سورةالنسآء4آیت64
اور ھم نے کوئی رسول نہ بھیجا مگر اس لیے کہ
اللہ کےحکم سے اس کی اطاعت کی جاۓ
اور اگر جب وہ اپنی جانوں پر ظلم کریں
تو اے محبوب! تمھارے حضور حاضر ہوں
اور پھر اللہ سے معافی چاہیں اور رسول
ان کی شفاعت فرماۓ تو ضرور اللہ کو بہت
توبہ قبول کرنے والا ‘ مہربان پائیں
“ عمران خان جیل میں مر گیا “ اگر آپ کو اس خبر سے رتی برابر بھی تکلیف ہوگی تو تحریک انصاف کی قیادت سے ، سہیل آفریدی سے کسی قسم کی ہمدردی کا اظہار مت کیجیے۔ مہینوں سے عمران خان کی کسی شخص سے ملاقات نہیں ہوئی۔ کسی کو معلوم نہیں کہ شدت کی اس گرمی میں عمران خان کے سیل میں پنکھا بھی چلتا ہوگا یا نہیں۔ پینے کا پانی بھی دستیاب ہوتا ہوگا یا نہیں۔ کھانا بھی ملتا ہوگا یا نہیں۔ اسکے باجود یہ لوگ میٹنگ میٹنگ کھیل رہے ہیں۔
اگر آپ ان لوگوں سے ہمدردی کا اظہار کریں گے تو پھر کسی انتہائی تکلیف دہ خبر کے لیے تیار ہوجائیے۔ یہ لوگ اگر کمزور اور مجبور ہیں تو میدان چھوڑ دیں۔ گھر چلیں جائیں۔ کسی استحکام پارٹی ، کسی مسلم لیگ میں چلے جائیں ، کوئی اور جماعت بنالیں ، لیکن جن چوروں کیساتھ نا عمران خان اقتدار سے پہلے بیٹھا ، نا اقتدار کے دوران بیٹھا نا اقتدار کے بعد بیٹھا ان کیساتھ بیٹھنے سے گریز کریں۔ سختی زیادہ ہے تو سہولت کاری کرنے کی بجائے پارلیمنٹ اور عہدے چھوڑ دیں۔ عوام اپنا رستہ خود نکال لیں گے۔ حالات اپنی قیادت خود پیدا کرلیں گے۔
اگر آپ مواجہہ شریف پہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سلام کرنے کے لیے کھڑے ہوں اور اپنے پیچھے نظر ڈالیں تو 1400 سال سے آپ کو ایک بڑی کھڑکی نظر آئے گی، یہ کھڑکی بند نہیں ہوئی کیونکہ ایک عظیم صحابی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیٹی سے وعدہ کر رکھا ہے کہ یہ کھڑکی ہمیشہ کھلی رہے گی اور یہ آج بھی کھلی ہے. یہ اب تک کا سب سے بڑا اور طویل وعدہ ہے۔
سنہ 17 ہجری میں اسلامی فتوحات کے نتیجے میں مسلمانوں کی کثیر تعداد کی وجہ سے خلیفہ دوم سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے مسجد نبوی کی توسیع کا حکم دیا لیکن حضرت فاروق اعظم رضی اللہ عنہ کو ایک بڑی مشکل در پیش تھی وہ یہ کہ ام المؤمنین سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کا حجره جنوب�� جانب اس جگہ واقع تھا جہاں اب لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے صلوۃ و سلام کے لیے کھڑے ہوتے ہیں۔ یہ وہی جگہ ہے جہاں سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کا حجرہ تھا. اور اگر ہم
دیکھیں کہ یہ کمرہ جنوب کی طرف اکیلا ہے اور مسجد کے لیے اسی جانب توسیع کرنا پڑ رہی تھی اس لیے سیدہ حفصہ بنت عمر رضی اللہ عنہا کے حجرے کا ہٹانا ضروری تھا
لیکن سوال یہ تھا کہ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کو اس حجرے کے خالی کرنے یہ کیسے آمادہ کیا جائے، جس میں ان کے شوہر صلی اللہ علیہ وسلم سویا کرتے تھے؟
