عندیہ آپ کو ہزاروں لاکھوں کی تعداد میں امن کا نعرہ لگاتی عوام دے رہی ہو۔
نیت کا کھوٹ ہی آپ کو بےخبر رکھ سکتا تھا یا پھر شریکِ جُرم ہونا۔ اور اگر کوئی آخری گمان رہ بھی گیا تھا اس بات میں تو آج وہ بھی زائل ہوا؛ تم ہو شریکِ جرم!
تم شریکِ جُرم نا ہوتے تو حالات کو سانحات کی نہج پر ہی نہ آنے دیتے۔ تم شریکِ جُرم نہ ہوتے تو ہماری پکار کو دیوانے کے بڑ کہہ کر نہ جھٹلاتے۔ تم شریکِ جُرم نہ ہوتے تو ہمارے ہاتھوں میں بغاوت اور غداری کے پرچے نہ ہوتے۔ تم شریکِ جُرم نہ ہوتے تو تمہاری آستینوں کے سانپ ہماری گلیوں میں اژدھوں کیطرح نہ پھنک رہے ہوتے۔ تم لائے ہو یہ آگ ہماری دہلیز پر اور اب تم مصر ہو کہ ہم مان لیں کہ تم اسے بجھاؤ گے؟
اپنے آنگن کے پھول تو اپنے خون سے سینچے تھے ہم نے، کونسی قیمت تھی جو اپنی خوشحالی کی ادا نہیں کی تھی۔۔ جو مانگا تم نے، دان دیا۔ دھن دولت، طاقت عزت۔۔ کیا نہیں دیا اس قوم نے تمہیں؟
بدلے میں فقط ایک در و دیوار کی حفاظت کا تقاضہ تھا تم سے، تم نقب زنوں کے سہولتکار بن گئے۔۔ ہمارے قاتلوں کے آلہ کار بن گئے؟ تم۔ میرے قاتل میرے دلدار، تم ہی میری مٹی کے غدار بن گئے۔۔ میں نہیں کہتا آفیشل میٹنگز کا احوال لے آؤ باہر، کیا تمہارے سامنے پولیس افسر منت نہیں کررہے آج کہ ہمارے راستے کی ایک ہی رکاؤٹ ہے؛ ہمارے محافظ۔ یہ کہ ہم اپنے شہر بسانا بھی جانتے ہیں، بچانا بھی۔ بس ایک تم اپنے پنجے نکال لو۔
بس ایک تم ہماری گردن میں گڑے اپنے دانت نکال لو۔
مگر تم تو شریکِ جُرم ہو۔ تم ہی تو میرے مجرم ہو!
شاہ صاحب کا وزن کافی گر گیا ہے کمزور نظر آ رہے ہیں ۔ زیادتی یہ ہے کہ نو مئی کے دن شاہ صاحب لاہور یا اسلام آباد میں تھے بھی نہیں
https://t.co/4Qik5u0whx
عمر ایوب خان کا بنوں واقعہ پر بیان:
"بنوں میں سیکیورٹی فورسز کی جانب سے معصوم سویلینز پر فائرنگ اور اسکے نتیجے میں ہونے والے جانی نقصان اور زخمیوں کی بھرپور مذمت کرتا ہوں۔۔
اس واقعہ کی آزاد جوڈیشل انکوائری ہونی چاہیے اور زمہ داروں کو سخت سزا ملنی چاہیے"۔
ایمرجنسی لگا کر ہاری بازی جیتنا چاہتے ہیں آخری وار ہے اس نظام کی بقاء کے لئے پورا زور لگایا جائے گا۔۔۔
یہ آپکو اکسائیں گے آپ نے پُر امن ہی رہنا ہے پوری دنیا گواہ ہے آپ امن مانگ رہے ہیں ان کی ہار یقینی ہے بس آپ نے ہمت نہیں ہارنی۔۔۔اور پرامن رہنا ہے۔۔۔!!!
سیالکوٹ سے خواجہ آصف کے ایک قریبی عزیز جو میرے بھی بہت اچھے دوست ہیں انہوں نے بتایا کہ خواجہ صاحب شدید اعصابی دباؤ کا شکار ہیں اس سلسلے میں یہ اپنے ذہنی معالج کے پاس ہفتہ وار جاتے ہیں فارم 47 کی جعلسازی جیسے جیسے کھلنے کے قریب ہے انکی طبیعت مزید بگڑتی جارہی ہے یہ مذاق نہیں یہ ایک حقیقت ہے۔ شوکت بسرا
@sh_basra #KhawajaAsif
https://t.co/GWlpLZI258
فواد چوہدری اینڈ کمپنی نو اس حکومت نو تسلیم کرن لئی اتاریا گیا ہے میدان وچ۔
او ہر ٹؤئیٹ وچ توانوں ایہی کہندا ملے گا ن لیگ کو تحریک انصاف سے بات کرنی چاھئیے یا سب کو آپس میں بات کرنی چاہئیے۔
کسی جعلساز فارم 47 نال گل نہی ہوئے گی مینڈیٹ عوام دا ہے بولی والی کمیٹی وچ حکومت نہی نکلی۔
یہ تو مریم نواز نے غصے میں بہت بڑا اعتراف کر لیا ہے کہ عوام عمران خان کو لانا چاہتے تھے لیکن زبردستی ان کا راستہ روکا گیا کیونکہ کسی غیر سیاسی قوت اور انکی سہولتکار چند سیاسی جماعتوں بشمول ن لیگ نے خود ساختہ اور غیر آئینی طور پر عوامی مینڈیٹ پر شب خون مارتے ہوئے الیکشن سے پہلے ہی یہ طے کر لیا تھا کہ عمران خان ملک کیلئے ٹھیک نہیں ہے لہذا ہم اس کو نہیں آنے دیں گے لیکن اس کے باوجود عوامی طاقت کا سیلاب ریاست کے عزائم پر کافی حد تک پانی پھیر گیا اور ریاست کے تمام جبری ہتھکنڈوں کے باوجود PTI سب سے بڑی سیاسی جماعت بن کر ابھری۔ مریم نواز اور انکی جماعت اتنا کچھ ہونے کے باوجود پھر سبق نہیں سیکھ رہے اور پھر طاقت کے استعمال کی دھمکیاں دے رہے ہیں۔ عمران خان ایک فرد نہیں رہا بلکہ اسوقت عوامی اکثریت کا نام ہے۔ یہ اگر ماریں گے تو عمران خان کو نہیں بلکہ عوام کو ماریں گے۔ چلیں پھر مار کر دیکھ لیں
اس وقت کچھ اہم ترین مسائل
لیڈر عمران خان کی رہائی
شاہ محمود اور باقی مرد حضرات کی رہائی
بشری بی بی اور باقی خواتین کی رہائی
ملٹری کسٹڈی سے سویلین کی رہائی
مینڈیٹ کی واپسی یا نئے الیکشن
ملک میں امن امان کی صورت حال اغوا تشدد اور جبری گمشدگیاں
سارے ان معاملات پر آواز اُٹھائیں۔۔۔!!!
سال گزر گئے وہ شخص اپنی جگہ پر کھڑا ہے اور جیل میں ہے اور سمجھوتہ کرنے کو تیار نہیں ہے عمران خان اپنے الفاظ پر قائم ہے یہی ہوتا ہے لیڈر جو اپنی جگہ پر جم کر کھڑا رہے اور ڈٹ جائے۔ حبیب اکرم
@HabibAkram#ImranKhan
https://t.co/xDBCQK2nRg