"میڈیا پر آرہا تھا کہ اس سٹریٹ موومنٹ کے ایک ایک پروگرام پر چودہ کروڑ خرچ آرہا، میں نے گاڑی کا پٹرول تو صرف اٹھارہ ہزار کا ڈلوایا ، باقی یہ چھوٹے سے سپیکر کوئی لے آیا آئیندہ یہ بھی میں اپنے ساتھ لے کے آؤنگی باقی آپ کا کوئی خرچ ہوا؟ یہ پیسوں پہ آئے لوگ نہیں یہ اپنے جزبے سے اپنے ملک کی محبت میں نکلنے والے لوگ ہیں"۔@Aleema_KhanPK
#زنجیریں_توڑو_خان_کو_چھوڑو
قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالبعلم
اسامہ جمیل بھی بنیادی حقوق کے لیے شہید ہو گیا
والدین کو تڑپتا چھوڑ کر کتنے خواب کتنی امیدیں کتنے ارادے کتنے مقاصد لیکر اس دنیا سے چلا گیا
کتنی محنت سے گھر والوں نے تعلیم دلوائی ہو گی سامہ سے جوڑے والدین کے سارے خواب چکنا چور ہو گئے گھر اجڑ گیا سب برباد ہو گیا
اور میری ریاست کے سیاسدانوں حکمرانوں کو کوئی فرق نہیں پڑتا 😥
میرا دوست میر پور کے حلقے میں پریزائیڈنگ افسر تھا۔ رات کو تمام بیلٹ پیپرز جمع کیے گئے تاکہ صبح 6 بجے لے کر کوٹلی شہر میں آر او آفس پہنچائے جا سکیں۔ لیکن جب وہ صبح 6 بجےآفس پہنچے تو معلوم ہوا کہ رات ہی کو نتیجہ بھی آ چکا ہے اور ن لیگ کے امیدوار اس حلقے سے کامیاب بھی ہو چکے ہیں۔
یعنی بیلٹ باکسز ابھی راستے میں تھے، مگر نتیجہ پہلے ہی منزل پر پہنچ چکا تھا! واہ بھئی واہ، کیا شاندار الیکشن ہوا ہے!بشارت راجہ۔
@BasharatRaja786
🚨اہم ترین
جین زی کی پہلی کال ، آج اسلام آباد پریس کلب کے باہر آزاد کشمیر کے شہدا سے اظہار یکجہتی کے لئے شام پانچ بجے کی پرامن کال دے دی گئی
پورے اسلام آباد ، راولپنڈی سے سٹوڈنٹس پہنچیں
زیشان شہید کی میت جب اس کے گھر سرساوہ پہنچی تو اس کی ماں اور بہنوں کی چیخیں آپ سن سکتے ہیں
جو کام عاصم منیر نے کشمیر میں کر دیا یہ کام بھارت پچھلے 78 سال سے نہیں کر سکا اس بدبخت غیرملکی ایجنٹ نے پاکستان کا کونہ کونہ جلا دیا
ماؤں کے کیا خوبصورت جوان شہید کر ڈالے۔ اللہ صبر عطا فرمائے۔ بڑا دکھ ہے۔ کاش فیصلہ سازوں کو عقل آ جاتی۔ اب بات دور نکل گئی ہے۔ یہاں سے واپسی نہیں ہوا کرتی۔
"ہماری جماعت کو 8 فروری، 2024 الیکشن میں ووٹ نہیں پڑا۔ ہمیں تیسرے، چوتھے نمبر سے اٹھا کر پہلے نمبر پر لایا گیا" -
جاوید لطیف کا یہ اعترافی بیان مریم نواز کے جھوٹ پکڑنے کیلئے کافی ہے۔ 👏👏👏
رؤف کلاسرا، آصف محمود اور عامر خاکوانی نے قائدِ اعظم کو زیارت بھیجنے کی وجہ بتائی۔ تینوں کا کہنا ہے کہ قائدِ اعظم کو طبی وجوہات کی بنا پر زیارت بھیجا گیا، اور یہ کہ ڈاکٹرز کی یہی تجویز تھی۔
قائدِ اعظم نے 14 جون 1948 کو کوئٹہ اسٹاف کالج میں کہا تھا کہ جرنیل اس قوم کے نوکر ہیں۔ انہوں نے ایوب خان کی پوسٹنگ ایسٹ پاکستان رائفلز میں کر دی اور سیاست میں مداخلت کی بنا پر اس کی ترقی پر پابندی لگا دی۔ 14 جولائی 1948، اس تقریر کے ٹھیک ایک ماہ بعد، انہیں زیارت بھیج دیا گیا۔ زیارت کی چار ہزار سالہ تاریخ میں پہلا مریض، زیارت کے سنسان اور ویران جنگلات میں پہنچ گیا۔
اب یہ لوگ کہتے ہیں کہ تب تو انگریز فوج تھی۔ تو کیا آج کی فوج اُسی کا تسلسل نہیں؟ کیا وہی ذہنیت نہیں؟
میں آصف محمود کو جھوٹا نہیں کہوں گا، نہ رؤف کلاسرا صاحب کو یہ بتاؤں گا کہ investigative journalism کیا ہوتی ہے۔ قائد اعظم ترجیح ایک لمحے کے لئے بھی انکی صحت نہیں تھی، بات صرف اتنی سی ہے کہ وہ قائدِ اعظم، جو بیماری کے باوجود اسٹیٹ بینک کے افتتاح کے لیے کراچی آئے، جو علالت کے باوجود دن رات ایک کرکے قوم اور پاکستان کے مستقبل کے لیے اپنا خون پسینہ بہا رہے تھے، کیا وہ اپنی مرضی سے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر زیارت کے بیابان علاقے میں جانا پسند کرتے؟
رینجرز کا اہلکار ایک کشمیری کے چہرے پر بے رحمی سے تشدد کر رہا ہے، جبکہ وہ بے بس انسان صرف اتنا کہہ رہا ہے: “ہاں، مار دو… مجھے مار دو۔”
ایسے دل دہلا دینے والے مناظر اور ایسی بربریت تو ہم برسوں سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی فوج کے بارے میں دیکھتے اور سنتے آئے تھے کہ وہ نہتے کشمیریوں پہ اسطرح تشدد کرتے ہیں 💔
ایک شہری اپنی گاڑی میں سامان لیکر جا رہا تھا سامان بھی سارا اس کی کار کے اندر تھا اس کے باوجود ٹریفک وارڈن نے چالان کر دیاکہ گاڑی میں سامان نہیں لے جا سکتے
عجیب عذاب کی صورتحال ہے
سینے پہ گولی کھائیں گے
انقلاب لائیں گے
اپنے نعروں سے نوجوانوں کا لہو گرمانے والا قائداعظم یونیورسٹی میں پی ایچ ڈی کا طالبعلم اسامہ جمیل فورسز کی گولیوں کا نشانہ بن گیا 💔