وزیراعظم کے رابطے کے بعد جماعت اسلامی کے احتجاج موخر کرنے پر مذاق کی انتہا کرنے والے پی ٹی آئی کو karma کا سامنا ہے۔ ان کا کہا بہت جلد ان کے سامنے آ گیا ہے۔
ان کے لونڈے لپاڑے، یوٹیوبر اب کیسے اس کا دفاع کریں گے
منصور علی خان
مدینہ منورہ میں موجود یہ وہ مبارک باغ ھے جس کو حضورِ اقدس صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خود اپنے ہاتھوں سے لگایا تھا۔ اس باغ کو سلمان فارسی کا باغ کہا جاتا ھے۔
اب دیکھو جس لاجک سے تحریک انصاف والے جماعت والوں کو کہہ رہے تھے کہ اسٹیبلشمنٹ نے جماعت کو تحریک انصاف کا مارچ ناکام بنانے کے لیے لانچ کیا ہے۔
عین اسی لاجک سے یہ کہا جاسکتا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی ہدایت پر تحریک انصاف نے اس وقت تک مارچ موخر کرنے کا فیصلہ کیا ہے جب تک جماعت نے کیا ہے۔
یعنی یوتھی لاجک کے مطابق سوال بنتا ہے کہ جماعت کا دھرنا ناکام بنانے کو تحریک انصاف لانچ کی جارہی ہے؟
ان کی نشاندہی کر کے ان کو گرفتار کریں ان کے شناختی کارڈ پاسپورٹ بلاک کریں اور ان سے اس نقصان کا مکمل خرچہ وصول کریں
اس کو پھیلائیں تاکہ ادارے ان کے خلاف نوٹس لیں
ائی پی پیز کے معاملے میں جماعت اسلامی نےمستقل حکومت کا تعاقب کیا اس کے نتیجے میں حکومت نے خود رپورٹ کی ہے کہ 57 ائی پی پی سے بات چیت کر کے کچھ کو بند کیا گیا ہے کچھ سے معاہدے ری شیڈیول کیے اور اس کے ذریعے سے ملکی معیشت کو 4500 ارب روپے کا فائدہ ہوگا
#لاہور_حافظ_نعیم_کےساتھ
حافظ نعیم الرحمن اس وقت مقبول ترین سیاست دان بن کر اُبھر رہے ہیں اور عام عوام کی آواز بن رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایک خالص عوامی ایشو پر بھی اپوزیشن پارٹیز ساتھ دینے کے بجائے مسلسل حافظ نعیم الرحمن کے خلاف ہرزہ سرائی میں مصروف ہیں۔
اچھا ہوا کہ جماعتِ اسلامی اور پی ٹی آئی کا احتجاج الگ الگ ہو گیا، کیونکہ دونوں کا ایجنڈا ایک دوسرے سے بہت مختلف ہے۔
جو لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے حکومتی سختی دیکھ کر احتجاج مؤخر کیا، وہ یہ یاد رکھیں کہ جماعتِ اسلامی نے بہت سی سختیاں برداشت کی ہیں۔ انہیں تو پاکستان کی سیاست میں ابھی آٹھ دن ہوئے ہیں، جبکہ جماعتِ اسلامی مولانا مودودی کے دور سے سختیاں برداشت کرتی آ رہی ہے۔ سید فراست شاہ