سو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ صاحبزادی کے پاس آتے ہیں کہ انہیں اس بات پر آمادہ کیا جائے لیکن ام المؤمنین یہ سن کر ��ھوٹ کر رو پڑیں اور اپنے اس شرف و عزت بھرے حجرے سے نکلنے سے انکار کر دیا جس میں ان کے محبوب شوہر صلی اللہ علیہ وسلم آرام فرمایا کرتے
تھے، چنانچہ عمر رضی اللہ عنہ نے واپس لوٹ آئے اور دو دن بعد دوبارہ یہی کوشش کی یہ لیکن معاملہ جوں کا توں تھا، ام المومنین دو ٹوک انکار کرتی جا رہی تھیں اور کوئی بھی انہیں اس بات پہ آمادہ کرنے کی کامیاب کوشش نہیں کر پا رہا تھا
اب دیگر اصحاب رسول ﷺ بھی ام المؤمنین کو راضی کرنے کے لیے کوشاں ہوئے، لیکن ام المومنین نے مختلف طریقوں سے انکار کر دیا کیونکہ وہ ایک شرف و عزت والے حجرے میں رہ رہی تھیں جہاں فقط ایک دیوار کے پار ان کے محبوب شوہر کی قبر مبارک تھی وہ کیسے مطمئن ہو سکتی تھیں کہ انہیں اس سے دور کر دیا جائے؟ اب کے بار سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور دیگر عمر بڑی خواتین ساتھیوں نے مداخلت کی، لیکن سیده حفصہ رضی اللہ عنہا نے ایک بڑی شرط کے علاوہ اپنا فیصلہ ترک کرنے سے انکار کر دیا، اور وہ شرط یہی تھی کہ ان کے لیے ایک کھڑکی کھول دی جائے جہاں سے وہ اپنے محبوب شوہر صلى الله علیہ وسلم کی قبر مبارک کو دیکھتی رہیں اور وہ کبھی بند نہیں ہوگی چنانچہ سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ نے ان کی یہ شرط مان لی اور یہ وعدہ بھی کرلیا اور یہ وعدہ آج تک قائم ہے اور سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی وفات کے 1400 سال بعد بھی یہ کھڑکی کھلی ہوئی ہے
اس کھڑکی کے متعدد نام "خوخہ حفصہ" اور "خوخہ عمر" ہیں جنہیں
امام سیوطی اور ابن کثیر نے ذکر کیا ہے۔
آج تک جو بھی مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم کا متولی بنا ہے، اس نے اس کھڑکی کی دیکھ بھال کی اور اس وقت سے لے کر آج تک حضرت فاروق عمر رضی اللہ عنہ کا وعدہ پورا کیا کہ
یہ کبھی بند نہیں ہوئی۔
رجیم چینج سازش کے بعد آنے والی تبدیلیاں۔
1) لوگوں نے نیوز چینل دیکھنا چھوڑ دیا
2) کرکٹ دیکھنا ختم کر دی
3) اخبارات بند کروا دئیے
4) لوگوں نے ملی نغمے سننا چھوڑ دیے
5) فوج اور ایجنسیوں سے اعتبار اٹھ گیا
6) سپریم کورٹ اور الیکشن کمیشن سے باقاعدہ نفرت ہوگئی
7) کٹھ پتلی سیاسی جماعتوں سے گھن آنے لگی
8) مذہبی جماعتوں کی منافقت مذید عیاں ہو گئی
9) فتویٰ ساز ملاں ننگے ہو گئے
10) عمران خان کی عزت و احترام دل میں اور بھی زیادہ بڑھ گیا۔
All the news circulating on social media that a former Army Chief met Imran Khan in Adiala Jail are fake.
We have checked with Barrister Gohar and he has also confirmed that this is totally fake!
It is disinformation especially spread to distract from the fact that Imran Khan is being tortured through total isolation.
A distraction from the fact that:
1) He is not allowed proper treatment for his eye in a proper hospital.
2) He has not been allowed to speak to his sons.
3) He has not been allowed books for the past 6 months.
