The government has ABANDONED its own people like helpless lambs and thrown us straight into the jaws of the Oil Marketing Companies. No protection. No relief. Just pure surrender to corporate greed while the common man burns at the pump and the elite fill their pockets.
وزیرِ اطلاعات شرجیل میمن کا یہ دعویٰ کہ ناصر حسین شاہ کی طبیعت دبئی میں "اچانک" خراب ہونے کی وجہ سے وہاں سرجری کروانی پڑی، اتنا ہی سچ ہے جتناان کا یہ دعوى کہ سندھ کی کوئی سڑک خراب نہیں۔
کیونکہ شاہ صاحب تو پہلےہی بتاچکےتھےکہ وہ پہلےسےطے شدہ ایک چھوٹی سی سرجری کےلیے دبئی گئےتھے۔😊
یہ PIB کالونی ھے پولیس کئ سرپرستی میں ھونیوالے اس دھندے کو چلانے کے لیۓ ملک بھر سے عورتیں اوربچے اغوا کیۓ جاتے ہیں انکے سب سے بڑے سہولت کار وہ تمام خوشحال لوگ ہیں جو کسی بوجھ کے مانند جان چھڑانے والے انداز میں بھیک دینے کو نیکی سمجھتے ہیں اور عورتوں بچوں کےاغوا کا سبسب بنتے ہیں
#کراچی میں NCCIA کے نام سے جعلی کال سینٹر چلانے لوگوں کا ڈیٹا ہیک، و بلیک میلنگ کے ذریعے اربوں کا فراڈ کرنے والے پیپلز پارٹی کے حیدر عمرانی ، جو PPP کے موجودہ وزیر کے coordinator و دیگر منصب پر فائز ہیں، گرفتار ہوچکے ہیں۔ اب جہالے آکر کہہ دیں گے، یہ حیدر عمرانی کا ذاتی فعل ہے، اور وزیر صاحب کا اس سے کیا تعلق؟ تو ہم بھی یہئ کہہ رہے ہیں کہ ذاتی فعل کر کر کے ہی اس جماعت نے کراچی وسندھ کا بیڑا غرق کیا ہے۔
ان سے ملئیے یہ ہیں منگی صاحب یہ اندرون سندھ اس لئے کراچی آئی تا کہ اپنے بھائی بھتیجوں اور بیٹوں کو مطلع کریں کے بنک سے نکلنے والے کس شخص کے پاس موٹی رقم ہے۔
یہ ان لوگوں کا آبائی پیشہ ہے لوٹ مار کرنا اور کروانا۔ قبر میں پاؤں بھی لٹکے ہوں تو ان پر یقین نا کریں
کراچی تین تلوار پر ہولناک کہانی💔
والد کے سامنے, MBBS ڈاکٹر کو گولیاں ماری گئی, 28 سالہ لختِ جگر والد کے ہاتھوں میں سانسیں دے گیا!!
پاکستان مکمل طور پر غیر محفوظ ہوچکا ہے, عاصم منیر کا hard State جرائم پیشہ عناصر نے جوتے کی نوک پر رکھ دیا ہے!!
اور اس شہر و صوبے کے بچے روزانہ سڑکوں پر ڈاکووں کے ہاتھوں یا ڈمپروں کے نیچے کچل کر مارے جارہے ہیں، جن کے ٹیکس کے پیسوں پر PPP کی موصوفہ چار “ڈالوں” میں گھومتی پھرتی ہیں۔
#Shameless
ایک منٹ!
ابھی چند دن پہلے ایک 25سال کا نوجوان بائک چھننے کے دوران حاں بحق ہوا جو سی سی ٹی وی ویڈیو میں ڈاکوں سے چلا چلا کے التجا کر رہا تھا اس لڑکے کے واقعے کے وقت تو مئیر کراچی نظر بھی نہیں آئے۔ اب اسے دوغلا پن کہا جائے مئیر کا؟
وہ لڑکا غریب مہاجر گھرانے سے تعلق رکھتا تھا اس لیے مئیر صاب نے کوئ لفٹ نہیں کرائ؟ اس کے برعکس اس ڈاکٹر کے حادثے کے وقت مئیر صاحب نمودار ہوگئے اور فرماتے ہیں میرے پاس الفاظ نہیں ہیں۔ کیا اس لیے کہ یہ فیملی سندھی اور امیر ہے؟ کوئ جواب ہے آپ کے پاس؟
@murtazawahab1
کراچی میں ہر پانچ دس سال بعد ایک نیا گروہ لانچ کیا جاتا ہے جس کا مقصد کراچی میں ان ریسٹ والی فضا کو قائم رکھنا ہے اس گروہ کے پیچھے پاکستان کی ریاست کے عناصر ہوتے ہیں جہاں سے یہ گروہ یا عناصر طاقت کشید کرتے ہیں۔
اسی سے نوے کی دہائی میں پنجابی پختون اتحاد تھا۔