عمران ریاض کو یہ بھی بتانا چاہیے کہ تحریک انصاف اسی قبضہ گیر سے بار بار مذاکرات کیوں کر رہی ہے؟ محسن نقوی سے رابطے کیوں ہیں؟ وہ کن کا نمائندہ ہے؟
اس سے بھی بڑا سوال یہ ہے کہ اس قبضہ گیر نظام کو تحریک انصاف اسمبلیوں میں بیٹھ کر سہارا کیوں دیے ہوئے ہے؟
جماعت اسلامی نے اپنا مارچ آگے کیا تو سارے تحریک انصاف اسے گالیاں دینے لگے اس کی بھد اڑانے لگے کہ یہ ہمیشہ بھاگ جاتے
تحریک انصاف نے خود اپنا مارچ ملتوی کیا وہی سارے صحافی اور کارکنان صدقے واری جا رہے کہ کیا خوب حکمت عملی ہے
ایسے بند عقل اخروٹی ورکرز جس جماعت کو مل جائیں اس کے لیڈر یوں ہی جیل میں سڑتے ہیں
حافظ نعیم الرحمان نے مقبولیت میں پی ٹی آئی کو پیچھے چھوڑ دیا ہے ۔ ٹویٹر پر جعل سازی ممکن ہے لیکن فیس بک پر اصل اور حقیقی عوام ہے ۔ عوام اب پی ٹی آئی پر اعتماد کرنے کیلئے تیار نہیں ہے
جماعت اسلامی کا مارچ خالص عوامی ایشو پر ہے جبکہ نوزائیدہ انقلابی عدالتوں سے سزا یافتہ اپنا لیڈر عوامی طاقت سے رہا کروانے نکلے ہیں جیسے ڈاکو اپنا ساتھی پولیس سے چھڑا کر یا جیل توڑ کر لے جاتے ہیں۔
ملک بھر سے کارکن اسلام آباد چل پڑے ہیں، کوئی رکاوٹ راہ نہیں روک سکتی۔ ٹرین مارچ کل ملتان پہنچ کر ختم ہو گا جس کے بعد بذریعہ سڑک آگے بڑھیں گے، حافظ نعیم الرحمن کا ٹرین مارچ سے خطاب
#جماعت_اسلامی_لانگ_مارچ#IslamabadLongMarch
شاہ اویس نورانی صدیقی کے نام کھلا خط
۔
سایہ ڈیجیٹل چینل پر آپ نے ایک پوڈ کاسٹ میں جماعت اسلامی پاکستان کے سابق امیر اور عمر میں اپنے والدِ محترم سے بھی بڑے رہنما میاں طفیل محمدؒ اور موجودہ امیرِ جماعت اسلامی حافظ نعیم الرحمٰن صاحب کے بارے میں جو کلمات ارشاد فرمائے ہیں، وہ میں نے تین بار سنے۔ اگر میں نے، یہ انٹرویو مضمون کی صورت میں پڑھا ہوتا تو شاید اِسے کسی بھٹکے ہوئے شاعر کا آوارہ مصرع قرار دیتا اور نظر انداز کر کے گزرجاتا
المیہ یہ ہے کہ آپ کی کوثر و تسنیم سے دھلی ہوئی زبان سے ادا ہونے والے یہ "ارشادات" میں نے خود سنے ہیں۔اس لیے یہ سطور تحریر کرنے پر مجبور ہوا ہوں
قبلۂ اقدس!