4) He has no television
5) He has not been allowed contact with anyone from the outside world in the past 6 months, except two visits by his lawyer on the orders of the court.
There is a full bench court order that allows for at least 18 people to visit him every week. 6 family members and 6 lawyers on Tuesdays, and 6 party members on Thursdays.
All above are Imran Khan’s lawful rights, under Pakistan’s laws and the International laws.
🚨ایک وقت تھا کوئی بھی خبر نامہ رحمان ملک کی خبروں سے خالی نہیں ہوتا تھا وہ پاکستان کے سب سے ایکٹیو اور سب سے زیادہ اہم شخص ہوا کرتے تھے،
انہوں نے پیپلزپارٹی کا سارا وزن اپنے کندھوں پر اٹھائے رکھا تھاپھر جب وفات ہوئی، تو پارٹی کا کوئی ایک راہنماء ب��ی ان کے جنازے میں شریک نہ ہوسکا
مشاہد اللہ تند گو تھے، باتوں کو مڑوڑنا اور طنز کے تیر برسانا خوب جانتے تھے،
حب شریفین میں اتنے مست تھے کہ پارلیمنٹ کے فلور پر بھی بازاری جملے کسنے سے نہ جھجھکتے
انکی وفات پر چند تعزیتی پیغام آئے اور وہ ہمیشہ کےلئے یادوں سے فراموش کردیئے گئے۔
عرفان صدیقی کاتب شریفین رہے،
نواز شریف نے اپنے کل سیاسی کریئر میں جتنے بھی جملے ادا کئے ان میں سے 60 فیصد عرفان کے قلم سے ہی تراشے گئے تھے،
وہ بے دام غلام تھے
جو آقا کے ہر سیاہ کو سفید کرنے میں لگے رہے یہاں تک کے وفات ہوگئی مگر پارلمان کا سیشن اہم تھا، انکو بیمار ہی بتایا جاتا رہا
ناں تو نواز شریف نا ہی شہباز شریف نے ان کے جنازے میں شرکت کی حتی کہ شریف خاندان سے کوئی فرد بھی شامل نہ ہوا
ان تین تصویروں میں ایک پیغام مشترک ہےآپ تب تک اہم ہیں جب تک ضرورت ہیں
غلام ابن غلام 🔥🔥💯
سائفر، اس کی پردہ پوشی، اور اس کے نتائج
ڈراپ سائٹ نیوز نے ایک دستاویز شائع کی ہے، اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ 7 مارچ 2022 کا اصل سائفر ہے جو ایک فوجی ذریعے سے حاصل ہوا۔ دنیا اب سمجھتی ہے کہ یہی وہ ناقابلِ تردید ثبوت ہے۔ آئیے، یہیں سے اس کی گرہ کھولتے ہیں۔
پاکستان کے اسٹیبلشمنٹ نے چار سال تک اسے دبایا، لوگوں پر اس کے حوالے سے مقدمات قائم کیے، اور یہ دعویٰ کیا کہ ایسا کوئی سائفر موجود ہی نہیں تھا۔ حقیقت پاکستان کے اندر سے نہیں، بلکہ ایک امریکی تحقیقاتی ادارے کے ذریعے دنیا کے سامنے آئی۔ صرف یہی حقیقت بذاتِ خود ایک فردِ جرم ہے۔
ڈونلڈ لو نے پاکستان کے سفیر سے صاف الفاظ میں کہا: "واشنگٹن میں سب کچھ معاف کر دیا جائے گا"، اگر وزیرِاعظم
@ImranKhanPTI
کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہو جاتی ہے، اور ساتھ ہی خبردار کیا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو پاکستان تنہائی کا شکار ہوگا۔ یہ سفارت کاری نہیں تھی۔ یہ ایک دھمکی تھی، جو ایک خود مختار ریاست کے سفیر کو دی گئی۔ قومی سلامتی کمیٹی نے اپنی دو اجلاسوں میں واضح طور پر کہا کہ یہ پاکستان کے اندرونی معاملات میں ناقابلِ قبول اور کھلی مداخلت ہے، اور حکومت نے برحق سفارتی احتجاج (ڈیمارش) جاری کیا۔