پھر نوے کی دہائی میں پیپلز پارٹی اور ن لیگ رہے۔
پھر ۲۰۰۰ کی دہائی میں ہم نے ایم ایم اے کے نام سے ریاست کو کراچی میں لچ تلوا تے دیکھا 2010 کے بعد ٹی ٹی پی، پی ٹی آئی اے این پی، پیپلز امن کمیٹی اور ٹی ایل پی کو ریاست نے آگے پیچھے کا زور لگا کر کراچی میں قدم جموائے۔
آج کل سندھو دیش کے بنانے والے عناصر کو کلی پروٹوکول کے ساتھ کراچی میں فعال کروایا جا رہا ہے۔
کراچی کے تھانوں کو ہدایت ہے کہ ان سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے۔ سندھ کی عدالتوں میں ان کے عناصر جج بنے بیٹھے ہیں جو تھانوں سے آنیوالی فرد جرم میں سے ان کے خلاف چارجز کو حذف کرواتے ہیں اور یہ ایک پورا سسٹم ہے۔
اس پورے معاملے کا بنیادی مقصد صرف اور صرف یہ ہے کہ کراچی کی اکثریت ایسے گروہوں کے ذریعے یرغمال بنی رہے اور کراچی میں چلتے مافیاؤں کے کاروبار پر کسی کا دھیان نا جائے۔
اب اس منسلکہ پوسٹ میں یہ سب اس جامعہ کراچی میں ہو رہا ہے جہاں رینجرز کی مرضی کے بغیر پتہ بھی نہیں ہلتا۔
@OfficialDGISPR@PakPMO
The speed and force used against a vegetable vendor. I only wish Pakistan’s law showed the same determination when dealing with the Sharifs, Zardaris and their handlers.
یہ وہ طرزِ زندگی ہے جو PPPنے گزشتہ 18 برسوں میں اپنے صوبے کے عوام کے لیے منتخب کیا ہے۔ورنہ دنیا بھر میں گھومنے والے انکے رہنمااتنا تو ضرور جانتے ہوں گے کہ صاف ماحول، نکاسیٔ آب، پینے کاصاف پانی اورباوقارزندگی کوئی عیاشی نہیں، بلکہ Basic Human Rights ہیں۔
جو سڑکوں پہ رل، مر رہیں وہ تو کتے بلیاں ہیں۔ کون سے انسانوں کے حقوق کے لیے ہیں ۔۔ یہاں نسلیں ختم ہو جاتی ہیں عدالتیں کے فیصلے کے انتظار میں ، لوگ کھپتے ہیں اور جج حضرات سردی گرمیوں کی چھٹیوں پہ نکل جاتے ہیں
کراچی کے علاقے کلفٹن میں بینک کے باہر ڈاکوؤں کی فائرنگ سے نوجوان جاں بحق ہو گیا جبکہ ملزمان بینک سے نکالے گئے 50 لاکھ روپے میں سے 25 لاکھ لوٹ کر فرار ہو گئے۔
ملزمان پر بینک کے سیکیورٹی گارڈز نے بھی فائرنگ کی تھی تاہم ملزمان فرار ہونے میں کامیاب ہوگئے۔
سیاسی چاپلوسی اور مالش کا یہ ایک ایسا شاہکار ہے جسے دیکھ کر عقل بھی سر پکڑ کر بیٹھ جائے۔ یہ پوسٹ محض ایک جھوٹا پروپیگنڈا نہیں اپنے سیاسی آقاؤں کو فرشتہ ثابت کرنے کی ایک بھونڈی اور ناکام کوشش ہے۔ چاپلوسی اور درباری کلچر کی سندھ حکومت کی اس ترجمان سے غلیظ مثال نہیں مل سکتی!
سال 2004 جیل سے رہا ہوتے ہی وہ نفسیاتی تناؤ اور دیگر پیچیدگیوں کے طویل علاج کے لیے باقاعدہ امریکہ شفٹ ہوئے تھے۔
ان کی پوری میڈیکل ہسٹری گواہ ہے کہ جب بھی زکام بھی ہوا، یہ ملک سے باہر اڑ گئے۔ سال 2005: صدارت سے پہلے، دل کے عارضے کا پورا علاج دبئی کے 'ویل کیئر ہاسپٹل' سے کروایا گیا ستمبر 2011 اسی سال وہ دل کے ہی معائنے کے لیے لندن کے نامور ہسپتالوں میں داخل رہے دسمبر 2011 بحیثیت صدرِ پاکستان، زرداری صاحب اچانک دل کی تکلیف (منی اسٹروک) کے باعث خصوصی طیارے میں دبئی بھاگے اور وہاں کے مہنگے ترین 'امریکن ہاسپٹل' میں ہفتوں زیرِ علاج رہے۔
سیاسی وفاداری اپنی جگہ، لیکن اتنا ننگا جھوٹ بولنا اور تاریخ کا جنازہ نکالنا صرف پیپلزپارٹی کے ان درباریوں کا ہی خاصہ ہے۔ تھو ہے ۔