آپ نے فرمایا کہ جماعت اسلامی اور ضیاءالحق میں رومانس کے باعث منصورہ بنا۔ ادارہ نورحق وجود میں آیا۔ نیز آپ نے سیاسی کالک ملنے کا بازاری جملہ بھی جماعت اسلامی پر کَس دیا۔
ہر ذی شعور اپنے عزیزوں کو نصیحت کرتا ہے کہ پہلے تولو پھر بولو، لیکن آپ شاید اِس تکلف کے روادار نہیں ہیں۔ آپ نے جو کچھ ارشاد فرمایا، اس کا جواب حاضر ہے، امید ہے غور فرمائیں گے۔
جنرل ضیاء الحق کو جب ذوالفقار علی بھٹو نے پانچ سینیئر جرنیلوں کو روند کر اپنا بندہ سمجھتے ہوئے آرمی کا چیف بنایا، منصورہ اور جماعت اسلامی پاکستان کے ادارے اس سے بہت پہلے وجود میں آگئے تھے۔ اس زمانے میں آپ کے ابا حضور مولانا شاہ احمد نورانی صدیقی صاحب نے ایک بیان جاری فرمایا تھا کہ منصورہ میں جدید اسلحہ کا ذخیرہ موجود ہے۔ تب جماعت اسلامی پاکستان کے مرکزی رہنما حافظ محمد ادریس صاحب نے انھیں اپنے بیان کے ذریعے دعوت دی کہ کہ حضرت آپ خود منصورہ تشریف لائیں اور اپنی نگرانی میں سرچ آپریشن کرا لیں، عین ممکن ہے کہ آپ کی کرامت سے ہمیں وہ اشیاء مل جائیں جن کی خبریں آپ کے بیانات سے ہم تک پہنچ رہی ہیں۔
جنرل ضیاء الحق کا سیاسی رومانس تو جماعت اسلامی کے ساتھ اس قدر نمایاں ہے کہ اس نے جماعت اسلامی کے سٹوڈنٹ ونگ اسلامی جمعیت طلبہ پر پابندی عائد کی۔ اس کے رہنماؤں اور کارکنوں کو بدترین تشدد اور اذیت کا نشانہ بنایا۔ جمعیت کی منتخب یونینز کو کالعدم قرار دیکر بہت سے لوگوں کو جیلوں میں ڈالا۔ اسی طرح جماعت اسلامی کا زور توڑنے کے لیے مزدور یونینز پر بھی پابندی عائد کر دی گئی۔
میاں طفیل محمد کے قریبی عزیز اور داماد اور اسلامی جمعیت طلبہ کے قائمقام ناظم اعلیٰ اعجاز چوہدری اور ناظم اعلیٰ معراج الدین خان پر جنرل ضیاء کے دورمیں ناقابلِ بیان تشدد کیا گیا۔ امیر العظیم صاحب تو ناظم اعلی ہی جیل سے منتخب ہوئے۔
کراچی کی بلدیہ عظمیٰ کے میئر عبدالستار افغانی صاحب اور سینکڑوں کونسلرز پر کراچی کی سڑکوں پر پولیس نے دھاوا بولا، لاٹھی چارج کے بعد گرفتار کر کے حوالات میں بند کر دیا۔ جنرل ضیا الحق کے پروردہ وزیر اعلیٰ سندھ سید غوث علی شاہ نے بلدیہ عظمیٰ توڑ کر جمہوری ادارے پر ڈاکہ ڈالا۔
ضیاء الحق کے زمانے میں جماعت اسلامی کے خدمتِ خلق کے سب سے بڑے نیٹ ورک کو توڑنے کے لیے ایدھی کو سرکاری سپورٹ فراہم کی گئی۔ اسی زمانے میں ایم کیو ایم بنائی گئی جس کے مقاصد میں سے ایک بڑا مقصد جماعت اسلامی کراچی کی سیاسی طاقت کو توڑنا تھا۔ یہی حربہ ملاکنڈ میں تحریک نفاذ شریعت محمدی کی صورت میں آزمایا۔