مئی 2022 میں، میں نے بطور صدر، چیف جسٹس عمرعطا بندیال صاحب کو باضابطہ طور پر خط لکھا، جس میں جوڈیشل کمیشن کے قیام، کھلی سماعتوں، مکمل تحقیقات، اور حقیقت کو ریکارڈ پر لانے کا مطالبہ کیا۔ یہ خط تمام اخبارات میں شائع ہوا۔ (براہِ کرم مندرجہ ذیل خط کا اردو ترجمہ پڑھیں، اس کے ہر لفظ میں اس نوعیت کے عالمی معاملات میں تاریخی وزن ہے۔)
چیف جسٹس نے وہ خط وصول کیا۔ کوئی تبصرہ نہیں کیا۔ کوئی قدم نہیں اٹھایا۔ عدلیہ کی خاموشی اداروں کے آگے ھتھیار ڈالنے کا آغاز تھا۔ اگر وہ کمیشن تشکیل دے دیا جاتا، تو یہ سوالات حلف کے تحت جواب طلب ہوتے: سائفر کس نے وصول کیا؟ اس پر کس نے عمل کیا؟ کس نے اندرونِ ملک غیر ملکی اشارے کو سہولت فراہم کی؟ اور پاکستانی ریاست کے کن اداروں نے ایک منتخب وزیرِاعظم کو ہٹانے میں تعاون کیا؟
پاکستان کو حقیقت معلوم ہو جاتی۔ وہ شخص جس نے قوم کو خبردار کیا تھا، اسے جھوٹے مقدمات میں قید نہ کیا جاتا جو اسی دستاویز سے جنم لیئے، جس کی تحقیقات سے ریاست نے انکار کر دیا تھا۔ اس کے بجائے، قوم کو تباہی کے مسلسل چارسال ملے۔
صرف ایک حکومت نہیں بدلی گئی، بلکہ جمہوریت کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ختم کیا گیا، ہر سطح پر مکمل ادارہ جاتی سازش کے ساتھ اسے منہدم کیا گیا۔ پارلیمان کو "بدبودار مفادات کا ایوان" بنا دیا ��یا۔ پاکستان کی تاریخ میں سب سے بڑے عوامی مینڈیٹ کی حامل تحریکِ انصاف سے اس کا انتخابی نشان چھین لیا گیا، اس کی نشستیں عدالتی حکم کے ذریعے ڈھٹائی سے دوسروں کو دے دی گئیں، صرف اس لیے کہ 17 نشستوں والی جماعت کو جعلی دو تہائی اکثریت دی جا سکے۔
تحریکِ انصاف کے کارکنان پر فوجی عدالتوں میں مقدمات چلائے گئے۔ اس کے ووٹرز کو حقِ رائے دہی سے محروم کیا گیا۔ اس کے قائد کو قید کر دیا گیا — انہی الزامات پر جو اسی دستاویز سے پیدا ہوئے جسکا ریاست نے جائزہ لینے سے انکار کر دیا تھا۔ 26ویں اور 27ویں ترامیم جبر کے ذریعے منظور کروائی گئیں، جنہوں نے عدلیہ کو انتظامیہ کی لونڈی، اور حقوق کی ��حافظ کے بجائے غاصبانہ اقتدار کے استحکام کا ایک آلہ بنا دیا۔
اب انسانی نقصان کا حساب کریں۔ ہماری 44 فیصد آبادی خطِِ غربت سے نیچے زندگی گزار رہی ہے، یعنی دس کروڑ پچاس لاکھ افراد — جو 2019 کے مقابلے میں دو کروڑ زیادہ ہیں۔ حقیقی آمدنی تباہ آدھی رہ گئی ہے۔بجلی اور پیٹرول آسمان سے بات کر رہے ہیں۔ مہنگائی اور بے روزگاری عروج پر ہیں۔بمشکل تین فیصد کی جی ڈی پی کا اضافہ آبادی کے اضافے کے ساتھ قدم نہیں ملا سکتی، نئے مزدوروں کو روزگار دینا تو دور کی بات ہے۔ دہشت گردی اپنی بلند ترین سطح پر ہے۔ سرمایہ آ نہیں رہا، بلکہ جا رہا ہے۔ دو کروڑ بیس لاکھ نوجوان نہ کام کر رہے ہیں اور نہ تعلیم حاصل کر رہے ہیں، جبکہ ڈھائی کروڑ بچے اسکولوں سے باہر ہیں۔ سمت بالکل واضح ہے: پاکستان کہیں زیادہ تیزی سے غریب ہو رہا ہے۔
