Being a pakistani woman means to be exposed to graphic abuse every other day, testing and expanding our emotional strength to stomach such an incident, collecting ourselves to feel a little normal again, and then being met by something a lot more dehumanizing than before
Ms Gill's conduct must be formally investigated. London's transport network is meant to serve all Londoners not punish those who question an unfair charge.
@MayorofLondon@TfL
@DLR_Announcements Amandeep Gill, employed by Amulet security
https://t.co/cFs2qvlLQd
@TfL I am writing to formally raise a complaint of gross abuse of power, against DLR staff member Amandeep Gill (Badge ID: DL3295) for bullying, intimidating and publicly humiliating me, a regular fair-paying passenger, during my journey from Limehouse to Bank on 13th June 2026
This is not a dispute about a fine. This is about what it means to wield institutional authority responsibly.
A uniformed transport officer has power. Passengers are vulnerable to that power, especially when accused publicly of dishonesty and criminal behaviour
@aizaz1101 Hi sir, hope you’re doing well. I’m currently writing a story on Palestine Pakistan relationship and Pakistan’s current geopolitical position in Gaza’s reconstruction. I want to speak to you for a comment, please let me know if we can talk. Many thanks
آج مجھے اور ہادی کو ٹویٹس کیس میں سزا سنائی جا رہی ہے اس کے باوجود کے ٹرانسفر کی intimation دے دی گئی ہے۔ پورا ٹرائل عدالت نے خود چلایا - پروسیکیوشن اویڈنس ہماری غیر موجودگی میں ریکارڈ کیا گیا۔ گواہان پر جرح سٹیٹ ڈیفینس کونسل نے کی جس پر ہم نے عدم اعتماد کا اظہار کیا تھا۔ کل 342 اسٹیٹمینٹ بھی اس ہی ڈیفینس کونسل نے جمع کروا دی- نا ہم نے دیکھی ہے اور نا ہی ہم سے کسی نے کچھ پوچھا۔ ہمارے لیے یہ سزا اس بات کی recognition ہے کے ہم نے ظلم کے سامنے کلمہ حق بُلند کیا۔ ہم جیل کی سلاخوں کو خوشی سے اپنائینگے لیکن آپ اس بدنامی کو کبھی نہیں بھول پائینگے۔
ہمیں جیل میں ڈالنے سے آپ کے گندے کرتوت کوئی نہیں بھولے گا - اس ملک کو آپ نے توڑا، آپ نے ڈالروں کے لیے بد امنی اور خون خرابا کیا، بلوچ نسل کشی کی، پشتون نسل کشی کی، غریب عوام کے وسائل پر دن دہاڑے ڈاکہ ڈالا، بے گناہ لوگوں کو جھوٹے توہین مذہب کے مقدمات میں پھنسایا، الیکشن چوری کیا، پارلیمان اور عدالتوں کو ہائجیک کیا۔ ہمیں جیل بھیجنے سے آپ کے جرائم نہیں مٹ جائینگے۔ اور ہماری آواز آپ دبائینگے تو اور لوگوں کی آواز ہماری آواز میں شامل ہوگی۔ اس غلط فہمی میں نا رہے کہ کیونکہ آپ بزدل ہے تو ہم سب بھی آپ جیسے ہونگے۔ جیل جسم کو قید کرتا ہے، سوچ کو نہیں۔ لیکن جنہے سوچنے کی صلاحیت ہی نہیں، انہے ہم کیا سمجھائے؟
ہم نے اپنی پوری کوشش کی ہے کہ جو ہم کر سکے ہم کرے۔ لیکن یہ زمیداری ہم سب کی ہے۔ اندر جانے سے پہلے آپ سب سے بس ایک ہی ریکویسٹ ہے۔۔۔ یاد رکھے کہ ہماری جنگ کسی ایک فرد کے لیے نہیں، یہ ہماری بقا کی جنگ ہے۔ اگر آج آپ نہیں لڑینگے، باری باری ذلت والی موت کی تیاری کرے۔ اس ملک میں نا تو کوئی آئین ہے نا قانون نا پارلیمان نا عدالتیں اور نا ہی میڈیا۔
جب تک عوام کی dignity, life اور آزادی کو تحفظ نہیں دیا جائے گا تب تک آج میں تو کل آپ اندر ہونگے۔ جو ہمیں سزا دے رہے ہے اور جن کی چابی پر دی جا رہی ہے، انہے یاد رکھنا چاہیے:
“آہ! تم فطرتِ انسان کے ہم راز نہیں
میری آواز، یہ تنہا مِری آواز نہیں
اَن گنت روحوں کی فریاد ہے شامل اِس میں
سسکیاں بن کے دھڑکتے ہیں کئی دل اِس میں
تہہ نشیں موج یہ طوفان بنے گی اک دن
نہ ملے گا کسی تحریک کو ساحل اِس میں
اِس کی یلغار مِری ذات پہ موقوف نہیں
اِس کی گردش مِرے دن رات پہ موقوف نہیں
ہنس تو سکتے ہو، گرفتار تو کر سکتے ہو
خوار و رسوا سرِ بازار تو کر سکتے ہو
اپنی قہّار خدائی کی نمائش کے لیے
مجھے نذرِ رسن و دار تو کر سکتے ہو
تم ہی تم قادرِ مطلق ہو، خدا کچھ بھی نہیں؟
جسمِ انساں میں دماغوں کے سوا کچھ بھی نہیں
آہ! یہ سچ ہے کہ ہتھیار کے بل بوتے پر
آدمی نادر و چنگیز تو بن سکتا ہے
ظاہری قوت و سطوت کی فراوانی سے
لینن و ہٹلر و انگریز تو بن سکتا ہے
سخت دشوار ہے انساں کا مکمل ہونا
حق و انصاف کی بنیاد پہ افضل ہونا”
@judenators such hot takes should remain within friend circles. racism in the uk is alarmingly high, where tweets like yours are carefully picked and mechanised by Reform/right wing protestors to mass mobilise & create a monster bigger than all of us. sometimes it's useful to use your brain
Wish people read books. The refusal to see ‘religion’ outside its-colonial-secular
construction exported globally through empire is childish.
At least genz is
engaging w critical scholarship on power, colonialism, n the making of
religion. Time to retire this babu uncle analysis.