تلخ نوائی کی معذرت کے ساتھ عرض ہے کہ آپ اپنی طفلانہ شرارتوں کے باعث سیاسی مناصب کے حصول میں مسلسل ناکامی کا شکار ہیں، اسی لیے ناقص معلومات کی بناء پر غیر مصدقہ جملے غصے اور جھنجلاہٹ کی کیفیت میں میڈیا کے سامنے ارشاد فرما دیتے ہیں جنھیں سن کر آپ کی سیاسی ناپختگی اور ناتجربہ کاری کا تاثر مزید گہرا ہو جاتا ہے
آپ کے بیان کیے گئے جملے کے مطابق جماعت کے سیاسی کالک ملنے کا جہاں تک تعلق ہے تو اس سلسلے میں عرض ہے کہ جماعت اسلامی پاکستان بھی بڑے ہی ظرف والے بزرگوں کی رہنمائی میں ایسے فیصلے کرتی ہے جن کی حکمتیں شاید ناتجربہ کار لوگ بہت بعد میں سمجھتے ہیں۔ آپ نے جس جماعت، منصورہ اور ادارہ نورحق کے بارے جلی کٹی سُنائی ہیں، ان کے بارے میں درج ذیل حقائق ملاحظہ فرما لیجیے۔
1۔منصورہ میں ملی یکجہتی کونسل کے ملک گیر کنونشن کی صدارت علامہ الشاہ احمد نورانی صدیقی صاحب نے فرمائی اور نمازعصر کی امامت بھی کرائی۔
2۔مینارِ پاکستان پر لاکھوں افراد کے ایک بین الاقوامی اجتماع عام میں حضرت نورانی صاحب نے قاضی حسین احمد صاحب کی دعوت پر جمعہ کے اجتماع سے خطاب فرمایا۔
3۔"منصورہ" میں یہ فیصلہ کیا گیا کہ کراچی میں جماعت اسلامی کے "ادارہ نورِ حق" والے ارکان سندھ اسمبلی اپنے ووٹ سینیٹ کی نشست پر مولانا شاہ احمد نورانی صاحب کو دیں گے اور پھر انھی ووٹوں سے آپ کے ابا حضور سینیٹ آف پاکستان کے رکن منتخب ہوئے۔
4۔منصورہ والے قاضی حسین احمد صاحب نے انھیں سینیٹ میں پارلیمانی لیڈر بھی نامزد کیا۔
5۔منصورہ میں ہی یہ فیصلہ کیا گیا کہ آپ کی پھوپھی جان محترمہ ڈاکٹر فریدہ احمد کو بھی جماعت اسلامی کے ارکان سندھ اسمبلی خواتین کی مخصوص نشست کے لیے اپنے ووٹ دیں گے۔ منصورہ کے اس فیصلے کے مطابق وفا شعار اور ڈسپلن کے پابند ممبران سندھ اسمبلی کے ووٹوں سے ڈاکٹر صاحبہ رکن پارلیمنٹ منتخب ہوئیں۔
6۔مولانا شاہ احمد نورانی صاحب جب اس دارفانی سے رحلت فرما گئے تو ایک بار پھر"منصورہ" میں "ادارہ نورِ حق" سے تجویز آئی کہ سینیٹ کی خالی ہو جانے والی نشست پر علامہ نورانی صاحب کے احترام میں ان کے صاحبزادے شاہ اویس نورانی یعنی آپ کو سپورٹ کیا جائے۔ مرکز جماعت یعنی منصورہ سے آپ کی حمایت کا اعلان کردیا گیا۔ یہ نشست ٹیکنوکریٹس کی کیٹیگری کی تھی اور آپ نے اِس نشست کے لیے کاغذاتِ نامزدگی بھی جمع کرادیے لیکن جانچ پڑتال کے دوران میں معلوم ہوا کہ آنجناب ٹیکنوکریٹ یعنی اپنے شعبہ کے "انجینئیر" تو کیا، ڈھب کے" پلمبر" بھی نہیں ہیں، اور یوں آپ کے کاغذات نامزدگی مسترد ہوگئے۔ نتیجتاً امیر جماعت اسلامی پاکستان قاضی حسین احمد صاحب نے جے یوآئی کے امیر مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی درخواست پر اپنے ارکان اسمبلی کو ڈاکٹر خالد محمود سومرو کے حق میں ووٹ ڈالنے کی ہدایت کی اور وہ بہ آسانی سینیٹر بن گئے۔ حالانکہ جے یو آئی کا ایک بھی ممبر سندھ اسمبلی منتخب نہیں ہوا تھا۔ یوں جماعت اسلامی نے سیاسی میدان میں آپ کے لیے اتنی بڑی قربانی دی کہ سابق ناظم کراچی نعمت اللّٰه خان کے بجائے آپ کو سینیٹر بنوانے کا فیصلہ کیا۔ اور آپ ہیں کہ اپنے انٹرویو میں احسان فراموش عورتوں کی مانند طعنہ زنی میں مصروف ہیں