یہ صرف اعداد و شمار نہیں ہیں۔ یہ وہ بچے ہیں جو بھوکے پیٹ سوتے ہیں۔ یہ وہ نوجوان ہیں جو کشتیوں میں ڈوبتے ہوئے ان ساحلوں کی طرف جا رہے ہیں جو شاید انہیں مار ڈالیں، کیونکہ ان کا اپنا ملک انہیں دھکیل رہا ہے۔ یہ وہ مائیں ہیں جو دوا اور روٹی کے درمیان انتخاب کرنے پر مجبور ہیں۔ ان تمام انسانوں کی حالت اپریل 2022 کے اس فیصلے کا براہِ راست، قابلِ سراغ، فرانزک نتیجہ ہے، جس میں پاکستانی عوام کے جمہوری مینڈیٹ کو سبوتاژ کیا گیا۔ یہ کوئی قدرتی آفت نہیں۔ یہ ایک سازش کی قیمت ہے، جس کے تمام شریکِ جرم عوام کے سامنے برہنہ کھڑے ہیں۔
ڈونلڈ لو نے دھمکی دی۔ اس نے حکومت نہیں گرائی۔ پاکستانیوں نے ایک پاکستانی حکومت گرائی۔ جنرل باجوہ وردی میں۔ کچھ لوگ عدالتی جبّوں میں۔ کچھ "دستار" میں۔ بدعنوان سیاستدان۔ اور ایسے جنہوں نے دبئی میں قوم کے لوٹے ہوئے خزانوں کے رجیم چینج کے لیئے منھ کھول دیئے۔ ان سب نے عوام اور اس آئین کے تحفظ کے بجائے، ایک غیر ملکی اشارے کو ترجیح دی۔ مجرم صرف بیرونی نہیں تھے، اندرونی بھی تھے۔ یہ بات صاف اور ہمیشہ کے لیے ریکارڈ پر رہنی چاہیے۔
جو لوگ کہتے ہیں، "یہ ماضی کی بات ہے، آگے بڑھیں"، میں ان سے کہت�� ہوں: قانون کی حکمرانی کے بغیر سرمایہ کاری نہیں آ سکتی۔ آزاد عدلیہ کے بغیر قانون کی حکمرانی نہیں ہو سکتی۔ اور ایسی عدلیہ، جس کی بنیاد زیادہ تر بدعنوان ججوں پر ہو، کبھی آزاد نہیں بن سکتی۔ آگے بڑھنے کا راستہ حقیقت کے درمیان سے گزرتا ہے، اس کے باہر سے نہیں۔
پاکستان کی معاشی تباہی، اس کا ادارہ جاتی زوال، مکمل کرپشن، قومی دیمک جو سب کچھ کھا رہی ہیں، ان میں سے کوئی بھی خدا کا فعل نہیں بلکہ اعمال کا نتیجہ ہے۔ یہ ایک مجرمانہ رجیم چینج کا براہِ راست اور قابلِ سراغ نتیجہ، جسے باہر سے سہولت دی گئی اور اندر سے اس پر عمل درامد کیا گیا۔
جیسا کہ سائفر کے مندرجات اب عوام کے سامنے رپورٹ ہوئے ہیں، ریکارڈ واضح ہے۔ یہی غاصب اب بھی اقتدار میں ہیں اور میرے ملک کی تباہی کی منصوبہ بندی کر رہے ہیں۔ آگے بڑھنے کا واحد معقول اور منصفانہ راستہ بالکل واضح ہے:
اب پیچھا چھوڑو، اور میرے لوگوں کو جینے دو۔
مجھے اس قوم سے غداری کرنے والوں کے لیے اقبال کا حوالہ دیتے ہوئے تکلیف ہوتی ہے، مگر یہ شعر لازوال ہے۔
جعفر از بنگال و صادق از دکن
ننگِ آدم، ننگِ دیں، ننگِ وطن
سائفر بول چکا ہے۔ اب پ��کستان کو بولنا ہوگا۔ 🇵🇰
سہیل آفریدی اڈیالہ سے واپس روانہ ہو گئے
