He neither defeated Zaman Shah Durrani nor conquered Lahore city. The city was granted to him by Zaman Shah, after which the Muslim Ashrafia of the city decided to invite him to take charge. Ranjit would have been content to remain a vassal of the Durrani Empire if the
1/5
@fawadchaudhry رنجیت سنگھ نے جب پشاور کو درانی حکمرانوں سے لیا تو وادی پشاور کے لوگوں نے سکھ کا سانس لیا اور اللہ کا شکر ادا کیا۔۔ اور ایک جملہ مشہور ھے۔۔
"اللہ داسی بلا راوستہ چی د برو نہ خلاص کرو"""
یعنی اللہ تعالیٰ نے ایسی طاقت مسلط کی کہ برو (دفع ھوجاو) والوں سے چھٹکارا مل گیا۔۔۔
Targeted killing of Hashim Noorzai in Quetta: A new challenge for Afghan Taliban!!! Likely.
During the Republic era, when Kandahar was dominated by the Achakzai tribe under the leadership of Gen Raziq Achakzai, the Noorzais were widely viewed as Taliban supporters and were frequently targeted tortured. The police force and Afghan army was largely dominated by the Achakzai tribemen.
Today, the situation has reversed. With the Taliban in power under Supreme Leader Hibatullah Akhundzada, a Noorzai, many Achakzais are viewed with suspicion and facing the taliban wrath. Numerous former Achakzai members of the Afghan security forces fled to Balochistan, where they sought refuge with relatives across the border with Pakistani achakzais.
Interestingly, when the Achakzais were ruling Kandahar, Taliban-linked violence also targeted Achakzais in Balochistan. Now that the Noorzais hold influence in Kandahar, the targeted killing of Noorzais in Balochistan could likely intensify. The recent events in Quetta warrant close attention. Enemity between the two tribes has a long history and can posed a big challenge to Afghan Taliban. #afghanistan
#pakistan
تاریخی جھوٹ
رنجیت سنگھ 1799ء میں شاہ زمان کا لاہور کا گورنر تھا۔ 1801ء میں شاہ کے افغانستان واپس جاتے ہی اس نے خود کو مہاراجہ بنا لیا۔ اس کی حکومت پشاور تک محدود رہی؛ کابل تو درکنار،تورخم بھی نہ پہنچ سکا۔ 1837ء میں ہری سنگھ کی ہلاکت کے بعد بیماری کا بہانہ بناکر لاہور واپس چلا گیا
Join us at Boys Degree College Zhob for an inspiring educational seminar under the banner of "Connect the Disconnected."
📅 16 June 2026
📍 Boys Degree College Zhob
Let's connect ideas, opportunities, and communities through education.
#ConnectTheDisconnected
Join us on 17 June 2026 at Girls Degree College Zhob for an educational seminar on university admissions, Directorate Reserved Seats, and career guidance.
Empowering students to make informed choices for a brighter future.
Empowering Minds.Building Futures. #Zhob#Education
ہمیں والد صاحب اکثر ایک نصیحت کیا کرتے ہے
کے اگر کامیاب ہونا چاہتے ہو تو پشتون معاشرے سے دور رہو
سندھ میں رہو
پنجاب میں رہو
بلوچستان میں رہو
آزاد کشمیر یا گلگت بلتستان رہنے چلے جاؤ
لیکن خیبرپختونخوا سے دور رہو اپنے بچوں کو دور رکھو
اگر آپ کامیاب نہیں ہوئے تو آپکے بچے کامیاب ہو جائیں گے
اگر آپکے بچے بھی کامیاب نہیں ہوۓ تو انکے بچے کامیاب ہو جائیں گے آگے نکل جائینگے
لیکن اگر آپ پشتون معاشرے میں رہیں ان ظالم اور جاہل لوگوں کے درمیان رہیں تو آپکی آنے والی سو نسلوں میں سے بھی کسی کی کامیابی کا کوئی چانس نہیں،
پشتونوں وہ خیبرپختونخوا کے حالات دیکھ کر والد صاحب کی بات 110 فیصد درست معلوم ہوتی ہے ۔۔
ایرانی پیٹرول کے ساتھ ساتھ پاکستانی پیٹرول بھی نایاب ہو چکا ہے۔ پیٹرول پمپس پر طویل قطاریں لگی ہوئی ہیں اور شدید گرمی میں عوام گھنٹوں انتظار کرنے پر مجبور ہیں۔
#Balochistan
بجلی نہیں، گیس نہیں، انٹرنیٹ نہیں، امن نہیں۔ آخر بلوچستان کے عوام کب تک بنیادی سہولیات سے محروم رہیں گے؟ صوبائی حکومت اور بیوروکریسی اپنی ذمہ داریاں پوری کرنے میں ناکام نظر آتی ہیں۔
#Balochistan
اس شخص کی عمر دیکھیں اور کرتوت دیکھیں، شمالی علاقہ جات جاکر وہاں آئی خواتین سیاحوں کو ہراساں کررہا ہے۔ آئی ڈی سے انفارمیشن اکٹھی کی تو معلوم ہوا ہے کہ چک 236 جپہ، ضلع فیصل آباد کا رہائشی ہے۔ امید ہے اسکا نوٹس لیا جائیگا اور قانونی کاروائی کی جائیگی۔
@OfficialDPRPP@MaryamNSharif
رات کی 12 بج چکے ہے، تقریباً 10 گھنٹے گزر گئے ہے، لیکن ھمارے ملک کی تمام الیکٹرانک میڈیا پر کسی بھی ٹاک شو میں اس معصوم بچے کیساتھ ہونے والے ظلم اور بربریت پر پروگرام نہیں دیکھا، نا کوئئ ٹاک شوز نا کوئی سپیشل رپورٹ۔
کیا ھمارا خون اتنا سستا ہیں؟
ہر بار پختونخوا پر ہونے والے ظلم اور بربریت پر نیشنل میڈیا میں خاموشی کیوں؟
پختونوں اور بلوچوں کیساتھ یہ دوہرا معیار اور امتیازی سلوک کیوں روا رکھا جارہاہے ؟
ریاستی اداروں کے پاس ان سوالات کا کوئی معقول جواب ہے ؟
ایک ریاست دو دستور نامنظور!!!!!!