جب میں نے آپ کے ملفوظاتِ عالیہ سنے تو اندازہ ہوا کہ یہ بات کتنی حقیقت پر مبنی ہے کہ "بڑے لوگوں کی نسلوں میں اکثر سمال سائز کے لوگ پیدا ہوتے ہیں"
کاش کہ آپ اپنی گرمی مارنے کے لیے اپنی ہی جماعت کے کسی اور گروپ کے کسی لیڈر کا انتخاب کر لیتے تو ہم اسے آپ کی پارٹی کے "اندر" کا معاملہ سمجھ کر گزر جاتے، لیکن افسوس کہ ایسا نہ ہوا۔ آپ نے حقائق اور تاریخی واقعات سے عدم واقفیت کی بنا پر یا پھر تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتے ہوئے بہکی بہکی باتیں کرنا اور جُگتیں مارنا شروع کر دیں جن کا جواب دینا بالکل قرینِ انصاف ہے۔ ساحر لدھیانوی نے شاید ایسے ہی کسی موقع پر کہا تھا کہ
نہ تم صدمے ہمیں دیتے نہ ہم فریاد یوں کرتے
نہ کھلتے رازِ سربستہ نہ یوں رسوائیاں ہوتیں
از
شیخ عثمان فاروق ایڈووکیٹ
ڈپٹی سیکرٹری جنرل جماعت اسلامی پاکستان
حکمران طبقہ کیلیے مہنگے خصوصی جہاز ہیں، بہت اعلی درجے کی مرسڈیز گاڑیاں ہیں، عالیشان بنگلے ہیں، مفت بجلی اور فون ہیں، نوکروں کی ریل پیل ہے۔ عوام کیلیے مہنگائی ہے، بیروزگاری ہے، سرکاری دفتروں میں ذلت و رسوائی ہے، بھوک ہے، ننگ ہے۔
ٹیکس یورپ میں بھی مگر فرق بھی سمجھیں
یورپ سے پیٹرول کی قیمت کا موازنہ کر رہے ساتھ کہہ رہے یہاں بھی پیٹرول پر ٹیکس ہے یہ بھی سچ ہے ڈنمارک میں پیٹرول پر بہت زیادہ ٹیکس ہے تقریباً 48 فیصد ٹیکس ہے مگر جو بات نہی بتا رہے وہ یہ کہ ڈنمارک میں ہر بچے کی پیدائش سے 18 سال کی عمر تک ہر والدین کو فی بچہ پچاس ہزار ملتا ہے تعلیم مکمل فری ہے ایف اے ایف ایس سی تک کتابیں کاپیاں حکومت دیتی ہے یونیورسٹی میں ہر پڑھتے بچے کو ہزار ڈالر حکومت ہر مہینے دیتی ہے بے روزگار ہو جاؤ تو اسی فیصد تنخواہ دو سال ملتی ہے بیمار ہو جاؤ تو آپ کی لوکل یونین کاؤنسل آپ کو چھٹی کی تنخواہ دیتی ہے آپ کرائے پر آپ کی آمدن کم آدھا کرایہ حکومت دیتی ہے
غرض بے شمار سہولیات ہیں جو اسی ٹیکس کے پیسوں سے ملتی ہیں
البتہ یہاں کے حکمرانوں وزیروں مشیروں کو کوئی ذاتی جہاز اور پلاٹ اور مفت پیٹرول وغیرہ نہی ملتا ہے
مولانا فضل الرحمن صاحب ، آپ کا حافظ نعیم الرحمن پر طنز ضروری تھا اس لیے کہ عمران خان کو ہٹا کر شہباز شریف کو لانے والے اتحاد پی ڈی ایم کے سربراہ آپ ہی تھے-آپ بھی اس مہنگائی کے ذمہ دار ہیں
نوٹ: فارم سنتالیس میں حصہ نہ ملنے پر آج کل مولانا کی عارضی ناراضگی چل رہی ہے