پریس کانفرنس میں انہوں نے اہم ترین انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ ہماری بات چیت ہوئی ہے اور ہمیں یقین دہانی کرائی گئی ہے کہ منگل تک عمران خان کو ہسپتال منتقل کر دیا جائے گا
انہوں نے خبردار کیا کہ اگر منگل تک عمران خان کو ہسپتال منتقل نہ کیا گیا تو اگلے منگل ہم نہایت سخت حکمت عملی کے ساتھ آئیں گے
صحافیوں کی جانب سے سوال کیا گیا کہ سخت رویے سے کیا مراد ہے تو سہیل آفریدی نے کہا کہ اس بارے میں ابھی کچھ نہیں بتایا جا سکتا مگر اگلے منگل ہمارا ردعمل انتہائی سخت ہوگا
سہیل آفریدی اڈیالہ سے روانہ ہو گئے جبکہ دھرنا بھی اختتام پذیر ہو گیا
اقرار الحسن اور جواد احمد سیکھو کچھ اس سے
اس نے ایک سال پہلے اپنی پارٹی کی بنیاد رکھی اور اج اس نے پورے پردیش میں 106 نشستیں حاصل کر لی ہے
اس شخص نے کسی پرانے سیاست دان کی ذاتی زندگی کو نہیں ڈسکس کیا نا ہی کوئی بے ہودہ گفتگو کی
اس نے اپنے جلسوں میں بنیادی حقوق کی بات کی دور جدید کے ساتھ چلنے کی بات کی اور نوجوانوں کو ساتھ ملا کر چلنے کا وعدہ کیا
یہ عمران خان صاحب سے اتنا متاثر ہے کہ پارٹی کے جھنڈے کا رنگ بھی PTI سے ملتا جلتا رکھا
مریم نواز نے الله کی قسم کھا کر بتایا تھا کہ جب ایک روپیہ بھی بجلی پٹرول کی قیمت بڑھانی پڑتی ہے، میاں نوازشریف اور شہباز شریف کا دل روتا ہے، سوچو ذرا پٹرول 145 روپے کا تھا جب آج 400 کا ہے 250 مرتبہ یہ دونوں بھائی کتنا روئے ہونگے، میں نے تو جب سے یہ ویڈیو دیکھی مجھے اپنا رونا بھول گیا ہائے میاں صاحب نہ روئیں پلیز چپ چاپ بڑھا دیا کریں اپنی صحت کا خ��ال رکھیں آپکے حصے کا ویسے بھی ہم رو رہے ہیں ۔
جنگ شروع ہوئی تو بنگلہ دیش میں تیل کی قیمت 130 تھی جو آج بھی 130 ہی ہے
ہمارے تب 257 تھی جو اب 399 ہے
بنگلہ دیش نے سارے کا سارا بوجھ بنگلہ دیش پیٹرولیم پر ڈالا عوام پر نہیں ہم نے سوچا اس سے پیسہ اکٹھا کرتے ہیں ہم نے قیمت کیساتھ لیوی بھی بڑھا دی اور سارا بوجھ عوام پر ڈالا
فرخ سلیم
“عالمی جنگوں کے فیصلے ہم کروائیں گے”
نامی کامیڈی ناول سے اقتباس
۔۔
الیکشن نا ہونے دو،
الیکشن کرواؤ تو امیدوار مت پہنچنے دو،
امیدوار پہنچ جائے تو راستے میں کاغذات چھین لو،
کاغذات نامزدگی پر اعتراضات لگا دو،
انتخابی نشان چھین لو،
پھر بھی جیت جائے تو فارم 47 سے ہرا دو،
فارم 47 سے بچ جائے تو ری کاؤنٹنگ میں ہرا دو،
کوئی بات نہیں مانے تو خفیہ ٹرائل کر کے جیل ڈال دو،
پھر کیس مت لگنے دو،
کیس لگ جائے تو سماعت مت کرو،
وکیل کو قیدی سے مت ملنے دو،
وکالت نامہ دستخط نا ہو،
وکیل/فیملی کو جیل کے دروازے پر بٹھا کر شام کو کہو وقت ختم ہوگیا،
فیم��ی ملنے جائے تو پانچ کلومیٹر دور روک کر کہو وہ تو آئے ہی نہیں،
علاج کی سہولیات مت دو،
ری ٹوئیٹ کرنے پر خاندان برباد کر دو
۔۔
اخے
“ہم ہیں امن کی پہچان، عالمی مصالحت کار”
"بیس ہزار تنخواہ ہو اور بجلی و گیس کا بل دس ہزار آجائے......"
----
عزت مآب جناب وزیراعظم !
یہ تو آپ ہی ہمیں سمجھایا کرتے تھے. اب پٹرول تقریباً 400 اور بجلی/گیس کا بل الگ بےقابو ہوا پڑا ہے. آپ ہی بتائیں کہ غریب آدمی کے پاس کیا آپشن بچی ہے؟
اسرائیل میں قید 11000 فلسطینیوں کو 90 دن میں پھانسی دینے کا بل پاس ہونے پر پاکستان اور عرب حکمران گونگے ہو گئے ۔ جماعت اسلامی ' فضل الرحمان سمیت مذہبی علمبرداروں کی زبانوں کو لقوہ مار گیا
اس پر بھارتی اینکر روبیکا لیاقت نے وہ بولا کہ دل چیر کر رکھ دیا
ڈوب مرو بے شرمو
خان صاحب، پلیز ڈیل کریں اور جیل سے باہر آئیں۔ جان ہے تو جہان ہے۔ جیل سے باہر آئیں اور اس ملک کو چھوڑ کر لندن چلے جائیں اور ہمیں ہمارے حال پر چھوڑ دیں۔ یہ قوم آپکے قابل نہیں ہے۔
شادی کے دس سال بعد شوہر نے بیوی سے پوچھا کہ تمہیں ان دس سالوں میں میری کونسی بات سب سے اچھی لگی؟
بیوی بولی "وہی جو آپ نے شادی کی رات گھونگھٹ اٹھاتے ہوئے مجھے کہی تھی کہ جمیلہ میں تیرے قابل نہیں" !! 😢
جب سے کعبہ شریف کی مینٹیننس جاری ہے، تب سے ہم جیسے خوش نصیب لوگوں کو کعبہ شریف کو بغیر غلاف کے دیکھنے کا موقع مل رہا ہے۔ یہ واقعی ایک بہت بڑی نعمت ہے، کیونکہ عام دنوں میں ایسا منظر دیکھنا نصیب نہیں ہوتا۔
سوشل میڈیا کا بھی ایک خوبصورت فائدہ ہے کہ جو لوگ وہاں موجود نہیں، وہ بھی اس بابرکت منظر کی زیارت کر پا رہے ہیں۔
اللہ تعالیٰ ہم سب کو نیک عمل کی توفیق عطا فرمائے، اور جتنے بھی بہن بھائی، بزرگ، دوست، بچیاں اور بیٹیاں دعاؤں کے لیے کہتے ہیں، اللہ پاک سب کی دعاؤں کو شرفِ قبولیت بخشے۔
یہ ذرا BBC کی رپورٹ دیکھیے۔ مریم نواز حکومت اربوں روپے اپنی ذاتی تشہیر پر ضائع کر کے عوام کو بیوقوف بنانے کی کوشش کر رہی ہے
جبکہ اصل حقیقت BBC رپورٹ میں بتائی جا رہی ہے کہ کیسے عوام کو ایڈذ جیسی مہلک بیماری کا شکار کیا جا رہا ہے۔